براہ راست نشریات

سردار ایاز صادق: سیاسی تقسیم کے درمیان پارلیمان کا پل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Ayaz Sadiq Parliamentary Dialogue
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

پاکستان میں بڑھتی سیاسی تقسیم کے درمیان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمے کے لیے پارلیمانی پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔
دو روزہ مذاکرات فوری طور پر کسی بڑے سمجھوتے تک نہ پہنچ سکے، تاہم سیاسی حریفوں کا ایک میز پر بیٹھنا تعطل توڑنے کی جانب اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان کے ہنگامہ خیز سیاسی منظرنامے میں پارلیمان وہ واحد ادارہ ہے جہاں اختلاف کو مکالمے میں، کشمکش کو مفاہمت میں اور سیاسی فاصلے کو باہمی گفت و شنید میں بدلا جا سکتا ہے۔ 

پارلیمان دراصل وہ ایوان ہے جہاں مختلف سیاسی تصورات ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں، اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہیں اور بالآخر کسی مشترکہ راستے کی تلاش کرتے ہیں۔

ایسے نازک اور پُرآشوب حالات میں اسپیکر کا منصب محض ایوان کی کارروائی چلانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی ذمہ داری کہیں زیادہ وسیع ہو جاتی ہے۔ 

اسپیکر کو ایوان کے وقار کا محافظ، حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے مساوی اظہارِ رائے کا ضامن اور سیاسی کشیدگی کے ماحول میں مکالمے کے دروازے کھلے رکھنے والا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

🤝 اصل پیش رفت — حریف ایک میز پر

حالیہ مذاکرات کی سب سے نمایاں بات یہ نہیں تھی کہ کوئی فوری سمجھوتا ہوگیا، بلکہ یہ تھی کہ شدید سیاسی اختلاف کے باوجود حکومت اور اپوزیشن نے براہِ راست بات چیت کا راستہ اختیار کیا۔

ایسے ماحول میں جہاں سیاسی لہجے مسلسل سخت ہوتے رہے ہوں، ایک ہی میز پر بیٹھنا بھی تعطل توڑنے کی ابتدائی کوشش بن سکتا ہے۔

اصل نکتہ: اختلاف برقرار رہا، مگر گفتگو کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

سردار ایاز صادق ایک بار پھر اسی اہم اور کٹھن پارلیمانی ذمہ داری کے مرکز میں دکھائی دے رہے ہیں۔

2 اکتوبر 2026 کو حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کی زیرِ صدارت مذاکرات کے پہلے باقاعدہ دور میں شرکت کی۔ 

مزید پڑھیں

فریقین نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے اور اگلے روز مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ 

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق نشست خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی اور اس امر پر زور دیا گیا کہ قومی معاملات کا حل مکالمے، مشاورت اور سیاسی گفت و شنید کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

اس پیش رفت کی اہمیت صرف ان معاملات تک محدود نہیں جن پر 

فریقین کے درمیان اختلاف موجود ہے، بلکہ اس حقیقت میں بھی پوشیدہ ہے کہ سیاسی حریف ایک بار پھر پارلیمان کی چھت تلے ایک میز پر بیٹھے۔

 ایسے وقت میں جب سیاسی اختلافات گہری خلیج اختیار کر چکے ہوں اور لہجوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہو، گفتگو کی بحالی بذاتِ خود ایک اہم پارلیمانی پیش رفت بن جاتی ہے۔

🏛️ اسپیکر کا کردار کیوں اہم؟

اسپیکر کا منصب صرف قومی اسمبلی کی کارروائی چلانے تک محدود نہیں۔ سیاسی بحران کے دوران یہی منصب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک غیر جانب دار پارلیمانی جگہ فراہم کرسکتا ہے۔

اسپیکر کسی فریق پر معاہدہ مسلط نہیں کرسکتا، لیکن ایسا ماحول ضرور پیدا کرسکتا ہے جہاں مخالف قوتیں اپنے مؤقف کے ساتھ ایک دوسرے کو سن سکیں۔

پارلیمانی اصول: اختلاف ختم کرنا ضروری نہیں، اسے ادارہ جاتی مکالمے کے ذریعے سنبھالنا ضروری ہے۔

3 اکتوبر کو مذاکرات کا دوسرا دور بھی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت شروع ہوا، جہاں سیاسی فریقین نے اپنے اپنے مؤقف پر مزید تبادلۂ خیال کیا۔ 

دو روزہ عمل فوری طور پر کسی بڑے سیاسی سمجھوتے پر منتج نہیں ہوا، تاہم اس نے کم از کم یہ امکان ضرور پیدا کیا کہ اختلاف کے باوجود بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔

سردار ایاز صادق کا سیاسی سفر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے گہری وابستگی رکھتا ہے، تاہم اسپیکر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری بارہا انہیں جماعتی حدود سے بلند ہو کر ایوان کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھنے کا تقاضا کرتی رہی ہے۔ 

قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق وہ 3 ادوار میں اسپیکر کے منصب پر فائز رہے ہیں: 

2013 سے 2015، 2015 سے 2018 اور مارچ 2024 سے موجودہ دور تک۔ 

طویل پارلیمانی تجربہ، قواعد و ضوابط سے واقفیت اور محتاط طرزِ عمل ان کی موجودہ ذمہ داریوں میں اہمیت رکھتے ہیں۔

📚 ایاز صادق کا پارلیمانی تجربہ

سردار ایاز صادق پہلی بار جون 2013 میں قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ نومبر 2015 میں دوبارہ اسپیکر بنے اور مارچ 2024 میں تیسری مرتبہ یہ منصب سنبھالا۔

قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کا طویل پارلیمانی سفر قواعد، ایوانی روایات اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان معاملات سے گہری واقفیت فراہم کرتا ہے۔

موجودہ دور: مارچ 2024 سے وہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ہیں۔

فریقین نے
اختلافات کے
باوجود بات چیت
جاری رکھنے پر
آمادگی ظاہر کی

ان کے سابقہ دورِ اسپیکرشپ کو بھی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا رہا۔
تحریکِ انصاف کے ارکان کے استعفوں کے معاملے میں استعفوں کی آئینی حیثیت اور طریقۂ کار سے متعلق سوالات ایوان کے سامنے آئے۔
ایسے واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ اسپیکر کی ذمہ داری صرف تقاریر سننے یا کارروائی چلانے تک محدود نہیں ہوتی۔
اسے آئینی تقاضوں، پارلیمانی روایات، سیاسی حساسیت، قواعد و ضوابط اور تحمل و تدبر کو بیک وقت پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں پالیسیوں، شخصیات، اداروں اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھ سکتی ہیں، مگر پارلیمانی جمہوریت اس تصور پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی کہ ہر اختلاف کا انجام تصادم ہی ہو۔
اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن سیاسی تعطل اس کا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔
آئینی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کو ادارہ جاتی طریقۂ کار، بحث، مشاورت اور سیاسی مکالمے کے ذریعے سنبھالا جائے۔

اسپیکر ایاز صادق بارہا اس امر پر زور دے چکے ہیں کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے پارلیمان موزوں ترین فورم ہے۔ 

اسپیکر کا کردار یہ نہیں کہ وہ مذاکرات کے کسی فریق کا حصہ بن جائے، بلکہ اس کی ذمہ داری ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں متحارب سیاسی قوتیں اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سن سکیں۔

⚠️ دو روزہ مذاکرات کہاں رکے؟

پہلے دور میں فریقین نے اپنے مطالبات اور تحفظات سامنے رکھے، مگر دوسرے دور کے بعد بھی کسی جامع سیاسی سمجھوتے کا اعلان نہ ہوسکا۔

رپورٹس کے مطابق بعض بنیادی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف ایک دوسرے سے فاصلے پر رہے، جس کے باعث مذاکرات فوری نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔

یعنی: بات چیت ہوئی، لیکن سیاسی تعطل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

حالیہ مذاکرات اسی اصول کی عکاسی کرتے ہیں۔ 

کسی فریق نے فوری طور پر اپنا مؤقف ترک نہیں کیا، لیکن فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مفاہمت کا سفر اکثر کسی فوری معاہدے سے نہیں بلکہ اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب گفتگو کا دروازہ بند ہونے سے بچا لیا جائے۔

ایک مؤثر ثالث کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے سنے اور پھر بولے، فریقین کے تحفظات کو سمجھے اور ایسا اعتماد پیدا کرے کہ سیاسی مخالفین ایک ہی میز پر بیٹھے رہنے پر آمادہ ہوں۔ 

سردار ایاز صادق کا طویل پارلیمانی تجربہ انہیں پاکستانی سیاسی طبقے کے مزاج، پارلیمانی روایات اور سیاسی حساسیت سے آگاہ رکھتا ہے۔

🗣️ مکالمہ کیوں ضروری ہے؟

پارلیمانی جمہوریت میں اختلاف معمول کا حصہ ہے، مگر ہر اختلاف کا انجام محاذ آرائی ہونا ضروری نہیں۔

بحث، مشاورت اور براہِ راست سیاسی گفتگو فریقین کو اپنے مؤقف واضح کرنے، غلط فہمیوں کو کم کرنے اور ممکنہ مشترکہ نکات تلاش کرنے کا موقع دیتی ہے۔

مکالمہ فوری معاہدے کی ضمانت نہیں، لیکن یہ سیاسی بند گلی سے نکلنے کا ایک آئینی اور ادارہ جاتی راستہ ضرور فراہم کرتا ہے۔

اسپیکر کا منصب ایک ایسا ادارہ جاتی ماحول فراہم کر سکتا ہے جہاں سیاسی رہنما اپنے تحفظات بیان کریں، اپنے مؤقف کا دفاع کریں اور کسی ممکنہ مفاہمت کی راہ تلاش کریں، بغیر اس کے کہ انہیں اپنی سیاسی شناخت یا بنیادی سیاسی مؤقف سے دستبردار ہونا پڑے۔

آج پاکستان کو معاشی دباؤ، سلامتی کے مسائل، سماجی تقسیم اور پیچیدہ علاقائی حالات کا سامنا ہے۔ 

ایسے مسائل اس وقت زیادہ مشکل ہو جاتے ہیں جب سیاسی توانائی مسلسل باہمی محاذ آرائی میں صرف ہوتی رہے۔ معاشی پالیسی کو تسلسل، خارجہ پالیسی کو قومی ہم آہنگی، سلامتی کو ادارہ جاتی تعاون اور جمہوری نظام کو عوامی اعتماد درکار ہوتا ہے۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے ضروری نہیں کہ سیاسی جماعتیں ہر معاملے پر ایک ہی رائے رکھیں۔ 

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ قومی مفاد کسی ایک جماعت، شخصیت یا وقتی سیاسی تنازع سے کہیں بڑا ہے۔

🌐 قومی مسائل اور سیاسی ہم آہنگی

پاکستان کو معاشی دباؤ، سلامتی کے مسائل، سماجی تقسیم اور پیچیدہ علاقائی حالات کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں مسلسل سیاسی محاذ آرائی پالیسی سازی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔

تمام جماعتوں کا ہر مسئلے پر متفق ہونا ضروری نہیں، مگر قومی اہمیت کے معاملات پر گفتگو کا قابلِ اعتماد طریقۂ کار موجود رہنا ضروری ہے۔

ضرورت: سیاسی مقابلہ اپنی جگہ، مگر قومی معاملات کے لیے رابطے کے دروازے کھلے رہیں۔

اسی تناظر میں ایک پارلیمانی مفاہمتی کمیٹی کے قیام کی تجویز سنجیدہ غور کی مستحق ہو سکتی ہے، جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں اور اسپیکر اس عمل کی رہنمائی کرے۔ 

ایسا فورم سیاسی شکایات، معاشی مسائل اور قومی اہمیت کے معاملات کو روزمرہ سیاسی بیان بازی کی گرمی سے قدرے دور رکھ کر زیرِ بحث لانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ 

اس کا مقصد اختلافات کو مٹانا نہیں بلکہ انہیں تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے سنبھالنا ہونا چاہیے۔

پارلیمان اس وقت مضبوط نہیں ہوتی جب تمام آوازیں ایک ہی لہجے میں بولیں، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب مختلف آوازوں کو سنا جا سکے اور اختلاف کے باوجود وہ ادارہ محفوظ رہے جو ان آوازوں کو جگہ دیتا ہے۔ 

حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر لانے کی سردار ایاز صادق کی موجودہ کوشش اسی وسیع تر پارلیمانی تصور کی عکاس ہے۔

یہ محض ایک مذاکراتی عمل نہیں بلکہ پارلیمان کے اس بنیادی کردار کی یاد دہانی بھی ہے کہ سیاسی مسابقت اور قومی ذمہ داری لازماً ایک دوسرے کی ضد نہیں ہوتیں۔

💡 کیا مستقل مفاہمتی فورم بن سکتا ہے؟

مضمون میں ایک پارلیمانی مفاہمتی کمیٹی کی تجویز دی گئی ہے جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں اور اسپیکر اس عمل کی رہنمائی کرے۔

ایسا فورم روزمرہ سیاسی بیان بازی سے نسبتاً الگ ماحول میں سیاسی شکایات، معاشی معاملات اور قومی اہمیت کے سوالات پر مسلسل رابطہ برقرار رکھ سکتا ہے۔

مقصد: اختلافات مٹانا نہیں، بلکہ انہیں تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے سنبھالنا۔

پارلیمان سیاسی
اختلافات کے حل
اور مفاہمت کا
بنیادی فورم ہے

دو روزہ پارلیمانی مفاہمتی عمل وہ بڑی پیش رفت تو نہ لا سکا جس کی بعض حلقوں کو توقع تھی، لیکن اس نے ایک اہم مقصد ضرور حاصل کیا: حکومت اور اپوزیشن کو ایک ہی میز پر بیٹھنے اور اپنے مؤقف براہِ راست ایک دوسرے کے سامنے رکھنے کا موقع ملا۔
گہرے سیاسی عدم اعتماد کے ماحول میں مکالمے کے لیے جگہ پیدا ہونا بھی اپنی جگہ ایک اہم پارلیمانی پیش رفت ہے۔
اسپیکر نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس عمل کی کامیابی بالآخر تمام سیاسی فریقوں کی اس آمادگی سے وابستہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے کو سنیں، جہاں ممکن ہو مشترکہ راستہ تلاش کریں اور سیاسی مقابلے کو قومی مفاد پر غالب نہ آنے دیں۔
اسپیکر کسی فریق پر اتفاق مسلط نہیں کر سکتا، وہ صرف ایسا ماحول پیدا کر سکتا ہے جس میں اتفاقِ رائے کا امکان جنم لے۔
مکالمہ اعتماد بحال کرنے، کشیدگی کم کرنے اور سیاسی تعطل کو بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

🔎 اصل نتیجہ — پارلیمان پل بن سکتی ہے

دو روزہ مذاکرات کوئی بڑی فوری پیش رفت نہ لاسکے، مگر انہوں نے یہ دکھایا کہ شدید سیاسی تقسیم کے باوجود پارلیمان مخالف قوتوں کو ایک میز پر لا سکتی ہے۔

اس عمل کی کامیابی صرف اسپیکر پر منحصر نہیں؛ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ایک دوسرے کو سننے اور جہاں ممکن ہو مشترکہ راستہ تلاش کرنے کی آمادگی دکھانا ہوگی۔

خلاصہ: اسپیکر پل بنا سکتا ہے، مگر اس پل پر آگے بڑھنے کا فیصلہ سیاسی فریقوں کو خود کرنا ہوگا۔

پائیدار سیاسی مفاہمت کی ابتدا گفتگو ہی سے ہوتی ہے، اور ہر بامعنی گفتگو کے لیے ایک ایسی جگہ ضروری ہے جہاں اختلاف رکھنے والے فریق ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ سکیں۔

مخالف سیاسی قوتوں کو دوبارہ ایک میز پر لا کر موجودہ پارلیمانی عمل نے جمہوریت کے ایک بنیادی اصول کو پھر نمایاں کیا ہے: 

اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں اور مؤقف کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، مکالمے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔

پارلیمان کو پل کا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے اور اسپیکر کو اس پل کا امین۔

✒
محمد محسن اقبال
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←