براہ راست نشریات

گولڈ اچانک کیوں گر گیا؟ عالمی منڈی میں 7 ہفتوں کی کم ترین سطح

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Gold Price

عالمی منڈی میں گولڈ تقریباً 3 فیصد گر کر 7 ہفتوں سے زائد کی کم ترین سطح پر آگیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کے باوجود سرمایہ کاروں کی توجہ مہنگے تیل، امریکی مہنگائی اور فیڈرل ریزرو کی ممکنہ نئی شرح سود کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔
مضبوط ڈالر اور بلند امریکی بانڈ ییلڈ بھی سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

عالمی منڈی میں گولڈ کی قیمت آج پیر 28 ستمبر کو اچانک شدید دباؤ میں آگئی اور ایک ہی سیشن میں تقریباً 3 فیصد گر کر 7 ہفتوں سے زائد کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔ 

بظاہر یہ صورتحال حیران کن ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے، آبنائے ہرمز کے معاملے پر غیر یقینی موجود ہے اور تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر جارہی ہیں۔ 

ایسے حالات میں عموماً سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں، مگر اس مرتبہ معاملہ الٹ ہوگیا۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. 28 ستمبر کو عالمی منڈی میں سونا تقریباً 3 فیصد گر کر سات ہفتوں سے زائد کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔

2. اسپاٹ گولڈ تقریباً 4,156.45 ڈالر فی اونس تک آیا، جبکہ دسمبر کے امریکی گولڈ فیوچرز 3.1 فیصد کم ہوئے۔

3. مہنگا تیل، بلند امریکی بانڈ ییلڈ، مضبوط ڈالر اور مزید شرح سود کے امکانات نے سونے پر دباؤ بڑھایا۔

4. اب مارکیٹ کی توجہ امریکی مہنگائی اور روزگار کے نئے اعداد پر ہے۔

ابتدائی یورپی تجارت میں اسپاٹ گولڈ تقریباً 3 فیصد کم ہوکر 4,140 ڈالر فی اونس تک آگیا، جو 5 اگست کے بعد کم ترین سطح ہے۔ 

دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی تقریباً 3.1 فیصد کم ہوکر 4,188.80 ڈالر فی اونس پر آگئے۔ 

سونا صرف ستمبر کے دوران تقریباً 7 فیصد نیچے آچکا ہے۔

مزید پڑھیں

تیل مہنگا ہوا تو سونا کیوں سستا ہوگیا؟

اس سوال کا جواب موجودہ مارکیٹ کی سب سے اہم کہانی میں پوشیدہ ہے۔

برینٹ خام تیل پیر کو تقریباً 3 فیصد اچھل کر 107.16 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ 

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز سے 

متعلق غیر یقینی نے تیل کی سپلائی کے خدشات دوبارہ بڑھا دیئے ہیں۔ 

رواں ماہ تیل تقریباً 20 فیصد مہنگا ہوچکا ہے، جبکہ فروری کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تیل تقریباً 50 فیصد اوپر ہے۔

📉 اہم اعداد — سونا کہاں تک گرا؟

3 فیصد: پیر کو اسپاٹ گولڈ کی یومیہ کمی۔

4,156.45 ڈالر: اسپاٹ گولڈ کی رپورٹ شدہ قیمت فی اونس۔

4,188.80 ڈالر: دسمبر کے امریکی گولڈ فیوچرز، تقریباً 3.1 فیصد کمی کے بعد۔

سات ہفتوں سے زائد: 5 اگست کے بعد کم ترین سطح۔

تقریباً 7 فیصد: ستمبر کے دوران سونے کی مجموعی کمی۔

عام حالات میں تیل کی تیزی اور جغرافیائی کشیدگی سونے کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہے، لیکن اس وقت مہنگا تیل ایک دوسرا خوف پیدا کررہا ہے: مہنگائی۔

توانائی مہنگی ہونے سے نقل و حمل، صنعت، خوراک اور دیگر مصنوعات کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اگر امریکی مہنگائی دوبارہ تیز ہوتی ہے تو فیڈرل ریزرو کو شرح سود بلند رکھنے یا مزید بڑھانے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

اور یہی خدشہ اس وقت سونے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

فیڈ کی شرح سود نے کھیل بدل دیا

امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کرکے اسے 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچا دیا تھا۔ 

یہ 3 سال میں امریکا میں شرح سود کا پہلا اضافہ تھا۔ 

مزید اہم بات یہ ہے کہ فیڈ کے 18 میں سے 16 پالیسی سازوں نے اشارہ دیا کہ سال کے اختتام تک کم از کم ایک اور اضافہ ہوسکتا ہے۔

🛢️ تیل مہنگا ہوا تو سونا کیوں گرا؟

عام حالات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور مہنگا تیل سونے کی محفوظ پناہ گاہ والی طلب بڑھا سکتے ہیں، لیکن اس بار مارکیٹ نے مختلف ردِعمل دیا۔

برینٹ خام تیل ایک مرحلے پر تقریباً 107.16 ڈالر فی بیرل تک پہنچا۔ مہنگا تیل توانائی اور نقل و حمل کی لاگت بڑھا کر مہنگائی کو دوبارہ تیز کرسکتا ہے۔

اسی خدشے نے امریکی شرح سود مزید بلند رہنے یا دوبارہ بڑھنے کی توقعات کو مضبوط کیا، اور یہی عامل سونے پر بھاری پڑا۔

اب مارکیٹ اکتوبر میں ہی ایک اور اضافے کے امکانات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ 28 ستمبر کو فیوچرز مارکیٹ کے مطابق اکتوبر میں امریکی شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 70 فیصد کے قریب پہنچ چکا تھا۔

یہ صورتحال سونے کے لیے نقصان دہ کیوں ہے؟

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سونا خود کوئی سود یا منافع نہیں دیتا۔ جب امریکی بانڈز اور دیگر محفوظ سرمایہ کاری پر زیادہ سود ملنے لگے تو سرمایہ کار کے لیے سونا رکھنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ 

اسے مالیاتی زبان میں Opportunity Cost کہا جاتا ہے۔

یعنی سرمایہ کار سوچتا ہے کہ اگر محفوظ امریکی بانڈ اسے قابلِ ذکر منافع دے رہا ہے تو وہ ایسا سونا کیوں رکھے جس پر کوئی سود نہیں ملتا؟

امریکی بانڈز بھی سونے پر دباؤ بڑھا رہے ہیں

شرح سود میں مزید اضافے کی توقع کے نتیجے میں امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار تیزی سے بڑھی ہے۔ 

30 سالہ امریکی بانڈ کی ییلڈ پیر کو 5.517 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2004 کے بعد بلند ترین سطحوں کے قریب ہے۔

🏦 فیڈ کی شرح سود نے کھیل کیسے بدلا؟

مارکیٹ میں اکتوبر کے اجلاس میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ایک اور شرح سود اضافے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

Reuters کے مطابق CME FedWatch میں یہ امکان تقریباً 70.3 فیصد تک پہنچ گیا۔

سونا خود کوئی سود نہیں دیتا، اس لیے جب محفوظ سودی اثاثوں سے زیادہ منافع ملنے لگے تو سونا رکھنے کی Opportunity Cost بڑھ جاتی ہے۔

دو سالہ بانڈ کی ییلڈ صرف ستمبر کے دوران تقریباً 55 بیسس پوائنٹس بڑھ چکی ہے۔ 

یہی بڑھتی ہوئی حقیقی شرح سود سونے کے مقابلے میں بانڈز کو زیادہ پرکشش بنارہی ہے۔

UBS کے تجزیہ کار Giovanni Staunovo کے مطابق تیل کی بلند قیمتیں اور امریکا میں مزید شرح سود کے بڑھتے ہوئے امکانات سونے کی حالیہ کمزوری کے بنیادی عوامل ہیں۔ 

ان کے مطابق بلند حقیقی شرح سود اور مضبوط ڈالر مختصر مدت میں سونے پر دباؤ برقرار رکھ سکتے ہیں۔

سونے کی قیمت
ایک سیشن میں
3 فیصد گری

ڈالر کی مضبوطی، سونے کے لیے ایک اور مشکل

امریکی ڈالر بھی دو ماہ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گیا ہے۔
ڈالر انڈیکس تقریباً 101.39 تک پہنچا اور ستمبر میں امریکی کرنسی مضبوط ہوئی ہے۔
چونکہ بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمت ڈالر میں طے ہوتی ہے، اس لیے ڈالر مہنگا ہونے پر دوسری کرنسیوں میں سونا خریدنے والوں کے لیے اس کی حقیقی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
نتیجتاً عالمی طلب پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یوں سونا اس وقت ایک ساتھ 3 طاقتور دباؤ کا سامنا کررہا ہے:
مضبوط ڈالر، بلند بانڈ ییلڈ اور مزید شرح سود کے امکانات۔
یہ تینوں عوامل فی الحال جنگ اور جغرافیائی کشیدگی سے پیدا ہونے والی محفوظ سرمایہ کاری کی طلب پر غالب دکھائی دے رہے ہیں۔

صرف سونا نہیں، چاندی بھی شدید دباؤ میں

قیمتی دھاتوں میں فروخت صرف سونے تک محدود نہیں رہی۔ 

پیر کو اسپاٹ سلور تقریباً 4.8 فیصد گر کر 61.17 ڈالر فی اونس تک آگیا، جبکہ پلاٹینم میں تقریباً 2.4 فیصد اور پیلیڈیم میں تقریباً 2.2 فیصد کمی ہوئی۔

💵 مضبوط ڈالر — سونے کے لیے دوسرا دباؤ

ڈالر انڈیکس حالیہ مضبوط امریکی اعداد اور شرح سود کے امکانات کے باعث دو ماہ کی بلند سطحوں کے قریب پہنچا۔

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت ڈالر میں طے ہوتی ہے، اس لیے مضبوط ڈالر دوسری کرنسیوں کے خریداروں کے لیے سونا مہنگا کردیتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عالمی طلب دباؤ میں آ سکتی ہے اور سونے کی قیمت پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔

اس سے اشارہ ملتا ہے کہ موجودہ فروخت صرف سونے کی مخصوص کمزوری نہیں بلکہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر سرمایہ نکالنے کا عمل بھی ہے۔

اب اگلا فیصلہ کن مرحلہ کیا ہوگا؟

سونے کے لیے اگلے چند دن انتہائی اہم ہوسکتے ہیں۔ 

امریکی معیشت کے متعدد بڑے اعدادوشمار اس ہفتے جاری ہونے والے ہیں، جن میں PCE مہنگائی، روزگار کے مواقع، ADP روزگار رپورٹ اور نان فارم پے رولز شامل ہیں۔

اگر مہنگائی توقع سے زیادہ اور روزگار مضبوط رہا تو مارکیٹ اکتوبر میں ایک اور شرح سود اضافے کے امکان کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس سے سونے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

📈 بانڈ ییلڈ کیوں اہم ہے؟

امریکی 30 سالہ ٹریژری ییلڈ تقریباً 5.517 فیصد تک پہنچی، جو 2004 کے بعد بلند ترین سطحوں کے قریب ہے۔

دو سالہ امریکی ییلڈ بھی ستمبر میں تقریباً 55 بیسس پوائنٹس بڑھ چکی ہے۔

جب بانڈز نسبتاً محفوظ رہتے ہوئے زیادہ منافع دینے لگیں تو بغیر سود والے سونے کی کشش کم ہوسکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر امریکی معاشی اعداد کمزور آئیں، بانڈ ییلڈ نیچے آئے یا ڈالر کمزور ہو تو سونے کو دوبارہ سہارا مل سکتا ہے۔

اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑی فوجی پیش رفت، آبنائے ہرمز کی بندش یا تیل کی سپلائی میں شدید رکاوٹ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کو اچانک دوبارہ بڑھا سکتی ہے۔

اصل کہانی

سونے کی موجودہ گراوٹ کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں خطرات ختم ہوگئے ہیں۔ 

دلچسپ بات یہی ہے کہ خطرات بڑھنے کے باوجود سونا نیچے جارہا ہے۔

وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار اس وقت جنگ سے زیادہ اس کے معاشی نتائج پر توجہ دے رہے ہیں۔

⚪ صرف سونا نہیں — چاندی بھی دباؤ میں

قیمتی دھاتوں میں فروخت صرف سونے تک محدود نہیں رہی۔

چاندی: تقریباً 4.8 فیصد گر کر 61.17 ڈالر فی اونس۔

پلاٹینم: تقریباً 2.4 فیصد کمی۔

پیلیڈیم: تقریباً 2.2 فیصد کمی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتی دھاتوں کے پورے شعبے میں فروخت کا دباؤ موجود ہے۔

اگر جنگ تیل مہنگا کرتی ہے، تیل مہنگائی بڑھاتا ہے، مہنگائی فیڈ کو شرح سود بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور بلند شرح سود ڈالر اور امریکی بانڈز کو مضبوط کرتی ہے تو یہی سلسلہ بالآخر سونے پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

یعنی اس وقت سونے کی قیمت کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کیا ہوگا؟

بلکہ یہ ہے کہ:

مہنگا تیل امریکی مہنگائی اور فیڈرل ریزرو کو کہاں لے جائے گا؟

اور ممکنہ طور پر سونے کی اگلی بڑی سمت کا فیصلہ بھی اسی سوال کے جواب سے ہوگا۔

🔗 مصادر اور مزید مطالعہ

Reuters — 28 September 2026:
سونا 3 فیصد گر کر سات ہفتوں کی کم ترین سطح پر؛ تیل سے مہنگائی کے خدشات، اکتوبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات اور قیمتی دھاتوں کی فروخت۔
اصل رپورٹ کھولیں


Reuters — Global Markets, 28 September 2026:
برینٹ تیل 107.16 ڈالر، 30 سالہ امریکی بانڈ ییلڈ 5.517 فیصد، مضبوط ڈالر اور عالمی مارکیٹ پر دباؤ۔
اصل رپورٹ کھولیں