’میں نے
4 گول کھائے،
لیکن 11 آدمیوں
کی جان بچا لی‘
فاشسٹ اٹلی نے 1934 اور 1938 کے ورلڈ کپ کو قومی فخر اور سیاسی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔
موسولینی سمجھتا تھا کہ فٹ بال عوامی جذبات کو منظم کرنے اور قوم پرستی کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اسی دور میں یورپ میں ایک اور طاقتور شخصیت ایڈولف ہٹلر بھی کھیلوں کے ذریعے جرمنی کی طاقت دنیا کو دکھانے میں مصروف تھا۔
1938 کے ورلڈ کپ سے قبل آسٹریا پر نازی جرمنی کے قبضے نے کھیل کو براہِ راست سیاست کے زیرِ اثر لا کھڑا کیا۔
آسٹریا کی قومی ٹیم ختم ہو گئی اور کئی کھلاڑیوں کو جرمن ٹیم میں شامل کر دیا گیا۔
یوں ایک ملک کی سیاسی تقدیر نے اس کی فٹ بال شناخت بھی بدل دی۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہو گئی اور ورلڈ کپ بھی اس تقسیم کا عکس بن گیا۔
سرد جنگ کے زمانے میں فٹ بال میدانوں میں نظریاتی برتری کی جنگ لڑی جانے لگی۔
جرمنی کی تقسیم اس کی ایک نمایاں مثال تھی۔
1954 میں مغربی جرمنی نے عالمی ٹائٹل جیت کر جنگ کے بعد اپنی بحالی کا اعلان کیا، مگر 1974 کے ورلڈ کپ میں مشرقی جرمنی نے میزبان مغربی جرمنی کو شکست دے کر سیاسی اور نفسیاتی سطح پر ایک تاریخی پیغام دیا۔
اگرچہ مغربی جرمنی بعد میں عالمی چیمپئن بنا، لیکن مشرقی جرمنی کی وہ فتح آج بھی سرد جنگ کی علامتی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اسی طرح 1966 کے ورلڈ کپ میں شمالی کوریا نے اٹلی کو شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیا۔
ایک چھوٹے اور نسبتاً غیر معروف ملک کی اس کامیابی نے ثابت کیا کہ فٹ بال عالمی طاقتوں کے غلبے کو چیلنج کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
سرد جنگ کے ماحول میں اس فتح کو محض کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی کامیابی کے طور پر بھی دیکھا گیا۔
ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک عجیب ترین واقعہ 1973 میں پیش آیا جب چلی اور سوویت یونین کے درمیان کوالیفائنگ میچ سیاسی تنازع کا شکار بن گیا۔
سوویت یونین نے چلی کے فوجی انقلاب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سانتیاگو جانے سے انکار کر دیا۔
نتیجتاً چلی کی ٹیم میدان میں اتری، گیند کو آگے بڑھایا اور ایک خالی گول میں شاٹ لگا کر باضابطہ طور پر میچ جیت لیا۔
دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا جس میں فٹ بال، سیاست اور المیے کی سرحدیں ایک دوسرے میں گم ہوتی محسوس ہوئیں۔
جنوبی امریکا میں آمریتوں نے بھی فٹ بال کی مقبولیت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
برازیل کی فوجی حکومت نے 1970 کے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی کامیابی کو اپنی سیاسی ساکھ مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا۔
یہی وہ ٹورنامنٹ تھا جس میں پیلے کی قیادت میں برازیل نے ایسی فٹ بال پیش کی جسے آج بھی تاریخ کی بہترین ٹیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حکمرانوں کے لیے یہ صرف ایک کھیل نہیں تھا بلکہ عالمی سطح پر اپنی حکومت کی کامیابی اور استحکام کا اعلان بھی تھا۔
برازیل کے فوجی رہنما جانتے تھے کہ عوام کی توجہ سیاسی مسائل سے ہٹانے کے لیے فٹ بال سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔
1978 میں ارجنٹینا میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
فوجی حکمران خورخے ویدیلا نے ورلڈ کپ کی میزبانی کو اپنی حکومت کے لیے ایک سنہری موقع سمجھا۔
اس وقت ملک میں سیاسی گرفتاریاں، لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی توجہ کا مرکز تھیں، مگر ورلڈ کپ نے ان خبروں کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
ارجنٹینا کی پیرو کے خلاف 6-0 کی فتح آج بھی ورلڈ کپ کی تاریخ کے متنازع ترین نتائج میں شمار ہوتی ہے۔
اس میچ کے بارے میں کئی سوالات اور شکوک و شبہات پیدا ہوئے، لیکن بالآخر ارجنٹینا نے فائنل جیت کر اپنا پہلا عالمی ٹائٹل حاصل کر لیا اور حکومت کو وہ قومی جشن مل گیا جس کی اسے ضرورت تھی۔
تاہم ورلڈ کپ اور سیاست کا تعلق ہمیشہ منفی نہیں رہا۔
جنوبی افریقہ اس کی ایک مثبت مثال ہے۔
نسلی امتیاز کے طویل دور کے بعد نیلسن منڈیلا نے کھیل کو قومی مفاہمت اور اتحاد کا ذریعہ بنایا۔
انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کھیل صرف تقسیم نہیں بلکہ قوموں کو جوڑنے کا بھی کام کر سکتا ہے۔
بعد ازاں جنوبی افریقہ کو 2010 کے ورلڈ کپ کی میزبانی ملی، جو افریقی براعظم میں ہونے والا پہلا عالمی کپ تھا۔
یہ محض ایک کھیلوں کا ایونٹ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سیاسی کامیابی بھی تھی جس نے افریقہ کو عالمی سطح پر نئی شناخت دی۔
2018 میں روس نے بھی ورلڈ کپ کو عالمی سطح پر اپنی نرم طاقت کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔
کریمیا کے الحاق اور مغرب کے ساتھ کشیدگی کے باوجود ماسکو نے دنیا کو ایک مختلف روس دکھانے کی کوشش کی۔
لاکھوں شائقین کے لیے یہ ایک جدید، محفوظ اور مہمان نواز روس تھا، جو سیاسی سرخیوں سے بالکل مختلف نظر آتا تھا۔
اب نگاہیں 2026 کے ورلڈ کپ پر مرکوز ہیں، جسے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر منعقد کر رہے ہیں۔
یہ ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے منفرد ہے۔
پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہوں گی، میچوں کی تعداد بڑھے گی اور تجارتی آمدنی کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کی توقع ہے۔
منڈیلا نے ثابت
کیا کہ کھیل
صرف تقسیم نہیں
بلکہ قوموں کو
جوڑنے کا بھی
کام کر سکتا ہے
لیکن اس عالمی مقابلے کے ساتھ سیاسی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ویزا پابندیاں، سرحدی پالیسیوں کے تنازعات، سکیورٹی خدشات اور بین الاقوامی کشیدگی اس ٹورنامنٹ کے گرد موجود ہیں۔ فیفا کو مختلف حکومتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن قائم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی ٹکٹ قیمتوں نے بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ آہستہ آہستہ عام شائقین کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے اور یہ ایونٹ زیادہ سے زیادہ ایک تجارتی منصوبہ بنتا جا رہا ہے۔
اس سب کے باوجود ایک حقیقت تبدیل نہیں ہوئی۔
ورلڈ کپ اب بھی وہ اسٹیج ہے جہاں قومیں اپنی شناخت، طاقت، امیدوں اور خوابوں کا اظہار کرتی ہیں۔
گزشتہ 9 دہائیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی دنیا کسی سیاسی بحران، نظریاتی کشمکش یا تاریخی تبدیلی سے گزری، اس کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں ورلڈ کپ کے میدانوں تک ضرور پہنچے۔
اسی لیے ورلڈ کپ صرف فٹ بال کا ٹورنامنٹ نہیں بلکہ دنیا کی سیاسی، سماجی اور تاریخی تبدیلیوں کا آئینہ بھی ہے۔
2026 کا ورلڈ کپ بھی اسی طویل داستان کا ایک نیا باب ہوگا، جہاں ایک بار پھر سیاست اور فٹ بال ایک ہی اسٹیج پر نظر آئیں گے، اگرچہ آخرکار فیصلہ میدان میں کھلاڑیوں کے پاؤں ہی کریں گے، سیاست دانوں کے بیانات نہیں۔
تصرف کے ساتھ بشکریہ: المجلہ