ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں امریکی پالیسیوں اور روایتی ریاستی رویوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
مضمون میں غیر ملکی رہنماؤں کی گرفتاری، سیاسی قتل کی امریکی پالیسی، ایران کے ساتھ تنازع اور امریکی ادارہ جاتی روایات پر ٹرمپ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس کارروائی نے امریکا کے اندر شدید سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دیا۔
بعض ماہرین قانون کے مطابق یہ اقدام امریکی پالیسی کی روح کے منافی تھا، جبکہ سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس سے امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر جنگ چھڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی دفاعِ ذات کے اصول کے تحت کی گئی، کیونکہ سلیمانی پر امریکی مفادات اور شہریوں کے خلاف ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔
امریکی محکمہ دفاع کی ایک قانونی تشریح کے مطابق جنگی حالات میں دشمن فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنانا روایتی معنوں میں ’سیاسی قتل‘ نہیں سمجھا جاتا۔
اسی تشریح کی بنیاد پر امریکا نے ماضی میں بعض عسکری کارروائیوں کا دفاع کیا ہے۔
تاہم ناقدین کا استدلال ہے کہ ایسے دعوؤں کے لیے واضح اور مضبوط شواہد ضروری ہوتے ہیں۔