اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

معاہدہ یا محاذ آرائی: ایران کو نئی شرائط کے ساتھ آخری پیغام

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
فوکس کی ورڈ: امریکہ ایران معاہدہ

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ایک بار پھر پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ معاہدے میں نئی سخت ترامیم کے بعد تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ قابلِ اعتماد ضمانتوں کے بغیر کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، جبکہ یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز بدستور سب سے بڑے تنازعات ہیں۔

ایک باخبر ذریعے نے اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی مسودے میں نئی ترامیم شامل کرنے کے بعد اسے دوبارہ تہران بھیج دیا ہے تاکہ ایرانی قیادت اس کا جائزہ لے کر اپنی منظوری یا اعتراضات سے آگاہ کر سکے۔

ذرائع کے مطابق یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ٹرمپ نے امریکی تجویز میں تبدیلیاں کی ہیں۔ 

واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ مسودہ مختلف سفارتی ذرائع اور ثالثی چینلز کے ذریعے مسلسل تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

رپورٹس کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات اور تجاویز کی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی ترامیم ’اہم نوعیت‘ کی ہیں، تاہم ان کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ 

ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی حتمی معاہدے کے لیے ابھی تک کوئی ڈیڈ لائن یا مقررہ مدت طے نہیں کی گئی۔

مسودے پر مسلسل ردوبدل

دوسری جانب ایرانی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ممکنہ فریم ورک معاہدے کے متن پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ 

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق دونوں فریق باری باری اپنی تجاویز اور ترامیم پیش کر رہے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی متن پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ChatGPT Image 31 مايو 2026، 08 14 05 م

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکام اور باخبر ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو نسبتاً سخت شرائط پر مشتمل نئی تجویز ارسال کی ہے، جس سے مذاکرات کا دورانیہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کو بڑی مالی رقوم فراہم کرنے کے خیال کے حامی نہیں ہیں۔

فوجی آپشن اب بھی موجود

صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا آپشن اب بھی موجود ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔

U.S.–Iran Negotiations

Trump Sends Revised Iran Draft Back to Tehran

A third round of U.S. amendments adds new pressure to indirect talks mediated by Pakistan, while major disputes remain unresolved.

1. Third Round of Amendments

Trump reportedly introduced another set of changes to the proposed understanding before the revised draft was sent back to Tehran for review.

2. Pakistan’s Mediation Role

Pakistan is playing the main intermediary role, transferring messages and proposals between Washington and Tehran through indirect channels.

3. No Final Deadline

Sources say there is no fixed deadline for reaching an agreement, as both sides continue exchanging comments, edits, and counterproposals.

4. Military Option Still on Table

Trump said diplomacy remains the preferred path, but stressed that military action remains possible if talks fail to prevent Iran from acquiring nuclear weapons.

Main Obstacles

Enriched Uranium

Washington wants roughly 440 kg of highly enriched uranium moved to a third country, while Tehran has resisted the demand.

Frozen Iranian Funds

The issue of Iran’s frozen assets remains one of the most sensitive financial disputes in the negotiations.

Strait of Hormuz

Tehran views the strategic waterway as a key guarantee, while Washington rejects any unilateral Iranian control over its future management.

Iran’s Key Demand

Iranian officials insist that any agreement must include binding guarantees to protect Iran’s rights and interests. Tehran also favors simultaneous, reciprocal steps, meaning it would not implement commitments unless matched by U.S. confidence-building measures.

overseaspost.net

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کے حل اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد امریکی افواج خطے سے واپس چلی جائیں گی۔ 

ٹرمپ کے مطابق ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ مذاکرات میں وقت لگ رہا ہے کیونکہ ایرانی فریق تجربہ کار مذاکرات کاروں پر مشتمل ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی جلد بازی میں نہیں ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران اصولی طور پر جوہری ہتھیار نہ بنانے اور نہ خریدنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔

ایران کا مطالبہ: مضبوط اور قابلِ عمل ضمانتیں

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی عمل میں نمایاں کردار رکھنے والے محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ’مضبوط اور یقینی ضمانتیں‘ شامل نہ ہوں۔

ChatGPT Image 31 مايو 2026، 08 30 43 م

ایرانی رکن پارلیمنٹ محمود نبویان کے مطابق ممکنہ معاہدے کی ضمانت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ایک مؤثر راستہ ثابت ہو سکتی ہے، جو دونوں فریقوں کو اپنی ذمہ داریوں کا پابند بنائے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق تہران اس بات پر بھی زور دے رہا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد مرحلہ وار اور باہمی بنیادوں پر ہو، یعنی ایران کوئی قدم اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک امریکہ اعتماد سازی کے اقدامات نہ کرے۔

بعض اطلاعات کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں ایک بین الاقوامی نگرانی کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے جس میں چین، روس اور پاکستان شریک ہوں گے۔

ٹرمپ نے ایران
کے ساتھ مجوزہ
معاہدے میں
تیسری بار
ترامیم کیں۔

دو بڑے تنازعات اب بھی برقرار

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ایران کے پاس موجود تقریباً 440 کلو گرام اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر ہے۔
امریکہ اس مواد کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران اس تجویز کو مسترد کر رہا ہے۔
اسی طرح بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کا معاملہ بھی تاحال حل طلب ہے اور اس حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
دوسری بڑی رکاوٹ آبنائے ہرمز کا مستقبل ہے۔
جنگ کے آغاز پر ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں اور عملی محاصرہ نافذ کیا۔
امریکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے خصوصی کنٹرول کی مخالفت کر رہا ہے، جبکہ تہران اسے اپنی اہم ترین ضمانتی طاقت قرار دیتا ہے اور اشارہ دے چکا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ اس آبی راستے میں جہاز رانی کے انتظامات پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
ان تمام اختلافات کے باوجود دونوں فریق مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر متفق ہیں، تاہم موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی پیچیدہ مراحل باقی ہیں۔