مضمون کے اس حصے میں امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت کو سیاسی کمزوری، تعلیمی پسماندگی، معاشی زبوں حالی اور تہذیبی دباؤ کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔
مصنف اسلاف کی علمی، فکری اور تہذیبی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جو امت کبھی علوم و فنون اور تہذیب میں دنیا کی رہنمائی کرتی تھی، وہ آج اپنی شناخت، خود اعتمادی اور عالمی اثر و رسوخ کیوں کھو بیٹھی ہے۔
ہمارا معاشرہ پوری طرح مغربی تہذیب و ثقافت میں ڈوب چکا ہے۔
ہم سیاسی، اقتصادی، تعلیمی، ثقافتی اور معاشرتی اعتبار سے ان کے غلام بن چکے ہیں۔
تہذیبِ جدید کے پروردہ اور روشن خیال بعض مسلم نوجوان تو مغربی کلچر کو اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
اگر ہم صرف گزشتہ صدی کی تاریخ اور اقوام و ملل کے واقعات کا سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس ایک صدی میں مسلم امہ کو مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑا اور اسے آزمائش و ابتلاء سے گزرنا پڑا اور اس پر ظلم و تشدد اور جبر و استبداد کے پہاڑ توڑے گئے، اس کی املاک و جائداد تباہ و برباد کی گئی، اسے ذلیل و خوار کیا گیا، اس کی عزت و ناموس کو تار تار کیا گیا، اس پر مختلف جرائم و واردات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے۔
مسلمانوں کے علاقوں میں غاصبانہ قبضہ کرکے نوآبادیاتی کالونیاں قائم کی گئیں، بعض ملکوں میں مسلمانوں پر اس قدر وحشت و بربریت کا بازار گرم کیا گیا کہ انہیں اپنا وطن خیر باد کہہ کر نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے، مسلمانوں کو دہشت گرد، قدامت پرست، دقیانوس اور نہ جانے کیسے کیسے القاب سے نوازا جارہا ہے۔
1 تبصرہ
مضمون بہت عمدہ ہے
ہماری آنکھیں کھولنے کےلیے بہت معاون
ہر پہلو سے مسلمان ماضی اور حال کا بے دریغ جائزہ اور تجزیہ ہے
مستقبل کی تیاری کا ایک بہترین قدم ہے