مغربی معاشروں میں ایک وقت تھا کہ یہ بات ضمانت سمجھی جاتی تھی کہ ہر نئی نسل اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارے گی۔ بہتر نوکری، زیادہ آمدنی، اپنا گھر اور محفوظ بڑھاپا اسی خواب کا حصہ تھے۔
مزید پڑھیں
تاہم اب برطانیہ سے اٹھنے والی معاشی وارننگز یہ بتا رہی ہیں کہ یہ سلسلہ ٹوٹ سکتا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز کے اقتصادی تجزیہ کار ڈیوڈ اسمتھ کے مطابق آج کے نوجوان ایسی معیشت میں جوان ہو رہے ہیں جہاں ترقی کمزور، سرکاری قرض بھاری اور ریاستی اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ آنے والی نسل کو زیادہ ٹیکس دینے کے باوجود اپنے
والدین جیسی سہولتیں ملنا مشکل ہو سکتا ہے۔
📊
مغرب میں نوجوانوں پر معاشی دباؤ کیوں بڑھ رہا ہے؟
▼
مغرب میں نوجوانوں پر معاشی دباؤ کیوں بڑھ رہا ہے؟
🏛️ 3 ٹریلین پاؤنڈ قرض کا بھاری ملبہ
برطانیہ کا قومی قرض جی ڈی پی کے 94.9 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت سالانہ 109 ارب پاؤنڈ صرف سود پر اڑا رہی ہے، جس کا حتمی بوجھ نئے ٹیکسوں کی صورت میں نوجوان نسل پر آ رہا ہے۔
📉 حقیقی معاشی ترقی میں مسلسل جمود
پیداواری نمو کمزور ہونے سے نئی دولت پیدا نہیں ہو رہی۔ پرانی نسلوں کے مقابلے میں جدید مارکیٹ سکڑ رہی ہے اور معاشی ترقی خودکار طریقے سے ہر شہری تک نہیں پہنچ پا رہی۔
👵 عمر رسیدہ آبادی اور ویلفیئر کا دباؤ
برطانیہ میں 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کا تناسب 2075 تک 27 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ریٹائرڈ افراد کی صحت اور دیکھ بھال کے 80 فیصد اضافی اخراجات نوجوان ورک فورس سے وصول کیے جائیں گے۔
🧾 زیادہ ٹیکس، کم عوامی مراعات
آنے والے سالوں میں کمائی کا بڑا حصہ پرانے قرضوں کا سود بھرنے میں جائے گا۔ نوجوان بھاری ٹیکس تو ادا کریں گے لیکن انہیں والدین کے دور جیسی سستی تعلیم اور علاج کی سہولتیں میسر نہیں ہوں گی۔
3 ٹریلین پاؤنڈ کا بوجھ
جون 2026 کے اختتام پر برطانیہ کا خالص سرکاری قرض تقریباً 2.99 ٹریلین پاؤنڈ، یعنی جی ڈی پی کے 94.9 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ مالی سال 2007-08 میں یہی تناسب صرف 35 فیصد تھا۔
صرف 2025-26 میں حکومت نے قرض کے سود پر تقریباً 109 ارب پاؤنڈ خرچ کیے، جو مجموعی سرکاری اخراجات کے 8 فیصد کے برابر ہے۔
مغرب میں معاشی انتباہ: نئی نسل کا مستقبل خطرے میں ⚠️
بھاری ریاستی قرضوں، مکانات کی مہنگائی اور سست معاشی ترقی نے نوجوانوں کے معاشی خواب چھین لیے
برطانیہ میں تاریخ کے بھاری ترین سرکاری قرض، مکانات کی شدید مہنگائی اور روزگار کی سست روی نے نوجوان نسل کے اپنے والدین سے خوشحال ہونے کے روایتی امکانات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
📉 جی ڈی پی پر سرکاری قرض 💸
برطانیہ کا خالص سرکاری قرض تاریخی ریکارڈ سطح تک پہنچ کر مجموعی قومی پیداوار کے قریب پہنچ گیا۔
🚨 نوجوانوں میں بے روزگاری 👥
سولہ سے چوبیس سال کے برطانوی نوجوانوں میں کام نہ ملنے کا تناسب دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
🏠 ذاتی گھر کی ملکیت میں کمی 📉
پچیس سال کی عمر میں ذاتی مکان رکھنے والے نوجوانوں کی شرح سابقہ نسلوں کے مقابلے میں کم ترین رہ گئی۔
🪙 مستقبل میں سود کا بوجھ 🏛️
آئی پی پی آر کے مطابق مستقبل میں حکومتی آمدنی کا پانچواں حصہ صرف پرانے قرضوں کے سود پر خرچ ہوگا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
لیکن اصل مسئلہ صرف آج کے قرض کا نہیں، بلکہ OBR کے مطابق موجودہ پالیسیاں برقرار رہیں تو آبادی کی عمر بڑھنے، صحت، پنشن اور دیگر اخراجات کے دباؤ سے 2070 کی دہائی تک سرکاری قرض تقریباً 275 فیصد جی ڈی پی تک پہنچ سکتا ہے۔
بار بار بڑے معاشی جھٹکے آئے تو یہ شرح 325 فیصد کے قریب بھی جا سکتی ہے۔
🏠
گھر، نوکری اور پنشن: سب کچھ مشکل کیوں؟
بحران کے 3 رخ
گھر، نوکری اور پنشن: سب کچھ مشکل کیوں؟
🏡 مکانات کی ہوشربا قیمتیں
دو دہائیوں میں مکانات کی قیمتیں 152 فیصد بڑھیں جبکہ آمدنی صرف 22 فیصد بڑھی۔ 25 سالہ نوجوانوں میں گھر کے مالکان کی شرح 43 فیصد سے گھٹ کر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے اور 42 فیصد والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔
💼 بے روزگاری اور غیر یقینی جابز
16 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری 16.2 فیصد کی بلند ترین سطح پر ہے۔ برطانیہ میں تقریباً 9 لاکھ 81 ہزار نوجوان ایسے ہیں جو نہ ملازمت میں ہیں، نہ تعلیم میں اور نہ ہی کسی تربیت کا حصہ ہیں۔
👵 پنشن اور ریٹائرمنٹ کا تذبذب
نئی نسل کو پرانے شہریوں جیسی طے شدہ پنشن نہیں مل رہی۔ بڑھتی عمر کی آبادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ریٹائرمنٹ کی قانونی عمر مسلسل بڑھائی جا رہی ہے، جس سے محفوظ بڑھاپے کی ضمانت ختم ہو چکی ہے۔
بنیادی نتیجہ: وہ تین بنیادی ستون جن پر مغربی متوسط طبقے کا خواب کھڑا تھا یعنی اپنی چھت، مستقل نوکری اور محفوظ پنشن، اب غیر معمولی جدوجہد اور خوش قسمتی کے بغیر حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
ہر 5 پاؤنڈ میں ایک صرف سود کے لیے؟
IPPR کی اگست 2026 کی تحقیق نوجوان نسل کے لیے مزید تشویش ناک تصویر دکھاتی ہے۔
اس تحقیق کے مرکزی اندازے کے مطابق 2074-75 تک حکومت کی آمدنی کا 21.3 فیصد صرف قرض کے سود میں جا سکتا ہے۔
یعنی مستقبل کے ٹیکس دہندگان کے ہر 5 پاؤنڈ میں تقریباً ایک پاؤنڈ ایسی رقم کے سود پر خرچ ہوگا جو پچھلی دہائیوں میں ادھار لی گئی تھی۔
اسی ادارے کے مطابق 2075 تک برطانیہ پر آنے والے اضافی مالی دباؤ کا تقریباً 80 فیصد آبادی کی عمر رسیدگی سے پیدا ہو سکتا ہے اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کا حصہ 2024 کے 18 فیصد سے بڑھ کر 27 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
⚖️
کیا مغرب کی نئی نسل والدین سے غریب ہوگی؟
+
کیا مغرب کی نئی نسل والدین سے غریب ہوگی؟
📉 20 سالہ جمود: تنخواہ وہیں، اخراجات دگنے
IFS کے شواہد کے مطابق آج کے 25 سالہ نوجوان کی اوسط سالانہ آمدنی تقریباً 28 ہزار پاؤنڈ ہے، جو کہ افراطِ زر کے تناظر میں ہو بہو وہی ہے جو دو دہائیاں قبل اسی عمر کے ملازمین کی تھی۔ یعنی تنخواہوں میں کوئی حقیقی ترقی نہیں ہوئی، مگر اشیائے خوردونوش، بجلی اور بلز دوگنا ہو چکے ہیں۔
🏡 اثاثوں کی تعمیر میں تاریخی شکست
والدین نے سستے گھروں اور مفت اعلیٰ تعلیم کے ذریعے بڑی دولت بنائی۔ موجودہ نسل اپنی آمدنی کا 40 سے 50 فیصد کرایوں میں دے رہی ہے، جس کے باعث ذاتی اثاثے اور بچت بنانا ممکن نہیں رہا۔
👨👩👧 والدین کے گھر پناہ: ایک عارضی ڈھال
Gen Z کے بعض نوجوانوں کی بچت صرف اس لیے نظر آتی ہے کیونکہ وہ والدین کے گھر مفت رہ رہے ہیں۔ لیکن خود مختار زندگی شروع کرتے ہی وہ فوری طور پر مالی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
نوجوان نوکری کہاں سے لائیں؟
اقتصادی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں معاشی دباؤ کا سب سے پہلا اثر روزگار پر پڑتا ہے۔
برطانیہ میں 16 سے 24 سال کے نوجوانوں کی بے روزگاری 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 16.2 فیصد رہی، جو ایک دہائی سے زائد عرصے کی بلند سطحوں میں شامل ہے۔
مزید پریشان کن بات یہ ہے کہ اپریل سے جون 2026 کے دوران تقریباً 9 لاکھ 81 ہزار نوجوان نہ ملازمت میں تھے، نہ تعلیم حاصل کر رہے تھے اور نہ تربیت میں شامل تھے۔
🔭
اگلے 50 سال میں نوجوانوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟
▼
اگلے 50 سال میں نوجوانوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟
💸 ٹیکسوں میں غیر معمولی اضافہ
قومی قرضوں کا سود بھرنے اور بزرگ شہریوں کے مفت علاج کی لاگت پوری کرنے کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں کی آمدنی پر بھاری کٹوتیاں نافذ ہوں گی۔
📈 قرض 275% سے 325% تک
سرکاری اندازوں کے مطابق موجودہ پالیسیوں سے برطانیہ کا قومی قرض جی ڈی پی کے 275 فیصد تک جا سکتا ہے، جس سے حکومتیں دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی ہوں گی۔
🏦 ہر 5 میں سے 1 پاؤنڈ سود میں
تحقیق کے مطابق سرکاری آمدنی کا 21.3 فیصد حصہ پرانے قرضوں کا سود چکانے میں چلا جائے گا؛ یعنی نوجوان وہ قرض اتاریں گے جو ان کی پیدائش سے پہلے خرچ ہو چکا تھا۔
حتمی خلاصہ: مغرب کا تاریخی 'نسلی معاہدہ' ٹوٹ چکا ہے۔ آنے والی نسل کو والدین جیسی عام طرزِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے بھی دوگنی محنت اور کہیں زیادہ مالی قیمت چکانا پڑے گی۔
تنخواہ وہیں، زندگی مسلسل مہنگی
موجودہ حالات میں اصل مسئلہ صرف بے روزگاری ہی نہیں، بلکہ IFS کی تازہ تحقیق بتاتی ہے کہ آج 25 سالہ ملازم کی اوسط درمیانی آمدنی تقریباً وہیں کھڑی ہے جہاں دو دہائیاں پہلے اسی عمر کے ملازمین کی تھی۔
آئی ایف ایس کے مطابق 1997ءسے 2001ء کے درمیان پیدا ہونے والے 25 سالہ ملازمین کی درمیانی سالانہ آمدنی تقریباً 28 ہزار پاؤنڈ ہے، جبکہ دو دہائیاں پہلے پیدا ہونے والی نسل کی سطح بھی قریباً یہی تھی۔
اپنا گھر اب خواب کیوں بن گیا؟
ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مکانات کا بحران نسلی فرق کی سب سے واضح تصویر ہے۔
IFS کے مطابق 25 سال کی عمر میں گھر کے مالک نوجوانوں کی شرح پرانی نسلوں میں 43 فیصد تک تھی، لیکن آج کے قریب ترین نوجوان گروپ میں یہ صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
اسی عمر کے 42 فیصد نوجوان اب والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ چند دہائیاں پہلے یہ شرح تقریباً ایک چوتھائی تھی۔
تاریخی اعداد بھی یہی کہانی سناتے ہیں کہ 1995-96 سے 2015-16 کے دوران برطانیہ میں حقیقی مکان قیمتیں 152 فیصد بڑھیں، جبکہ 25 سے 34 سال کے افراد کی حقیقی خاندانی آمدنی صرف 22 فیصد بڑھی۔
کیا واقعی نئی نسل والدین سے غریب ہوگی؟
ریزولیوشن فاؤنڈیشن (Resolution Foundation) کے مطابق Gen Z کے بعض نوجوان ملینیئلز کے مقابلے میں بہتر آمدنی حاصل کر رہے ہیں، مگر اس کا ایک حصہ والدین کے گھر رہ کر اخراجات کم رکھنے سے بھی جڑا ہے۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کے لیے ترقی اب خودکار نہیں رہی۔ نوکری مشکل، گھر مہنگا، ریاست مقروض اور پنشن و صحت کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
سوال اب یہ نہیں رہا کہ نوجوان اپنے والدین جتنے امیر ہوں گے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ویسی ہی زندگی حاصل کرنے کے لیے کہیں زیادہ قیمت ادا کریں گے؟