براہ راست نشریات

معاشی دھچکا: ایران جنگ کا بھاری بل برطانوی گھروں میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
برطانوی معیشت اور مہنگائی کے توانائی بحران پر اثرات
برطانیہ میں گزشتہ ماہ جولائی کی مہنگائی ایک نئی مثال بن گئی ہے (فوٹو: اے آئی)
OVERSEAS POST  |  PREMIUM BUSINESS STORY

عالمی لڑائیاں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ ان کی قیمت کبھی تیل کی منڈی، کبھی کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور بالآخر عام گھر کے بجلی اور گیس کے بل میں نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیں

اقتصادی ماہرین کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ ماہ جولائی میں ہونے والی مہنگائی اسی سلسلے کی ایک نئی مثال بن گئی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں مہنگائی اس وقت 4 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی جولائی میں صارف قیمتوں میں سالانہ 2.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ جون میں یہی شرح 2.6 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی۔ 

🔍 مہنگائی کا اصل ذمے دار کون؟ معاشی تجزیہ
آف جیم پرائس کیپ میں 13% اضافہ

برطانوی ریگولیٹر نے گھریلو صارفین کے لیے توانائی نرخوں کی بالائی حد بڑھا دی، جس سے لاکھوں گھرانوں کے ماہانہ بلوں میں فوری اور براہِ راست اضافہ ہوا۔

🔥 گیس کی قیمتوں کا 4 سالہ ریکارڈ جھٹکا

عالمی سپلائی کے خدشات پر برطانوی تھوک منڈی میں قدرتی گیس کے نرخ محض ایک ماہ میں 15 فیصد بڑھے، جو 4 برسوں کی تیز ترین ماہانہ جست ہے۔

🛢️ ایران کشیدگی اور 90 ڈالر سے زائد تیل

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور برینٹ خام تیل کے 90 ڈالر سے تجاوز کرنے نے عالمی فریٹ اور بجلی پیدا کرنے والے ایندھن کے نرخ بلند رکھے ہیں۔

📉 مقامی سروسز اور اجرتوں میں سست روی

سروسز مہنگائی 3.4 فیصد پر آ گئی اور پے رولز سکڑ رہے ہیں، جس سے واضح ہے کہ برطانوی معیشت کے اندرونی شعبے مہنگائی نہیں بڑھا رہے بلکہ بیرونی جھٹکا بوجھ ڈال رہا ہے۔

مہنگائی کے پیچھے اصل کہانی

اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں سب سے نمایاں کردار گھریلو توانائی کے بلوں کا رہا۔

برطانوی توانائی ریگولیٹر آف جیم نے گھریلو توانائی کی قیمتوں کی حد میں 13 فیصد اضافہ کیا ہے، جس کا اثر لاکھوں صارفین کے اخراجات پر پڑا۔

اسی دوران گیس کی قیمتیں بھی ایک ماہ میں تقریباً 15 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق یہ 4 سال میں گیس کی قیمتوں کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ تھا۔

ایران جنگ کا جھٹکا: برطانوی معیشت پر توانائی کا بوجھ
عالمی کشیدگی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث برطانیہ میں مہنگائی 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث گیس اور گھریلو بجلی کے نرخوں میں اضافے نے برطانیہ میں افراطِ زر کی شرح کو جولائی کے دوران 2.9 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔

📈 مجموعی صارف مہنگائی
سالانہ شرح 2.9%

جولائی میں مہنگائی 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچی جبکہ سال کی آخری سہ ماہی میں 3.2 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے۔

⚡ گھریلو گیس و توانائی کے نرخ
ماہانہ اضافہ 15%

گیس کی قیمتوں میں 4 سال کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ ریگولیٹر نے حد میں 13 فیصد اضافہ کیا۔

✈️ ایندھن اور فضائی کرایوں میں کمی
ٹکٹوں میں بچت 11.6%

ڈیزل میں 8.8 پنس فی لیٹر اور فضائی کرایوں میں کمی نے توانائی کے جھٹکے کے مجموعی معاشی اثر کو جزوی طور پر سنبھالا۔

🏦 مرکزی بینک کی پالیسی شرح
مستحکم لیول 3.75%

سروسز اور خوراک کی قیمتوں میں سست روی کے باعث بینک آف انگلینڈ کی جانب سے شرح سود برقرار رہنے کا امکان ہے۔

📊 توانائی اور قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ
گیس کی قیمتوں میں ماہانہ اضافہ
15%
گھریلو توانائی کی حد میں اضافہ
13%
فضائی کرایوں میں سالانہ کمی
11.6%

واضح رہے کہ اس اضافے کے پیچھے صرف برطانیہ کی مقامی معاشی صورت حال نہیں ہے، بلکہ ایران میں جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والے توانائی کے جھٹکے اب برطانوی گھرانوں تک منتقل ہورہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ میں توانائی کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے کا نظام موجود ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلی کا پورا یا فوری اثر صارفین تک فوراً نہیں پہنچتا۔ 

یہی وجہ ہے کہ جنگ کے مالی اثرات کچھ تاخیر سے گھریلو بلوں میں دکھائی دیے ہیں۔

برطانیہ کا پرچم ایران جنگ کا اثر برطانوی بجلی بل تک کیسے پہنچا؟
+
1
مشرقِ وسطیٰ میں تنازع اور ہرمز کی ناکہ بندی کا خوف

ایران پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی خطرات کے بعد عالمی انرجی مارکیٹوں میں ایل این جی اور خام تیل کی فیوچرز قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔

2
یورپی و برطانوی ہول سیل گیس مارکیٹ پر اثر

برطانیہ بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار کرتا ہے؛ ہول سیل گیس 15 فیصد مہنگی ہونے سے جنریشن لاگت یکدم اوپر چلی گئی۔

3
آف جیم کی ونڈو اور قیمتوں کی حد (Price Cap) میں ترمیم

چونکہ برطانیہ میں ریگولیٹری کیپ موجود ہے، اس لیے عالمی جھٹکا فوری نہیں بلکہ وقفے کے بعد ریگولیٹر کی جانب سے 13 فیصد اضافے کی صورت میں منتقل ہوا۔

4
برطانوی گھرانوں کے ماہانہ یوٹیلیٹی بلز میں ظاہر ہونا

نتیجتاً جولائی کے اعدادوشمار میں گھریلو صارفین کو بجلی اور گیس کے زائد بل وصول ہوئے، جس نے قومی مہنگائی کو 4 ماہ کی بلند سطح پر دھکیل دیا۔

ہر چیز مہنگی نہیں ہورہی

مہنگائی کے تازہ اعدادوشمار کا دوسرا رُخ نسبتاً حوصلہ افزا ہے، یعنی گاڑیوں کے ایندھن اور فضائی سفر کی قیمتوں میں کمی نے توانائی کے بڑے جھٹکے کا کچھ اثر جذب کیا۔

جون سے جولائی کے درمیان ڈیزل کی اوسط قیمت بھی 8.8 پنس فی لیٹر کم ہوئی ہے، جبکہ فضائی ٹکٹ سالانہ بنیاد پر 11.6 فیصد سستے ہوئے ہیں۔

اسی طرح خوراک کے محاذ پر بھی دباؤ کم ہوا ہے۔ خوراک اور غیر الکحل مشروبات کی مہنگائی 1.7 فیصد سے کم ہو کر 1.3 فیصد رہ گئی، جو ستمبر 2021 کے بعد کم ترین سطح ہے۔

مختصراً یہ کہ بنیادی مہنگائی 2.6 فیصد پر برقرار رہی ہے اور  اس پیمانے میں توانائی، خوراک، الکحل اور تمباکو جیسی زیادہ اتار چڑھاؤ والی اشیا کو الگ رکھا جاتا ہے۔

🌊 آبنائے ہرمز بند ہوئی تو مہنگائی کہاں جائے گی؟
🛢️ خام تیل $100 سے تجاوز کرنے کا خدشہ

عالمی پیٹرولیم کا 20 فیصد اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ ناکہ بندی کی صورت میں تیل کی قیمتیں تین ہندسوں میں داخل ہو کر ہر قسم کی نقل و حمل مہنگی کر دیں گی۔

📈 بینک آف انگلینڈ کا 3.2% کا خدشہ حقیقت بننا

مرکزی بینک نے چوتھی سہ ماہی میں مہنگائی 3.2 فیصد تک جانے کا تخمینہ لگایا ہے؛ توانائی کا نیا دھچکا اس شرح کو مزید اوپر لے جا سکتا ہے جو 2 فیصد ہدف سے کہیں دور ہے۔

🏦 شرح سود میں تخفیف کے امکانات کا خاتمہ

شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کے بعد اس میں کمی کی جو امیدیں لگی تھیں، وہ تیل کی مہنگائی کے نتیجے میں معطل یا سود میں اضافے کے دباؤ میں بدل جائیں گی۔

🚢 عالمی شپنگ کرایوں اور انشورنس کا بوجھ

بحری جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل چکر لگانے پڑیں گے جس سے نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں صنعتی خام مال اور خوراک کی درآمدی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔

بینک آف انگلینڈ کے لیے اہم اشارہ

اصل توجہ طلب معاملہ سروسز کی مہنگائی پر بھی ہے، کیونکہ بینک آف انگلینڈ اسے مقامی معیشت میں قیمتوں کے دباؤ کا اہم پیمانہ سمجھتا ہے۔ جولائی میں سروسز کی مہنگائی 3.6 فیصد سے گھٹ کر 3.4 فیصد ہوگئی۔

علاوہ ازیں لیبر مارکیٹ بھی ٹھنڈی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ پے رول پر ملازمین کی تعداد کم ہوئی ہے، جبکہ نجی شعبے میں اجرتوں کی شرح نمو سست ہوئی۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

کے پی ایم جی کی چیف اکانومسٹ یائل سیلفن کے مطابق کمزور لیبر مارکیٹ اس مرتبہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو پوری معیشت میں پھیلنے سے روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔ 

یہی فرق موجودہ حالات کو 2022 میں آنے والے مہنگائی بحران سے الگ کرتا ہے۔

📊 فیکٹ باکس: برطانیہ میں کیا مہنگا، کیا سستا؟ جولائی ڈیٹا
🔺 کیا چیزیں مہنگی ہوئیں؟
مجموعی افراطِ زر (CPI) +2.9% (vs 2.6%)
تھوک قدرتی گیس (ماہانہ) +15.0%
آف جیم پرائس کیپ +13.0%
برینٹ خام تیل فی بیرل >$90 / barrel
🔻 کن چیزوں میں ریلیف ملا؟
فضائی سفر کے ٹکٹ -11.6%
ڈیزل کی اوسط قیمت -8.8p / liter
خوراک و مشروبات مہنگائی 1.3% (vs 1.7%)
سروسز انفلیشن 3.4% (vs 3.6%)

کیا شرح سود بڑھے گی؟

اس وقت مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ سوال بہت اہم ہے۔ سروسز کی مہنگائی میں کمی سے شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان مضبوط ہوا ہے اور بیشتر ماہرین اقتصادیات بھی اسی منظرنامے کی توقع کررہے ہیں۔

نئے اعدادوشمار جاری ہونے کے بعد مالیاتی منڈیوں میں کوئی بڑا جھٹکا نہیں آیا۔ پاؤنڈ اسٹرلنگ معمولی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3550 ڈالر تک پہنچا، جبکہ تاجروں نے سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کے امکانات کچھ کم کردیے۔

تاہم مرکزی بینک کی مشکل ابھی ختم نہیں ہوئی۔ بینک آف انگلینڈ کا اندازہ ہے کہ سال کی آخری سہ ماہی میں مہنگائی 3.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کا سرکاری ہدف صرف 2 فیصد ہے۔

پاکستان کا پرچم پاکستان پر اثرات: مہنگا عالمی تیل کیا گل کھلائے گا؟
براہِ راست اثر: برطانوی معیشت کی طرح پاکستان بھی توانائی کی درآمدات پر شدید انحصار کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں 90 ڈالر سے زائد تیل اور ہرمز کے خطرات پاکستانی معیشت کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔
درآمدی بل اور روپے کی قدر پر دباؤ

پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی لاگت بڑھنے سے بیرونی ادائیگیاں بوجھل ہوں گی، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور روپے پر گراوٹ کا خطرہ بڑھے گا۔

بجلی اور پیٹرول کے نرخوں میں فوری اضافہ

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کے تحت مہنگے ایندھن کا بوجھ براہِ راست گھریلو صارفین کے بجلی کے بلوں اور پیٹرول پمپس پر منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔

🌾 زرعی شعبہ اور مال برداری مہنگی

ڈیزل کے مہنگے ہونے سے ٹیوب ویلز، ٹریکٹرز اور اشیائے خورونوش کی منڈیوں تک نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے عام صارف کے لیے اشیاء مہنگی ہوں گی۔

🏛️ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا امتحان

عالمی مہنگائی کی لہر کے باعث مرکزی بینک کو معاشی شرح نمو تیز کرنے کے لیے شرح سود میں کمی کا عمل سست کرنا یا روکنا پڑ سکتا ہے۔

اصل خطرہ برطانیہ سے ہزاروں میل دور ہے

برطانوی مہنگائی کا اگلا رُخ بڑی حد تک مشرق وسطیٰ میں ہوسکتا ہے۔

نئی کشیدگی کے بعد برینٹ خام تیل دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاچکا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹیں بھی تشویش بڑھا رہی ہیں۔

یہی وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کے توانائی نظام کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں یا سپلائی مزید متاثر ہوئی تو برطانوی صارفین کے لیے توانائی کے بل دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔

برطانوی وزیر خزانہ جان ہیلی بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی ملک کے اندر قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے، اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی معیشت میں ان حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

فی الحال برطانیہ کی معاشی تصویر 2 حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ خوراک، خدمات، اجرتوں اور بعض پیداواری اخراجات کا دباؤ کم ہورہا ہے، مگر توانائی ایک بار پھر مہنگائی کو اوپر کھینچ رہی ہے۔ 

اسی لیے آنے والے مہینوں میں لندن کی نظریں صرف اپنے معاشی اعدادوشمار پر نہیں، بلکہ تیل کی عالمی قیمتوں، ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز پر بھی جمی رہیں گی۔

📊 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES 🇬🇧 برطانوی مہنگائی، توانائی بلوں، شرح سود اور عالمی تیل بحران سے متعلق بنیادی سرکاری اور بین الاقوامی حوالہ جات 4 معتبر ذرائع
📈 برطانیہ کی مہنگائی اور توانائی کا جھٹکا
United Kingdom ONS — جولائی 2026 کی سرکاری مہنگائی رپورٹ برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کی اصل رپورٹ، جس میں جولائی کی سالانہ CPI مہنگائی 2.9 فیصد، جون کی 2.6 فیصد شرح اور مختلف اشیا و خدمات کی قیمتوں میں تبدیلی کی تفصیلات موجود ہیں۔ بنیادی سرکاری اعدادوشمار اصل رپورٹ کھولیں ↗ ⚡ Ofgem — توانائی پرائس کیپ میں 13 فیصد اضافہ برطانوی توانائی ریگولیٹر کا سرکاری اعلان، جس کے تحت یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک گھریلو توانائی پرائس کیپ میں 13 فیصد اضافہ کیا گیا، جو مہنگائی میں تیزی کا اہم سبب بنا۔ سرکاری توانائی ماخذ سرکاری اعلان کھولیں ↗
🏦 شرح سود، مہنگائی اور مالیاتی پالیسی
🏦 Bank of England — جولائی 2026 مانیٹری پالیسی رپورٹ مرکزی بینک کی بنیادی رپورٹ، جس میں 2026 کی آخری سہ ماہی میں CPI مہنگائی اوسطاً 3.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی، توانائی کی قیمتوں کے خطرات اور مستقبل کی مالیاتی پالیسی کا جائزہ شامل ہے۔ مرکزی بینک کی رپورٹ مانیٹری رپورٹ کھولیں ↗ 🌍 روئٹرز — توانائی بلوں سے برطانوی مہنگائی میں نئی تیزی 19 اگست 2026 کی تفصیلی بین الاقوامی رپورٹ، جس میں 2.9 فیصد مہنگائی، بنیادی اور خدمات کی مہنگائی، کمزور لیبر مارکیٹ، ایران جنگ کے اثرات اور بینک آف انگلینڈ کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بنیادی بین الاقوامی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗
📚 ادارتی نوٹ: اس رپورٹ کے بنیادی حقائق کی تصدیق برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات، Ofgem اور Bank of England کے سرکاری ریکارڈ سے ہوتی ہے، جبکہ عالمی معاشی و مارکیٹ تناظر کے لیے روئٹرز کی اصل رپورٹ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net