اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

تمباکو نوشی کا عالمی بحران: 1.2 ارب افراد کی صحت خطرے میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تمباکو نوشی

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں 1.2 ارب افراد تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں، جبکہ 4 کروڑ بچے اور نوعمر بھی اس لت کا شکار ہیں۔
ادارے کے مطابق تمباکو ہر سال 70 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے اور عالمی معیشت پر 1.4 کھرب ڈالر کا بوجھ ڈالتا ہے۔

ہر سال 31 مئی کو منائے جانے والے عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی سے قبل عالمی ادارۂ صحت ایسے خوفناک اور تشویشناک اعداد و شمار جاری کرتا ہے جو دنیا بھر میں تمباکو کے بڑھتے ہوئے استعمال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 

اس سال بھی ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ دنیا بھر میں 4 کروڑ بچے مختلف اقسام کے تمباکو کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں ایک کروڑ 50 لاکھ نوجوان ’13 سے 15 سال کی عمر کے درمیان‘ ایسے ہیں جو ای سگریٹ استعمال کرتے ہیں۔

تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو مصنوعات استعمال کرنے والوں کی تعداد 1.2 ارب افراد تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے 80 فیصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

تمباکو کے صحت پر تباہ کن اثرات کے علاوہ، تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے طبی اور سماجی نقصانات کے علاج اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی مجموعی عالمی لاگت تقریباً 1.4 کھرب امریکی ڈالر سالانہ ہے، جو عالمی مجموعی قومی پیداوار GDP کا 1.8 فیصد بنتی ہے۔ 

ان اخراجات کا تقریباً 40 فیصد بوجھ ترقی پذیر ممالک برداشت کرتے ہیں۔ 

جھوٹی کشش کا پردہ چاک کریں

عالمی ادارۂ صحت نے اس سال ’جھوٹی کشش کا پردہ چاک کریں – تمباکو اور نکوٹین کی لت کا مقابلہ کریں‘ کا نعرہ اختیار کیا ہے، جس کا مقصد تمباکو کے خطرات سے آگاہی پیدا کرنا، اس کے پھیلاؤ کو روکنا اور خاص طور پر بچوں، نوجوانوں اور کم عمر افراد کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنا ہے۔ 

ادارے کے مطابق نوجوان تمباکو ساز کمپنیوں کی بھاری تشہیری مہمات کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔

WORLD NO TOBACCO DAY

Tobacco Use Threatens 1.2 Billion People Worldwide

WHO warns that tobacco and nicotine products are being made more attractive, especially to children and teenagers.

🚭

1.2B

People use tobacco products worldwide.

👦

40M

Children globally use some form of tobacco.

💨

15M

Teenagers aged 13–15 use e-cigarettes.

💰

$1.4T

Estimated annual global economic cost.

Health Risks

❤️
Heart Disease

Smoking increases the risk of cardiovascular disease.

🫁
Lung Damage

Tobacco is strongly linked to respiratory illness.

🎗️
Cancer Risk

Tobacco is linked to more than 20 types of cancer.

👥
Secondhand Smoke

Non-smokers are also exposed to deadly harm.

How Young People Are Targeted

  • Flavored products make tobacco and nicotine seem more attractive.
  • Marketing campaigns portray smoking and vaping as stylish or harmless.
  • Peer pressure and imitation of adults can normalize smoking among teenagers.
  • Nicotine addiction makes quitting harder, especially for young users.

What Is Inside Cigarette Smoke?

More than 7,000 chemicals

At least 69 cancer-causing substances

High addiction risk from nicotine

Cigarette smoke harms both smokers and people exposed to secondhand smoke.

WHO Calls for Stronger Action

🚫
Ban Flavors

Restrict flavored tobacco and nicotine products.

📺
Stop Ads

Block tobacco advertising and promotion.

🏢
Smoke-Free Spaces

Keep indoor public places free from tobacco and e-cigarettes.

⚖️
Enforce Laws

Ensure strict implementation of public-health regulations.

The Bigger Warning

⚰️
7M+ Deaths

Tobacco kills more than 7 million people every year.

👥
1.6M Non-Smokers

Secondhand smoke causes millions of deaths among non-smokers.

🌍
80% in Poorer Countries

Most tobacco users live in low- and middle-income countries.

💨
Vaping Is Not Safe

E-cigarettes and shisha still carry serious health risks.

overseaspost.net

ادارے نے خبردار کیا کہ تمباکو اور نکوٹین بنانے والی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو اس انداز میں تیار کرتی ہیں کہ وہ زیادہ پرکشش اور استعمال میں آسان لگیں، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے ان کی لت چھوڑنا مزید مشکل ہو جاتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور نوعمروں کے لیے۔ یوں یہ کمپنیاں نئی نسل کو تمباکو کا عادی بنا کر بھاری منافع کماتی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے خوشبودار تمباکو مصنوعات پر پابندی لگائیں، تمباکو کی تشہیر اور اشتہارات روکیں، بند عوامی مقامات کو مکمل طور پر تمباکو اور ای سگریٹ سے پاک بنائیں اور متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

ادارے کے مطابق تمباکو ہر سال دنیا بھر میں 70 لاکھ سے زائد افراد کی جان لیتا ہے، جن میں 16 لاکھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے لیکن دوسروں کے دھوئیں یعنی ’غیرفعال تمباکو نوشی‘ Passive Smoking کا شکار ہوتے ہیں۔

ChatGPT Image 31 مايو 2026، 11 17 40 م

مردانگی کا جھوٹا تصور

احتیاطی طب اور صحتِ عامہ کے ماہر ڈاکٹر شریف حتہ کے مطابق نوجوانوں اور کم عمر افراد میں تمباکو نوشی کا رجحان اس لیے زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ اس عمر میں وہ اپنے اندر ’مردانگی‘ کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

اس مقصد کے لیے وہ اکثر بڑوں کی نقل کرتے ہیں اور بعض اوقات سگریٹ نوشی کو بھی اسی تقلید کا حصہ سمجھتے ہیں۔ 

اگر ان کے دوست یا ساتھی پہلے سے تمباکو نوش ہوں تو مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو اور نکوٹین بنانے والی کمپنیوں کی وسیع تشہیری مہمات کا مقابلہ مؤثر آگاہی مہمات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے، جن میں تمباکو نوشی کے متاثرین کی حقیقی کہانیاں اور اس سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماریوں کے بارے میں معلومات شامل ہوں۔

7 ہزار سے زائد کیمیائی مادے

کئی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ کے دھوئیں میں 7 ہزار سے زائد کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں، جن میں کم از کم 69 ایسے مادے شامل ہیں جو سرطان کا سبب بنتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی صرف سگریٹ پینے والے شخص کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کے آس پاس موجود افراد کے لیے بھی خطرناک ہے۔

 

ChatGPT Image 1 يونيو 2026، 12 46 16 م

تمباکو نوشی اب بھی دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، کیونکہ اس کا گہرا تعلق دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں، سانس کے امراض اور سرطان کی 20 سے زائد اقسام سے ہے۔

ڈاکٹر شریف حتہ نے خبردار کیا کہ لوگوں کو تمباکو کی نئی شکلوں، خصوصاً شیشہ اور ای سگریٹ کے بارے میں گمراہ کن دعوؤں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ یہ مصنوعات روایتی سگریٹ کے مقابلے میں محفوظ ہیں، کیونکہ تمام اقسام کی تمباکو نوشی نقصان دہ اور جان لیوا مادوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ شیشہ اور ای سگریٹ بنانے والی کمپنیاں ان میں نکوٹین کی کم مقدار کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن ان کے بار بار استعمال کی وجہ سے جسم میں نکوٹین کی مجموعی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس سے دل کی بیماریوں، سانس کے امراض، شریانوں کے سخت ہونے، فالج، بلند فشارِ خون اور مختلف اقسام کے سرطان، خصوصاً پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

بشکریہ: الجزیرہ