محمد محسن اقبال
اسلام آباد
پاکستان میں ڈینگی کی بار بار واپسی صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی کمزوری، شہری غفلت اور پیشگی تیاری کے فقدان کی علامت ہے۔
محمد محسن اقبال اپنے کالم میں حکومت اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ڈینگی کے خلاف اصل کامیابی علاج کے بجائے بیماری کی روک تھام میں ہے۔
انسان شاید دنیا کی واحد مخلوق ہے جو خطرے کو دیکھ کر بھی اکثر اس وقت تک بے فکر رہتی ہے جب تک خطرہ اس کے دروازے پر دستک نہ دے۔
ہم طوفان آنے سے پہلے چھت کی دراڑیں نہیں بھرتے، بیماری سے پہلے اپنی عادات نہیں بدلتے، حادثے سے پہلے راستہ محفوظ نہیں کرتے اور بحران آنے سے پہلے تیاری کو ضروری نہیں سمجھتے۔
پھر جب مصیبت آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے تو ہم پوری قوت سے اس کا مقابلہ کرنے لگتے ہیں۔
🦟 ڈینگی ہر سال واپس کیوں آتا ہے؟
ڈینگی پھیلانے والا ایڈیز مچھر ٹھہرے ہوئے پانی میں افزائش پا سکتا ہے۔
غفلت، غیر مناسب نکاسیٔ آب اور کمزور مستقل نگرانی دوبارہ پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
کالم کا مرکزی سوال یہی ہے: معلومات موجود ہیں، مگر انہیں مسلسل عمل میں کیوں نہیں بدلا جاتا؟
مگر قومیں محض ردِعمل سے ترقی نہیں کرتیں۔
قوموں کی بصیرت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ آنے والے خطرے کی چاپ کتنی دور سے سن لیتی ہیں اور اس سے پہلے کتنی دانائی سے اس کی راہ روک لیتی ہیں۔
پاکستان میں ڈینگی کی بار بار واپسی اسی اجتماعی کمزوری کی ایک تلخ داستان ہے۔
یہ بیماری ہمارے لیے کوئی اجنبی نام نہیں۔
اس نے ہمارے شہروں کی گلیاں دیکھی ہیں، ہمارے اسپتالوں کے بستر بھرے ہیں، گھروں میں خوف اتارا ہے، خاندانوں کے معمولات برباد کیے ہیں اور کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
ہم اس کے موسم سے واقف ہیں، اس کی افزائش کے مقامات جانتے ہیں، اس کے پھیلاؤ کے اسباب سے آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے سامنے بند باندھنے کے لیے کیا کچھ کرنا ضروری ہے۔
ہمارے پاس تجربہ ہے، منصوبے ہیں، نگرانی کے نظام ہیں، طبی ہدایات ہیں اور سرکاری اداروں کی ایک پوری مشینری موجود ہے۔
پھر بھی ہر سال ڈینگی نمودار ہوتا ہے۔
یہی سوال ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے:
آخر ہماری معلومات عمل کا روپ کیوں نہیں دھارتیں؟
📅 ڈینگی کا حساس موسم
پاکستان کے کئی علاقوں میں مون سون کے بعد ڈینگی کے کیس بڑھ سکتے ہیں۔
ستمبر سے نومبر کا دورانیہ بعض علاقوں میں خاص طور پر حساس ہوسکتا ہے، تاہم موسمی صورتحال اور خطے کے لحاظ سے فرق رہتا ہے۔
اصل تیاری بارشوں سے پہلے شروع ہونی چاہئے، نہ کہ اسپتال بھرنے کے بعد۔
ڈینگی کا موسم اور ہماری غفلت
ڈینگی کا خطرہ پورے سال موجود رہ سکتا ہے، لیکن مون سون کے بعد اس کی شدت میں عموماً اضافہ ہو جاتا ہے۔
ستمبر سے نومبر تک کا زمانہ خاص طور پر حساس ہوتا ہے اور بعض اوقات دسمبر کے ابتدائی دن بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔
جولائی اور اگست کی بارشیں جب رخصت ہوتی ہیں تو اپنے پیچھے جگہ جگہ پانی کے چھوٹے چھوٹے ذخیرے چھوڑ جاتی ہیں۔
یہی ٹھہرا ہوا پانی ایڈیز مچھر کے لیے افزائش کا میدان بن جاتا ہے۔
💧 مچھر کہاں پرورش پاتا ہے؟
پرانے ٹائر — ان میں جمع بارش کا پانی مچھر کی افزائش کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
گملے اور برتن — پودوں کی پلیٹیں اور کھلے پانی کے برتن نظرانداز نہ کریں۔
کولر اور ٹرے — ایئر کولر اور فریج کی ٹرے باقاعدگی سے چیک کریں۔
گھر اور گلی — چھت، صحن، نالی اور اردگرد کے جمع پانی پر نظر رکھیں۔
کسی چھت پر پڑا ہوا پرانا ٹائر، صحن میں رکھا گملا، ایئر کولر کا پانی، فریج کی ٹرے، کوئی کھلا برتن، بند نالی یا گلی کے کسی گوشے میں جمع بارش کا پانی بظاہر معمولی چیز ہے، مگر یہی معمولی غفلت بیماری کے ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمیں یہ سب معلوم ہے۔
موسم کے بدلنے سے پہلے وارننگ جاری ہوتی ہے۔
صحت کے ادارے خبردار کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو ہدایات دی جاتی ہیں۔ منصوبے بنتے ہیں۔ اجلاس ہوتے ہیں۔
مگر ہماری قومی عادت شاید اب بھی یہی ہے کہ خطرے کو اس وقت سنجیدہ لیا جائے جب وہ اعداد و شمار بن کر سامنے آ جائے۔
🚨 ہم خطرے کے بعد کیوں جاگتے ہیں؟
پہلا مرحلہ — کیس کم ہوں تو صفائی اور نگرانی ترجیحات میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
دوسرا مرحلہ — کیس بڑھتے ہی اجلاس، اعلانات اور ہنگامی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں۔
تیسرا مرحلہ — اسپتالوں پر دباؤ بڑھنے کے بعد بھرپور ردِعمل آتا ہے۔
سبق — مؤثر نظام وہ ہے جو بحران سے پہلے متحرک ہو۔
جب مریض کم ہوں تو ڈینگی ہماری ترجیحات میں کہیں پیچھے رہتا ہے۔
جب تعداد بڑھتی ہے تو اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
جب اسپتالوں کے بستر کم پڑنے لگتے ہیں تو ہنگامی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
جب ٹیلی وژن کی اسکرینوں پر بیمار بچوں، پریشان ماؤں اور اسپتالوں میں انتظار کرتے لوگوں کے مناظر دکھائی دیتے ہیں تو فوگنگ مشینیں گلیوں میں نکل آتی ہیں۔
مگر تب تک مچھر اپنا بہت سا کام کر چکا ہوتا ہے۔
ہمارے پاس
تجربہ ہے،
منصوبے ہیں،
نگرانی کے نظام ہیں
پھر بھی ہر سال
ڈینگی نمودار
ہوتا ہے
فوگنگ مستقل حل کیوں نہیں؟
فوگنگ اپنی جگہ ایک مفید ہنگامی اقدام ہے، مگر اسے پیش بندی کا نعم البدل سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے آگ لگنے کے بعد پانی کا انتظام کر کے یہ سمجھ لیا جائے کہ آئندہ آگ لگنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
کیڑے مار دوا کا دھواں ٹوٹی ہوئی نالی کو درست نہیں کرتا، گلی میں پڑے پرانے ٹائر کو نہیں اٹھاتا، کسی برتن میں جمع پانی کو خشک نہیں کرتا اور نہ ہی شہریوں کے اندر احتیاط کی وہ عادت پیدا کرتا ہے جو ڈینگی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار ہے۔
مچھر کے خلاف اصل جنگ مشینوں سے نہیں، شعور، صفائی اور مسلسل نگرانی سے جیتی جاتی ہے۔
ریاست کی ذمہ داری اپنی جگہ مسلم ہے۔
حکومت کو مؤثر نگرانی، صفائی، نکاسیٔ آب، کچرے کے مناسب انتظام، شہری منصوبہ بندی اور اسپتالوں کی پیشگی تیاری کو یقینی بنانا ہوگا۔
لیکن حکومت ہر گھر کے دروازے پر ہر صبح کھڑی نہیں ہو سکتی۔
کوئی انتظامیہ ہر گملے، ہر کولر اور ہر پرانے ٹائر کی نگرانی نہیں کر سکتی۔
🌫️ کیا فوگنگ ہی کافی ہے؟
مختصر جواب — نہیں۔ فوگنگ بعض حالات میں بالغ مچھروں کو کم کرنے کے اقدامات میں شامل ہوسکتی ہے، مگر اکیلے مستقل حل نہیں۔
وجہ — دھواں جمع پانی، کھلے برتن اور افزائش کے مقامات ختم نہیں کرتا۔
ضرورت — لاروا اور افزائش گاہوں کا خاتمہ، صفائی اور باقاعدہ نگرانی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ڈینگی کے خلاف اصل جنگ گھر کی دہلیز سے شروع ہوتی ہے۔
ایک چھوٹا سا کھلا برتن، جسے گھر کا فرد شاید بے ضرر سمجھ کر نظرانداز کر دے، مچھروں کی افزائش کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
ایک پرانا ٹائر، جسے کئی ماہ سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا ہو، بیماری کا مرکز بن سکتا ہے۔
ایک بند نالی پورے محلے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈینگی کے خلاف عوامی شرکت کوئی رسمی تقاضا نہیں، بلکہ اس جنگ کی بنیادی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف اور خشک رکھنا ہوگا، پانی کے برتن ڈھانپنے ہوں گے، بارش کا پانی جمع کرنے والی اشیا کو ہٹانا ہوگا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
🏠 ہر گھر کی ذمہ داری
ہفتے میں کم از کم ایک بار گھر، چھت، صحن اور برتنوں میں جمع پانی کی جانچ کریں۔
غیر ضروری پانی پھینکیں، پانی کے ٹینک اور برتن ڈھانپیں اور ناکارہ اشیا ہٹائیں۔
ایئر کولر، ٹرے اور گملوں کے نیچے جمع پانی بھی نظرانداز نہ کریں۔
گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی احتیاط میں شریک کریں۔
مچھر سے بچاؤ کے لیے مناسب لباس، ریپیلنٹس، کھڑکیوں پر جالیاں اور مچھر دانیاں بھی اہم ہیں، خصوصاً اس لیے کہ ایڈیز مچھر عموماً دن کے اوقات میں زیادہ سرگرم رہتا ہے۔
لیکن عوام سے ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہوئے ریاست اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتی۔
شہریوں سے یہ کہنا کافی نہیں کہ اپنے گھروں کے آس پاس پانی جمع نہ ہونے دیں، جبکہ شہر کی گلیاں کچرے سے بھری ہوں، نالیاں ابل رہی ہوں اور نکاسیٔ آب کا نظام ناکافی ہو۔
ڈینگی صرف صحت کا مسئلہ نہیں، یہ شہری نظم و نسق، صفائی، پانی کے انتظام، ماحولیاتی تحفظ اور شہری منصوبہ بندی سے بھی جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
ہنگامی اقدامات کے بجائے مستقل حکمتِ عملی
ہمیں اپنی پالیسی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔
ڈینگی کو ہر سال آنے والی ایک ’موسمی ہنگامی صورتِ حال‘ سمجھنے کے بجائے اسے مستقل عوامی صحت کا چیلنج تصور کرنا ہوگا۔
تیاری مون سون کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے شروع ہونی چاہیے۔
🛡️ مچھر کے کاٹنے سے کیسے بچیں؟
لمبی آستین کے کپڑے پہنیں اور ضرورت کے مطابق محفوظ مچھر بھگانے والی مصنوعات استعمال کریں۔
کھڑکیوں پر جالیاں اور مچھر دانیاں فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔
ایڈیز مچھر اکثر دن کے وقت سرگرم ہوتا ہے؛ احتیاط صرف رات تک محدود نہ رکھیں۔
بخار یا ڈینگی کی مشتبہ علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اضلاع کی ذمہ داریاں واضح ہوں، اعداد و شمار قابلِ اعتماد ہوں، مچھروں کے لاروے کی نگرانی اور افزائش گاہوں کا خاتمہ مستقل عمل ہو، موسم کی وارننگ کے ساتھ عملی اقدامات خود بخود متحرک ہوں اور اسپتال اس وقت تیار نہ ہوں جب وارڈ بھر جائیں بلکہ اس سے پہلے تیار ہوں۔
ہماری اجتماعی فراموشی
ہماری ایک اور بڑی کمزوری اجتماعی فراموشی ہے۔
سانحہ سامنے ہو تو ہم اسے یاد رکھتے ہیں، اس پر گفتگو کرتے ہیں، افسوس کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں، لیکن خطرہ ٹلتے ہی اس کے اسباق بھی ہماری یادداشت سے محو ہونے لگتے ہیں۔
سردیاں آتی ہیں، مچھروں کی تعداد کم ہوتی ہے اور ڈینگی ہماری ترجیحات سے نکل جاتا ہے۔ پھر اگلی بارش آتی ہے اور ہم ایک بار پھر اسی مقام پر کھڑے ہوتے ہیں۔
دانش مند قومیں ماضی کے دکھ کو مستقبل کی حفاظت میں بدل دیتی ہیں۔
پاکستان کو بھی یہی کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، ناقص نکاسیٔ آب، غیر منظم کچرا اور بدلتے ہوئے موسمی حالات نے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔
مگر یہ حالات ہمارے لیے بے بسی کا اعلان نہیں، بہتر نظام کی دعوت ہیں۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہر سال بحران کا تعاقب کریں گے یا بحران
سے پہلے اس کا راستہ روکیں گے۔
علم کو عمل میں بدلنے کی ضرورت
ڈینگی کے معاملے میں ہمارے پاس نہ معلومات کی کمی ہے، نہ تجربے کی، نہ انتباہات کی۔ ہمیں دشمن معلوم ہے، اس کے ٹھکانے معلوم ہیں، اس کا موسم معلوم ہے اور اس سے بچاؤ کے طریقے بھی معلوم ہیں۔
کمی اگر ہے تو صرف اس مستقل عزم کی جو علم کو عمل میں بدل دے۔
🏛️ حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟
مؤثر نکاسیٔ آب اور کچرے کی بروقت صفائی یقینی بنائی جائے۔
مچھر اور لاروا کی مسلسل نگرانی اور خطرے والے علاقوں کی نشاندہی ہو۔
مقامی اداروں کی ذمہ داریاں واضح اور اقدامات قابلِ جانچ ہوں۔
اسپتالوں اور صحت کے مراکز کی تیاری پیشگی مکمل کی جائے۔
اب ہمیں ایک اور کمیٹی، ایک اور اجلاس، ایک اور ہنگامی نعرے یا بحران گزرنے کے بعد ہونے والی ایک اور فوگنگ مہم کی نہیں، بلکہ تسلسل، نظم و ضبط، اجتماعی شعور اور بروقت فیصلے کی ضرورت ہے۔
آخرکار کسی قوم کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ وبا پھیلنے کے بعد اس نے کتنے مریضوں کا علاج کیا۔ اصل کامیابی تو یہ ہے کہ اس کی بروقت احتیاط، مؤثر حکمتِ عملی اور اجتماعی ذمہ داری کے باعث کتنے لوگ مریض بننے سے محفوظ رہے۔
ہمارے اسپتالوں کے خالی بستر شاید ہماری سب سے بڑی کامیابی کی علامت ہوں۔
🔄 موسمی مہم نہیں، مستقل نظام
ڈینگی کو ہر سال اچانک پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے بجائے مستقل صحتِ عامہ کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔
مون سون سے پہلے عملی منصوبہ، واضح ذمہ داریاں اور بروقت مانیٹرنگ ضروری ہیں۔
موسمی وارننگ کے ساتھ عملی اقدامات اور آگاہی مہمات منسلک ہوں۔
کیونکہ بیماری کا علاج یقیناً ضروری ہے، مگر بیماری کو آنے ہی نہ دینا اس سے کہیں بڑی دانش مندی ہے۔
اور ڈینگی ہمیں ہر سال یہی یاد دلانے آتا ہے کہ جو قوم خطرے کا انتظار کرتی ہے، وہ صرف نقصان کا حساب رکھتی رہ جاتی ہے، جو قوم خطرے سے پہلے جاگ جاتی ہے، وہ اپنے مستقبل کی حفاظت کر لیتی ہے۔