دنیا کی نظریں اس وقت نئی دہلی پر لگی ہیں، تاہم اس معاملے کی اصل کہانی سربراہی اجلاس کی تصویروں، رسمی مصافحوں یا طویل اعلامیوں سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔
مزید پڑھیں
برکس نہ ہی کل ڈالر ختم کرنے جا رہا ہے، نہ امریکہ کی جگہ کوئی نئی سپر پاور حکومت قائم ہونے والی ہے۔
اصل تبدیلی خاموش ہونے کے ساتھ ساتھ اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ دنیا کی بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں اب ایسا نظام بنانے جا رہی ہیں جس میں تجارت، سرمایہ کاری، قرض اور ادائیگی کے لیے ہر راستہ واشنگٹن سے ہو کر نہ گزرے۔
⚖️
اصل کھیل کیا ہے: ڈالر یا عالمی طاقت؟
▼
ڈالر کا متبادل نہیں، بائی پاس
ڈالر کے پاس دہائیوں سے قائم بین الاقوامی لیکویڈیٹی، گہری منڈیاں اور زرمبادلہ کا اعتماد موجود ہے۔ اس لیے برکس کسی مشترکہ کرنسی کے خواب کے بجائے مقامی کرنسیوں میں براہِ راست لین دین اور دوطرفہ ڈیجیٹل کوریڈورز کے ذریعے ڈالر کی جبری ضرورت کو بتدریج کم کر رہا ہے۔
کثیر قطبی دنیا میں اثر و رسوخ
اصل معرکہ عالمی طاقت کے توازن کا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ان کے معاشی حجم کے مطابق فیصلہ سازی کا حق نہیں ملا۔ برکس کے ذریعے گلوبل ساؤتھ ایسی خود مختار چھتری چاہتا ہے جہاں پابندیوں کے خوف کے بغیر آزاد فیصلے کیے جا سکیں۔
12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والا 18 واں برکس سربراہی اجلاس اسی بدلتی دنیا کی ایک جھلک ہے۔
بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب جنگوں، توانائی کے بحران، تجارتی کشیدگی اور امریکہ چین مقابلے نے عالمی معیشت کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
برکس کا مقصد ڈالر کو فوری گرانا نہیں بلکہ ایسا خود مختار تجارتی و مالیاتی نظام بنانا ہے جس کا راستہ واشنگٹن سے نہ گزرے۔
سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت سے یہ فورم خلیجی توانائی اور ابھرتی معیشتوں کا سب سے وزنی محور بن چکا ہے۔
بھارت اور برازیل کے فوری ادائیگی نظام مقامی ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز سے سرحد پار متبادل مالیاتی نیٹ ورک تشکیل دے رہے ہیں۔
سات سال بعد چینی صدر کے دورہ بھارت نے واضح کیا کہ اس بلاک کا اصل وزن بیجنگ اور نئی دہلی کے باہمی تجارتی تعاون پر منحصر ہے۔
آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں منصفانہ اصلاحات کا مطالبہ تاکہ معاشی فیصلے اور عالمی سرمایہ صرف مغربی مراکز تک محدود نہ رہیں۔
برکس اب چھوٹا کلب نہیں رہا
برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سے شروع ہونے والا گروپ اب مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور سعودی عرب سمیت 11 ممالک تک پھیل چکا ہے۔
تازہ سرکاری اور بین الاقوامی ذرائع بھی سعودی عرب کو مکمل رکن ممالک میں شمار کر رہے ہیں۔
5 کلیدی اشارے
برکس کے 5 بڑے اشارے جو نظرانداز نہیں کیے جا سکتے
+
1۔ عالمی آبادی کا نصف اور 40 فیصد معیشت
بنیادی سنگ میل11 رکنی برکس اب قوتِ خرید (PPP) کی بنیاد پر دنیا کی معیشت کے 40 فیصد اور نصف آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ حجم اتنا بڑا ہے کہ مغربی پالیسی ساز اسے محض علامتی سفارت کاری کہہ کر مسترد نہیں کر سکتے۔
2۔ ڈیجیٹل و متبادل ادائیگی نیٹ ورک
بھارت کے UPI اور برازیل کے Pix جیسے نظاموں نے 18 ماہ میں 10 ٹریلین ڈالر کی ٹرانزیکشنز پراسیس کیں۔ اب ان کو باہم جوڑنے اور سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیوں پر سنجیدہ پیش رفت ہو رہی ہے۔
3۔ توانائی کے مراکز کی شمولیت
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کی بیک وقت موجودگی نے عالمی تیل و گیس کی سپلائی کا بڑا حصہ برکس کے زیرِ اثر لا کھڑا کیا ہے، جس سے پیٹرو ڈالر میکانزم کے سامنے متبادل کرنسیوں کا راستہ کھلا ہے۔
4۔ چین بھارت کشیدگی میں کمی
چینی صدر کا 7 سال بعد نئی دہلی پہنچنا ظاہر کرتا ہے کہ سرحدی تنازعات کے باوجود دونوں ایشیائی معیشتیں برکس کو کثیر قطبی دنیا کی تعمیر کے لیے باہمی محاذ آرائی سے بالاتر ترجیح دے رہی ہیں۔
5۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک کی نئی حکمت عملی
برکس بینک نے اپنے 30 فیصد سے زائد قرضے اور فنانسنگ ڈالر کے بجائے رکن ممالک کی مقامی کرنسیوں میں فراہم کرنے کا ہدف طے کیا ہے، جو عملی طور پر خود مختار قرضہ فریم ورک کی طرف واضح قدم ہے۔
واضح رہے کہ یہ گروپ اب دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور قوتِ خرید کی بنیاد پر عالمی معیشت کے لگ بھگ 40 فیصد حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہی وہ عدد ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن، یورپ اور عالمی مالیاتی ادارے برکس کو محض ایک سفارتی فورم سمجھ کر نظرانداز نہیں کر سکتے۔
ماہرین کے مطابق بڑی آبادی اور بڑی معیشت کا مطلب ایک جیسی سیاست سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
روس، ایران اور کسی حد تک چین مغربی بالادستی کو زیادہ کھل کر چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف بھارت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ اور یورپ سے اپنے تعلقات توڑنے کے بجائے ایک سے زیادہ طاقتوں کے ساتھ بیک وقت روابط رکھنا چاہتے ہیں۔
عالمی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہی برکس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔
پاکستان کے لیے اس بدلتی دنیا میں کیا موقع ہے؟
◀
ڈالر کے دباؤ اور ذخائر کی بچت
چین، روس اور خلیجی ممالک سے تیل و اشیائے خوردونوش کی درآمدات کے لیے مقامی کرنسی میکانزم استعمال کرنے سے اسٹیٹ بینک پر زرمبادلہ اور غیر ملکی ادائیگیوں کا ماہانہ بوجھ خاطر خواہ کم ہو سکتا ہے۔
روس کی سفارتی حمایت اور شمولیت
اسلام آباد نے باضابطہ درخواست جمع کرا رکھی ہے اور ماسکو نے اس کی کھلی تائید کی ہے۔ برکس کا حصہ بننے سے پاکستان کو کثیر قطبی معاشی فیصلوں اور تجارتی مذاکرات میں برابری کی سطح پر آواز مل سکے گی۔
علاقائی لاجسٹکس اور سی پیک کا پھیلاؤ
برکس میں خلیجی اور وسطی ایشیائی راہداریوں کی شمولیت سے پاکستان کو گوادر اور سی پیک نیٹ ورک کو وسیع تر علاقائی منڈیوں اور نئی ابھرتی معیشتوں کے فنانشل فریم ورک سے جوڑنے کا موقع میسر آئے گا۔
ترسیلاتِ زر کے فوری ڈیجیٹل چینلز
سعودی عرب اور یو اے ای کے برکس میں ہونے سے خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانی کارکنوں کی رقوم متبادل اور سستے ڈیجیٹل روٹس کے ذریعے چند سیکنڈز میں بغیر مہنگی بینکنگ فیس کے پاکستان منتقل ہو سکیں گی۔
اصل جنگ ڈالر گرانا نہیں
کئی سال سے ’برکس کرنسی‘ اور ’ڈالر کے خاتمے‘ جیسے دعوے سرخیوں میں جگہ بناتے رہے ہیں، مگر اس بار نئی دہلی کی اصل مالی بحث کہیں زیادہ عملی ہے۔
برکس ممالک مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے، ادائیگی نظام ایک دوسرے سے جوڑنے اور سرحد پار رقوم کی منتقلی کو تیز اور سستا بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
بھارت نے رکن ممالک کی مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کو آپس میں جوڑنے کی تجویز بھی دی ہے۔
بھارت کا UPI اور برازیل کا Pix پہلے ہی بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے فوری ادائیگی نظام ہیں۔
واشنگٹن کیوں پریشان ہے، اور کتنا؟
▼
ڈالر کے فوری متبادل کا عدم وجود
دنیا کے 85 فیصد سے زائد غیر ملکی زرمبادلہ کے سودے اور مرکزی بینکوں کے ذخائر کا بڑا حصہ تاحال ڈالر میں ہے۔ برکس کے پاس نہ تو ڈالر کی سطح کی لیکویڈیٹی ہے اور نہ ہی ارکان کے درمیان مکمل سیاسی ہم آہنگی، لہٰذا امریکی مالیاتی نظام کو فوری خاتمے کا کوئی خطرہ درپیش نہیں۔
پابندیوں کے نیٹ ورک کا بائی پاس
واشنگٹن کی بے چینی یہ ہے کہ اگر چین، بھارت، روس اور خلیجی ریاستیں متبادل ڈیجیٹل چینلز اور مقامی کرنسیوں کے عادی ہو گئے، تو مستقبل میں سوئفٹ (SWIFT) پر پابندی یا امریکی اثاثے منجمد کرنے کی طاقت کا اثر دنیا کی 40 فیصد معیشت پر خود بخود ختم ہو جائے گا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق دونوں نظاموں نے گزشتہ 18 ماہ میں مجموعی طور پر 10 ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کی ٹرانزیکشنز پراسیس کی ہیں، اگرچہ ان کا سرحد پار استعمال ابھی محدود ہے۔
یعنی مقصد یہ نہیں کہ پیر کی صبح دنیا اٹھے اور ڈالر غائب ہو چکا ہو، بلکہ یہ ہے کہ ہر ادائیگی کے لیے ڈالر ضروری نہ ہو۔
ڈالر پھر بھی بادشاہ ہے
اس حوالے سے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو کسی حد تک حقیقت پسند بھی رہنا چاہیے۔
امریکی ڈالر کے پاس عالمی منڈیاں، اعتماد، بڑے پیمانے کی لیکویڈیٹی اور دہائیوں سے قائم مالیاتی ڈھانچہ ہے۔
🔭
اگلے 10 سال میں عالمی مالی نظام کہاں جا سکتا ہے؟
مستقبل کا خاکہ
کثیر کرنسی تجارتی نیٹ ورکس
تیل، گیس اور اجناس کی تجارت میں ڈالر کا حصہ کم ہو کر بتدریج 50 سے 60 فیصد تک آ سکتا ہے، جبکہ باقی لین دین یوان، روپیہ، ریال اور مقامی کرنسی سویپس کے ذریعے خود بخود سیٹل ہوں گے۔
انٹرکنیکٹڈ ڈیجیٹل کرنسیاں
مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیاں (CBDCs) آپس میں براہِ راست جڑیں گی، جس سے بینکنگ ثالثوں کے بغیر سرحد پار منتقلی سیکنڈز میں مکمل ہوگی اور روایتی سوئفٹ نیٹ ورک پر انحصار محدود ہو جائے گا۔
خود مختار مالیاتی ادارے
نیو ڈیولپمنٹ بینک اور علاقائی فنڈز ترقی پذیر معیشتوں کے بنیادی ڈھانچے کی فنانسنگ کے بڑے مراکز بن کر ابھریں گے، جس سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی کڑی شرائط کا متبادل توازن قائم ہوگا۔
برکس کے اندر ابھی مشترکہ کرنسی پر کوئی قابلِ عمل اتفاق موجود نہیں ہے، جبکہ موجودہ توجہ واضح طور پر ادائیگی نظام اور قومی کرنسیوں پر ہے۔
اس لیے فوری ’ڈی ڈالرائزیشن‘ شاید غلط اصطلاح ہے۔ زیادہ درست تصویر یہ ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ ایک ایسے مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ڈالر سب سے اہم کرنسی تو ہو، مگر واحد راستہ نہ ہو۔
برکس کے نیو ڈیولپمنٹ بینک نے بھی مقامی کرنسیوں میں قرض دینے کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔
بینک کی 2022 سے 2026 کی حکمت عملی میں 30 فیصد فنانسنگ مقامی کرنسیوں میں رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
چین اور بھارت: پوری کہانی کا مرکز
برکس کی سب سے اہم اندرونی کہانی بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان لکھی جا رہی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ 7 سال بعد بھارت پہنچے ہیں اور نریندر مودی کے ساتھ ان کی ملاقات اس لیے اہم ہے کہ 2020 کے سرحدی تصادم کے بعد دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات شدید دباؤ کا شکار رہے۔
چین اور بھارت تعاون کریں تو برکس کے پاس عالمی اداروں میں اصلاحات، تجارت اور مالیاتی نظام پر حقیقی وزن پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اگر دونوں دوبارہ شدید محاذ آرائی میں گئے تو ایک طاقتور اقتصادی بلاک بنانے کا خواب کاغذوں تک محدود رہ سکتا ہے۔
واشنگٹن کو اصل فکر کس بات کی ہے؟
امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ کوئی خیالی ’برکس ڈالر‘ نہیں ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر آنے والے 10 برس میں چین، بھارت، خلیجی ممالک، روس، برازیل اور دوسری ابھرتی معیشتیں تجارت کا بڑا حصہ مقامی کرنسیوں میں کرنے لگیں، نئے مالیاتی ادارے مضبوط ہو جائیں اور متبادل ادائیگی نیٹ ورک پھیل جائیں تو امریکی مالیاتی نظام کا موجودہ اثر کتنا برقرار رہے گا؟
برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنرز بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں ابھرتی معیشتوں کی زیادہ نمائندگی اور عالمی مالیاتی اداروں کی اصلاح کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
یہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
پاکستان اس وقت برکس کا رکن نہیں، لیکن اسلام آباد باقاعدہ رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ بھی واضح کر چکا ہے کہ پاکستان برکس کی مکمل رکنیت کے حصول میں سنجیدہ ہے اور روس پاکستان کی درخواست کی حمایت کرتا رہا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے اصل اہمیت صرف برکس کی رکنیت نہیں بلکہ یہ ہے کہ عالمی تجارت اگر زیادہ کثیر کرنسی نظام کی طرف جاتی ہے تو اسلام آباد اپنی تجارت، ادائیگیوں اور علاقائی معاشی روابط کو اس تبدیلی کے مطابق کتنی جلدی ڈھالتا ہے۔
دنیا بدل رہی ہے
برکس نیٹو نہیں، یورپی یونین بھی نہیں اور اس کے ارکان ہر عالمی مسئلے پر متفق بھی نہیں، مگر اسے محض نمائشی فورم سمجھنا بھی ایک غلط فہمی ہی کہلائے گی۔
اصل تبدیلی ڈالر کے اچانک خاتمے میں نہیں، بلکہ اس امکان میں چھپی ہے کہ مستقبل کی دنیا میں طاقت، سرمایہ اور فیصلے ایک ہی مرکز کے گرد نہ گھومیں۔
مبصرین کے مطابق برکس کا نیا فیصلہ کسی نئے عالمی نظام کا اعلان ہو نہ ہو، مگر پرانے نظام کے متبادل راستوں کی تعمیر ضرور شروع ہو چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی بڑی تبدیلیاں ضروری نہیں کہ اچانک ابھر کر سامنے آئیں، بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ بدلاؤ غیر محسوس طریقے سے آہستہ آہستہ معمول بن جائے۔
📚 اصل ذرائع اور دستاویزات 🌍 SOURCE HUB برکس اجلاس، ڈالر، مقامی کرنسیوں، عالمی مالیاتی نظام اور پاکستان سے متعلق بنیادی حوالہ جات 🔎 8 معتبر ذرائع
🔗 کسی بھی اہم دعوے کی مزید تصدیق کے لیے اوپر موجود اصل ماخذ براہِ راست کھولا جا سکتا ہے۔ SOURCE HUB • overseaspost.net