براہ راست نشریات

18 گھنٹے مذاکرات کے بعد ایرانی وفد روانہ، پاک، قطر مشترکہ اعلامیہ جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات

سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان 18 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد ایرانی وفد تہران واپس چلا گیا، جبکہ تکنیکی مذاکرات پورا ہفتہ جاری رہیں گے۔
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور لبنان سے متعلق خصوصی ورکنگ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے بورگن شٹوک ریزورٹ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد ایرانی وفد پیر کو تہران واپس روانہ ہو گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی وفد، جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے تھے اور جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے، تقریباً 18 گھنٹے تک جاری رہنے والی مشاورت اور مذاکرات کے بعد پیر کی صبح مذاکراتی مقام سے روانہ ہوا۔

مزید پڑھیں

ایرانی میڈیا کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب‌آبادی سوئٹزرلینڈ میں جاری تکنیکی مذاکراتی وفد کی سربراہی کریں گے، جہاں یادداشتِ پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور خصوصی تکنیکی کمیٹیوں کی تشکیل پر گفتگو ہوگی۔

دوسری جانب سوئس وفاقی محکمۂ خارجہ امور نے کہا ہے کہ امریکا، ایران اور ثالث ممالک کے درمیان رات بھر جاری رہنے والے مذاکرات میں 

مثبت پیش رفت ہوئی اور اب تکنیکی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔

قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پہلے مرحلے کے مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جن میں حوصلہ افزا پیش رفت حاصل کی گئی۔ 

فریقین نے آئندہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

بیان کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی قائم کی جائے گی جو ثالثی کے عمل کی نگرانی کرے گی، جبکہ جوہری پروگرام، پابندیوں، عملدرآمد اور تنازعات کے حل سے متعلق خصوصی ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔

فریقین نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ کسی بھی حادثے یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔

65464564
وینس بورگن شٹوک ریزورٹ میں ہونے والے اجلاس سے قبل، شہباز شریف سے مصافحہ کرتے ہوئے عباس عراقچی کی جانب دیکھ رہے ہیں، جبکہ جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں (فوٹو: رائٹرز)

لبنان کے حوالے سے بھی ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں امریکا، ایران، لبنان اور ثالث ممالک شامل ہوں گے۔ 

اس گروپ کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا اور کسی بھی نئی کشیدگی کو روکنا ہوگا۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ قطری اور پاکستانی ثالثی کی کوششوں سے لبنان میں جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ لبنان میں مجوزہ ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ اس عمل کا پہلا حقیقی امتحان ہوگا۔

عراقچی نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں ایرانی تیل کی برآمدات سے متعلق رعایتوں، بعض منجمد اثاثوں کی فوری رہائی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور ایران کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

سفارتی الرٹ

سوئٹزرلینڈ مذاکرات: ایرانی وفد 18 گھنٹے بعد تہران روانہ، تکنیکی بات چیت جاری

امریکا، ایران، قطر اور پاکستان نے 60 روزہ روڈ میپ، ورکنگ گروپس اور آبنائے ہرمز رابطہ چینل پر اتفاق کر لیا

⏱️ ایک منٹ میں:
بورگن شٹوک ریزورٹ میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور تقریباً 18 گھنٹے جاری رہا، جس کے بعد ایرانی وفد تہران واپس روانہ ہو گیا۔ اب تکنیکی مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے، جن میں عملدرآمد، پابندیوں، جوہری پروگرام، لبنان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی محفوظ جہاز رانی پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
0گھنٹے مذاکرات
0روزہ روڈ میپ
0مرکزی فریق
0براہِ راست رابطہ چینل
ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کا حصہ تھے۔ 18 گھنٹے کی مشاورت کے بعد وفد پیر کو تہران روانہ ہو گیا۔
قطر اور پاکستان نے مشترکہ بیان میں مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا۔ دونوں ممالک ثالثی کے عمل کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی وفد کی سربراہی کریں گے، جہاں یادداشتِ تفاہم پر عملدرآمد اور ورکنگ گروپس کی تشکیل پر گفتگو ہوگی۔
فریقین نے 60 روز میں حتمی معاہدے کے لیے روڈ میپ، سیاسی کمیٹی، تکنیکی ورکنگ گروپس اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے لیے رابطہ چینل پر اتفاق کیا۔

🇨🇭 بورگن شٹوک میں پہلے دور کے مذاکرات تقریباً 18 گھنٹے جاری رہے۔
🇮🇷 ایرانی وفد مشاورت کے بعد پیر کی صبح تہران واپس روانہ ہو گیا۔
🤝 قطر اور پاکستان کے مطابق مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے۔
🗓️ فریقین نے آئندہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا۔
🏛️ ایک اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی ثالثی کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

☢️ جوہری پروگرام

ایران کے جوہری پروگرام، نگرانی کے نظام اور تکنیکی ضمانتوں پر خصوصی ورکنگ گروپ گفتگو کرے گا۔

💰 پابندیاں

اقتصادی پابندیوں میں نرمی، ایرانی تیل کی برآمدات اور منجمد اثاثوں کی رہائی پر پیش رفت زیرِ بحث آئے گی۔

⚖️ عملدرآمد

یادداشتِ تفاہم پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور تنازعات کے حل کے لیے خصوصی میکانزم تشکیل دیا جائے گا۔

🏗️ تعمیر نو

ایران کی تعمیر نو کے منصوبوں اور اقتصادی بحالی سے متعلق امور بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

🚢 محفوظ جہاز رانی

فریقین نے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

⚠️ غلط فہمی سے بچاؤ

اس چینل کا مقصد کسی بھی بحری حادثے، غلط فہمی یا ممکنہ کشیدگی کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔

🇱🇧 خصوصی ورکنگ گروپ

لبنان کے حوالے سے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں امریکا، ایران، لبنان اور ثالث ممالک شامل ہوں گے۔

🕊️ ڈی کنفلیکشن سیل

عباس عراقچی کے مطابق لبنان میں مجوزہ ڈی کنفلیکشن سیل اس پورے عمل کا پہلا حقیقی امتحان ہوگا۔

📌 خلاصہ

سوئٹزرلینڈ میں جاری تکنیکی مذاکرات امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت کو حتمی معاہدے میں تبدیل کرنے کی سب سے اہم کڑی بن چکے ہیں۔ اگر 60 روزہ روڈ میپ، لبنان جنگ بندی، آبنائے ہرمز رابطہ چینل اور پابندیوں سے متعلق ورکنگ گروپس کامیاب رہے تو خطے میں کشیدگی کم کرنے کا ایک نیا سفارتی راستہ کھل سکتا ہے۔

BY: overseaspost.net

یاد رہے کہ 15 جون کو امریکا، ایران اور پاکستان نے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد 28 فروری سے جاری تنازع اور خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہے۔ 

اب سوئٹزرلینڈ میں جاری تکنیکی مذاکرات کو حتمی معاہدے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔