ورلڈ کپ 1966 صرف انگلینڈ کی تاریخی فتح یا متنازع ’گھوسٹ گول‘ کی وجہ سے یاد نہیں کیا جاتا، بلکہ اس ٹورنامنٹ سے ایک ایسے کتے کی داستان بھی جڑی ہے جس نے چوری ہونے والی ورلڈ کپ ٹرافی تلاش کرکے عالمی فٹبال کو بڑے بحران سے بچا لیا۔
’پکلز‘ نامی اس کتے نے اتفاقاً ٹرافی ڈھونڈ نکالی اور راتوں رات قومی ہیرو بن گیا۔
فٹبال ورلڈ کپ کی بعض یادگار ایڈیشنز کسی تاریخی گول، فیصلہ کن لمحے یا متنازع ریفری فیصلے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں، لیکن 1966 کا ورلڈ کپ ایک ایسے کتے کی وجہ سے تاریخ میں امر ہو گیا جو راتوں رات قومی اور عالمی ہیرو بن گیا۔
یہ بات بعض لوگوں کو حیران کن لگ سکتی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ’پکلز‘ نامی ایک مخلوط نسل کے کتے نے ورلڈ کپ 1966 کی سب سے بڑی شخصیت کا درجہ حاصل کر لیا تھا، کیونکہ اس نے چوری ہونے والی ورلڈ کپ ٹرافی کو ڈھونڈ نکال کر ایک ممکنہ عالمی شرمندگی کو ٹال دیا۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق 20 مارچ 1966 کو، یعنی ورلڈ کپ کے آغاز سے تقریباً 3 ماہ قبل، ’جولس ریمے‘ ٹرافی لندن کے وسط میں واقع ویسٹ منسٹر سینٹرل ہال میں شیشے کی ایک محفوظ الماری میں نمائش کے لیے رکھی گئی تھی۔ نمائش کے اگلے ہی روز یہ ٹرافی چوری ہو گئی۔
اس واقعے نے انگلینڈ کو پریشانی میں مبتلا کر دیا، وہ نہ صرف ورلڈ کپ کا میزبان تھا بلکہ فٹبال کی جائے پیدائش بھی سمجھا جاتا تھا۔
1930 سے عالمی فٹبال کی علامت سمجھی جانے والی ٹرافی کی گمشدگی نے ملک کو شرمندگی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
برطانوی پولیس نے کئی دنوں تک لندن کی گلیوں اور سڑکوں کی چھان بین کی، مگر ٹرافی کا کوئی سراغ نہ ملا۔
اس دوران پولیس کو بلیک میلنگ کے پیغامات اور جھوٹی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہیں، جبکہ میڈیا اور عوام کا دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔
یہ معاملہ قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا تھا اور انگلینڈ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا آغاز اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سبکی کے ساتھ کرنے کے قریب تھا۔
ایک اتفاق جس نے انگلینڈ کی عزت بچا لی
چوری کے تقریباً ایک ہفتے بعد، پکلز نامی سیاہ و سفید رنگ کا کتا اپنے مالک ڈیوڈ کوربٹ کے ساتھ جنوبی مغربی لندن میں چہل قدمی کر رہا تھا۔
اچانک وہ ایک سڑک کنارے کھڑی گاڑی کے قریب رکا اور اخبار میں لپٹے ایک پیکٹ کو سونگھنے لگا۔
کتے کی غیرمعمولی دلچسپی دیکھ کر اس کے مالک نے پیکٹ کھولا تو حیران رہ گیا۔
اس کے اندر وہی جولس ریمے ٹرافی موجود تھی جسے پوری دنیا تلاش کر رہی تھی۔
کوربٹ نے فوری طور پر ٹرافی پولیس کے حوالے کر دی۔
ابتدا میں پولیس نے خود اس پر شبہ ظاہر کیا، لیکن تحقیقات کے بعد اسے بے گناہ قرار دے دیا گیا۔
اس کے بعد پکلز ایک قومی ہیرو بن گیا۔
اسے مختلف اعزازات دیے گئے، ٹیلی ویژن پروگراموں اور اشتہارات میں شامل کیا گیا اور اس کی شہرت پورے برطانیہ میں پھیل گئی۔
انعامات اور شہرت
پکلز کی بدولت اس کے مالک ڈیوڈ کوربٹ کو بھی غیرمعمولی شہرت ملی۔
اسے ویمبلے اسٹیڈیم میں انگلینڈ اور مغربی جرمنی کے درمیان ہونے والے ورلڈ کپ فائنل کے بعد منعقدہ سرکاری عشائیے میں مدعو کیا گیا۔
انگلینڈ نے یہ فائنل 2-4 سے جیت کر اپنی تاریخ کا پہلا اور اب تک کا واحد ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔
بی بی سی کے مطابق کوربٹ کو 5 ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ کا نقد انعام بھی دیا گیا، جو آج کے حساب سے ایک خطیر رقم تصور کی جاتی ہے۔
بعد ازاں برطانوی پولیس نے ٹرافی چوری کرنے والے مجرم ایڈورڈ بیچلی کو گرفتار کر لیا، جسے عدالت نے قید کی سزا سنائی۔
پکلز زیادہ عرصہ اپنی شہرت سے لطف اندوز نہ ہو سکا۔
وہ 1967 میں ہلاک ہوگیا اور اسے کوربٹ کے گھر کے باغ میں دفن کیا گیا۔
’گھوسٹ گول‘ جس نے تاریخ بدل دی
ورلڈ کپ 1966 ایک اور وجہ سے بھی تاریخ کا حصہ بن گیا۔
فائنل کے اضافی وقت میں انگلینڈ کے اسٹرائیکر جیف ہرسٹ نے ایک ایسا گول کیا جو آج بھی ’گھوسٹ گول‘ کے نام سے مشہور ہے۔
101ویں منٹ میں ہرسٹ کی شاٹ کراس بار سے ٹکرا کر زمین پر گری۔
ریفری نے اپنے معاون سے مشاورت کے بعد گول قرار دے دیا، حالانکہ بعد کی تصاویر اور تجزیوں سے ظاہر ہوا کہ گیند مکمل طور پر گول لائن عبور نہیں کر سکی تھی۔
اس متنازع فیصلے کے بعد انگلینڈ کو 2-3 کی برتری ملی اور پھر اس نے چوتھا گول کر کے میچ 2-4 سے جیت لیا۔
Geoff Hurst’s 2nd goal against West Germany in the 1966 World Cup Final
— The Football History Boys (@TFHBs) July 4, 2025
… over the line or not? 🏴 🇩🇪 pic.twitter.com/E6CTcRkYXv
ٹرافی کی ایک اور پراسرار چوری
1966 کے واقعے کے برسوں بعد جولس ریمے ٹرافی ایک بار پھر خبروں میں آئی۔
1983 میں برازیل میں محفوظ اصل ٹرافی چوری ہو گئی۔
برازیل نے 1970 میں تیسری بار ورلڈ کپ جیتنے کے بعد یہ ٹرافی مستقل طور پر اپنے پاس رکھ لی تھی، لیکن ریو ڈی جنیرو میں اسے چوری کر لیا گیا۔
پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کیا، مگر ملزمان نے متضاد بیانات دیے۔
بعض کے مطابق ٹرافی کو پگھلا کر سونے کی اینٹوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
آج برازیلین فٹبال فیڈریشن کے پاس جولس ریمے ٹرافی کی نقل موجود ہے، جبکہ اصل ٹرافی اب بھی فٹبال تاریخ کے سب سے بڑے رازوں میں شمار ہوتی ہے۔