سعودی عرب نے میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے جامع اخلاقی اصول جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت ڈیپ فیک، گمراہ کن اور جعلی مواد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
نئی پالیسی میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی واضح نشاندہی، عوامی شخصیات اور بچوں کے تحفظ اور میڈیا اداروں کی قانونی ذمہ داریوں پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
میڈیا اداروں اور
کانٹینٹ کریئیٹرز
کو مکمل قانونی
ذمہ داری کا
پابند بنایا گیا
دستاویز کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، میڈیا ادارے اور مواد تخلیق کرنے والے، سب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی مکمل ذمہ داری اٹھائیں گے اور اے آئی کا استعمال کسی بھی پیشہ ورانہ یا قانونی ذمہ داری سے بچنے کا جواز نہیں بنے گا۔
خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی اور سزائیں دی جائیں گی۔
اصولوں میں افراد کی پرائیویسی، ذاتی معلومات اور شناخت کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا کہ کسی فرد کی تصویر، آواز یا شناخت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بغیر قانونی جواز یا واضح اجازت کے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
دستاویز میں عوامی شخصیات سے متعلق مواد کو ’انتہائی حساس‘ قرار دیا گیا، کیونکہ اس کا معاشرے پر وسیع اثر ہوتا ہے۔
اس لیے ان کے خلاف ڈیپ فیک، شناخت کی جعلسازی یا جھوٹے بیانات منسوب کرنے جیسے اقدامات پر سخت تحفظات اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اسی طرح بچوں سے متعلق مواد کے حوالے سے بھی خصوصی احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ ان کی تصاویر، آوازیں یا معلومات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے غلط یا نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
دستاویز میں واضح کیا گیا کہ ’اے آئی سپورٹڈ مواد‘ وہ ہے جو مکمل یا جزوی طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار، ترمیم یا بہتر بنایا گیا ہو، جبکہ ’ڈیپ فیک‘ سے مراد ایسا مصنوعی مواد ہے جو حقیقی افراد کی آواز، تصویر یا ویڈیو کی نقل تیار کرے۔
اسی طرح ’گمراہ کن مواد‘ کی تعریف ایسے مواد کے طور پر کی گئی ہے جس میں جھوٹی یا من گھڑت معلومات شامل ہوں اور جن کا مقصد دھوکا دینا، عوامی رائے پر ناجائز اثر ڈالنا یا افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہو۔
دستاویز میں ’غلط مواد‘ اور ’دھوکہ دہی پر مبنی مواد‘ کی الگ الگ تعریفیں بھی دی گئی ہیں، تاکہ غلطی سے پھیلنے والی معلومات اور جان بوجھ کر کیے جانے والے فریب میں فرق واضح کیا جا سکے۔
مزید یہ کہ اگر کسی ڈیپ فیک، گمراہ کن یا نقصان دہ مواد پر شبہ ہو تو متعلقہ ریگولیٹری ادارے یا میڈیا پلیٹ فارم کے منظور شدہ ذرائع کے ذریعے فوری رپورٹ کرنا لازمی ہوگا۔
میڈیا اداروں اور پلیٹ فارمز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مواد کی اشاعت فوری روکیں یا اس تک رسائی محدود کریں، جب تک اس کی حقیقت کی تصدیق نہ ہو جائے۔
دستاویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ میڈیا ادارے اپنی داخلی پالیسیوں، نگرانی کے نظام اور جانچ کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنائیں، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔