تہران کی گلیوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے جاری جدوجہد اب تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے ادویات کا حصول ایک ناممکن خواب بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف صحت کا شعبہ متاثر ہے بلکہ انسانی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔
ادویات کی قلت: ایک سنگین حقیقت
تہران کے مختلف علاقوں مثلاً افسریہ اور علی آباد میں صورتحال بہت زیادہ گھمبیر ہے۔
مریض ذیابیطس کی انسولین اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کے بعد درکار اینٹی بائیوٹکس کے لیے ایک فارمیسی سے دوسری فارمیسی بھٹک رہے ہیں، جہاں خالی الماریاں ان کا منہ چڑا رہی ہیں۔
عالمی منڈی سے بلیک مارکیٹ تک
فارمیسی مالکان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر بننے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہو چکی ہیں، جبکہ غیر ملکی متبادل ادویات انتہائی مہنگی ہیں۔
عام شہریوں کی پہنچ سے باہر یہ ادویات اب بلیک مارکیٹ میں کئی گنا زائد قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں، جو کہ ایک بڑا المیہ ہے۔
امپورٹ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں
ادویات کی قلت کی ایک بڑی وجہ خام مال کی درآمد میں مشکلات ہیں۔
بحری ناکہ بندی اور پورٹس پر رکاوٹوں کے باعث فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو درکار بنیادی اجزاء کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی پیداوار تقریباً تعطل کا شکار ہے اور سپلائی چین مکمل طور پر درہم برہم ہے۔
مالیاتی پالیسیوں کے اثرات
اقتصادی ماہرین کے مطابق اس بحران کی جڑیں موجودہ جنگ سے کہیں پہلے کی ہیں۔
حکومت کی جانب سے ادویات کے لیے مختص رعایتی زر مبادلہ (285 ہزار ریال فی ڈالر) کا خاتمہ ایک بڑا فیصلہ تھا، جس نے دوا ساز کمپنیوں کی لیکویڈیٹی (نقد رقم) کو شدید متاثر کیا اور پیداواری لاگت کئی گنا بڑھ گئی۔
تجاویز اور مستقبل کا لائحہ عمل
ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایرانی صدر کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کونسل تشکیل دی جائے جو چین، بھارت اور ترکی کے ساتھ ادویات کی فوری درآمد کے لیے ’ایئر برج‘ قائم کر سکے۔
اس کے علاوہ اسٹریٹیجک اسٹاک کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے ہنگامی بجٹ مختص کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایران میں ادویات کا یہ بحران صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
جب تک حکومت اپنی مالیاتی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتی اور درآمدی رکاوٹوں کو دُور کرنے کے لیے سفارتی و انتظامی کوششیں تیز نہیں کرتی، تب تک عام مریضوں کی زندگیوں پر منڈلاتے خطرات ختم نہیں ہوں گے۔