مضمون کے آخری حصے میں مسلم امت کی سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ کمزوری کو ناامیدی کا سبب نہیں بلکہ اصلاح اور تعمیرِ نو کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔
باہمی اختلافات، قرآنی تعلیمات سے دوری اور تعلیمی کمزوری کو بڑے مسائل قرار دیتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم، معاشی خود انحصاری، انسانی حقوق اور عالمی سطح پر بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں زمانے کے تقاضوں کے مطابق خود میں تبدیلی لانی چاہئے۔
موجودہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہر دن نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں، اس لئے ہمیں اپنے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے اسلاف نے تعلیم کے ذریعے ہی اقوام عالم میں بلند مقام حاصل کیا تھا۔
جب سے ہم نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی کوشش ترک کردی، ہم پسماندہ ہوگئے، تمام شعبوں میں زوال و انحطاط کا شکار ہوگئے، فقر و افلاس کے گڑھے میں جاگرے۔
ہمیں چاہئے کہ موجودہ نسلوں کے لئے بہترین تعلیمی ماحول پیدا کریں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے قائم کریں، کالجز و یونیورسٹیاں قائم کی جائیں، ہر جگہ اعلیٰ تعلیمی مراکز اور اسکولز تعمیر کئے جائیں، اپنی اقتصادیات کو مستحکم کیا جائے۔
قدرت نے ہمیں بے پناہ نعمت سے نوازا ہے، اگر ہم اسے بہتر طریقے سے استعمال کریں تو یقینی طور پر عالمی سطح پر ہماری معیشت بہت اچھی ہوجائے گی اور ہمیں کسی دوسرے کا دست نگر نہیں بننا پڑے گا۔