یمن
یمن بحران ایک نظر میں: کتنے لوگ بے گھر ہوئے؟
یمن بحران ایک نظر میں: کتنے لوگ بے گھر ہوئے؟
ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد 8 صوبوں میں نقل مکانی پر مجبور
جولائی 2026 میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے کے بعد یمن میں بے گھر افراد کے انتظامی یونٹ نے ہوشربا اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ یکم سے 15 ستمبر کے درمیان 17 ہزار 852 خاندان اپنا سب کچھ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکلے ہیں، جو کہ کل 1,22,297 افراد بنتے ہیں۔
تعز: سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ
01حالیہ نقل مکانی کا سب سے بڑا مرکز صوبہ تعز رہا، جہاں سے 66 ہزار 972 افراد نے لڑائی کے باعث اپنے گھر بار چھوڑے اور دور دراز رشتہ داروں کے ہاں پناہ لی۔
لحج، ابین اور عدن میں پناہ گزین
02تعز کے علاوہ لحج میں 31,577، ابین میں 7,021 اور عدن میں 5,555 نئے بے گھر افراد رجسٹر ہوئے ہیں جو سڑکوں، اسکولوں اور عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
سمندر پار جبوتی کا ہجرت سفر
03بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے باعث 2 ہزار سے زیادہ یمنی شہری اپنی جانوں پر کھیل کر باب المندب عبور کر کے افریقی ملک جبوتی تک ہجرت کر چکے ہیں۔
ڈبل ڈسپلیسمنٹ کا عذاب
04الحدیدہ کے حیس اور الخوخہ علاقوں سے پہلے ہی بے گھر ہونے والے ایک ہزار 471 خاندان ایسے ہیں جنہیں لڑائی قریب آنے پر دوبارہ عدن کی طرف بھاگنا پڑا ہے۔
تعز پہنچنے والی اشراق عبدالجلیل 4 ماہ کی حاملہ ہیں۔ لڑائی قریب آئی تو وہ شوہر کے ساتھ گھر سے نکلیں، 5 کلومیٹر پہاڑی راستہ پیدل طے کیا اور پھر رشتہ داروں کے ہاں پناہ لی۔
مزید پڑھیں
اب ایک ہی گھر میں کئی لوگ رہ رہے ہیں اور خاندان دن میں صرف 2 وقت کھانا کھا پا رہا ہے۔
یہ صرف ایک خاندان کی کہانی ہے، مگر یمن میں ایسی کہانیاں اب ہزاروں گھروں کی حقیقت ہیں۔
15 دن میں ایک لاکھ 22 ہزار سے زیادہ بے گھر
یمن میں بے گھر افراد کے کیمپوں کے انتظامی یونٹ کے مطابق یکم
سے 15 ستمبر کے درمیان 17 ہزار 852 خاندان، یعنی ایک لاکھ 22 ہزار 297 افراد، 8 صوبوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
یمن میں تازہ جھڑپوں کے بعد نقل مکانی کی نئی لہر نے لاکھوں بچوں کو کھلے آسمان تلے لا کھڑا کیا ہے، جہاں خوراک، دوا اور پناہ کی شدید قلت ہے۔
ستمبر کے ابتدائی پندرہ دنوں میں سترہ ہزار سے زائد خاندان گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جن میں تعز اور لحج کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
حالیہ نقل مکانی میں تقریباً نصف تعداد معصوم بچوں کی ہے، جبکہ اسکول بند ہونے سے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔
پانچ سال سے کم عمر بائیس لاکھ بچے بھوک کا شکار ہیں، جن میں سوا پانچ لاکھ بچے انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طبی امداد کے منتظر ہیں۔
صرف ساٹھ فیصد طبی مراکز فعال رہ گئے ہیں؛ تباہ شدہ سڑکوں اور ناکہ بندی کے باعث متاثرہ خاندانوں تک بنیادی ریلیف کی رسائی شدید متاثر ہے۔
تعز میں 66 ہزار 972، لحج میں 31 ہزار 577، ابین میں 7 ہزار 21 اور عدن میں 5 ہزار 555 افراد رجسٹر ہوئے۔ حضرموت، المہرہ اور شبوہ میں بھی بے گھر خاندان ریکارڈ ہوئے تاہم آٹھویں صوبے کی الگ تعداد جاری نہیں ہوئی۔
الحدیدہ کے حیس اور الخوخہ سے پہلے بے گھر ہو چکے ایک ہزار 471 خاندان دوبارہ عدن کی طرف نکلے۔ حکام کے مطابق تعز کے المخا، الوازعیہ، موزع، ذو باب اور مقبنہ سے لوگوں کی نقل و حرکت مسلسل بدل رہی ہے۔
📊
سب سے بڑا نقصان کس کا؟ بچوں کے چونکا دینے والے اعداد
▼
سب سے بڑا نقصان کس کا؟ بچوں کے چونکا دینے والے اعداد
یونیسیف کے مطابق حالیہ کشیدگی سے پہلے بھی یمن میں ایک کروڑ 22 لاکھ سے زائد بچوں کو زندہ رہنے کے لیے فوری انسانی امداد درکار تھی۔ نئی نقل مکانی نے اس بحران کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔
نئے بے گھر بچوں کی تعداد
57 ہزار+ بچےحالیہ دو ہفتوں میں نقل مکانی کرنے والے ایک لاکھ 4 ہزار افراد میں نصف سے زیادہ، یعنی 57 ہزار صرف بچے ہیں، جنہیں تعلیم، پناہ اور بنیادی تحفظ سے محروم کر دیا گیا ہے۔
شدید ترین غذائی قلت کا شکار
22 لاکھ سے زائد5 سال سے کم عمر کے 22 لاکھ سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان میں سے 5 لاکھ 15 ہزار بچے انتہائی خطرناک حالت میں ہیں جنہیں فوری علاج نہ ملنے پر موت کا خطرہ ہے۔
بند اسکول اور تعلیمی تباہی
32 لاکھ سے باہرمجموعی طور پر یمن میں 32 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ حالیہ لڑائی سے 243 اسکول بند یا متاثر ہوئے جس سے مزید 1 لاکھ 37 ہزار طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
جانی نقصان اور طبی سہولیات کی معطلی
طبی مراکز مفلوج3 ستمبر کے بعد سے 9 بچے ہلاک، 12 زخمی اور 3 لاپتا ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی لڑائی کی وجہ سے 26 طبی مراکز متاثر ہوئے ہیں جبکہ پورے یمن میں صرف 60 فیصد اسپتال جزوی کام کر رہے ہیں۔
سب سے بھاری قیمت بچے چکا رہے ہیں
یونیسیف کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2 ہفتوں میں ایک لاکھ 4 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، جن میں 57 ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔
3 ستمبر کے بعد کم از کم 9 بچوں کی ہلاکت، 12 کے زخمی ہونے اور 3 کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
أُجبر أكثر من 57,000 طفل في #اليمن على الفرار من منازلهم خلال أسبوعين فقط بسبب تصاعد النزاع.
— UNICEF Yemen (@UNICEF_Yemen) September 16, 2026
تقدم اليونيسف المساعدات المنقذة للحياة في مجالات الصحة والمياه والحماية، لكن الأطفال بحاجة إلى إنهاء هذا العنف. يجب حماية المدنيين والأطفال.
للمزيد 🔗 https://t.co/ai27gTeNRT
لڑائی سے 26 طبی مراکز کی خدمات متاثر ہوئیں، جبکہ 243 اسکول بند یا تعلیم معطل ہونے سے ایک لاکھ 37 ہزار سے زیادہ طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بحران پہلے سے کمزور نظام پر آیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق کشیدگی سے پہلے بھی تقریباً ایک کروڑ 22 لاکھ بچوں کو انسانی امداد درکار تھی۔
🌍
باب المندب کیوں اہم ہے اور دنیا کیوں پریشان ہے؟
▼
باب المندب کیوں اہم ہے اور دنیا کیوں پریشان ہے؟
یمن کی سرحد سے ملحقہ باب المندب آبنائے ایشیا اور یورپ کے درمیان نہر سوئز کے راستے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا اہم ترین اور مصروف ترین سمندری دروازہ ہے۔ یہاں کی کشیدگی پوری دنیا کی سپلائی چین کو ہلا سکتی ہے۔
توانائی اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ
خلیجی ایندھندنیا بھر کا لاکھوں بیرل خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) روزانہ اس راستے سے گزرتی ہے۔ لڑائی سے بحری جہازوں کو خطرہ ہونے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر سکتی ہیں۔
بحری تجارتی جہازوں پر حملوں کا خوف
عالمی ترسیلمسلح جھڑپوں کی وجہ سے تجارتی کارگو جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا شدید خطرہ ہے۔ اس خوف کے باعث جہاز رانی کی بڑی کمپنیاں طویل اور مہنگا افریقی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
انشورنس پریمیم اور مہنگائی کا طوفان
معاشی اثراتعدم تحفظ کی وجہ سے جنگی خطرے والے زون میں سے گزرنے والے جہازوں کی انشورنس لاگت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جس کا حتمی بوجھ دنیا بھر میں خوردنی اشیاء اور ٹیکنالوجی کی مہنگائی کی صورت میں عام صارفین پر پڑتا ہے۔
پناہ گزینوں کا افریقہ کی جانب انخلا
جبوتی ہجرتیمنی ساحلوں سے 2 ہزار کے قریب افراد باب المندب عبور کر کے براعظم افریقہ کے غریب ملک جبوتی پہنچ رہے ہیں، جس سے خطے میں تارکین وطن کا ایک نیا عالمی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یہاں 5 سال سے کم عمر 22 لاکھ سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں 5 لاکھ 15 ہزار سے زائد انتہائی شدید غذائی قلت سے دوچار ہیں۔
تقریباً 32 لاکھ بچے تعلیم سے باہر ہیں، جبکہ ایک کروڑ 78 لاکھ لوگوں کو صحت، صاف پانی اور نکاسی آب کی مناسب سہولت نہیں مل رہی۔ صرف 60 فیصد طبی مراکز پوری صلاحیت سے کام کر رہے ہیں۔
سمندر کے دوسری جانب پناہ
باب المندب پار کرکے 2 ہزار سے زیادہ یمنی جبوتی پہنچ چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے 15 ستمبر تک ایک لاکھ سے زیادہ اندرونی بے گھر افراد کی اطلاع دی اور کہا کہ خراب سڑکیں، مواصلاتی رکاوٹیں، عدم تحفظ اور نقل و حرکت کی پابندیاں امدادی کام مشکل بنا رہی ہیں۔
پاکستان پر یمن بحران کے ممکنہ اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
▼
پاکستان پر یمن بحران کے ممکنہ اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
اگرچہ یمن پاکستان سے جغرافیائی فاصلے پر ہے، مگر باب المندب کی بندش یا عدم استحکام براہِ راست پاکستانی معیشت، درآمدی بل اور سفارتی توازن پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اچھال
معاشی جھٹکاپاکستان کا توانائی کا نظام امپورٹڈ تیل اور ایل این جی پر منحصر ہے۔ سمندری راستے کی کشیدگی سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوگی، جس سے پاکستان کے اندر پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی مہنگی ہو سکتی ہے۔
یورپی برآمدات کے فریٹ چارجز میں اضافہ
تجارتی لاگتپاکستان کی ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات کا بڑا حصہ بحیرہ احمر سے ہو کر یورپ جاتا ہے۔ جہازوں کا راستہ بدلنے سے کنٹینر کے کرائے اور سفر کا وقت بڑھ جائے گا، جس سے ملکی برآمدات غیر مسابقتی ہو جائیں گی۔
سفارتی دباؤ اور خلیجی توازن
خارجہ پالیسیسعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے گہرے تزویراتی تعلقات ہیں۔ یمن میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں خلیجی ممالک کی سیکیورٹی پالیسیوں سے ہم آہنگی کے لیے سفارتی سطح پر چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔
مقامی سطح پر افراطِ زر (Inflation) میں تیزی
عوامی بوجھمہنگا خام تیل اور زیادہ تجارتی لاگت براہِ راست درآمدی اشیاء، کھاد اور لوکل ٹرانسپورٹ کرایوں میں منتقل ہو جائے گی، جس سے عام آدمی کے لیے اشیائے خورونوش اور روزمرہ زندگی مزید مہنگی ہو گی۔
یمن کا بحران دنیا سے الگ نہیں
واضح رہے کہ باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا اہم سمندری راستہ ہے۔
دی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق 2022 کی جنگ بندی نے بڑی لڑائی کو کافی حد تک روکے رکھا تھا، مگر جولائی 2026 میں جھڑپیں دوبارہ بڑھی ہیں۔
اب خاندان سڑکوں، اسکولوں اور عارضی خیموں میں پناہ لے رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ جان بچانے کے لیے سمندر پار کرنے پر بھی مجبور ہیں۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ یمن میں بحران مزید کیوں بڑھ سکتا ہے؟
◆
آگے کیا ہوگا؟ یمن میں بحران مزید کیوں بڑھ سکتا ہے؟
امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں اور مواصلاتی بندش
اقوام متحدہ کے مطابق خراب سڑکیں اور جنگی علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیوں کی وجہ سے عالمی اداروں کے لیے بے گھر خاندانوں تک خیمے اور ادویات پہنچانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، جس سے اموات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
طبی ڈھانچے کا مکمل خاتمہ اور وباؤں کا پھیلاؤ
صرف 60 فیصد جزوی فعال اسپتالوں اور ایک کروڑ 78 لاکھ لوگوں کو صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث ہیضہ اور دیگر متعدی بیماریاں پھیل سکتی ہیں، جس سے غذائی قلت کے شکار بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی۔
2022 کی جنگ بندی کا باقاعدہ خاتمہ
جولائی 2026 سے شروع ہونے والی لڑائی بتاتی ہے کہ 2022 کے جنگ بندی معاہدے کی باقیات ختم ہو رہی ہیں۔ اگر نیا عالمی سفارتی دباؤ نہ ڈالا گیا تو یمن میں خونی تنازعے کا ایک اور طویل اور بھیانک باب شروع ہو سکتا ہے۔
اس وقت فوری ضرورت پناہ، خوراک، صاف پانی، علاج، صفائی، تحفظ اور نقد امداد کی ہے، جبکہ بچوں، خواتین، بزرگوں، معذور افراد اور انتہائی کمزور خاندانوں کو ترجیح دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔
یمن کی اس نئی نقل مکانی کا سب سے بڑا سوال ان اعداد و شمار سے کہیں آگے ہے۔ یعنی ایک بچہ جو بار بار اپنا گھر، اسکول اور محلہ چھوڑنے پر مجبور ہو، اس کے لیے ’واپسی‘کہاں ہے؟