کویت کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف سول ایوی ایشن DGCA نے ایرانی حملوں کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے اور فضائی آمدورفت بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق آج ہفتے کی صبح 6:15 بجے سے ملک بھر میں فضائی آپریشنز معمول کے مطابق دوبارہ شروع کر دیے گئے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ متعلقہ سیکیورٹی اور عسکری اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
ادارے کے مطابق ملک کی فضائی سلامتی کو درپیش خطرات ختم ہونے اور حالات کے مستحکم ہونے کی تصدیق کے بعد فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی حملوں کے خطرے کے پیش نظر کویتی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا تاکہ مسافروں، طیاروں اور فضائی عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس احتیاطی اقدام کے نتیجے میں کویت ایئرویز اور جزیرہ ایئرویز کی مجموعی طور پر 11 پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق ان پروازوں کو سعودی عرب کے ریاض اور دمام
کے ہوائی اڈوں پر اتارا گیا تھا، جہاں مسافروں اور عملے کو ضروری سہولیات فراہم کی گئیں۔ بعد ازاں فضائی حدود کھلنے کے بعد تمام متاثرہ پروازوں کو دوبارہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
کویتی سول ایوی ایشن نے اس موقع پر متعلقہ اداروں، ایئرلائنز اور فضائی عملے کی جانب سے ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے بین الاقوامی فضائی تحفظ کے معیارات کے مطابق کیے گئے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں کویت اور بحرین کی جانب داغے گئے ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خدشات کے باعث متعدد خلیجی ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق کویت کی فضائی حدود کی بحالی اس بات کا اشارہ ہے کہ فوری خطرات میں کمی آئی ہے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی اور بحری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
کویتی حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی پروازوں سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے رابطے میں رہیں۔