امریکی خلائی ادارے ناسا نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز زمین کی جانب بڑھنے والا ایک شہابِ ثاقب امریکا کے شمال مشرقی علاقے کے اوپر فضا میں پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے کی آواز پورے علاقے میں سنی گئی۔
اس دھماکے کی شدت تقریباً 300 ٹن ٹی این ٹی دھماکا خیز مواد کے برابر تھی۔
العربیہ کے مطابق ناسا کے شعبۂ خبروں کی نائب سربراہ جینیفر ڈورین نے بتایا کہ یہ آتشیں گولا شمال مشرقی ریاست میساچوسٹس اور جنوب مشرقی ریاست نیو ہیمپشائر کے اوپر مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 6 منٹ پر ٹکڑوں میں بکھر گیا، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے۔
WATCH: 3-foot wide meteor enters atmosphere near Massachusetts and New Hampshire border causing loud boom over Boston pic.twitter.com/rP1uJHIKTj
— Rapid Report (@RapidReport2025) May 31, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ یہ آتشیں گولہ کسی فعال شہابی بارش کا حصہ نہیں تھا بلکہ ایک قدرتی فلکیاتی جسم تھا اور یہ کسی خلائی ملبے یا مصنوعی سیارے کے زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہونے کے باعث پیدا نہیں ہوا تھا۔
ڈورین نے مزید بتایا کہ اس کے ٹوٹنے سے خارج ہونے والی توانائی تقریباً 300 ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی، جس کی وجہ سے انتہائی بڑے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
A meteor exploded over the waters off Massachusetts on May 30, shaking the region with a loud blast heard across multiple towns. The object entered the atmosphere near Boston's South Shore around 2:11 PM local time. No impact site has been reported yet. pic.twitter.com/j5ilAbjxNv
— Shanghai Daily (@shanghaidaily) May 31, 2026
یہ شہابِ ثاقب فضا میں ٹوٹنے کے وقت تقریباً 120 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے سفر کر رہا تھا اور اس کی بلندی تقریباً 64 کلومیٹر تھی۔
اچانک ہونے والے ان دھماکوں نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر دیا، جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے بتایا کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ متعدد گھروں میں لرزش محسوس کی گئی اور کھڑکیاں تک ہلنے لگیں۔