جدید زندگی کی تیز رفتار نے انسان سے صرف وقت ہی نہیں بلکہ وقت کی وسعت کا احساس بھی چھین لیا ہے۔ سوشل میڈیا، کام اور مسلسل مصروفیت کے اس دور میں لوگ سکون، خاموشی اور ذہنی فراغت کے ان لمحات کو ترسنے لگے ہیں جو کبھی زندگی کا معمول ہوا کرتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ سست رفتار اور پرسکون طرزِ زندگی آج ایک نئی آسائش کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
انسان اکثر اُن چیزوں کی قدر اس وقت جانتا ہے جب وہ کم ہونے لگتی ہیں۔
ہوا، روشنی اور روزمرہ زندگی کی بہت سی سہولتیں ہماری توجہ کا مرکز نہیں بنتیں، مگر جب ان کی کمی محسوس ہوتی ہے تو ان کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔
وقت بھی ایسی ہی ایک نعمت ہے، لیکن یہاں وقت سے مراد صرف گھنٹوں اور دنوں کا گزرنا نہیں بلکہ وہ وقت ہے جسے انسان اپنا محسوس کرتا ہے، وہ وقت جس میں اسے جلدی نہ ہو اور نہ ہی کسی اگلی ذمہ داری کا دباؤ۔
مزید پڑھیں
آج کے دور میں وقت کے ساتھ ہمارا تعلق نمایاں طور پر بدل چکا ہے۔
سوشل میڈیا، کام، سفر اور تفریح، سب کچھ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہو گیا ہے۔
اس رفتار نے انسان کو مصروف تو رکھا ہے، لیکن ساتھ ہی اس سے وقت کی وسعت کا احساس بھی چھین لیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ مسلسل مصروف رہنے کے باوجود ذہنی
تھکن اور بے چینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
شاید اسی احساس کی وجہ سے آج سادہ اور پرسکون مناظر غیر معمولی کشش اختیار کر چکے ہیں۔
صبح کی خاموشی میں کافی کا ایک کپ، غروبِ آفتاب کے وقت چہل قدمی، یا روزمرہ زندگی کی معمولی سرگرمیوں پر مبنی ویڈیوز اور پروگرام لاکھوں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
ان کی کشش کسی سنسنی خیزی میں نہیں بلکہ اس سکون میں ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔
لوگ دراصل کافی یا چہل قدمی سے زیادہ اس ذہنی کیفیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس میں وقت کی رفتار نسبتاً دھیمی محسوس ہوتی ہے۔
یہ رجحان صرف نفسیاتی نہیں بلکہ سماجی پہلو بھی رکھتا ہے۔
ماہرِ معاشیات اور سماجیات Thorstein Veblen نے ایک صدی قبل اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ بعض اوقات سماجی حیثیت کا اظہار صرف دولت سے نہیں بلکہ اس صلاحیت سے بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنا وقت کس طرح صرف کرتا ہے۔
آج بھی یہی تصور ایک نئی شکل میں موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر نظر آنے والی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز دراصل دولت کی نہیں بلکہ وقت کی فراوانی کی نمائندگی کرتی ہیں؛ ایسا وقت جس میں کوئی شخص سکون سے ناشتہ تیار کر سکے، کتاب پڑھ سکے یا زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات سے لطف اندوز ہو سکے۔
تاہم اصل کشش اس طرزِ زندگی کی نمائش میں نہیں بلکہ اس سکون اور ذہنی آسودگی میں ہے جس کا وہ تصور پیش کرتا ہے۔
جدید انسان وقت کو صرف ایک وسیلہ نہیں سمجھتا بلکہ ایک نفسیاتی ضرورت کے طور پر محسوس کرتا ہے۔
انسانی ذہن کو کامیابی اور کارکردگی کے ساتھ ساتھ خاموشی، توقف اور خود سے ملاقات کے لمحے بھی درکار ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے جدید زندگی میں یہ لمحات تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
بہت سے لوگ کھانے کے وقفے میں بھی ای میلز اور پیغامات کا جواب دیتے رہتے ہیں۔
کافی پیتے وقت بھی ذہن اگلے کام یا اگلی میٹنگ میں الجھا رہتا ہے۔
یوں رفتار صرف ہماری زندگی کے اردگرد نہیں بلکہ ہمارے اندر بھی بس چکی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ مسئلہ صرف فارغ وقت کی کمی نہیں رہتا بلکہ انسان اپنی ذات کے ساتھ تنہا رہنے کی صلاحیت بھی کھونے لگتا ہے۔
اسی لیے آج ’خوشگوار بوریت‘ ایک نایاب چیز بن چکی ہے۔
وہ سادہ سا فراغت کا لمحہ جس میں کوئی خاص سرگرمی نہ ہو، لیکن انسان پھر بھی مطمئن محسوس کرے۔
ماضی میں یہی خاموش لمحات تخلیقی خیالات، خوابوں اور خود احتسابی کا ذریعہ بنتے تھے۔
آج ہر خالی لمحہ فوراً کسی نہ کسی سرگرمی سے بھر دیا جاتا ہے۔
انتظار کے دوران موبائل فون، خاموشی کے دوران سوشل میڈیا اور فرصت کے وقت مسلسل معلومات کا بہاؤ انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع کم دیتا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سست رفتار اور پرسکون مواد کی مقبولیت میں اضافہ دراصل جدید انسان کی ایک گہری نفسیاتی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔
آخرکار انسان کو صرف زیادہ وقت نہیں چاہیے بلکہ وقت کے ساتھ جڑا ہوا وہ احساس درکار ہے جو سکون، وسعت اور اطمینان پیدا کرتا ہے۔
بعض اوقات حقیقی آسائش کا تعلق دولت یا مادی وسائل سے نہیں بلکہ ان لمحوں سے ہوتا ہے جنہیں انسان مکمل شعور اور اطمینان کے ساتھ جی سکے۔
یہی لمحات یاد دلاتے ہیں کہ زندگی ہمیشہ وقت کے خلاف دوڑ نہیں، بلکہ کبھی کبھی وقت کے ساتھ چلنے کا نام بھی ہے۔