اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

جنگ بندی دم توڑ گئی؟ ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے آج اتوار کو اسرائیل کی جانب 3 مرحلوں میں میزائل داغے، جس کے بعد مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
جنگ بندی کے بعد یہ ایران کا پہلا براہِ راست میزائل حملہ ہے۔
ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو جواز بناتے ہوئے مزید ’تباہ کن‘ کارروائیوں کی دھمکی دی، جبکہ ایرانی قیادت نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو بھی جائز ہدف قرار دیا۔
اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور وسیع جنگ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے آج اتوار کی شام اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیلی سرزمین پر 3 مختلف مراحل میں بیلسٹک میزائل داغے گئے، جنہیں روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جبکہ اسرائیلی نشریاتی ادارے ’چینل 12‘ نے دعویٰ کیا کہ متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ 

تاہم اسرائیلی میڈیا نے طبریہ کے علاقے میں ایرانی میزائلوں کے ٹکڑوں کے گرنے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

مزید پڑھیں

8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے براہِ راست اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، جس سے خطے میں ایک بار پھر بڑے تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا۔ 

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو لبنان پر اپنے حملے فوری طور پر 

روکنے ہوں گے، بصورت دیگر اگر اس نے کارروائیاں مزید وسیع کیں یا ایران کے اقدامات کا جواب دیا تو اسے ’تباہ کن اور افسوسناک ضربوں‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایران کی سیاسی قیادت نے بھی انتہائی سخت بیانات دیے ہیں۔ 

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکا اور اسرائیل جنگ بندی اور مذاکرات کا احترام نہیں کرتے اور صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔

ChatGPT Image 7 يونيو 2026، 11 04 56 م

قاليباف کے مطابق ایران پر عائد بحری ناکہ بندی اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملے کے لیے امریکی حمایت نے خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اڈوں کو جائز اہداف بنا دیا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم رضائی نے بھی خبردار کیا کہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیلی حملوں کا جواب سخت اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان کے محاذ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ جنگ بندی کے بعد میزائل حملوں کا دوبارہ آغاز پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔