متعدد ذرائع کی رپورٹس میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری یا تعمیرِ نو فنڈ کا ذکر سامنے آیا ہے، جسے بعض حلقوں نے ’امریکی رئیل اسٹیٹ فنڈ‘ قرار دیا ہے۔
تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ ایک ممکنہ بین الاقوامی سرمایہ کاری فنڈ ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمت کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کی نوعیت، شعبوں اور حتمی منظوری کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔
اقتصادی اعتبار سے اگر ایسا فنڈ قائم ہوتا ہے تو اس کے ممکنہ شعبوں میں توانائی، تیل و گیس، بندرگاہیں، شاہراہیں، شہری ترقی، صنعتی زونز، مواصلاتی ڈھانچہ اور رہائشی منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم فی الحال کوئی ایسی دستاویز سامنے نہیں آئی جس سے ثابت ہو کہ فنڈ کا بنیادی مقصد صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری ہوگا۔
سیاسی لحاظ سے یہ منصوبہ ایران کے لیے ایک اہم معاشی ترغیب بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری، تعمیرِ نو اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے لیے یہ ایک ایسا آلہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے ذریعے وہ جوہری اور سکیورٹی معاملات میں ایران سے قابلِ پیمائش ضمانتیں حاصل کر سکے۔
اس کے باوجود معاہدے کی راہ میں متعدد رکاوٹیں موجود ہیں۔
ان میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام، انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر، بین الاقوامی نگرانی، امریکی پابندیوں کا مستقبل، منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔