اہم خبریں
9 June, 2026
--:--:--

اسپیس ایکس کا آئی پی او: کیا 2 ٹریلین ڈالر کی ویلیو حقیقی ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس آئی پی او اور خلائی راکٹ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ ویلیویشن
کمپنی کا دارومدار ’اسٹارلنک‘نیٹ ورک اور دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں پر ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی پہچان بنانے والی کمپنی ’اسپیس ایکس‘ اب اسٹاک مارکیٹ میں قدم رکھنے کو تیار ہے۔

مزید پڑھیں

کمپنی کی ابتدائی پبلک آفرنگ (IPO) کے لیے تقریباً 2 ٹریلین ڈالر (1.78 ٹریلین ڈالر) کی متوقع مالیت نے سرمایہ کاروں میں بحث چھیڑ دی ہے۔

سرمایہ کاروں کا تذبذب، ویلیویشن کا تنازع

مالیاتی جریدے ’فنانشل ٹائمز‘ کے مطابق یہ شاندار ویلیویشن کمپنی کے حالیہ منافع پر نہیں بلکہ مستقبل کے بلند بانگ دعووں پر مبنی ہے۔ 

ان میں مریخ تک رسائی، دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ اور خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا قیام شامل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قیمت زمینی حقائق سے بہت دور ہے۔

ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس آئی پی او اور خلائی راکٹ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ ویلیویشن
اسپیس ایکس اب اسٹاک مارکیٹ میں قدم رکھنے کو تیار ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسٹارلنک اور راکٹ ٹیکنالوجی

کمپنی کا دارومدار ’اسٹارلنک‘نیٹ ورک اور دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں پر ہے۔

اسٹارلنک عالمی سطح پر مواصلاتی نظام میں انقلاب لانے کے لیے تیار ہے، جبکہ ناسا کے ’آرٹیمس‘ مشن کے تحت ’اسٹار شپ‘ کے ذریعے چاند اور مریخ تک پہنچنے کا منصوبہ اس کی سرمایہ کاری کی کہانی کا اہم ترین حصہ ہے۔

خلا میں مصنوعی ذہانت کا خواب

اسپیس ایکس اب صرف راکٹ بنانے والی کمپنی نہیں رہی بلکہ یہ مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبے میں بھی قدم رکھ رہی ہے۔

کمپنی کا منصوبہ ہے کہ خلا میں شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہوئے ایسے ڈیٹا سینٹرز بنائے جائیں جو زمین کی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل ہوں۔

ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس آئی پی او اور خلائی راکٹ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ ویلیویشن
اسپیس ایکس کا یہ آئی پی او دراصل ایلون مسک کی صلاحیتوں پر ایک بڑا جوا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

چیلنجز اور ریگولیٹری رکاوٹیں

یہ منصوبے جتنے بڑے ہیں، خطرات بھی اتنے ہی سنگین ہیں۔

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ’بوکاچیکا‘، ٹیکساس میں ٹیسٹ فلائٹس کے لیے سخت ضوابط کمپنی کی ٹائم لائن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 

اعداد و شمار کی پیچیدگیوں اور آپریشنل اخراجات کے باعث بہت سے ماہرین ان اہداف کو حاصل کرنے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس آئی پی او اور خلائی راکٹ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ ویلیویشن
اسٹارلنک عالمی سطح پر مواصلاتی نظام میں انقلاب لانے کے لیے تیار ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مارننگ اسٹار کا محتاط اندازہ

’مارننگ اسٹار‘کے تجزیے کے مطابق کمپنی کی اصل قدر تقریباً 780 بلین ڈالر بنتی ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ اسٹارلنک تو منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے، مگر خلائی کمپیوٹنگ ایک طویل المدتی اور ہائی رسک منصوبہ ہے، جس کے معاشی نتائج 2040 تک ہی واضح ہو پائیں گے۔

اسپیس ایکس کا یہ آئی پی او دراصل ایلون مسک کی صلاحیتوں پر ایک بڑا جوا ہے۔ 

سرمایہ کار اب اس فیصلے پر دو حصوں میں تقسیم ہیں: کچھ اسے ٹیکنالوجی کا مستقبل قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ویلیویشن موجودہ کارکردگی سے مطابقت نہیں رکھتی۔