امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اپنے پہلے سرکاری دورے پر بھارت پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔
دورے میں تجارت، دفاع، توانائی، کواڈ اتحاد اور چین کے اثرورسوخ سمیت اہم علاقائی و عالمی امور زیر بحث آئیں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
روبیو، مودی
اور بھارتی حکام
سے اہم ملاقاتیں
کریں گے
بعد ازاں بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور، جو خود بھی کیتھولک مسیحی ہیں، نے کہا کہ یہ دورہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات صرف سیاسی مفادات تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ اقدار پر بھی قائم ہیں۔
سرجیو گور نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ روبیو آج نئی دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کریں گے، جہاں تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع، کواڈ اتحاد اور دیگر اہم شعبوں پر پیش رفت کے امکانات زیر غور آئیں گے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق روبیو کے دورے کا ایک بڑا حصہ مختلف بھارتی شہروں کے دوروں اور نئی دہلی میں امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے سلسلے میں ہونے والی تقریب پر مشتمل ہوگا۔
روبیو نے روانگی سے قبل کہا کہ بھارت کے ساتھ بہت سے شعبوں میں کام کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
بھارت ایک عظیم اتحادی اور شراکت دار ہے، ہم اس کے ساتھ کئی مثبت منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، اسی لیے یہ دورہ بہت اہم ہے۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ بھارت کو مزید تیل فروخت کرنے کے راستے تلاش کرے گا۔
روبیو کل اتوار کو بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے بھی دو طرفہ ملاقات کریں گے۔
وبیو منگل کو نئی دہلی میں کواڈ وزارتی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
اس اتحاد نے متعدد بار چین پر بحیرہ جنوبی چین میں عسکری طاقت کے مظاہرے اور سمندری حدود سے متعلق جارحانہ دعووں کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب بیجنگ اپنے فوجی کردار کو دفاعی قرار دیتا ہے اور کواڈ کو چین کی اقتصادی ترقی اور عالمی اثرورسوخ کو محدود کرنے کی کوشش سمجھتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ بننے کے بعد جنوری میں روبیو کی پہلی بین الاقوامی باضابطہ ملاقات بھی کواڈ ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہی ہوئی تھی۔
روبیو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ امریکی خارجہ پالیسی کی روایتی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
حال ہی میں چین کے دورے کے دوران ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کو سراہا اور امریکہ و چین کو عالمی سطح پر ایک مشترکہ طاقت ’جی ٹو‘ قرار دیا۔
دوسری جانب اس بحران کے دوران پاکستان ایک مرتبہ پھر امریکہ کے لیے اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں اسلام آباد نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
اگرچہ سرد جنگ کے دوران امریکہ پاکستان کا قریبی اتحادی رہا، مگر بعد میں واشنگٹن نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی تاہم اب صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی نئی گرم جوشی کا اظہار کیا ہے۔