فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کی تیسرے اور فیصلہ کن راؤنڈ کے تمام میچ آج سے بیک وقت کھیلے جا رہے ہیں، لیکن اس اصول کی بنیاد 1982 کے اسپین ورلڈ کپ میں پیش آنے والے مشہور ’خیخون اسکینڈل‘ پر رکھی گئی تھی۔
اس متنازع میچ میں مغربی جرمنی اور آسٹریا کے نتیجے نے الجزائر کو اگلے مرحلے سے باہر کر دیا، جس کے بعد فیفا نے مستقبل میں ممکنہ گٹھ جوڑ اور نتائج میں ہیرا پھیری روکنے کے لیے آخری گروپ میچز ایک ہی وقت پر کرانے کا قانون نافذ کیا۔
آج فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کی تیسرے اور فیصلہ کن راؤنڈ کا آغاز ہو رہا ہے، جہاں ہر گروپ کے دونوں میچ ایک ہی وقت میں کھیلے جائیں گے۔
یہ اصول آج عالمی فٹبال کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس قانون کے پیچھے ایک عرب اور افریقی ٹیم الجزائر کی تلخ داستان چھپی ہوئی ہے۔
یہ وہ واقعہ تھا جسے تاریخ میں ’خیخون اسکینڈل‘ یا ’خیخون سازش‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جس نے 1982 کے ورلڈ کپ کے بعد فیفا کو قوانین تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
مزید پڑھیں
44 سال قبل پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک متنازع میچ نہیں تھا بلکہ ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے عالمی فٹبال میں شفافیت اور منصفانہ مقابلے کے نئے اصول متعارف کرائے۔
الجزائر کے خواب کی شاندار شروعات
1982 کے اسپین ورلڈ کپ میں الجزائر نے پہلی مرتبہ شرکت کی اور آغاز ہی میں دنیا کو حیران کر دیا۔
’صحرا کے مجاہدوں‘ نے یورپی چیمپئن مغربی جرمنی کو 2-1 سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اپ سیٹ کر دیا۔
اگرچہ الجزائر کو دوسرے میچ میں آسٹریا کے ہاتھوں شکست کا سامنا
کرنا پڑا، لیکن اس نے تیسرے میچ میں چلی کو 3-2 سے ہرا کر شاندار واپسی کی اور گروپ مرحلہ دو فتوحات کے ساتھ مکمل کیا۔
اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ الجزائر تاریخ رقم کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
وہ میچ جس نے فٹبال کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
الجزائر اپنے تمام میچ مکمل کر چکا تھا، جبکہ گروپ کا آخری مقابلہ مغربی جرمنی اور آسٹریا کے درمیان ہونا باقی تھا۔
حساب کتاب انتہائی واضح تھا۔
اگر جرمنی صرف ایک گول کے فرق سے جیت جاتا تو جرمنی اور آسٹریا دونوں اگلے مرحلے میں پہنچ جاتے اور الجزائر باہر ہو جاتا۔
میچ کے 10 ویں منٹ میں جرمن اسٹرائیکر ہورسٹ ہروبیش نے گول کر دیا، لیکن اس کے بعد مقابلے کا نقشہ ہی بدل گیا۔
دونوں ٹیموں نے حملہ آور کھیل تقریباً ترک کر دیا اور زیادہ تر وقت درمیانِ میدان میں گیند کا تبادلہ کرتی رہیں۔
گول کرنے کی سنجیدہ کوششیں تقریباً ختم ہو گئیں اور اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔
ہسپانوی تماشائیوں نے ’باہر نکلو، باہر نکلو‘ کے نعرے لگائے جبکہ بعض جرمن شائقین بھی اپنی ٹیم کے رویے پر برہم دکھائی دیے۔
یہ منظر جلد ہی ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے متنازع لمحات میں شامل ہو گیا۔
الجزائر کا احتجاج اور فیفا کا مؤقف
میچ کے بعد الجزائر فٹبال فیڈریشن نے فیفا کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
تاہم فیفا نے یہ موقف اختیار کیا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان کسی پیشگی معاہدے کا قانونی ثبوت موجود نہیں، اس لیے نتیجہ برقرار رکھا جائے گا۔
یوں مغربی جرمنی اور آسٹریا اگلے مرحلے میں پہنچ گئے جبکہ الجزائر، دو فتوحات حاصل کرنے کے باوجود، ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
وہ فیصلہ جس نے ورلڈ کپ بدل دیا
اگرچہ فیفا نے نتیجہ تبدیل نہیں کیا، لیکن اس نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ مسئلہ ٹورنامنٹ کے شیڈول میں موجود خامی کا تھا۔
الجزائر اپنا آخری میچ ایک دن پہلے کھیل چکا تھا، جس کی وجہ سے جرمنی اور آسٹریا کو مکمل طور پر معلوم تھا کہ کون سا نتیجہ دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
اسی پس منظر میں فیفا نے ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ گروپ مرحلے کے آخری راؤنڈ کے تمام میچ ایک ہی وقت میں کھیلے جائیں گے تاکہ کوئی بھی ٹیم دوسری ٹیموں کے نتائج جان کر اپنے مفاد کے مطابق حکمت عملی نہ بنا سکے۔
یہ قانون پہلی مرتبہ 1986 کے میکسیکو ورلڈ کپ میں نافذ کیا گیا اور آج تک عالمی اور براعظمی مقابلوں میں اسی پر عمل ہو رہا ہے۔
ایک زخم جو آج بھی تازہ ہے
خیخون کا واقعہ الجزائر کے فٹبال شائقین کے لیے آج بھی ایک دردناک یاد ہے۔
جب 2014 کے برازیل ورلڈ کپ میں الجزائر کا مقابلہ جرمنی سے ناک آؤٹ مرحلے میں ہوا تو 32 سال پرانی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں۔
الجزائر کے اُس وقت کے کوچ وحید حلیلہوڈژچ نے کہا کہ ہم 1982 کو نہیں بھولے۔
آج بھی ہر کوئی الجزائر اور جرمنی کے اُس میچ کے بارے میں بات کرتا ہے۔
اس کے باوجود انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ الجزائر نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی۔
ایک میچ سے بڑھ کر ایک ورثہ
خیخون سازش الجزائر کو وہ کوالیفکیشن تو نہ دلا سکی جس کا وہ مستحق سمجھا جاتا تھا، لیکن اس نے عالمی فٹبال کو ایک اہم سبق ضرور دیا۔
آج جب بھی ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کی آخری راؤنڈ میں تمام میچ بیک وقت شروع ہوتے ہیں، تو درحقیقت وہ 1982 میں الجزائر کے ساتھ پیش آنے والے اسی واقعے کی یاد دلاتے ہیں۔
یوں ایک متنازع میچ نے نہ صرف فٹبال کی تاریخ میں اپنا نام ثبت کیا بلکہ ورلڈ کپ کے قوانین کو بھی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔