ایک وقت تھا جب بڑا خاندان خوش حالی، تحفظ اور سماجی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
مزید پڑھیں
آج امریکا، برطانیہ اور چین جیسے ممالک میں یہ تصور بدل رہا ہے۔ نوجوان جوڑے بچوں سے مکمل منہ نہیں موڑ رہے، مگر تیزی سے بڑھتی تعداد یہ ضرور سوچ رہی ہے کہ ایک بچہ ہی کافی ہے۔
برطانوی اخبار آئی پیپر نے اس رجحان کو امریکی نرس سیمی کلارکسن کی کہانی سے بیان کیا ہے۔
35 سالہ کلارکسن ایک بیٹی کی ماں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذہنی طور پر
تھکا دینے والی ملازمت کے بعد بمشکل اتنی توانائی بچتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو مطلوبہ وقت دے سکیں، اسی لیے انہوں نے مزید بچے نہ پیدا کرنے کا مستقل فیصلہ کیا۔
💡
بس ایک بچہ کافی ہے: فیصلے کے پیچھے 5 بڑی وجوہات
بس ایک بچہ کافی ہے: فیصلے کے پیچھے 5 بڑی وجوہات
ملازمت کے بعد بچوں کو بھرپور توجہ دینے کی جنگ
جدید دور میں دفتری اور پیشہ ورانہ فرائض والدین کی تمام جسمانی و ذہنی توانائی نچوڑ لیتے ہیں۔ جیسے امریکی نرس سیمی کلارکسن کا کہنا ہے کہ طویل ڈیوٹی کے بعد بمشکل اتنی ہمت بچتی ہے کہ ایک بیٹی کی جذباتی ضرورت پوری کی جا سکے۔ مزید بچوں کا مطلب کسی ایک کو بھی پورا وقت نہ دے پانے کا جرم بن جاتا ہے۔
رہائش اور ڈے کیئر کے فلک شگاف اخراجات
02بڑے گھروں کے کرائے، معیاری خوراک اور نرسری یا ڈے کیئر فیسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ اوسط تنخواہ میں ایک سے زائد بچے کی پرورش گھریلو بجٹ کو شدید خسارے میں دھکیل دیتی ہے۔
عورت کی خودمختاری اور الگ شناخت
03سماجی ماہرین کے مطابق خواتین اب صرف 'ماں' بننے کو اپنی واحد شناخت تسلیم نہیں کرتیں۔ وہ اپنے کیریئر، تخلیقی مشاغل اور مالی آزادی کو بھی خاندانی زندگی کے برابر اہمیت دے رہی ہیں۔
اعلیٰ تعلیم اور وسائل کا مرتکز ارتکاز
04والدین وسائل کو متعدد بچوں میں تقسیم کر کے سمجھوتہ کرنے کے بجائے ایک ہی بچے کو بہترین اسکول، غیر نصابی سرگرمیاں اور مالی تحفظ فراہم کرنے کو زیادہ عقلمندانہ سمجھتے ہیں۔
مستقبل کی غیر یقینی اور معاشی خوف
05یو این پاپولیشن فنڈ کے مطابق لوگ بچے نہ چاہنے کی وجہ سے نہیں بلکہ نوکری چھوٹنے، مہنگائی اور غیر مستحکم مستقبل کے خوف سے مجبوراً خاندان محدود کر رہے ہیں۔
ایک ذاتی فیصلہ، مگر عالمی رجحان
بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق امریکا میں 40 سے 44 سال کی ایسی خواتین کا تناسب جن کا صرف ایک بچہ تھا، 1980 میں 10 سے بڑھ کر 2010 میں 19 فیصد ہوگیا اور بعد میں تقریباً اسی سطح پر رہا۔
اسی دورانیے میں 4 یا اس سے زیادہ بچوں والی خواتین کا تناسب بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے اور تازہ اعداد بھی یہی رجحان دکھا رہے ہیں۔
بڑھتی مہنگائی، رہائش کے اخراجات اور کیریئر کی ترجیحات نے نئی نسل کو ایک بچے پر اکتفا کرنے پر مائل کیا ہے، جس سے افرادی قوت کے سکڑنے کا خطرہ ہے۔
امریکا میں صرف ایک بچے والی خواتین کا تناسب سابقہ دہائیوں میں 10% سے تقریباً دگنا ہو کر نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔
برطانیہ میں فی عورت بچوں کی اوسط تشویشناک حد تک کم ہو چکی ہے، جبکہ چین میں اموات کی تعداد سالانہ پیدائشوں سے تجاوز کر گئی۔
اقوام متحدہ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک فرد مہنگی رہائش، بے یقینی اور دیکھ بھال کے بھاری اخراجات کے باعث مزید بچے پیدا نہیں کر سکتا۔
تعلیم، ملازمت اور معاشی آزادی کے فروغ نے روایتی سوچ بدل دی ہے، جہاں مائیں اپنی شناخت برقرار رکھنے اور بچوں کو معیاری وقت دینے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
شرحِ پیدائش کی مستقل کمی سے مستقبل میں نوجوان ٹیکس دہندگان اور افرادی قوت سکڑ جائے گی، جبکہ معمر شہریوں کی نگہداشت کا بوجھ معیشت کو متاثر کرے گا۔
امریکا میں 2025 کے دوران پیدائشیں ایک فیصد کم ہوئی ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز میں فی عورت اوسط بچوں کی شرح 1.39 رہ گئی ہے جب کہ چین میں 2025 میں 79 لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے، مگر اموات ایک کروڑ 13 لاکھ سے زیادہ رہیں اور مجموعی آبادی مزید سکڑ گئی۔
📊
فیکٹ باکس: دنیا میں خاندان کتنی تیزی سے سکڑ رہے ہیں؟
▼
فیکٹ باکس: دنیا میں خاندان کتنی تیزی سے سکڑ رہے ہیں؟
اقوام متحدہ آبادی فنڈ (UNFPA) کے 14 ممالک کے سروے کے مطابق ہر 5 میں سے 1 شخص حالات اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے پسندیدہ ہدف کے برابر بچے پیدا نہیں کر پا رہا۔
امریکا: سنگل چائلڈ کا دوگنا پھیلاؤ
10% سے 19%بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق 40 تا 44 سال کی خواتین میں ایک بچے کا تناسب 1980 کے 10 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو چکا ہے، جبکہ 2025 میں پیدائشیں مزید ایک فیصد کم ہوئیں۔
برطانیہ: تاریخ کی نچلی ترین سطح
1.39 فی عورتانگلینڈ اور ویلز میں فی عورت اوسط بچوں کی شرح سکڑ کر محض 1.39 رہ گئی ہے، جو آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار 2.1 شرحِ پیدائش سے تشویشناک حد تک کم ہے۔
چین: اموات بمقابلہ پیدائش کا خسارہ
34 لاکھ منفی فرق2025 میں چین کے اندر 79 لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے جبکہ اموات 1 کروڑ 13 لاکھ سے زائد رہیں، جس سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی آبادی مسلسل سکڑاؤ کا شکار ہے۔
مشرقی ایشیا: شرح پیدائش 1.4 سے نیچے
ریپلیسمنٹ بحراناقوام متحدہ کے مطابق خطے کے متعدد ممالک میں خاندانی سائز اتنا سکڑ چکا ہے کہ اسکول خالی ہو رہے ہیں اور بزرگوں کی آبادی کی رفتار تاریخ میں غیر معمولی بلندی پر ہے۔
لوگ بچے نہیں چاہتے یا حالات اجازت نہیں دیتے؟
اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کی 2025 رپورٹ اس حوالے سے ایک اہم فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ والدین نہیں بننا چاہتے، بلکہ 14 ممالک کے سروے میں تقریباً ہر 5 میں سے ایک شخص نے کہا ہے کہ وہ شاید اتنے بچے نہ کر سکے جتنے وہ چاہتا ہے۔
مالی دباؤ، مہنگی رہائش، غیر یقینی ملازمت، بچوں کی نگہداشت کے اخراجات اور مستقبل کے بارے میں خوف آج کے دور میں بڑی رکاوٹیں بن رہے ہیں۔
اٹلانٹا کی میلانی مائرز بھی شادی کے 10 سال بعد ماں بنیں اور شوہر کے ساتھ ایک بچے پر خاندان مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُن کے نزدیک اس سے ماں ہونے کی خوشی کے ساتھ اپنی شناخت، تخلیقی کام اور ملازمت کے لیے وقت بھی بچا۔
وہ سمجھتی ہیں کہ ایک بچے کی اعلیٰ تعلیم کا خرچ اور مستقبل میں اس کے قریب رہنا بھی نسبتاً آسان ہوگا۔
پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی یا سیکھنے کا موقع؟
◆
پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی یا سیکھنے کا موقع؟
اقوام متحدہ (UNFPA) کے مطابق پاکستان میں صرف ایک تہائی (33 فیصد) خواتین کو اپنی تولیدی صحت سے متعلق خود مختار فیصلے کا حق حاصل ہے۔ اصل نکتہ ایک یا دو بچوں کا نہیں بلکہ آزادانہ خاندانی منصوبہ بندی کا ہے۔
معاشی دباؤ بمقابلہ غیر منصوبہ بند خاندان
حقیقی چیلنجپاکستان میں بڑھتی مہنگائی، تعلیم و علاج کے اخراجات کے باوجود خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع تک عدم رسائی کی وجہ سے غریب گھرانوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے، جس سے غربت کا دائرہ طویل ہوتا ہے۔
تعداد کے بجائے انسانی سرمائے پر توجہ
سیکھنے کا موقععالمی رجحان ظاہر کرتا ہے کہ کم بچے ہونے سے والدین ان کی بہترین نگہداشت اور اعلیٰ تعلیم پر وسائل مرکوز کر سکتے ہیں، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو ہنرمند نوجوان فراہم کر سکتا ہے۔
خواتین کی تعلیم اور روزگار میں شمولیت
سماجی اثرجب خواتین کو معاشی خود مختاری اور کیریئر کے مواقع ملیں گے تو وہ اپنے بچوں کے وقفے اور خاندان کے سائز کے بارے میں باشعور فیصلے کر سکیں گی، جس سے زچگی کی اموات میں کمی آئے گی۔
وسائل اور آبادی کے درمیان توازن
قومی ضرورتپاکستان کو نہ تو مغربی ممالک کی طرح آبادی کے تیز خاتمے کا سامنا ہے اور نہ ہی بے قابو آبادی ملکی معیشت کے بس میں ہے۔ پائیدار حل والدین کو اپنی آمدن کے مطابق فیصلہ کرنے کی سہولت دینا ہے۔
ماں ہونا عورت کی واحد شناخت نہیں
سماجی نفسیات کی ماہر سوزن نیومین کے مطابق 1960 کی دہائی کے بعد خاندانی سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ خواتین معاشی خود مختاری، ملازمت اور اپنی الگ شناخت کو بھی اہمیت دینے لگیں۔
اُن کے خیال میں رہائش اور بچوں کی دیکھ بھال کے بڑھتے اخراجات والدین کے فیصلوں پر بڑا اثر ڈال رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں ایک بچے والا خاندان ایک نیا معمول بن سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق کئی خطوں، خاص طور پر مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں شرح پیدائش آبادی کو ایک ہی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے درکار شرح سے کافی نیچے جا چکی ہے، جبکہ بعض ممالک میں فی عورت اوسط بچے 1.4 سے بھی کم ہیں۔
🌍
عالمی تصویر: کن ممالک میں شرحِ پیدائش سب سے زیادہ گری؟
▼
عالمی تصویر: کن ممالک میں شرحِ پیدائش سب سے زیادہ گری؟
ماضی کی سخت سنگل چائلڈ پالیسی کے بعد اب ترغیبات کے باوجود نوجوان شادیاں اور بچے موخر کر رہے ہیں۔ 2025 میں اموات کی تعداد پیدائشوں سے 34 لاکھ زیادہ رہی، جس سے لیبر مارکیٹ کو تاریخی دھچکا لگا ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں رہائش کی قیمتوں اور نرسری فیسوں کے باعث فی عورت بچوں کی شرح نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ پرائمری اسکولوں میں کلاسیں کم ہو رہی ہیں اور ایک بچے پر خاندان مکمل کرنا عام ہو چکا ہے۔
بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈیٹا کے مطابق 40 کی دہائی کی 19 فیصد خواتین کے ہاں صرف ایک بچہ ہے۔ 2025 میں معاشی بے یقینی اور بچوں کی نگہداشت کے بھاری اخراجات کے سبب شرحِ پیدائش میں مزید گراوٹ دیکھی گئی۔
جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور میں مسابقتی تعلیمی نظام اور کام کے سخت اوقات نے خواتین کو شادی اور بچوں سے دور کر دیا ہے، جس سے اسکولوں کی بندش اور معمر افراد کے تحفظ کا سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے۔
چھوٹا خاندان، بڑا سوال
کم بچوں کا مطلب والدین کے لیے زیادہ وقت، بہتر تعلیم اور کم مالی دباؤ ہوسکتا ہے، مگر آبادیاتی ماہر پال مورلینڈ دوسری تصویر دکھاتے ہیں۔
مورلینڈ کے مطابق یہ رجحان طویل عرصے تک برقرار رہا تو نوجوان افرادی قوت اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد سکڑ سکتی ہے، جبکہ عمر رسیدہ آبادی کی صحت اور نگہداشت کا بوجھ نسبتاً کم نوجوانوں پر پڑے گا۔
اس کے ساتھ نئی سوچ، کاروباری سرگرمی اور معاشی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ چھوٹے خاندان دنیا کیسے بدل سکتے ہیں؟
▼
آگے کیا ہوگا؟ چھوٹے خاندان دنیا کیسے بدل سکتے ہیں؟
معاشی سست روی اور افرادی قوت کا سکڑنا
ماہر آبادیات پال مورلینڈ کے مطابق نوجوان ٹیکس دہندگان کی تعداد کم ہونے سے پنشن فنڈز اور صحت کے بجٹ شدید دباؤ میں آ جائیں گے؛ معمر آبادی کی دیکھ بھال کا بوجھ نسبتاً کم نوجوانوں کے کاندھوں پر پڑے گا۔
سماجی تنہائی اور رشتوں کے جال کی تبدیلی
بھائی بہنوں، چچا، ماموں اور خالاؤں کے بغیر پلنے والی نئی نسل کا روایتی خاندانی سہارا ختم ہو جائے گا۔ تنہائی دور کرنے کے لیے دوستوں کے نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے ساتھیوں پر انحصار بڑھنے کا امکان ہے۔
حکومتی پالیسیوں اور ورک کلچر کا انقلابی بدلاؤ
ریاستوں کو جوڑوں کو بچے پیدا کرنے پر راغب کرنے کے لیے مفت چائلڈ کیئر، سستی رہائش اور کام کے لچکدار گھنٹے لازمی قرار دینے پڑیں گے، ورنہ اسکول اور یونیورسٹیاں بند کرنے کا بحران مزید گہرا ہوگا۔
پاکستان کے لیے اس میں کیا سبق ہے؟
پاکستان کے لیے یہ بحث مختلف مرحلے میں ہے، مگر ایک بنیادی سوال یہاں بھی موجود ہے۔
UNFPA کے مطابق پاکستان میں ایک تہائی خواتین اپنی تولیدی صحت سے متعلق فیصلے خود کر پاتی ہیں۔
یعنی اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خاندان میں ایک بچہ ہو، 2 ہوں یا زیادہ، بلکہ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ایک جوڑا اپنی خواہش، آمدن، وقت اور حالات کو سامنے رکھ کر اپنا فیصلہ کتنی آزادی سے کر سکتا ہے۔
دنیا میں خاندان ختم نہیں ہو رہا، بلکہ اس کی شکل بدل رہی ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے صرف نئی نسل کی پسند نہیں بلکہ مہنگائی، ملازمت، رہائش، وقت اور مستقبل کے بارے میں بڑھتی بے یقینی پہلے سے کہیں زیادہ فیصلہ کن بنتی جا رہی ہے۔
👶📚 اصل اور بنیادی ذرائع SOURCE CHECK 👨👩👧 اکلوتے بچے، گرتی شرحِ پیدائش اور بدلتے خاندان سے متعلق اصل خبر، تحقیق اور سرکاری اعداد 8 معتبر ذرائع
⚠️ الجزیرہ کی خبر میں برطانوی اخبار آئی پیپر کی رپورٹ بنیادی حوالہ ہے، تاہم اس مضمون کا قابلِ تصدیق براہِ راست URL سرچ انڈیکس سے دستیاب نہ ہونے کے باعث یہاں کوئی اندازاً یا غیر مصدقہ لنک شامل نہیں کیا گیا۔ SOURCE VERIFICATION • BY: overseaspost.net