براہ راست نشریات

’ایک بچہ کافی ہے‘: نئی نسل میں بڑھتا عجیب رجحان!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایک بچہ کافی اور جدید دور کے چھوٹے خاندان کا خاکہ
بعض ممالک میں فی عورت اوسط بچے 1.4 سے بھی کم ہیں
OVERSEAS POST  |  PREMIUM ANALYSIS

ایک وقت تھا جب بڑا خاندان خوش حالی، تحفظ اور سماجی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں

آج امریکا، برطانیہ اور چین جیسے ممالک میں یہ تصور بدل رہا ہے۔ نوجوان جوڑے بچوں سے مکمل منہ نہیں موڑ رہے، مگر تیزی سے بڑھتی تعداد یہ ضرور سوچ رہی ہے کہ ایک بچہ ہی کافی ہے۔

برطانوی اخبار آئی پیپر نے اس رجحان کو امریکی نرس سیمی کلارکسن کی کہانی سے بیان کیا ہے۔

35 سالہ کلارکسن ایک بیٹی کی ماں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذہنی طور پر 

تھکا دینے والی ملازمت کے بعد بمشکل اتنی توانائی بچتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو مطلوبہ وقت دے سکیں، اسی لیے انہوں نے مزید بچے نہ پیدا کرنے کا مستقل فیصلہ کیا۔

💡

بس ایک بچہ کافی ہے: فیصلے کے پیچھے 5 بڑی وجوہات

رہائش اور ڈے کیئر کے فلک شگاف اخراجات

02

بڑے گھروں کے کرائے، معیاری خوراک اور نرسری یا ڈے کیئر فیسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ اوسط تنخواہ میں ایک سے زائد بچے کی پرورش گھریلو بجٹ کو شدید خسارے میں دھکیل دیتی ہے۔

عورت کی خودمختاری اور الگ شناخت

03

سماجی ماہرین کے مطابق خواتین اب صرف 'ماں' بننے کو اپنی واحد شناخت تسلیم نہیں کرتیں۔ وہ اپنے کیریئر، تخلیقی مشاغل اور مالی آزادی کو بھی خاندانی زندگی کے برابر اہمیت دے رہی ہیں۔

اعلیٰ تعلیم اور وسائل کا مرتکز ارتکاز

04

والدین وسائل کو متعدد بچوں میں تقسیم کر کے سمجھوتہ کرنے کے بجائے ایک ہی بچے کو بہترین اسکول، غیر نصابی سرگرمیاں اور مالی تحفظ فراہم کرنے کو زیادہ عقلمندانہ سمجھتے ہیں۔

مستقبل کی غیر یقینی اور معاشی خوف

05

یو این پاپولیشن فنڈ کے مطابق لوگ بچے نہ چاہنے کی وجہ سے نہیں بلکہ نوکری چھوٹنے، مہنگائی اور غیر مستحکم مستقبل کے خوف سے مجبوراً خاندان محدود کر رہے ہیں۔

ایک ذاتی فیصلہ، مگر عالمی رجحان

بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق امریکا میں 40 سے 44 سال کی ایسی خواتین کا تناسب جن کا صرف ایک بچہ تھا، 1980 میں 10 سے بڑھ کر 2010 میں 19 فیصد ہوگیا اور بعد میں تقریباً اسی سطح پر رہا۔

اسی دورانیے میں 4 یا اس سے زیادہ بچوں والی خواتین کا تناسب بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے اور تازہ اعداد بھی یہی رجحان دکھا رہے ہیں۔ 

Overseas Post
’ایک بچہ کافی ہے‘: بدلتی خاندانی سوچ اور چیلنج
معاشی دباؤ، کیریئر اور بڑھتے اخراجات کے باعث نئی نسل میں چھوٹے خاندان کا رجحان نمایاں

بڑھتی مہنگائی، رہائش کے اخراجات اور کیریئر کی ترجیحات نے نئی نسل کو ایک بچے پر اکتفا کرنے پر مائل کیا ہے، جس سے افرادی قوت کے سکڑنے کا خطرہ ہے۔

👶 اکلوتے بچے کا رجحان 🍼
19%

امریکا میں صرف ایک بچے والی خواتین کا تناسب سابقہ دہائیوں میں 10% سے تقریباً دگنا ہو کر نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔

📉 شرحِ پیدائش میں گراوٹ 🌐
1.39

برطانیہ میں فی عورت بچوں کی اوسط تشویشناک حد تک کم ہو چکی ہے، جبکہ چین میں اموات کی تعداد سالانہ پیدائشوں سے تجاوز کر گئی۔

💼 معاشی دباؤ کا اثر 💸
20%

اقوام متحدہ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک فرد مہنگی رہائش، بے یقینی اور دیکھ بھال کے بھاری اخراجات کے باعث مزید بچے پیدا نہیں کر سکتا۔

🏠 طرزِ زندگی اور ذاتی خودمختاری 👩‍💼

تعلیم، ملازمت اور معاشی آزادی کے فروغ نے روایتی سوچ بدل دی ہے، جہاں مائیں اپنی شناخت برقرار رکھنے اور بچوں کو معیاری وقت دینے کو ترجیح دے رہی ہیں۔

⚠️ معمر آبادی اور افرادی بحران ⏳

شرحِ پیدائش کی مستقل کمی سے مستقبل میں نوجوان ٹیکس دہندگان اور افرادی قوت سکڑ جائے گی، جبکہ معمر شہریوں کی نگہداشت کا بوجھ معیشت کو متاثر کرے گا۔

امریکا میں 2025 کے دوران پیدائشیں ایک فیصد کم ہوئی ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز میں فی عورت اوسط بچوں کی شرح 1.39 رہ گئی ہے جب کہ  چین میں 2025 میں 79 لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے، مگر اموات ایک کروڑ 13 لاکھ سے زیادہ رہیں اور مجموعی آبادی مزید سکڑ گئی۔

📊

فیکٹ باکس: دنیا میں خاندان کتنی تیزی سے سکڑ رہے ہیں؟

20% خلا

اقوام متحدہ آبادی فنڈ (UNFPA) کے 14 ممالک کے سروے کے مطابق ہر 5 میں سے 1 شخص حالات اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے پسندیدہ ہدف کے برابر بچے پیدا نہیں کر پا رہا۔

امریکا: سنگل چائلڈ کا دوگنا پھیلاؤ

10% سے 19%

بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق 40 تا 44 سال کی خواتین میں ایک بچے کا تناسب 1980 کے 10 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو چکا ہے، جبکہ 2025 میں پیدائشیں مزید ایک فیصد کم ہوئیں۔

برطانیہ: تاریخ کی نچلی ترین سطح

1.39 فی عورت

انگلینڈ اور ویلز میں فی عورت اوسط بچوں کی شرح سکڑ کر محض 1.39 رہ گئی ہے، جو آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار 2.1 شرحِ پیدائش سے تشویشناک حد تک کم ہے۔

چین: اموات بمقابلہ پیدائش کا خسارہ

34 لاکھ منفی فرق

2025 میں چین کے اندر 79 لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے جبکہ اموات 1 کروڑ 13 لاکھ سے زائد رہیں، جس سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی آبادی مسلسل سکڑاؤ کا شکار ہے۔

مشرقی ایشیا: شرح پیدائش 1.4 سے نیچے

ریپلیسمنٹ بحران

اقوام متحدہ کے مطابق خطے کے متعدد ممالک میں خاندانی سائز اتنا سکڑ چکا ہے کہ اسکول خالی ہو رہے ہیں اور بزرگوں کی آبادی کی رفتار تاریخ میں غیر معمولی بلندی پر ہے۔

لوگ بچے نہیں چاہتے یا حالات اجازت نہیں دیتے؟

اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کی 2025 رپورٹ اس حوالے سے ایک اہم فرق کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ والدین نہیں بننا چاہتے، بلکہ 14 ممالک کے سروے میں تقریباً ہر 5 میں سے ایک شخص نے کہا ہے کہ وہ شاید اتنے بچے نہ کر سکے جتنے وہ چاہتا ہے۔

مالی دباؤ، مہنگی رہائش، غیر یقینی ملازمت، بچوں کی نگہداشت کے اخراجات اور مستقبل کے بارے میں خوف آج کے دور میں بڑی رکاوٹیں بن رہے ہیں۔

اٹلانٹا کی میلانی مائرز بھی شادی کے 10 سال بعد ماں بنیں اور شوہر کے ساتھ ایک بچے پر خاندان مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُن کے نزدیک اس سے ماں ہونے کی خوشی کے ساتھ اپنی شناخت، تخلیقی کام اور ملازمت کے لیے وقت بھی بچا۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ایک بچے کی اعلیٰ تعلیم کا خرچ اور مستقبل میں اس کے قریب رہنا بھی نسبتاً آسان ہوگا۔

پاکستان کا پرچم

پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی یا سیکھنے کا موقع؟

⚖️

اقوام متحدہ (UNFPA) کے مطابق پاکستان میں صرف ایک تہائی (33 فیصد) خواتین کو اپنی تولیدی صحت سے متعلق خود مختار فیصلے کا حق حاصل ہے۔ اصل نکتہ ایک یا دو بچوں کا نہیں بلکہ آزادانہ خاندانی منصوبہ بندی کا ہے۔

معاشی دباؤ بمقابلہ غیر منصوبہ بند خاندان

حقیقی چیلنج

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، تعلیم و علاج کے اخراجات کے باوجود خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع تک عدم رسائی کی وجہ سے غریب گھرانوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے، جس سے غربت کا دائرہ طویل ہوتا ہے۔

تعداد کے بجائے انسانی سرمائے پر توجہ

سیکھنے کا موقع

عالمی رجحان ظاہر کرتا ہے کہ کم بچے ہونے سے والدین ان کی بہترین نگہداشت اور اعلیٰ تعلیم پر وسائل مرکوز کر سکتے ہیں، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو ہنرمند نوجوان فراہم کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم اور روزگار میں شمولیت

سماجی اثر

جب خواتین کو معاشی خود مختاری اور کیریئر کے مواقع ملیں گے تو وہ اپنے بچوں کے وقفے اور خاندان کے سائز کے بارے میں باشعور فیصلے کر سکیں گی، جس سے زچگی کی اموات میں کمی آئے گی۔

وسائل اور آبادی کے درمیان توازن

قومی ضرورت

پاکستان کو نہ تو مغربی ممالک کی طرح آبادی کے تیز خاتمے کا سامنا ہے اور نہ ہی بے قابو آبادی ملکی معیشت کے بس میں ہے۔ پائیدار حل والدین کو اپنی آمدن کے مطابق فیصلہ کرنے کی سہولت دینا ہے۔

ماں ہونا عورت کی واحد شناخت نہیں

سماجی نفسیات کی ماہر سوزن نیومین کے مطابق 1960 کی دہائی کے بعد خاندانی سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ خواتین معاشی خود مختاری، ملازمت اور اپنی الگ شناخت کو بھی اہمیت دینے لگیں۔

اُن کے خیال میں رہائش اور بچوں کی دیکھ بھال کے بڑھتے اخراجات والدین کے فیصلوں پر بڑا اثر ڈال رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں ایک بچے والا خاندان ایک نیا معمول بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق کئی خطوں، خاص طور پر مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں شرح پیدائش آبادی کو ایک ہی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے درکار شرح سے کافی نیچے جا چکی ہے، جبکہ بعض ممالک میں فی عورت اوسط بچے 1.4 سے بھی کم ہیں۔

🌍

عالمی تصویر: کن ممالک میں شرحِ پیدائش سب سے زیادہ گری؟

چین کا پرچم چین
آبادی میں سکڑاؤ

ماضی کی سخت سنگل چائلڈ پالیسی کے بعد اب ترغیبات کے باوجود نوجوان شادیاں اور بچے موخر کر رہے ہیں۔ 2025 میں اموات کی تعداد پیدائشوں سے 34 لاکھ زیادہ رہی، جس سے لیبر مارکیٹ کو تاریخی دھچکا لگا ہے۔

برطانیہ کا پرچم برطانیہ
1.39 اوسط شرح

انگلینڈ اور ویلز میں رہائش کی قیمتوں اور نرسری فیسوں کے باعث فی عورت بچوں کی شرح نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ پرائمری اسکولوں میں کلاسیں کم ہو رہی ہیں اور ایک بچے پر خاندان مکمل کرنا عام ہو چکا ہے۔

امریکا کا پرچم ریاستہائے متحدہ امریکا
1% سالانہ کمی

بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈیٹا کے مطابق 40 کی دہائی کی 19 فیصد خواتین کے ہاں صرف ایک بچہ ہے۔ 2025 میں معاشی بے یقینی اور بچوں کی نگہداشت کے بھاری اخراجات کے سبب شرحِ پیدائش میں مزید گراوٹ دیکھی گئی۔

جنوبی کوریا کا پرچم مشرقی و جنوب مشرقی ایشیا
1.4 سے کم شرح

جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور میں مسابقتی تعلیمی نظام اور کام کے سخت اوقات نے خواتین کو شادی اور بچوں سے دور کر دیا ہے، جس سے اسکولوں کی بندش اور معمر افراد کے تحفظ کا سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے۔

چھوٹا خاندان، بڑا سوال

کم بچوں کا مطلب والدین کے لیے زیادہ وقت، بہتر تعلیم اور کم مالی دباؤ ہوسکتا ہے، مگر آبادیاتی ماہر پال مورلینڈ دوسری تصویر دکھاتے ہیں۔

مورلینڈ کے مطابق یہ رجحان طویل عرصے تک برقرار رہا تو نوجوان افرادی قوت اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد سکڑ سکتی ہے، جبکہ عمر رسیدہ آبادی کی صحت اور نگہداشت کا بوجھ نسبتاً کم نوجوانوں پر پڑے گا۔

اس کے ساتھ نئی سوچ، کاروباری سرگرمی اور معاشی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔

🔭

آگے کیا ہوگا؟ چھوٹے خاندان دنیا کیسے بدل سکتے ہیں؟

01

معاشی سست روی اور افرادی قوت کا سکڑنا

ماہر آبادیات پال مورلینڈ کے مطابق نوجوان ٹیکس دہندگان کی تعداد کم ہونے سے پنشن فنڈز اور صحت کے بجٹ شدید دباؤ میں آ جائیں گے؛ معمر آبادی کی دیکھ بھال کا بوجھ نسبتاً کم نوجوانوں کے کاندھوں پر پڑے گا۔

02

سماجی تنہائی اور رشتوں کے جال کی تبدیلی

بھائی بہنوں، چچا، ماموں اور خالاؤں کے بغیر پلنے والی نئی نسل کا روایتی خاندانی سہارا ختم ہو جائے گا۔ تنہائی دور کرنے کے لیے دوستوں کے نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے ساتھیوں پر انحصار بڑھنے کا امکان ہے۔

03

حکومتی پالیسیوں اور ورک کلچر کا انقلابی بدلاؤ

ریاستوں کو جوڑوں کو بچے پیدا کرنے پر راغب کرنے کے لیے مفت چائلڈ کیئر، سستی رہائش اور کام کے لچکدار گھنٹے لازمی قرار دینے پڑیں گے، ورنہ اسکول اور یونیورسٹیاں بند کرنے کا بحران مزید گہرا ہوگا۔

پاکستان کے لیے اس میں کیا سبق ہے؟

پاکستان کے لیے یہ بحث مختلف مرحلے میں ہے، مگر ایک بنیادی سوال یہاں بھی موجود ہے۔

UNFPA کے مطابق پاکستان میں ایک تہائی خواتین اپنی تولیدی صحت سے متعلق فیصلے خود کر پاتی ہیں۔

یعنی اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خاندان میں ایک بچہ ہو، 2 ہوں یا زیادہ، بلکہ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ایک جوڑا اپنی خواہش، آمدن، وقت اور حالات کو سامنے رکھ کر اپنا فیصلہ کتنی آزادی سے کر سکتا ہے۔

دنیا میں خاندان ختم نہیں ہو رہا، بلکہ اس کی شکل بدل رہی ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے صرف نئی نسل کی پسند نہیں بلکہ مہنگائی، ملازمت، رہائش، وقت اور مستقبل کے بارے میں بڑھتی بے یقینی پہلے سے کہیں زیادہ فیصلہ کن بنتی جا رہی ہے۔

👶📚 اصل اور بنیادی ذرائع SOURCE CHECK 👨‍👩‍👧 اکلوتے بچے، گرتی شرحِ پیدائش اور بدلتے خاندان سے متعلق اصل خبر، تحقیق اور سرکاری اعداد 8 معتبر ذرائع
📰 بنیادی خبر اور اکلوتے بچے کا رجحان
الجزیرہ — اکلوتا بچہ خاندان کی تعریف کیسے بدل رہا ہے؟ 👶 وہ اصل عربی رپورٹ جس میں سیمی کلارکسن، میلانی مائرز، سوزن نیومین اور پال مورلینڈ کے حوالے سے مغربی معاشروں میں ایک بچے والے خاندان کے بڑھتے رجحان کا جائزہ لیا گیا۔ اصل عربی خبر خبر کھولیں ↗ United States بولنگ گرین یونیورسٹی — امریکی خاندان کتنے چھوٹے ہوئے؟ 📊 1980 سے 2022 تک 40 سے 44 سال کی امریکی خواتین کے بچوں کی تعداد کا تحقیقی جائزہ۔ تحقیق کے مطابق ایک بچے والی خواتین کا تناسب تقریباً دوگنا ہوا۔ بنیادی تحقیقی مطالعہ تحقیق کھولیں ↗
📉 امریکا، برطانیہ اور چین کے تازہ اعداد
United States امریکی CDC — 2025 میں پیدائشوں میں مزید کمی 🇺🇸 امریکی نیشنل سینٹر فار ہیلتھ اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2025 میں تقریباً 36 لاکھ پیدائشیں ہوئیں اور سالانہ تعداد میں ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرکاری امریکی اعداد اعداد دیکھیں ↗ United Kingdom برطانوی ONS — فی عورت شرحِ پیدائش 1.39 🇬🇧 انگلینڈ اور ویلز کے حتمی 2025 اعداد کے مطابق مجموعی شرحِ بارآوری 1.39 بچے فی عورت رہی، جبکہ مجموعی پیدائشیں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوئیں۔ سرکاری برطانوی اعداد رپورٹ کھولیں ↗ China چین — بچے کم، اموات زیادہ اور آبادی مزید سکڑ گئی 🇨🇳 چین کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق 2025 میں 79 لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے جبکہ ایک کروڑ 13 لاکھ سے زیادہ اموات ہوئیں، جس سے آبادی میں مزید کمی آئی۔ چین کا سرکاری ماخذ سرکاری ڈیٹا ↗
🌍 عالمی شرحِ پیدائش اور بدلتا خاندانی نظام
🌐 UNFPA — دنیا کا اصل Fertility Crisis کیا ہے؟ 💰 2025 کی عالمی رپورٹ میں مہنگائی، رہائش، ملازمت کا عدم تحفظ، مستقبل کا خوف اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے عوامل کو مطلوبہ خاندانی حجم حاصل نہ کر پانے کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی عالمی رپورٹ رپورٹ کھولیں ↗ 🌍 اقوام متحدہ — دنیا میں انتہائی کم شرحِ پیدائش کہاں؟ 📉 World Population Prospects کے مطابق مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت متعدد ممالک میں شرحِ پیدائش replacement level سے کافی نیچے جا چکی ہے، جبکہ کئی ممالک 1.4 بچے فی عورت سے بھی کم سطح پر ہیں۔ عالمی آبادیاتی ڈیٹا PDF کھولیں ↗
🇵🇰 پاکستان کا زاویہ
Pakistan UNFPA پاکستان — خاندان کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں؟ 🇵🇰 پاکستان سے متعلق UNFPA کے مطابق صرف تقریباً ایک تہائی خواتین اپنی تولیدی صحت سے متعلق فیصلے خود کر پاتی ہیں، جو خاندانی منصوبہ بندی کی بحث کا ایک اہم مقامی پہلو ہے۔ پاکستان کا بنیادی حوالہ پاکستان رپورٹ ↗
🔎 سورس نوٹ: اس فیچر کی بنیاد الجزیرہ کی اصل عربی خبر پر ہے، جبکہ امریکا، برطانیہ، چین، عالمی شرحِ پیدائش اور پاکستان سے متعلق اضافی معلومات کے لیے متعلقہ یونیورسٹی، قومی اداروں اور اقوام متحدہ کے اصل ڈیٹا اور رپورٹس استعمال کیے گئے ہیں۔

⚠️ الجزیرہ کی خبر میں برطانوی اخبار آئی پیپر کی رپورٹ بنیادی حوالہ ہے، تاہم اس مضمون کا قابلِ تصدیق براہِ راست URL سرچ انڈیکس سے دستیاب نہ ہونے کے باعث یہاں کوئی اندازاً یا غیر مصدقہ لنک شامل نہیں کیا گیا۔ SOURCE VERIFICATION • BY: overseaspost.net