اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

سعودی عرب نے اے آئی میڈیا قوانین متعارف کرا دیئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی اے آئی میڈیا قوانین
لائحہ عمل میں ڈیپ فیک اور جعلی مواد پر سخت پابندیاں

سعودی عرب نے میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے جامع اخلاقی اصول جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت ڈیپ فیک، گمراہ کن اور جعلی مواد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
نئی پالیسی میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی واضح نشاندہی، عوامی شخصیات اور بچوں کے تحفظ اور میڈیا اداروں کی قانونی ذمہ داریوں پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

سعودی وزير اطلاعات سلمان بن يوسف الدوسری نے سعودی میڈیا فورم 2026 کے دوران، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی ’سدايا‘ کے اشتراک سے میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اخلاقی اصول متعارف کرا دیئے ہیں جنہیں قومی فریم ورک قرار دیا گیا ہے۔

اس کا مقصد میڈیا کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کو منظم کرنا اور تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل ماحول میں مواد کی ساکھ کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ دستاویز سرکاری و نجی اداروں، ڈیجیٹل مواد کے پلیٹ فارمز، حتیٰ کہ سرحد پار کام کرنے والے پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوگی، بشرطیکہ ان کا مواد سعودی عرب کے اندر موجود عوام کے لیے دستیاب یا ہدف بنایا گیا ہو۔ 

مزید پڑھیں

اس کے علاوہ یہ اصول مواد تخلیق کرنے والوں، ایڈیٹرز، پبلشرز، دوبارہ شائع کرنے والوں اور ایسے تمام صارفین پر بھی لاگو ہوں گے جو مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ میڈیا مواد تیار، شائع یا شیئر کرتے ہیں۔

دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ’ڈیپ فیک‘، گمراہ کن، نقصان دہ، توہین آمیز، جعلی یا سماجی اقدار اور ملکی قوانین کے خلاف مواد تیار کرنا، شائع کرنا یا پھیلانا ممنوع ہوگا۔ 

ساتھ ہی اداروں اور افراد پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے مواد کی نگرانی، اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کی بروقت روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کریں۔

دستاویز کے مطابق میڈیا مواد کی تیاری، ترمیم یا بہتری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق عوام کو آگاہ کرنا لازمی ہوگا، جیسے واضح نوٹس دینا یا اے آئی سے تیار کردہ مواد پر واٹر مارک استعمال کرنا تاکہ عوام اصل اور مصنوعی مواد میں فرق سمجھ سکیں۔

مصنوعی ذہانت کے خود مختار ہونے اور کمپیوٹر نیٹ ورکس میں پھیلنے کے خطرات کی عکاسی
اے آئی سے تیار کردہ مواد پر واٹر مارک یا واضح نشادہی لازمی قرار

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ انکشاف یا وضاحت مواد کی نوعیت اور اس کے ممکنہ نفسیاتی، جسمانی یا فکری اثرات کے مطابق ہونی چاہئے، خصوصاً خبروں، تجزیاتی مواد یا وسیع عوامی اثر رکھنے والے مواد میں۔

میڈیا اداروں اور
کانٹینٹ کریئیٹرز
کو مکمل قانونی
ذمہ داری کا
پابند بنایا گیا

دستاویز کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، میڈیا ادارے اور مواد تخلیق کرنے والے، سب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی مکمل ذمہ داری اٹھائیں گے اور اے آئی کا استعمال کسی بھی پیشہ ورانہ یا قانونی ذمہ داری سے بچنے کا جواز نہیں بنے گا۔
خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی اور سزائیں دی جائیں گی۔
اصولوں میں افراد کی پرائیویسی، ذاتی معلومات اور شناخت کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا کہ کسی فرد کی تصویر، آواز یا شناخت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بغیر قانونی جواز یا واضح اجازت کے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
دستاویز میں عوامی شخصیات سے متعلق مواد کو ’انتہائی حساس‘ قرار دیا گیا، کیونکہ اس کا معاشرے پر وسیع اثر ہوتا ہے۔
اس لیے ان کے خلاف ڈیپ فیک، شناخت کی جعلسازی یا جھوٹے بیانات منسوب کرنے جیسے اقدامات پر سخت تحفظات اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اسی طرح بچوں سے متعلق مواد کے حوالے سے بھی خصوصی احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ ان کی تصاویر، آوازیں یا معلومات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے غلط یا نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

دستاویز میں واضح کیا گیا کہ ’اے آئی سپورٹڈ مواد‘ وہ ہے جو مکمل یا جزوی طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار، ترمیم یا بہتر بنایا گیا ہو، جبکہ ’ڈیپ فیک‘ سے مراد ایسا مصنوعی مواد ہے جو حقیقی افراد کی آواز، تصویر یا ویڈیو کی نقل تیار کرے۔

آن لائن اشتہارات اور پرائیویسی کے خطرات کی علامتی تصویر
عوامی شخصیات کی جعلی ویڈیوز، آوازوں اور شناخت کی نقل پر سخت کارروائی ہوگی

اسی طرح ’گمراہ کن مواد‘ کی تعریف ایسے مواد کے طور پر کی گئی ہے جس میں جھوٹی یا من گھڑت معلومات شامل ہوں اور جن کا مقصد دھوکا دینا، عوامی رائے پر ناجائز اثر ڈالنا یا افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہو۔

 

دستاویز میں ’غلط مواد‘ اور ’دھوکہ دہی پر مبنی مواد‘ کی الگ الگ تعریفیں بھی دی گئی ہیں، تاکہ غلطی سے پھیلنے والی معلومات اور جان بوجھ کر کیے جانے والے فریب میں فرق واضح کیا جا سکے۔

مزید یہ کہ اگر کسی ڈیپ فیک، گمراہ کن یا نقصان دہ مواد پر شبہ ہو تو متعلقہ ریگولیٹری ادارے یا میڈیا پلیٹ فارم کے منظور شدہ ذرائع کے ذریعے فوری رپورٹ کرنا لازمی ہوگا۔

 میڈیا اداروں اور پلیٹ فارمز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مواد کی اشاعت فوری روکیں یا اس تک رسائی محدود کریں، جب تک اس کی حقیقت کی تصدیق نہ ہو جائے۔

دستاویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ میڈیا ادارے اپنی داخلی پالیسیوں، نگرانی کے نظام اور جانچ کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنائیں، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔