براہ راست نشریات

جنگ کے بعد ایران کا نیا محاذ: مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی غصہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جنگ کے بعد ایران کا معاشی بحران

جنگ کے بعد ایران کو شدید معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
غذائی مہنگائی 130 فیصد تک پہنچ چکی ہے، لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہو چکے ہیں اور بجلی بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والا قومی اتحاد ختم ہونے کے بعد عوامی بے چینی اور داخلی اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر سکتے ہیں، جبکہ پابندیوں میں ممکنہ نرمی بھی 270 ارب ڈالر کے نقصانات کا مکمل ازالہ نہیں کر سکے گی۔

ایرانی حکومت نے جنگ کے دوران پیدا ہونے والے قومی اتحاد کے بعد اب ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مرحلے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ 

یہ ایسا دور ہو سکتا ہے جس میں داخلی اختلافات، معاشی بحران، سماجی بے چینی اور عوامی مطالبات ایک بار پھر شدت اختیار کر جائیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ایرانی حکومتی حلقوں میں جنگ کے بعد ملک کے مستقبل پر بحث و مباحثے کا آغاز ہو چکا ہے۔ 

ایرانی قیادت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ جس طرح اس نے جنگی مرحلے میں سیاسی استحکام برقرار رکھا، اسی طرح امن کے دور میں بھی اپنی سیاسی بقا کو محفوظ بنا سکے۔

مزید پڑھیں

ایران کے میڈیا اور سیاسی فورمز پر اس وقت اس بات پر بحث جاری ہے کہ جنگ کے بعد ملک کو کس سمت جانا چاہیے۔ 

بعض حلقے زیادہ سیاسی اور سماجی کشادگی کے حامی ہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ تہران کو مغرب میں ’کمزور ایران‘ کے تاثر کے خاتمے کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے قومی خودمختاری اور اندرونی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ 

270 ارب ڈالر کے نقصانات

رپورٹ کے مطابق ایرانی معیشت کی بحالی کا دارومدار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتصادی پابندیوں میں کس حد تک نرمی کرتے ہیں اور ایران کے منجمد اثاثے کب اور کیسے آزاد ہوتے ہیں۔

تاہم ایرانی ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں میں کچھ نرمی بھی آ جائے تو وہ جنگ کے دوران ہونے والے تقریباً 270 ارب ڈالر کے نقصانات کا صرف ایک محدود حصہ ہی پورا کر سکے گی۔ 

یہ نقصانات بنیادی ڈھانچے، توانائی کے شعبے، اسکولوں، رہائشی منصوبوں اور فولاد کی صنعت تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ChatGPT Image 7 يونيو 2026، 12 27 17 م

مہنگائی کا طوفان

العربیہ کے مطابق ایرانی ماہرِ عمرانیات فؤاد حبیبی نے خبردار کیا ہے کہ جن معاشی اور سماجی عوامل نے رواں سال جنوری میں ملک گیر احتجاج کو جنم دیا تھا، وہ اب بھی موجود ہیں بلکہ جنگ کے باعث مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔

ان کے مطابق بحری ناکہ بندی، جنگی اخراجات اور معاشی دباؤ نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا ہے، جبکہ انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث کم از کم 20 لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ روزگار سے محروم ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں ایران میں غذائی افراطِ زر 130 فیصد تک پہنچ گیا، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد بلند ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔ 

گوشت اور پولٹری کی قیمتوں میں افراطِ زر 176 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

غذائی بحران اور بچوں کی صحت کو خطرات

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے باعث بڑی تعداد میں خاندان دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات خریدنے سے قاصر ہیں، جس کے نتیجے میں بچوں میں غذائی قلت، ہڈیوں کی کمزوری اور جسمانی نشوونما میں رکاوٹ جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ایران کے سابق وزیر مواصلات محمد جواد جہرومی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا اگلا بم بارود کا نہیں بلکہ مہنگائی کا ہو سکتا ہے۔ 

ان کے بقول آئندہ معرکہ عوام کی دسترخوان، کرایوں اور روزمرہ زندگی کے اخراجات پر لڑا جائے گا۔

ChatGPT Image 4 يونيو 2026، 11 50 44 ص

بجلی بحران کا خدشہ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ملک کو آنے والے مہینوں میں سخت معاشی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے سماجی اتحاد برقرار رکھنا ضروری ہے۔

اگرچہ وزارتِ توانائی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اگلے ماہ سے روزانہ دو گھنٹے کی منصوبہ بند لوڈشیڈنگ شروع کی جا رہی ہے، تاہم ایران چیمبر آف کامرس کی توانائی کمیٹی کے سربراہ آراش نجفی نے شہریوں کو روزانہ بجلی کی بندش کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

حکومت نے بجلی کی بچت کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسے صارفین کو 30 فیصد تک رعایت دینے کا اعلان بھی کیا ہے جو اپنی توانائی کی کھپت میں کم از کم 10 فیصد کمی کریں گے۔

ChatGPT Image 31 مايو 2026، 08 14 05 م

جنگ ختم، مگر چیلنج باقی

دی گارڈین کے مطابق انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد عوامی ناراضی کے آثار دوبارہ نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بعض قدامت پسند ارکانِ پارلیمان نے تو وزیر مواصلات کے خلاف کارروائی کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران کے لیے جنگ کے خاتمے کا سب سے بڑا فائدہ صرف سیاسی یا جوہری سمجھوتہ نہیں، بلکہ برسوں سے جاری اقتصادی پابندیوں اور معاشی دباؤ سے نجات ہے تاہم موجودہ اشارے یہی بتاتے ہیں کہ اگر کوئی معاشی ریلیف ملا بھی تو وہ جنگ کے دوران ہونے والے وسیع نقصانات کے مقابلے میں محدود ہوگا۔

ایران اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں اصل امتحان میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معیشت، روزگار، مہنگائی اور عوامی اطمینان کے محاذ پر ہوگا۔