جبکہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی وزیر داخلہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کا خصوصی پیغام ایرانی رہنما مجتبی خامنہ ای تک پہنچایا تاہم اس پیغام کے مندرجات ظاہر نہیں کیے گئے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد قطر، ترکی اور مصر سمیت کئی علاقائی ممالک کے تعاون سے ایران اور امریکا کے درمیان فاصلے کم کرنے، خطے میں کشیدگی گھٹانے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
محسن نقوی کو آرمی چیف عاصم منیر کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے، جبکہ عاصم منیر خود بھی ماضی میں ایران کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
وزیر داخلہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کے آغاز سے ہی تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔
یہ دورہ اس ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جو محسن نقوی اور اسکندر مومنی کے درمیان گزشتہ ہفتے کرغیزستان میں وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔
پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق دونوں وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً دو ماہ قبل جنگ بندی کے باوجود حالیہ دنوں میں خلیجی خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔