امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ایک بار پھر پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ معاہدے میں نئی سخت ترامیم کے بعد تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ قابلِ اعتماد ضمانتوں کے بغیر کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، جبکہ یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز بدستور سب سے بڑے تنازعات ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ایران کے پاس موجود تقریباً 440 کلو گرام اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر ہے۔
امریکہ اس مواد کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران اس تجویز کو مسترد کر رہا ہے۔
اسی طرح بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کا معاملہ بھی تاحال حل طلب ہے اور اس حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
دوسری بڑی رکاوٹ آبنائے ہرمز کا مستقبل ہے۔
جنگ کے آغاز پر ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں اور عملی محاصرہ نافذ کیا۔
امریکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے خصوصی کنٹرول کی مخالفت کر رہا ہے، جبکہ تہران اسے اپنی اہم ترین ضمانتی طاقت قرار دیتا ہے اور اشارہ دے چکا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ اس آبی راستے میں جہاز رانی کے انتظامات پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
ان تمام اختلافات کے باوجود دونوں فریق مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر متفق ہیں، تاہم موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی پیچیدہ مراحل باقی ہیں۔