اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

جنگ کے بادل گہرے، ایران اور اسرائیل میں کھلی محاذ آرائی شروع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران اسرائیل جنگ

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے جن کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے فوجی اور پیٹروکیمیکل اہداف پر فضائی کارروائیاں کیں۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات جاری کیے ہیں، جبکہ امریکہ بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور دونوں جانب ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ پیر کی صبح دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائل اور فضائی حملے کیے، جس کے بعد خطے میں وسیع جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل یا تو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے یا وہ کھلے علاقوں میں جا گرے۔ 

فوج کا کہنا ہے کہ نابلس کے جنوب مشرق میں واقع ایتمار بستی کے قریب ہونے والا دھماکا میزائلوں کے ملبے کے باعث ہوا، جبکہ کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد یروشلم سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ 

اسرائیلی حکام نے شہریوں کو فوری طور پر پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کی، جبکہ امدادی اداروں نے کسی زخمی کی اطلاع نہ ملنے کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے۔ 

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران، تبریز اور اصفہان سمیت کئی شہروں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ 

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے ایران کے جنوب مغربی شہر بندر ماہشہر میں واقع ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا۔ 

اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ ایرانی حکام نے بھی ’قارون پیٹروکیمیکل پلانٹ‘ کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کر دی۔ 

حملے کے بعد علاقے کی خصوصی اقتصادی زون کو خالی کرا لیا گیا۔

ChatGPT Image 8 يونيو 2026، 09 07 16 ص

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ 

ایرانی بیان کے مطابق اسرائیل کی ’نیواتیم‘ اور ’تل نوف‘ فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے حملے جاری رکھے تو ایران تمام محاذوں پر مزید وسیع کارروائیاں کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ تازہ تصادم اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد شروع ہوا، جہاں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 

ایران نے اپنے میزائل حملوں کو اسی کارروائی کا جواب قرار دیتے ہوئے مزید سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔

🚨 مشرقِ وسطیٰ کشیدگی

ایران اور اسرائیل آمنے سامنے
جنگ بندی کے بعد سب سے خطرناک تصادم

میزائل حملے، فضائی کارروائیاں، فوجی الرٹ اور سفارتی دباؤ — خطہ ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا۔

🚀

میزائل حملے

ایران سے اسرائیل کی جانب

✈️

فضائی حملے

اسرائیل کی ایران میں کارروائیاں

⚠️

ہائی الرٹ

اسرائیلی فوج اور سکیورٹی ادارے

🕊️

جنگ بندی

8 اپریل معاہدہ خطرے میں

⏳ کیا ہوا؟

🚀 ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے، یروشلم سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
🛡️ اسرائیلی فوج کے مطابق تمام میزائل تباہ کر دیے گئے یا کھلے علاقوں میں گرے۔
✈️ اسرائیل نے تہران، تبریز، اصفہان اور دیگر علاقوں میں فضائی حملے کیے۔
🏭 بندر ماہشہر کے قارون پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

🔍 اہم نکات

🇮🇷 ایران کا مؤقف

پاسدارانِ انقلاب نے میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

🇮🇱 اسرائیل کا مؤقف

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور کسی میزائل نے مؤثر نقصان نہیں پہنچایا۔

🏭 پیٹروکیمیکل پلانٹ کیوں اہم؟

بندر ماہشہر میں واقع قارون پیٹروکیمیکل کمپلیکس ایران کے اہم صنعتی اور توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

🇺🇸 امریکا کا ردعمل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا۔

🎯 دعویٰ کردہ اہداف

🇮🇱 نیواتیم فضائی اڈہ
🇮🇱 تل نوف فضائی اڈہ
🇮🇷 تہران کے فوجی اہداف
🏭 قارون پیٹروکیمیکل کمپلیکس

⚠️ خطرے کی سطح

ماہرین کے مطابق یہ 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان سب سے خطرناک براہِ راست تصادم ہے، جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع علاقائی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

overseaspost.net

اسرائیل میں وزیرِاعظم کی زیر صدارت سکیورٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جبکہ فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ 

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملک اضافی ایرانی حملوں کے خدشے کے پیش نظر مکمل جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔

اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے امریکہ کے ساتھ مکمل رابطے اور ہم آہنگی کے تحت کیے گئے۔ 

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مزید جھڑپوں کا امکان موجود ہے۔

سیاسی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے جاری مذاکراتی عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

اسرائیل ایران کشیدگی

 امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اسرائیلی قیادت سے رابطہ کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ میزائل اور فضائی حملے 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے خطرناک براہِ راست تصادم ہیں، جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی علاقائی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔