امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی حکام کے مطابق تہران کے سخت گیر عناصر کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ صدر مسعود پزشکیان کو سرکاری میڈیا اور سیاسی مخالفین کے خلاف محاذ کھولنا پڑا ہے، جبکہ واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات تاحال کسی واضح پیش رفت کے بغیر تعطل کا شکار ہیں، جبکہ نئی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اندر مجوزہ معاہدے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔
امریکی حکام نے ہفتے کے روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ایران کے سخت گیر حلقے کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
اخبار کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان سرکاری میڈیا کی جانب سے مذاکرات مخالف مہم کے خلاف سیاسی محاذ پر نبرد آزما ہیں، جس سے تہران میں موجود اندرونی کشمکش مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقر کنی ان شخصیات میں شامل ہیں جو مجوزہ معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق علی باقر کنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے واحد رکن تھے جنہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام ایک ایسے خط پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس میں مذاکرات کی حمایت کی گئی تھی۔
IRAN HARDLINERS ACCUSED OF BLOCKING DEAL
U.S.-Iran talks remain stalled as internal divisions inside Iran reportedly complicate negotiations.
Click To Explore
Why Are Talks Stalled?
Reports indicate that disagreements among influential Iranian political and security figures are slowing progress.
Internal Iranian Tensions
President Pezeshkian is reportedly facing resistance from hardline factions and state-linked media.
Trump's Position
Donald Trump has reiterated that Iran will never be allowed to possess a nuclear weapon.
What's Next?
Negotiations continue, but no final decision or breakthrough has been announced.
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ باقر کنی نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف پر امریکیوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ نرمی برتنے کا الزام عائد کیا اور مبینہ طور پر اس خط کو میڈیا تک پہنچا کر مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ایران سے متعلق اہم اجلاس منعقد کیا، تاہم دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اس اجلاس کے بعد کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، حالانکہ ٹرمپ پہلے ہی عندیہ دے چکے تھے کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے والے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ’العربیہ انگلش‘ کو بتایا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور صدر ٹرمپ ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جو امریکی مفادات یا ان کی طے شدہ سرخ لکیروں سے متصادم ہو۔
ادھر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بھی واضح کیا کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات ایران کے حوالے سے کسی بھی فیصلے میں تاخیر کا سبب نہیں بنیں گے اور انہوں نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔