ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے AI چیٹ بوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ہر 5 میں سے ایک نوجوان اداسی، بے چینی یا ذہنی دباؤ کے دوران مصنوعی ذہانت سے مشورہ لیتا ہے، جبکہ زیادہ تر صارفین اس رجحان کو دوسروں سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔
ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں ہر 5 میں سے ایک نوعمر یا نوجوان فرد نے نفسیاتی مشورے یا ذہنی معاونت حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی چیٹ بوٹس کا استعمال کیا، جبکہ ان میں سے 63 فیصد نے اس بات کو دوسروں سے خفیہ رکھا۔
یہ رجحان نوجوانوں میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے بحران کے ساتھ ساتھ ان ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔
ویب سائٹ میڈیکل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، یہ تحقیق طبی جریدے JAMA Pediatrics میں شائع ہوئی۔
مزید پڑھیں
تحقیق ایک سروے پر مبنی تھی جس میں 12 سے 21 سال کی عمر کے ایک ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔
محققین نے ایسے شماریاتی طریقے استعمال کیے جن کی بدولت نتائج امریکا کے 4 کروڑ 20 لاکھ سے زائد نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی ادارے Centers for Disease Control and Prevention کے اعداد و شمار ظاہر کرتے
ہیں کہ امریکا کے تقریباً ایک تہائی ہائی اسکول طلبہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں، جبکہ 20 فیصد سے زائد طلبہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے خودکشی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 20 فیصد شرکاء نے اداسی، بے چینی یا ذہنی دباؤ محسوس ہونے پر AI چیٹ بوٹس سے مدد لی۔
یہ شرح گزشتہ سال کیے گئے اسی نوعیت کے سروے میں 13 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں ان ٹولز پر انحصار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
نوجوان ذہنی مدد کے لیے AI چیٹ بوٹس پر انحصار کرنے لگے
نئی تحقیق کے مطابق امریکا میں ہر پانچ میں سے ایک نوجوان ذہنی صحت سے متعلق مشورے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے۔
20%
نوجوانوں نے AI سے ذہنی مدد لی
63.3%
استعمال دوسروں سے خفیہ رکھا
13% ➜ 20%
ایک سال میں نمایاں اضافہ
42M+
امریکی نوجوانوں کی نمائندگی
📊 تحقیق کی جھلک
🧪 تحقیق کہاں شائع ہوئی؟
تحقیق طبی جریدے JAMA Pediatrics میں شائع ہوئی جبکہ رپورٹ Medical Express نے شائع کی۔
👨🎓 کتنے افراد شامل تھے؟
سروے میں 12 سے 21 سال عمر کے ایک ہزار سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا۔
📈 اہم نتیجہ
نوجوانوں میں ذہنی صحت سے متعلق AI ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
🧠 AI سے مدد کیوں لی جاتی ہے؟
⚠️ محققین کی تنبیہ
🤖 AI مفید ہے
ابتدائی معاونت اور حوصلہ افزا گفتگو فراہم کر سکتا ہے۔
❗ مکمل متبادل نہیں
AI کے جوابات ہمیشہ طبی طور پر درست یا قابلِ اعتماد نہیں ہوتے۔
👨⚕️ ماہرین کا مشورہ
والدین، اساتذہ اور طبی ماہرین نوجوانوں سے اس موضوع پر کھل کر بات کریں۔
📌 خلاصہ
AI چیٹ بوٹس نوجوانوں کے لیے ذہنی معاونت کا ایک ابھرتا ہوا ذریعہ بن چکے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق انہیں پیشہ ورانہ طبی مدد کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ AI چیٹ بوٹس استعمال کرنے والے 40 فیصد سے زائد افراد ماہ میں کم از کم ایک مرتبہ ان سے مدد لیتے ہیں، تاہم 63.3 فیصد صارفین نے اس بات کو دوسروں سے پوشیدہ رکھا۔
اگرچہ تحقیق کے نتائج بعض حوالوں سے مثبت ہیں، لیکن محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز پر حد سے زیادہ اعتماد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ بعض اوقات حوصلہ افزا جوابات تو فراہم کرتی ہیں لیکن ان کی درستگی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
محققین نے والدین، اساتذہ اور طبی ماہرین پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ ذہنی صحت کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر کھل کر گفتگو کریں تاکہ اس ٹیکنالوجی سے محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔