عالمی لڑائیاں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ ان کی قیمت کبھی تیل کی منڈی، کبھی کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور بالآخر عام گھر کے بجلی اور گیس کے بل میں نظر آتی ہے۔
مزید پڑھیں
اقتصادی ماہرین کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ ماہ جولائی میں ہونے والی مہنگائی اسی سلسلے کی ایک نئی مثال بن گئی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں مہنگائی اس وقت 4 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی جولائی میں صارف قیمتوں میں سالانہ 2.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ جون میں یہی شرح 2.6 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی۔
🔍 مہنگائی کا اصل ذمے دار کون؟
معاشی تجزیہ
▼
برطانوی ریگولیٹر نے گھریلو صارفین کے لیے توانائی نرخوں کی بالائی حد بڑھا دی، جس سے لاکھوں گھرانوں کے ماہانہ بلوں میں فوری اور براہِ راست اضافہ ہوا۔
عالمی سپلائی کے خدشات پر برطانوی تھوک منڈی میں قدرتی گیس کے نرخ محض ایک ماہ میں 15 فیصد بڑھے، جو 4 برسوں کی تیز ترین ماہانہ جست ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور برینٹ خام تیل کے 90 ڈالر سے تجاوز کرنے نے عالمی فریٹ اور بجلی پیدا کرنے والے ایندھن کے نرخ بلند رکھے ہیں۔
سروسز مہنگائی 3.4 فیصد پر آ گئی اور پے رولز سکڑ رہے ہیں، جس سے واضح ہے کہ برطانوی معیشت کے اندرونی شعبے مہنگائی نہیں بڑھا رہے بلکہ بیرونی جھٹکا بوجھ ڈال رہا ہے۔
مہنگائی کے پیچھے اصل کہانی
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں سب سے نمایاں کردار گھریلو توانائی کے بلوں کا رہا۔
برطانوی توانائی ریگولیٹر آف جیم نے گھریلو توانائی کی قیمتوں کی حد میں 13 فیصد اضافہ کیا ہے، جس کا اثر لاکھوں صارفین کے اخراجات پر پڑا۔
اسی دوران گیس کی قیمتیں بھی ایک ماہ میں تقریباً 15 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق یہ 4 سال میں گیس کی قیمتوں کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث گیس اور گھریلو بجلی کے نرخوں میں اضافے نے برطانیہ میں افراطِ زر کی شرح کو جولائی کے دوران 2.9 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔
جولائی میں مہنگائی 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچی جبکہ سال کی آخری سہ ماہی میں 3.2 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے۔
گیس کی قیمتوں میں 4 سال کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ ریگولیٹر نے حد میں 13 فیصد اضافہ کیا۔
ڈیزل میں 8.8 پنس فی لیٹر اور فضائی کرایوں میں کمی نے توانائی کے جھٹکے کے مجموعی معاشی اثر کو جزوی طور پر سنبھالا۔
سروسز اور خوراک کی قیمتوں میں سست روی کے باعث بینک آف انگلینڈ کی جانب سے شرح سود برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
واضح رہے کہ اس اضافے کے پیچھے صرف برطانیہ کی مقامی معاشی صورت حال نہیں ہے، بلکہ ایران میں جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والے توانائی کے جھٹکے اب برطانوی گھرانوں تک منتقل ہورہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ میں توانائی کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے کا نظام موجود ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلی کا پورا یا فوری اثر صارفین تک فوراً نہیں پہنچتا۔
یہی وجہ ہے کہ جنگ کے مالی اثرات کچھ تاخیر سے گھریلو بلوں میں دکھائی دیے ہیں۔
ایران جنگ کا اثر برطانوی بجلی بل تک کیسے پہنچا؟
+
ایران پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی خطرات کے بعد عالمی انرجی مارکیٹوں میں ایل این جی اور خام تیل کی فیوچرز قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔
برطانیہ بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار کرتا ہے؛ ہول سیل گیس 15 فیصد مہنگی ہونے سے جنریشن لاگت یکدم اوپر چلی گئی۔
چونکہ برطانیہ میں ریگولیٹری کیپ موجود ہے، اس لیے عالمی جھٹکا فوری نہیں بلکہ وقفے کے بعد ریگولیٹر کی جانب سے 13 فیصد اضافے کی صورت میں منتقل ہوا۔
نتیجتاً جولائی کے اعدادوشمار میں گھریلو صارفین کو بجلی اور گیس کے زائد بل وصول ہوئے، جس نے قومی مہنگائی کو 4 ماہ کی بلند سطح پر دھکیل دیا۔
ہر چیز مہنگی نہیں ہورہی
مہنگائی کے تازہ اعدادوشمار کا دوسرا رُخ نسبتاً حوصلہ افزا ہے، یعنی گاڑیوں کے ایندھن اور فضائی سفر کی قیمتوں میں کمی نے توانائی کے بڑے جھٹکے کا کچھ اثر جذب کیا۔
جون سے جولائی کے درمیان ڈیزل کی اوسط قیمت بھی 8.8 پنس فی لیٹر کم ہوئی ہے، جبکہ فضائی ٹکٹ سالانہ بنیاد پر 11.6 فیصد سستے ہوئے ہیں۔
اسی طرح خوراک کے محاذ پر بھی دباؤ کم ہوا ہے۔ خوراک اور غیر الکحل مشروبات کی مہنگائی 1.7 فیصد سے کم ہو کر 1.3 فیصد رہ گئی، جو ستمبر 2021 کے بعد کم ترین سطح ہے۔
مختصراً یہ کہ بنیادی مہنگائی 2.6 فیصد پر برقرار رہی ہے اور اس پیمانے میں توانائی، خوراک، الکحل اور تمباکو جیسی زیادہ اتار چڑھاؤ والی اشیا کو الگ رکھا جاتا ہے۔
🌊 آبنائے ہرمز بند ہوئی تو مہنگائی کہاں جائے گی؟
▼
عالمی پیٹرولیم کا 20 فیصد اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ ناکہ بندی کی صورت میں تیل کی قیمتیں تین ہندسوں میں داخل ہو کر ہر قسم کی نقل و حمل مہنگی کر دیں گی۔
مرکزی بینک نے چوتھی سہ ماہی میں مہنگائی 3.2 فیصد تک جانے کا تخمینہ لگایا ہے؛ توانائی کا نیا دھچکا اس شرح کو مزید اوپر لے جا سکتا ہے جو 2 فیصد ہدف سے کہیں دور ہے۔
شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کے بعد اس میں کمی کی جو امیدیں لگی تھیں، وہ تیل کی مہنگائی کے نتیجے میں معطل یا سود میں اضافے کے دباؤ میں بدل جائیں گی۔
بحری جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل چکر لگانے پڑیں گے جس سے نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں صنعتی خام مال اور خوراک کی درآمدی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
بینک آف انگلینڈ کے لیے اہم اشارہ
اصل توجہ طلب معاملہ سروسز کی مہنگائی پر بھی ہے، کیونکہ بینک آف انگلینڈ اسے مقامی معیشت میں قیمتوں کے دباؤ کا اہم پیمانہ سمجھتا ہے۔ جولائی میں سروسز کی مہنگائی 3.6 فیصد سے گھٹ کر 3.4 فیصد ہوگئی۔
علاوہ ازیں لیبر مارکیٹ بھی ٹھنڈی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ پے رول پر ملازمین کی تعداد کم ہوئی ہے، جبکہ نجی شعبے میں اجرتوں کی شرح نمو سست ہوئی۔
کے پی ایم جی کی چیف اکانومسٹ یائل سیلفن کے مطابق کمزور لیبر مارکیٹ اس مرتبہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو پوری معیشت میں پھیلنے سے روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہی فرق موجودہ حالات کو 2022 میں آنے والے مہنگائی بحران سے الگ کرتا ہے۔
📊 فیکٹ باکس: برطانیہ میں کیا مہنگا، کیا سستا؟
جولائی ڈیٹا
▶
کیا شرح سود بڑھے گی؟
اس وقت مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ سوال بہت اہم ہے۔ سروسز کی مہنگائی میں کمی سے شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان مضبوط ہوا ہے اور بیشتر ماہرین اقتصادیات بھی اسی منظرنامے کی توقع کررہے ہیں۔
نئے اعدادوشمار جاری ہونے کے بعد مالیاتی منڈیوں میں کوئی بڑا جھٹکا نہیں آیا۔ پاؤنڈ اسٹرلنگ معمولی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3550 ڈالر تک پہنچا، جبکہ تاجروں نے سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کے امکانات کچھ کم کردیے۔
تاہم مرکزی بینک کی مشکل ابھی ختم نہیں ہوئی۔ بینک آف انگلینڈ کا اندازہ ہے کہ سال کی آخری سہ ماہی میں مہنگائی 3.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کا سرکاری ہدف صرف 2 فیصد ہے۔
پاکستان پر اثرات: مہنگا عالمی تیل کیا گل کھلائے گا؟
▼
پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی لاگت بڑھنے سے بیرونی ادائیگیاں بوجھل ہوں گی، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور روپے پر گراوٹ کا خطرہ بڑھے گا۔
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کے تحت مہنگے ایندھن کا بوجھ براہِ راست گھریلو صارفین کے بجلی کے بلوں اور پیٹرول پمپس پر منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈیزل کے مہنگے ہونے سے ٹیوب ویلز، ٹریکٹرز اور اشیائے خورونوش کی منڈیوں تک نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے عام صارف کے لیے اشیاء مہنگی ہوں گی۔
عالمی مہنگائی کی لہر کے باعث مرکزی بینک کو معاشی شرح نمو تیز کرنے کے لیے شرح سود میں کمی کا عمل سست کرنا یا روکنا پڑ سکتا ہے۔
اصل خطرہ برطانیہ سے ہزاروں میل دور ہے
برطانوی مہنگائی کا اگلا رُخ بڑی حد تک مشرق وسطیٰ میں ہوسکتا ہے۔
نئی کشیدگی کے بعد برینٹ خام تیل دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاچکا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹیں بھی تشویش بڑھا رہی ہیں۔
یہی وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کے توانائی نظام کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں یا سپلائی مزید متاثر ہوئی تو برطانوی صارفین کے لیے توانائی کے بل دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔
برطانوی وزیر خزانہ جان ہیلی بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی ملک کے اندر قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے، اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی معیشت میں ان حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
فی الحال برطانیہ کی معاشی تصویر 2 حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ خوراک، خدمات، اجرتوں اور بعض پیداواری اخراجات کا دباؤ کم ہورہا ہے، مگر توانائی ایک بار پھر مہنگائی کو اوپر کھینچ رہی ہے۔
اسی لیے آنے والے مہینوں میں لندن کی نظریں صرف اپنے معاشی اعدادوشمار پر نہیں، بلکہ تیل کی عالمی قیمتوں، ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز پر بھی جمی رہیں گی۔