براہ راست نشریات

امتِ مسلمہ: علمی عروج سے تہذیبی غلامی تک ایک تلخ سفر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Decline of Muslim Ummah
Picture of عبد الستار خان

عبد الستار خان

اوورسیز پوسٹ

مضمون کے اس حصے میں امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت کو سیاسی کمزوری، تعلیمی پسماندگی، معاشی زبوں حالی اور تہذیبی دباؤ کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔
مصنف اسلاف کی علمی، فکری اور تہذیبی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جو امت کبھی علوم و فنون اور تہذیب میں دنیا کی رہنمائی کرتی تھی، وہ آج اپنی شناخت، خود اعتمادی اور عالمی اثر و رسوخ کیوں کھو بیٹھی ہے۔

4/5

نبی کریمﷺ کی پیش گوئی صد فیصد ہمارے حال پر صادق آرہی ہے۔ 

آج امت مسلمہ اغیار کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے، پوری دنیا میں مسلمانوں کو لقمۂ تر سمجھ لیا گیا ہے، ہماری عزت و آبرو محفوظ ہے نہ جان و مال، اقوام عالم میں ہماری کوئی قدر و قیمت نہیں۔ 

🌍 امت کی موجودہ حالت

مضمون کے مطابق آج امتِ مسلمہ سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی سطح پر کمزوری اور پسماندگی کا شکار ہے۔

اقوامِ عالم میں اس کی سابقہ وقعت اور اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔

مرکزی سوال: بے پناہ وسائل کے باوجود یہ کمزوری کیوں پیدا ہوئی؟

جو جس طرح چاہتا ہے ہم پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنالیتا ہے، ہماری آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز کے مثل ثابت ہورہی ہے، ہم اغیار کے ہاتھوں غلام بنے ہوئے ہیں جبکہ رب کائنات نے ہمیں بے پناہ دولت و ثروت سے نوازا ہے، ہمیں ملک و مال عطا کیا گیا، قدرتی خزانے دیئے گئے، بے شمار معدنیات ہمارے پاس موجود ہیں لیکن سب بے سود اور بے فائدہ۔ 

مزید پڑھیں

اس دولت و ثروت اور قدرتی معدنیات سے ہم سے زیادہ ہمارے اغیار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 

آج پوری دنیا میں امت مسلمہ جمود و تعطل کا شکار ہے۔ اقتصادی زبوں حالی چھائی ہوئی ہے، تعلیمی پسماندگی طاری ہے، اسی طرح سیاسی اعتبار سے بھی عالمی سطح پر اپنا مقام کھوچکی ہے۔ 

اس قوم کے حالات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا کوئی مقصدِ 

وجود ہی نہیں۔ 

جس قوم کے پیش نظر کوئی نصب العین نہیں ہوتا، اس کے سامنے کوئی غرض و غایت نہیں ہوتی، وہ اقوام عالم کی نگاہ سے نہ صرف گرجاتی ہے بلکہ وہ بازیچۂ اطفال بن جاتی ہے۔

💰 وسائل بہت، اثر کم کیوں؟

مضمون میں یہ تضاد نمایاں کیا گیا ہے کہ مسلم دنیا قدرتی وسائل، دولت اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہے۔

اس کے باوجود اقتصادی زبوں حالی اور دوسروں پر انحصار ختم نہیں ہوسکا۔

یہی فرق وسائل اور حقیقی طاقت کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے زندگی کے تمام شعبوں میں ایسی ایسی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور ایسے ایسے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں جن کی مثال دنیا کی کسی بھی قوم میں نہیں ملتی۔ 

آج ترقی یافتہ ملکوں میں جو خوشحالی دیکھی جارہی ہے وہ ہمارے اسلاف کی مرہونِ منت ہے۔ مغربی ملکوں کے فلاسفروں اور سائنس دانوں نے ہمارے اسلاف کے وضع کردہ اصولوں کی بنیاد پر اپنی ترقیات کی عالیشان عمارت کھڑی کی، اگر وہ ان کے کارناموں سے ناواقف ہوتے تو آج بھی جہالت و ناخواندگی کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں بھٹک رہے ہوتے۔

🎓 تعلیمی پسماندگی

مضمون تعلیمی کمزوری کو امت کے زوال کے بڑے اسباب میں شمار کرتا ہے۔

علم سے دوری نے مسلم معاشروں کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی قوت کو بھی متاثر کیا۔

پیغام: علمی قوت کے بغیر عالمی قیادت برقرار نہیں رہ سکتی۔

گزشتہ چند صدیوں سے مسلم امت پر تہذیبی و ثقافتی حملے کئے جارہے ہیں، ہماری تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمارے اسلاف کے کارناموں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوشش جاری ہے اور نہ صرف ہمارے کلچر، تہذیب و ثقافت اور تاریخ پر شب خون مارا جارہا ہے بلکہ ہمارے عقائد پر بھی یلغار کی جارہی ہے۔ 

انہیں کمزور کرنے کی سعی کی جارہی ہے، جدید نسلوں کے ذہن و دماغ میں تشکیکی رجحان پیدا کرکے انہیں دین سے برگشتہ کیا جارہا ہے جبکہ مغربی دنیا پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلم معاشرے کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔ 

📚 اسلاف کا علمی ورثہ

مضمون کے مطابق مسلم اسلاف نے فلسفہ، سائنس، طب اور دیگر علوم میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

ان کے وضع کردہ اصولوں اور تحقیقات نے بعد کی عالمی علمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

اس تاریخی ورثے کو موجودہ پسماندگی کے مقابل رکھ کر زوال کی شدت واضح کی گئی ہے۔

مغربی ملکوں کے
سائنس دانوں نے
ہمارے اسلاف
کے وضع کردہ
اصولوں کی
بنیاد پر اپنی
ترقیات کی عالیشان
عمارت کھڑی کی

ہمارا معاشرہ پوری طرح مغربی تہذیب و ثقافت میں ڈوب چکا ہے۔
ہم سیاسی، اقتصادی، تعلیمی، ثقافتی اور معاشرتی اعتبار سے ان کے غلام بن چکے ہیں۔
تہذیبِ جدید کے پروردہ اور روشن خیال بعض مسلم نوجوان تو مغربی کلچر کو اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
اگر ہم صرف گزشتہ صدی کی تاریخ اور اقوام و ملل کے واقعات کا سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس ایک صدی میں مسلم امہ کو مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑا اور اسے آزمائش و ابتلاء سے گزرنا پڑا اور اس پر ظلم و تشدد اور جبر و استبداد کے پہاڑ توڑے گئے، اس کی املاک و جائداد تباہ و برباد کی گئی، اسے ذلیل و خوار کیا گیا، اس کی عزت و ناموس کو تار تار کیا گیا، اس پر مختلف جرائم و واردات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے۔
مسلمانوں کے علاقوں میں غاصبانہ قبضہ کرکے نوآبادیاتی کالونیاں قائم کی گئیں، بعض ملکوں میں مسلمانوں پر اس قدر وحشت و بربریت کا بازار گرم کیا گیا کہ انہیں اپنا وطن خیر باد کہہ کر نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے، مسلمانوں کو دہشت گرد، قدامت پرست، دقیانوس اور نہ جانے کیسے کیسے القاب سے نوازا جارہا ہے۔

🧭 ماضی کا عروج، حال کا زوال

مضمون یاد دلاتا ہے کہ ایک وقت تھا جب مسلم دنیا علم، تہذیب اور تمدن میں اقوامِ عالم کی رہنمائی کرتی تھی۔

آج وہی امت کئی شعبوں میں دوسروں کی محتاج نظر آتی ہے۔

اصل سوال: یہ تاریخی تبدیلی کن فکری اور عملی کمزوریوں کا نتیجہ ہے؟

ہر طرف مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے، ان کی عزت و آبرو پر ڈاکے ڈالے جارہے ہیں، انہیں بے گھر کیا جارہا ہے۔

ایک زخم مندمل نہیں ہوتا کہ دوسرا زخم ابھر آتا ہے۔ 

ایک مصیبت ختم نہیں ہوتی کہ دوسری مصیبت سامنے آجاتی ہے۔

ہر طرف آہ و بکا، نالہ و شیون اور چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہورہی ہیں، بوڑھے اور ناتواں والدین کے سامنے ان کے جگر گوشوں کو تہ تیغ کیا جارہا ہے۔ 

مرد، عورت، بچے، بوڑھے ہر ایک کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جارہا ہے۔ 

📡 تہذیبی اور ثقافتی یلغار

مضمون میں گزشتہ چند صدیوں سے مسلم تہذیب، تاریخ اور عقائد پر فکری و ثقافتی حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مغربی تہذیبی اثرات کے پھیلاؤ کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

اس عمل کو مسلم معاشرے میں شناخت کے بحران سے جوڑا گیا ہے۔

یہ خونچکاں واقعات ساری دنیا کے انسانوں کی پیشانی پر ننگ و عار ہیں۔ 

ذرا غور کریں جس قوم نے صدیوں اقوام عالم پر حکمرانی کی، انہیں مثالی تہذیب و ثقافت سے آشنا کیا، انہیں زندگی گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ سکھایا، انہیں علوم و فنون کی آگاہی عطا کی، انہیں ترقی و خوشحالی کے راستوں پر گامزن کیا۔ 

جو قوم چند صدیاں قبل عشرت و رفعت، سربلندی و سرفرازی کے بام عروج پر متمکن تھی، آج وہ اغیار کی غلام بنی ہوئی ہے۔

🧠 نئی نسل اور تہذیبی مرعوبیت

مضمون میں بعض مسلم نوجوانوں کے مغربی طرزِ زندگی سے حد سے زیادہ مرعوب ہونے پر تنقید کی گئی ہے۔

یہ کیفیت اپنی تہذیبی شناخت اور تاریخی اعتماد کے کمزور ہونے کی علامت کے طور پر پیش کی گئی ہے۔

چیلنج: جدیدیت اپناتے ہوئے اپنی شناخت کیسے محفوظ رکھی جائے؟

1 تبصرہ

  1. مضمون بہت عمدہ ہے
    ہماری آنکھیں کھولنے کےلیے بہت معاون
    ہر پہلو سے مسلمان ماضی اور حال کا بے دریغ جائزہ اور تجزیہ ہے
    مستقبل کی تیاری کا ایک بہترین قدم ہے

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے