پاکستان میں بڑھتی سیاسی تقسیم کے درمیان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمے کے لیے پارلیمانی پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔
دو روزہ مذاکرات فوری طور پر کسی بڑے سمجھوتے تک نہ پہنچ سکے، تاہم سیاسی حریفوں کا ایک میز پر بیٹھنا تعطل توڑنے کی جانب اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ان کے سابقہ دورِ اسپیکرشپ کو بھی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا رہا۔
تحریکِ انصاف کے ارکان کے استعفوں کے معاملے میں استعفوں کی آئینی حیثیت اور طریقۂ کار سے متعلق سوالات ایوان کے سامنے آئے۔
ایسے واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ اسپیکر کی ذمہ داری صرف تقاریر سننے یا کارروائی چلانے تک محدود نہیں ہوتی۔
اسے آئینی تقاضوں، پارلیمانی روایات، سیاسی حساسیت، قواعد و ضوابط اور تحمل و تدبر کو بیک وقت پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں پالیسیوں، شخصیات، اداروں اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھ سکتی ہیں، مگر پارلیمانی جمہوریت اس تصور پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی کہ ہر اختلاف کا انجام تصادم ہی ہو۔
اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن سیاسی تعطل اس کا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔
آئینی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کو ادارہ جاتی طریقۂ کار، بحث، مشاورت اور سیاسی مکالمے کے ذریعے سنبھالا جائے۔
دو روزہ پارلیمانی مفاہمتی عمل وہ بڑی پیش رفت تو نہ لا سکا جس کی بعض حلقوں کو توقع تھی، لیکن اس نے ایک اہم مقصد ضرور حاصل کیا: حکومت اور اپوزیشن کو ایک ہی میز پر بیٹھنے اور اپنے مؤقف براہِ راست ایک دوسرے کے سامنے رکھنے کا موقع ملا۔
گہرے سیاسی عدم اعتماد کے ماحول میں مکالمے کے لیے جگہ پیدا ہونا بھی اپنی جگہ ایک اہم پارلیمانی پیش رفت ہے۔
اسپیکر نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس عمل کی کامیابی بالآخر تمام سیاسی فریقوں کی اس آمادگی سے وابستہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے کو سنیں، جہاں ممکن ہو مشترکہ راستہ تلاش کریں اور سیاسی مقابلے کو قومی مفاد پر غالب نہ آنے دیں۔
اسپیکر کسی فریق پر اتفاق مسلط نہیں کر سکتا، وہ صرف ایسا ماحول پیدا کر سکتا ہے جس میں اتفاقِ رائے کا امکان جنم لے۔
مکالمہ اعتماد بحال کرنے، کشیدگی کم کرنے اور سیاسی تعطل کو بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔