براہ راست نشریات

زوال سے عروج تک: امتِ مسلمہ کے احیائے نو کا راستہ کیا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Revival of Muslim Ummah
Picture of عبد الستار خان

عبد الستار خان

اوورسیز پوسٹ

مضمون کے آخری حصے میں مسلم امت کی سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ کمزوری کو ناامیدی کا سبب نہیں بلکہ اصلاح اور تعمیرِ نو کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔
باہمی اختلافات، قرآنی تعلیمات سے دوری اور تعلیمی کمزوری کو بڑے مسائل قرار دیتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم، معاشی خود انحصاری، انسانی حقوق اور عالمی سطح پر بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

5/5

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا زوال و انحطاط سقوط بغداد اور منگولیوں کے حملوں سے شروع ہوچکا تھا۔ 

دشمنوں نے تاریخ سے خوب فائدہ اٹھایا اور ہمیں عالمی منظرنامے سے ہٹانے، ہمیں سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی میدان میں پسماندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 

ہماری موجودہ زبوں حالی، پسماندگی اور ذلت و رسوائی کے اصل ذمہ دار اسلامی ممالک کے حکام اور اعلیٰ قیادت ہیں۔ 

📉 زوال کی تاریخی جڑیں

مضمون مسلمانوں کے زوال و انحطاط کو سقوطِ بغداد اور منگولی حملوں کے تاریخی پس منظر سے جوڑتا ہے۔

اس کے بعد سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کے مسلسل بڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

مرکزی نکتہ: تاریخ کو سمجھنا مستقبل کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔

اربابِ حل و عقد اگر ناخنِ تدبیر سے کام لیں اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کی کوشش کریں تو ہماری ذلت و خواری، عزت و رفعت میں اور زبوں حالی و پسماندگی، ترقی و خوشحالی میں تبدیل ہوسکتی ہے اور ہم اپنا کھویا ہوا مرتبہ و مقام دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

مسلم امت کی موجودہ سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی صورتحال بیان کرنے کا مقصد جدید نسل میں مایوسی، قنوطیت اور ناامیدی پیدا کرنا نہیں بلکہ اس کو پیش کرنے کا مقصد اپنی زبوں حالی کا جائزہ لینا اور اس کی روشنی میں بہتر مستقبل کی تعمیر کرنا ہے۔ 

آج دنیا میں اسلامی بیداری کی ہوا چل رہی ہے، نوجوان نسل اسلامی تعلیمات سے قریب ہورہی ہے، بہت سے لوگ باطل افکار و خیالات سے بیزار ہوچکے ہیں، وہ اسلام کی گھنیری چھاؤں میں امن و سکون محسوس کررہے ہیں اور اسے قبول کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ 

اس صورتحال نے مغربی دنیا میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ 

اس نے اسلامی ثقافت پر یلغار کرنے کی اسٹریٹیجی تبدیل کردی ہے۔ 

اب پرنٹ اور الیکٹرانک کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری تہذیب و ثقافت اور تاریخ پر یلغار کی جارہی ہے، اسے مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے تاکہ جدید نسل اسلام کی روشن تہذیب و ثقافت اور تاریخ سے متنفر ہوجائے۔ 

🏛️ قیادت کی ذمہ داری

مضمون موجودہ زبوں حالی میں اسلامی ممالک کے حکام اور اعلیٰ قیادت کی ذمہ داری کا سوال اٹھاتا ہے۔

اگر قیادت دانش، تدبیر اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرے تو ذلت و پسماندگی کو ترقی و عزت میں بدلا جاسکتا ہے۔

اغیار اسی پر اکتفا نہیں کررہے بلکہ وہ ہمارے نصابِ تعلیم پر بھی یلغار کررہے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے ہیں۔ 

ہماری جماعتوں میں انتشار و افتراق پھیلایا جارہا ہے، سرحدوں کی تقسیم کی ازسرِنو اسکیم بنائی جارہی ہے، اسلامی معاشرے پر تسلط و غلبہ حاصل کرنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے اور مغربی طرز پر اسلامی معاشرے کو ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

الغرض اسلامی تشخص کو مٹانے کے لئے تمام تر وسائل استعمال کئے جارہے ہیں اور وہ اپنے مذموم مقاصد میں بڑی حد تک کامیاب ہورہے ہیں۔ 

اس کی بنیادی وجہ ہمارے باہمی اختلافات اور قرآنی تعلیمات سے دوری ہے۔ 

اگر ہم میں اتحاد و اتفاق قائم ہوجائے اور ہم قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں، قرآنی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے والے بن جائیں تو دشمن ہمیں کبھی بھی زیر نہیں کرسکتا۔ 

📚 تعلیم — احیا کی پہلی شرط

مضمون کے مطابق امت کی ترقی کے لیے اعلیٰ تعلیم بنیادی ضرورت ہے۔

اسلاف نے تعلیم کے ذریعے اقوامِ عالم میں مقام حاصل کیا تھا، جبکہ علمی کمزوری نے پسماندگی کو بڑھایا۔

حل: مضبوط تعلیمی ماحول، اسکول، کالج اور جامعات۔

اسلام آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے، اس میں ہر دور اور ہر زمانے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ہمیں اس کی تعلیمات و ہدایات کو عام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

دنیا میں
اسلامی بیداری
کی ہوا چل
رہی ہے،
نوجوان نسل
اسلامی تعلیمات
سے قریب
ہو رہی ہے

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں زمانے کے تقاضوں کے مطابق خود میں تبدیلی لانی چاہئے۔
موجودہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہر دن نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں، اس لئے ہمیں اپنے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے اسلاف نے تعلیم کے ذریعے ہی اقوام عالم میں بلند مقام حاصل کیا تھا۔
جب سے ہم نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی کوشش ترک کردی، ہم پسماندہ ہوگئے، تمام شعبوں میں زوال و انحطاط کا شکار ہوگئے، فقر و افلاس کے گڑھے میں جاگرے۔
ہمیں چاہئے کہ موجودہ نسلوں کے لئے بہترین تعلیمی ماحول پیدا کریں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے قائم کریں، کالجز و یونیورسٹیاں قائم کی جائیں، ہر جگہ اعلیٰ تعلیمی مراکز اور اسکولز تعمیر کئے جائیں، اپنی اقتصادیات کو مستحکم کیا جائے۔
قدرت نے ہمیں بے پناہ نعمت سے نوازا ہے، اگر ہم اسے بہتر طریقے سے استعمال کریں تو یقینی طور پر عالمی سطح پر ہماری معیشت بہت اچھی ہوجائے گی اور ہمیں کسی دوسرے کا دست نگر نہیں بننا پڑے گا۔

🤝 اتحاد اور باہمی اختلافات

مضمون باہمی اختلافات کو امت کی بڑی کمزوریوں میں شمار کرتا ہے۔

قرآنی تعلیمات پر عمل، اتحاد و اتفاق اور منافقت سے دوری کو اجتماعی قوت کی بنیاد بتایا گیا ہے۔

ہمیں باہمی اختلافات کو فراموش کرنا ہوگا۔ 

منافقت کی روش ترک کرنا ہوگی، اقوام عالم سے خوشگوار روابط بڑھانا ہوگا، حقوق انسانی کی پاسداری کرنا ہوگی، اقتصادیات کو مستحکم کرنا ہوگا۔ 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی تعلیمات پر عمل کرنے اور اپنے محبوبﷺ کی پاکیزہ سیرتوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم عزت و شرافت اور احترام کے ساتھ جی سکیں اور اقوامِ عالم کی رہبری و رہنمائی کرسکیں۔ 

🔬 سائنس و ٹیکنالوجی کیوں ضروری؟

موجودہ دور کو سائنس و ٹیکنالوجی کا دور قرار دیتے ہوئے مضمون جدید علوم میں سرمایہ کاری پر زور دیتا ہے۔

ہر روز نئی ایجادات کے ماحول میں علمی اور تکنیکی پسماندگی امت کو مزید کمزور کرسکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے، دنیا کے تمام دکھی انسانوں کو اسی کے دامن میں سکون و امان حاصل ہوسکتا ہے۔ 

21ویں صدی کے انسان اگر سکون و اطمینان کے متلاشی ہیں تو انہیں صرف اور صرف اسلام کے سایۂ عاطفت میں ہی یہ گراں مایہ شے حاصل ہوسکتی ہے اور اسلام ہی ان کے تمام مسائل و مشکلات کو حل کرسکتا ہے۔ 

اس کے علاوہ دوسری جگہ امن و سکون تلاش کرنا عبث ہے۔

💰 معاشی خود انحصاری

قدرتی وسائل اور دولت کے بہتر استعمال کو امت کے معاشی استحکام سے جوڑا گیا ہے۔

مضمون کے مطابق مضبوط معیشت امت کو دوسروں کا دست نگر بننے سے بچا سکتی ہے۔

اصل مقصد: وسائل کو حقیقی قومی و اجتماعی طاقت میں تبدیل کرنا۔