اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

کرپشن کے الزام میں 160 سرکاری ملازمین گرفتار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نزاہت سعودی عرب

سعودی عرب میں محکمہ انسداد کرپشن نے مئی 2026 میں 480 سرکاری ملازمین سے تحقیقات کیں، 160 افراد کو گرفتار کیا اور 2,365 نگرانی کے دورے کیے۔
گرفتار افراد پر رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کے محکمہ انسداد کرپشن نے مئی 2026 کے دوران بدعنوانی کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف سرکاری اداروں میں مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق محکمے نے کہا ہے کہ مئی میں 480 سرکاری ملازمین سے پوچھ گچھ اور تحقیقات کی گئیں، جبکہ 160 افراد کو بدعنوانی سے متعلق مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ 

ادارے نے واضح کیا کہ گرفتار کیے گئے بعض افراد کو قانونی ضوابط کے تحت ضمانت پر بھی رہا کیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

مزید پڑھیں

بیان میں کہا گیا کہ محکمہ انسداد کرپشن نے گزشتہ ماہ مختلف سرکاری و نیم سرکاری محکموں اور اداروں میں 2,365 انسپکشن اور نگرانی کے دورے کیے۔ 

ان دوروں کا مقصد مختلف سرکاری اداروں میں مالی و انتظامی شفافیت کو یقینی بنانا، قوانین اور ضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لینا اور ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ 

ChatGPT Image 1 يونيو 2026، 01 03 07 م

کن وزارتوں کے ملازمین شامل ہیں؟

نزاہت کے مطابق زیرِ تفتیش اور گرفتار افراد کا تعلق متعدد اہم سرکاری اداروں سے ہے، جن میں:

  • وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ
  • وزارتِ تعلیم
  • وزارتِ صحت
  • وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد

الزامات کیا ہیں؟

تحقیقات کے دوران جن اہم الزامات کی نشاندہی ہوئی ان میں:

  • رشوت وصول کرنا یا دینا
  • سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال
  • ذاتی مفاد کے لیے عہدے کا استعمال
  • سرکاری معاملات میں غیر قانونی مداخلت
  • مالی بدعنوانی اور ضابطہ خلافیاں 

محکمے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری وسائل کے تحفظ، شفافیت کے فروغ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔ 

ادارے نے شہریوں اور رہائشیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی اطلاع متعلقہ ذرائع کے ذریعے فراہم کریں تاکہ فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔