فیفا ورلڈکپ 2026 کے میدانوں سے جہاں کئی سنسنی خیز خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہاں ایرانی قومی فٹ بال ٹیم کے گول کیپر علی رضا بیرانوند کی کارکردگی نے دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
بیلجئیم جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف کھیلے گئے ایک انتہائی اہم میچ میں بظاہر کمزور دکھائی دینے والی ایرانی ٹیم نے صفر-صفر سے ایک قیمتی ڈرا میچ کھیلا۔
اس شان دار کامیابی کے پیچھے 33 سالہ علی رضا بیرانوند کی مستعدی نمایاں تھی، جنہوں نے بیلجئیم کے فارورڈز کے 7 خطرناک حملوں کو ناکام بنایا۔
خاص طور پر دوسرے ہاف میں بیلجئیم کے اسٹار کھلاڑی ماکسیم ڈی کوئپر کے یقینی گول کو جس جادوئی انداز میں انہوں نے روکا، اس نے اسٹیڈیم میں بیٹھے مداحوں کو انگشت بدنداں کر دیا۔
میچ کے بعد انہیں ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جس کی بدولت ایرانی ٹیم عارضی طور پر اپنے گروپ 7 کے مونوپولی چارٹ پر سرفہرست آگئی۔
You voted Alireza Beiranvand Superior Player of the Match! ⚽
— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 21, 2026
#FIFAWorldCup #SuperiorPOTM pic.twitter.com/aDWCw15Fhs
لرستان کے پہاڑوں سے تہران کے فٹ پاتھ تک
آج دنیا جس بیرانوند کو داد دے رہی ہے، اس کی زندگی کی شروعات کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔
مغربی ایران کے پہاڑی صوبے لرستان کے ایک غریب دیہات میں آنکھ کھولنے والے بیرانوند کا بچپن بھیڑ بکریاں چرانے میں گزرا۔
ان کا خاندان انتہائی غریب اور والد سخت روایتی مزاج کے مالک تھے جو فٹ بال کو وقت کا ضیاع سمجھتے تھے۔
بیرانوند نے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میرے والد چاہتے تھے کہ میں کھیل کود چھوڑ کر مزدوری کروں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’والد نے غصے میں کئی بار میرے دستانے اور کِٹ پھاڑ ڈالے، یہاں تک کہ مجھے کئی میچز بغیر دستانوں کے ننگے ہاتھوں سے کھیلنے پڑے‘۔
تہران کی سڑکیں اور پیزا ڈلیوری کی نوکریاں
برطانوی میڈیا کی طرح فرانسیسی پریس نے بھی بیرانوند کے ماضی کے اچھوتے پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔
اخبار L’Equipe کے مطابق فٹ بال کا جنون بیرانوند کو چھوٹی عمر میں ہی اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کر گیا۔ وہ ایک بس میں بیٹھ کر دارالحکومت تہران پہنچ گئے جہاں ان کا کوئی آسرا نہیں تھا۔
پیٹ پالنے اور فٹ بال ٹرائلز دینے کے لیے انہوں نے تہران کے فٹ پاتھوں اور کار واشنگ سینٹرز پر کام کیا۔
وہ ایک طویل عرصے تک فیکٹریوں میں مزدوری اور پیزا ڈلیوری بوائے کے طور پر کام کرتے رہے اور راتیں کھلے آسمان تلے سڑکوں پر گزاریں۔
ان کا فٹ بال کا سفر اس وقت شدید خطرے میں پڑ گیا جب ’نفت تہران‘ کلب کی انتظامیہ نے ایک تربیتی سیشن کے دوران انجری کا شکار ہونے پر انہیں ٹیم سے باہر کر دیا۔
ہمت نہ ہارنے پر اسی کلب نے 2011 میں انہیں دوبارہ موقع دیا، جو پیشہ ورانہ کیریئر کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔
𝗔𝗟𝗜𝗥𝗘𝗭𝗔 𝗕𝗜𝗥𝗔𝗡𝗩𝗔𝗡𝗗 𝗡𝗢 𝗚𝗨𝗜𝗡𝗡𝗘𝗦𝗦 𝗪𝗢𝗥𝗟𝗗 𝗥𝗘𝗖𝗢𝗥𝗗𝗦!🥇🌟
— Boavista FC (@boavistaoficial) November 25, 2021
O guarda-redes entrou para o livro de recordes pelo lançamento de bola mais longo com a mão num jogo oficial ⚽
🔗 https://t.co/6xFtINmY5C#BoavistaFC #AlirezaBiranvand #GuinnessWorldRecords pic.twitter.com/64qyUCEN8W
رونالڈو کی پنالٹی روکنے کا اعزاز اور عالمی ریکارڈ
بیرانوند نے جلد ہی اپنی کارکردگی سے نفت تہران کو مقامی فٹ بال میں صفِ اول میں کھڑا کر دیا، ٹیم کو ایرانی کپ کے فائنل تک پہنچایا اور ایشین چیمپئنز لیگ میں اپنی دھاک بٹھائی۔
2015 میں وہ ایران کے سب سے بڑے اور مقبول کلبوں میں سے ایک ’پرسپولیس‘ کا حصہ بن گئے۔
عالمی سطح پر ان کی شہرت کا سورج روس میں منعقدہ فیفا ورلڈ کپ 2018 کے دوران چمکا، جب انہوں نے مراکش کے خلاف شاندار کھیل پیش کیا اور پرتگال کے خلاف میچ میں دنیائے فٹ بال کے عظیم کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کی پنالٹی کِک کو روک کر دنیا کو حیران کر دیا۔
اس کے علاوہ بیرانوند کے نام فٹ بال کی تاریخ میں سب سے لمبی ہینڈ تھرو (گول کیپر کی جانب سے ہاتھ سے گیند پھینکنے) کا گنیز ورلڈ ریکارڈ بھی ہے۔ انہوں نے 2016 میں تہران کے میدان میں 61 میٹر کے فاصلے تک گیند پھینک کر سب کو حیران کر دیا تھا۔
یورپی مہم جوئی اور تراکتور کلب کا تاریخی اعزاز
2020 میں بیرانوند نے یورپ کا رخ کیا اور بیلجئیم کے کلب ’انتويرب‘ میں شمولیت اختیار کی، تاہم وہاں انہیں زیادہ مواقع نہ مل سکے۔
اس کے بعد وہ پرتگال کے کلب ’بواویشتا‘ گئے لیکن وہاں بھی زیادہ تر وقت بینچ پر ہی گزرنے کے باعث ان کا یورپی سفر ادھورا رہ گیا۔
یورپ میں ناموافق حالات کے بعد انہوں نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور دوبارہ پرسپولیس کلب کا حصہ بن کر اپنی کھوئی ہوئی فارم بحال کی۔
2025 میں انہوں نے ایران کے ’تراکتور‘ کلب میں شمولیت اختیار کی اور اپنی جادوئی گول کیپنگ کے ذریعے اس کلب کو اس کی تاریخ کا پہلا سیزن ٹائٹل جتوانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔
علی رضا بیرانوند کی کہانی محض فٹ بال کے ایک کھلاڑی کی کامیابی نہیں، بلکہ انسانی عزم، استقلال اور غربت کے خلاف مسلسل جدوجہد کا ایک عالمی استعارہ ہے۔
سڑکوں پر راتیں گزارنے والے ایک چرواہے کا ورلڈ کپ 2026 میں دنیا کی بہترین ٹیموں کے سامنے آہنی دیوار بن جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ٹیلنٹ کے ساتھ بے پناہ عزم موجود ہو تو دنیا کی کوئی بھی رکاوٹ آپ کا راستہ نہیں روک سکتی۔