براہ راست نشریات

کشیدگی کے باعث منڈیوں میں تشویش، خلیجی اسٹاک سرخ زون میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خلیجی اسٹاک مارکیٹیں

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
آج پیر کے روز بیشتر خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سعودی مارکیٹ نسبتاً مستحکم رہی اور آرامکو کے حصص میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اضافہ ہوا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں آج پیر کے روز بیشتر خلیجی اسٹاک مارکیٹیں دباؤ کا شکار رہیں، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سعودی عرب میں اسٹاک مارکیٹ کا مرکزی انڈیکس ’تاسی‘ معمولی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 10939.81 پوائنٹس پر مستحکم رہا۔ 

اس دوران سعودی ارامکو کے حصص میں ایک فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی تھی۔

مزید پڑھیں

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں 4.47 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 97.15 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کو سہارا ملا۔

دبئی فنانشل مارکیٹ کا مرکزی انڈیکس 1.3 فیصد گر گیا۔ 

اس دوران اعمار پراپٹیز کے حصص میں 1.2 فیصد اور سالک کے حصص میں 1.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ابوظبی اسٹاک ایکسچینج بھی مندی کی لپیٹ میں رہی، جہاں مرکزی انڈیکس 0.9 فیصد نیچے آیا۔ 

انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی کے حصص 0.6 فیصد اور فرسٹ ابوظبی بینک کے حصص 1.3 فیصد گر گئے۔

خلیجی اسٹاک مارکیٹیں

ادھر قطر اسٹاک ایکسچینج کا مرکزی انڈیکس بھی 0.9 فیصد نیچے آگیا، جبکہ قطر نیشنل بینک کے حصص میں 1.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔

کویت میں فرسٹ مارکیٹ انڈیکس 1.2 فیصد کمی کے ساتھ 9067.1 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 

تاہم کویتی سرمایہ کاری کمپنی کے اسسٹنٹ نائب صدر فوزی الظفیری کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے اثرات اب تک کویتی مارکیٹ پر محدود رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کویتی اسٹاک مارکیٹ کو مثبت سمت میں گامزن کرنے کے لیے مضبوط مالی نتائج اور نئے کاروباری محرکات کی ضرورت ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تہران، تبریز اور اصفہان میں دھماکوں کی اطلاعات اور ایران، اسرائیل کشیدگی میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے خاتمے اور استحکام کی امیدیں وقتی طور پر کمزور پڑ گئی ہیں۔