امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا فریم ورک معاہدہ الیکٹرانک دستخطوں کے بعد فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کھولے گا جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ آئندہ 60 دن انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ اسی مدت میں حتمی مذاکرات مکمل کر کے مستقل امن معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے بعد آنے والے مرحلے کو ’چیلنجز سے بھرپور‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 60 دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ فریم ورک معاہدہ ایک مستقل اور حتمی تصفیے میں تبدیل ہو پاتا ہے یا نہیں۔
سوزی وائلز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فرانس کا حالیہ دورہ کئی اہم سفارتی کامیابیوں سے بھرپور رہا، جن میں سب سے نمایاں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط تھے۔
There have been have so many memorable days and proud accomplishments for the President and his team.
— Susie Wiles (@SusieWiles47) June 18, 2026
The G7 was a huge success and an opportunity to make sure the members and other participates see “America First” in action. Not America Only, America First.
The trip was… pic.twitter.com/TUHlwLysfF
انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ نے فرانس کے تاریخی محل ورسائی میں ایک تقریب کے دوران اس دستاویز پر دستخط کیے، جسے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وائلز کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت قدم ہے، اگرچہ آئندہ ہفتوں میں اس کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے پیچیدہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
Just prior to this evenings dinner at Versailles in France, hosted by President @EmmanuelMacron—President @realDonaldTrump signed the Iran Memorandum of Understanding, once Secretary Rubio received it…
— Dan Scavino (@Scavino47) June 17, 2026
“A pretty key moment in history we are sharing together…” @SecRubio pic.twitter.com/sLYi6G9TM3
معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل
دوسری جانب پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ الیکٹرانک دستخطوں کے فوراً بعد نافذ العمل ہو چکا ہے، اگرچہ اس کی باضابطہ دستخطی تقریب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا، جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری محاصرہ ختم کرنا شروع کرے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور قطر کی معاونت سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوگا، جن کا مقصد 60 دن کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
ضرورت پڑنے پر اس مدت میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکے گی۔
مزید پڑھیں
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنے، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکا آئندہ 30 دن کے دوران ایران پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھول دے گا اور 60 دن تک جہازوں سے کوئی فیس وصول نہیں کرے گا۔
بعد ازاں خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقل انتظام اور سکیورٹی کے لیے نئے انتظامات پر غور کیا جائے گا۔
الیکٹرانک دستخط اور حتمی مذاکرات
امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق فریم ورک معاہدے پر الیکٹرانک دستخط پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں اور یہ معاہدہ نافذ العمل ہو چکا ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب آئندہ مذاکراتی مرحلے کا باضابطہ آغاز ہوگی۔
ذرائع کے مطابق معاہدے پر قبل از وقت دستخط کرنے کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد بحال کرنا اور عالمی تجارت کو درپیش رکاوٹوں کا خاتمہ تھا۔
ایک منٹ میں
امریکا اور ایران کے درمیان فریم ورک معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک نے جنگی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کھولنے، بحری پابندیاں کم کرنے اور 60 دن کے اندر ایک جامع امن معاہدے کی کوشش پر اتفاق کیا ہے، جبکہ پاکستان اور قطر نے ثالثی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
اہم واقعات کا ٹائم لائن
10 اہم ترین نکات
امریکا اور ایران کے درمیان فریم ورک معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو چکا ہے اور الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے آئندہ 60 دنوں کو فیصلہ کن قرار دیا ہے کیونکہ حتمی مذاکرات اسی مدت میں مکمل ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے ورسائی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے اور اسے عالمی امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی نے کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایران نے آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں اور محاصرہ مرحلہ وار ختم کرے گا۔
دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر جنگی سرگرمیاں روکنے اور خودمختاری کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے۔
60 دن کے اندر جامع اور مستقل امن معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔
ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
یہ معاہدہ جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے تعلقات پر بڑے مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کی وارننگ
اگرچہ معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اس کی کامیابی ایران کی جانب سے مکمل عملدرآمد سے مشروط ہے۔
جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
بزشکیان کی تصویر پر بحث
ایرانی سرکاری میڈیا نے صدر مسعود بزشکیان کی تصاویر جاری کیں جن میں وہ مفاہمتی یادداشت کی فارسی زبان میں تیار کردہ کاپی اٹھائے ہوئے دکھائی دیے۔
اس تصویر نے سوشل میڈیا اور تجزیاتی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی، کیونکہ دستاویز پر ایرانی صدر کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط بھی نمایاں طور پر موجود تھے۔
مسعود پزشکیان یادداشت تفاهم اسلامآباد را امضا کرد
— Sara Massoumi (@SaraMassoumi) June 17, 2026
🔹 مسعود پزشکیان رئیسجمهور ایران و دونالد ترامپ رئیسجمهور ایالات متحده آمریکا در فاصله زمانی کوتاهی متن یادداشت تفاهم اسلامآباد را بهصورت دیجیتال و غیرحضوری امضا کردند. pic.twitter.com/tunHq7nNIx
مبصرین نے اس منظر کو ایک علامتی اور غیر معمولی لمحہ قرار دیا، جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ، کئی ماہ کی کشیدگی اور طویل مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مفاہمت کی نئی راہ ہموار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ صرف جنگ کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر متنازع امور پر وسیع تر مذاکرات کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔