بٹ کوائن آج 21 ستمبر کو 85 ہزار ڈالر سے اوپر نکل کر تقریباً 86 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا، جو جنوری کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔
گزشتہ ہفتے یہ تقریباً 75 ہزار ڈالر کے قریب تھا۔
اس تیزی کے پیچھے بڑے پیمانے پر شارٹ پوزیشنز کی لیکویڈیشن، ETF میں تازہ سرمایہ اور ادارہ جاتی خریداری اہم عوامل رہے۔
بٹ کوائن نے چند ہی دن میں کرپٹو مارکیٹ کا مزاج بدل دیا ہے۔
کئی ہفتوں تک مزید گراوٹ کے خدشات میں گھرے رہنے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی تقریباً 75 ہزار ڈالر سے تیزی کے ساتھ اوپر گئی اور 21 ستمبر کو 85 ہزار ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے بعض اوقات 86 ہزار ڈالر سے بھی اوپر پہنچ گئی۔
اس تیزی کی اہمیت صرف قیمت میں تقریباً 10 ہزار ڈالر اضافے تک محدود نہیں۔
بٹ کوائن نے ان اہم مزاحمتی سطحوں کو بھی توڑا جو ستمبر کے دوران اس کی بحالی کا راستہ روک رہی تھیں۔
ساتھ ہی ان ٹریڈرز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جو قیمت میں مزید کمی پر شرط لگا رہے تھے۔
01 OVERSEAS POST | BITCOIN RALLYچند دن میں 10 ہزار ڈالر کی چھلانگ ⌄
بٹ کوائن تقریباً 75 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 85–86 ہزار ڈالر کے علاقے تک پہنچ گیا۔ چند دن کی اس تیزی نے کرپٹو مارکیٹ کا مزاج مکمل طور پر بدل دیا۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ عارضی چھلانگ ہے یا بٹ کوائن کسی نئے صعودی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے؟
شارٹ سیلرز کے لیے بڑا جھٹکا
موجودہ تیزی کے پیچھے سب سے اہم عوامل میں سے ایک Short Squeeze تھا۔
بڑی تعداد میں ٹریڈرز نے یہ توقع کرتے ہوئے شارٹ پوزیشنز کھولی تھیں کہ بٹ کوائن مزید نیچے جائے گا۔
لیکن جیسے ہی قیمت اہم مزاحمتی سطحوں سے اوپر نکلی، خسارے والی پوزیشنز خودکار طور پر بند ہونے لگیں۔
مزید پڑھیں
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق صرف 24 گھنٹوں میں کرپٹو مارکیٹ میں 750 ملین ڈالر سے زیادہ کی پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں، جن میں بڑا حصہ شارٹ پوزیشنز کا تھا۔
بٹ کوائن میں بھی سینکڑوں ملین ڈالر کی پوزیشنز ختم ہوئیں۔
شارٹ پوزیشن بند کرنے کے لیے ٹریڈرز کو بٹ کوائن خریدنا پڑتا ہے۔
جب یہ عمل بڑے پیمانے پر شروع ہو تو خریداری خود قیمت کو مزید
اوپر لے جاتی ہے۔
نتیجتاً مزید پوزیشنز خسارے میں جاتی ہیں اور ایک نئی خریداری کی لہر پیدا ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بٹ کوائن چند گھنٹوں میں تیزی سے کئی اہم سطحیں عبور کرگیا۔
02 OVERSEAS POST | BITCOIN RALLYشارٹ سیلرز کو بڑا نقصان ⌄
صرف 24 گھنٹوں میں کرپٹو مارکیٹ کی 750 ملین ڈالر سے زیادہ پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں، جن میں بڑا حصہ قیمت گرنے کی توقع پر کھولی گئی شارٹ پوزیشنز کا تھا۔
صرف Short Squeeze نہیں
اگر موجودہ تیزی صرف شارٹ پوزیشنز بند ہونے کا نتیجہ ہوتی تو اسے عارضی سمجھنے کی زیادہ وجہ موجود ہوتی، لیکن اس بار کچھ دوسرے عوامل بھی ساتھ کام کررہے ہیں۔
امریکا میں بٹ کوائن کے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز یعنی ETF میں دوبارہ سرمایہ آنا شروع ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک ہی دن میں ان فنڈز میں تقریباً 433 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری دیکھی گئی۔
ETF میں سرمایہ آنے کی اہمیت یہ ہے کہ یہ حقیقی خریداری کی علامت سمجھی جاتی ہے، نہ کہ صرف خسارے والی شارٹ پوزیشنز بند کرنے کے لیے مجبوری میں کی جانے والی خریداری۔
03 OVERSEAS POST | BITCOIN RALLYShort Squeeze نے رفتار بڑھائی ⌄
قیمت اوپر جانے پر شارٹ ٹریڈرز کو اپنی خسارے والی پوزیشنز بند کرنے کے لیے بٹ کوائن خریدنا پڑا۔ اس جبری خریداری نے تیزی کو مزید طاقت دی اور نئی شارٹ پوزیشنز بھی دباؤ میں آگئیں۔
اسی دوران Strategy نے بھی مزید 950 بٹ کوائن تقریباً 75.7 ملین ڈالر میں خریدے۔
اس کے بعد کمپنی کے پاس موجود بٹ کوائن کی مجموعی تعداد تقریباً 846 ہزار ہوگئی۔
بڑی کمپنیوں کی خریداری نے مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط کیا کہ موجودہ قیمتوں پر ادارہ جاتی سرمایہ کار بھی دوبارہ سرگرم ہورہے ہیں۔
چارٹ پر بھی اہم تبدیلی
بٹ کوائن نے تکنیکی اعتبار سے بھی ایک اہم مرحلہ عبور کیا۔
20 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کا ہفتہ وار اختتام 50 ہفتوں کی موونگ ایوریج سے اوپر ہوا۔
تقریباً 45 ہفتوں بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ بٹ کوائن اس اہم تکنیکی سطح کے اوپر ہفتہ بند کرنے میں کامیاب رہا۔
04 OVERSEAS POST | BITCOIN RALLYETF میں سرمایہ واپس ⌄
امریکی Bitcoin ETFs میں دوبارہ بڑی رقوم داخل ہونے لگیں۔ ایک دن میں تقریباً 433 ملین ڈالر کی آمد نے اشارہ دیا کہ مارکیٹ میں صرف شارٹ کورنگ نہیں بلکہ حقیقی طلب بھی موجود ہے۔
طویل مدتی ٹریڈرز اس سطح کو مارکیٹ کے بڑے رجحان کے تعین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے اوپر واپسی نے ان سرمایہ کاروں کو بھی متحرک کیا جو چارٹ کے صعودی رجحان کی بنیاد پر خریداری کرتے ہیں۔
یوں مارکیٹ میں ایک طرف شارٹ پوزیشنز کی جبری خریداری تھی اور دوسری طرف نئے سرمایہ کار بھی داخل ہورہے تھے۔
عالمی مارکیٹ بھی مددگار
وال اسٹریٹ کا مثبت ماحول بھی بٹ کوائن کے حق میں رہا۔
امریکی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ حصص میں تیزی، تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکی بانڈز کی پیداوار میں نرمی نے سرمایہ کاروں میں خطرہ لینے کا رجحان بڑھایا۔
05 OVERSEAS POST | BITCOIN RALLYStrategy نے 950 بٹ کوائن خریدے ⌄
Strategy نے مزید 950 BTC تقریباً 75.7 ملین ڈالر میں خریدے، جس کے بعد کمپنی کے پاس بٹ کوائن کا مجموعی ذخیرہ تقریباً 846 ہزار BTC ہوگیا۔
ایسے ماحول میں بٹ کوائن اور دوسری کرپٹو کرنسیاں عموماً فائدہ اٹھاتی ہیں، کیونکہ سرمایہ کار زیادہ منافع کی تلاش میں نسبتاً زیادہ خطرے والے اثاثوں کا رخ کرتے ہیں۔
تاہم یہی عنصر بعد میں خطرہ بھی بن سکتا ہے۔
اگر امریکی بانڈز کی پیداوار دوبارہ بڑھی یا مانیٹری پالیسی مزید سخت ہوئی تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ واپس آسکتا ہے۔
یہ تیزی مختلف کیوں ہے؟
موجودہ تیزی میں تقریباً ایک ہی وقت میں چار اہم عوامل جمع ہوئے ہیں: شارٹ پوزیشنز کی بڑے پیمانے پر لیکویڈیشن، ETF میں نئی رقم، ادارہ جاتی خریداری اور اہم تکنیکی سطحوں کا ٹوٹنا۔
06 OVERSEAS POST | BITCOIN RALLY45 ہفتوں بعد اہم تکنیکی تبدیلی ⌄
بٹ کوائن تقریباً 45 ہفتوں بعد 50 ہفتوں کی موونگ ایوریج سے اوپر ہفتہ بند کرنے میں کامیاب ہوا۔ تکنیکی تجزیہ کرنے والے سرمایہ کار اس تبدیلی کو اہم رجحانی اشارہ سمجھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ حرکت کو صرف ایک خبر یا عارضی جوش کا نتیجہ قرار دینا آسان نہیں۔
لیکن تیزی کی رفتار خود ایک خطرہ ہے۔
چند دنوں میں ہزاروں ڈالر کی چھلانگ کے بعد منافع وصولی شروع ہوسکتی ہے اور قیمت دوبارہ ان سطحوں کو آزما سکتی ہے جنہیں حال ہی میں عبور کیا گیا ہے۔
اب اصل امتحان
85 سے 86 ہزار ڈالر تک پہنچنے کے بعد بٹ کوائن کے لیے اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہے۔
اگر قیمت 84 سے 85 ہزار ڈالر کے اوپر مضبوطی سے قائم رہتی ہے تو خریداروں کی طاقت برقرار رہنے کا اشارہ مل سکتا ہے، جبکہ اگلی اہم توجہ 88 سے 90 ہزار ڈالر کے علاقے پر ہوگی۔
08 OVERSEAS POST | BITCOIN RALLY88 سے 90 ہزار ڈالر بڑا امتحان ⌄
85–86 ہزار ڈالر کے بعد مارکیٹ کی نظریں اب 88 سے 90 ہزار ڈالر کے علاقے پر ہیں۔ اس زون میں بٹ کوائن کو زیادہ فروخت، منافع وصولی اور نئی مزاحمت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اس کے برعکس اگر بٹ کوائن دوبارہ تیزی سے 81 سے 82 ہزار ڈالر کی جانب واپس آتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ موجودہ تیزی کا کتنا حصہ حقیقی طلب سے آیا اور کتنا Short Squeeze کا نتیجہ تھا۔
چند دن پہلے مارکیٹ 75 ہزار ڈالر کے نیچے جانے کے خدشے پر بحث کررہی تھی، جبکہ اب 90 ہزار ڈالر زیرِ بحث ہے۔
اصل فیصلہ اس وقت ہوگا جب شارٹ پوزیشنز کی جبری خریداری ختم ہوجائے گی۔
اگر اس کے بعد بھی ETF میں سرمایہ آتا رہا، ادارہ جاتی خریداری برقرار رہی اور بٹ کوائن اپنی نئی سپورٹ سطحیں بچانے میں کامیاب رہا تو موجودہ تیزی ایک عارضی اچھال سے کہیں زیادہ ثابت ہوسکتی ہے۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCES بٹ کوائن رپورٹ — اصل اور معتبر ذرائع ⌄
ذرائع کے لنکس نئی ونڈو میں کھلیں گے۔