دنیا میں جب کوئی پاکستانی درآمد کنندہ چین سے مشینری منگواتا ہے، کوئی بینک بیرون ملک ادائیگی کرتا ہے یا کسی کمپنی کو برآمدی رقم وصول ہوتی ہے تو پس منظر میں اکثر ایک ایسا نظام کام کر رہا ہوتا ہے جس کا عام صارف کو علم بھی نہیں ہوتا۔ اس نظام کا نام سوئفٹ ہے۔
مزید پڑھیں
50 برس سے زائد عرصے میں سوئفٹ نے عالمی بینکاری میں وہ مقام حاصل کیا ہے، جو انٹرنیٹ کو رابطوں کی دنیا میں حاصل ہوا ہے۔
یہ خود پیسہ منتقل نہیں کرتا، مگر بینکوں کو یہ بتاتا ہے کہ رقم کہاں سے آنی، کس کے کھاتے میں جانی ہے اور ادائیگی کی تفصیلات کیا ہیں۔
اسی لیے سوئفٹ محض ایک تکنیکی نیٹ ورک نہیں رہا بلکہ عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی اعتماد کا اہم ستون بن چکا ہے۔
اب عالمی سطح پر ایک نیا سوال پیدا ہو رہا ہے کہ چین، روس، انڈیا اور برکس ممالک کے نئے نظام کیا اس پرانی بالادستی کو ختم کر سکتے ہیں؟
سوئفٹ کی اصل طاقت کہاں ہے؟
سوئفٹ 1973 میں 15 ممالک کے 239 بینکوں نے قائم کیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ٹیلیکس جیسے پرانے اور سست ذرائع کی جگہ ایک محفوظ اور مشترکہ نظام لایا جائے، جس کے ذریعے دنیا بھر کے بینک ایک ہی زبان میں ادائیگی کی ہدایات بھیج سکیں۔
آج یہ نیٹ ورک 200 سے زائد ممالک اور خطوں میں 11 ہزار سے زیادہ مالیاتی اداروں کو جوڑتا ہے۔
اس کے ذریعے سالانہ 150 ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے لین دین میں سہولت ملتی ہے اور روزانہ کروڑوں مالیاتی پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔
سوئفٹ کی سب سے بڑی طاقت اس کا حجم نہیں بلکہ اعتماد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے اور مرکزی بینکس، برآمدی ادارے، بانڈ مارکیٹیں اور کرنسی کے کاروبار اس سے جڑے ہوئے ہیں۔
کوئی نیا نظام بنانا نسبتاً آسان ہے، مگر ہزاروں اداروں کو اس پر اعتماد دلانا اصل امتحان ہے۔
🌍💳 اہم نکات
پابندیوں نے کمزوری ظاہر کردی
سوئفٹ کی طاقت اسی وقت اس کی کمزوری بن گئی تھی، جب اسے مالی پابندیوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
2014 میں روس کے جزیرہ نما کریمیا پر قبضے کے بعد اور پھر 2022 کی یوکرین جنگ کے دوران متعدد روسی بینکوں کو سوئفٹ سے نکال دیا گیا۔
اس اقدام نے دنیا کی کئی بڑی معیشتوں کو خبردار کیا کہ کسی ایک مغربی نظام پر انحصار خطرناک ہوسکتا ہے۔
اگر سیاسی تنازع بڑھ جائے تو بین الاقوامی تجارت، تیل کی خریداری، درآمدی ادائیگیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے، جہاں سے متبادل مالیاتی راستوں کی تلاش نے رفتار پکڑی۔
سوئفٹ کا متبادل: عالمی مالیاتی نظام میں نئی رقابت
چین، روس اور برکس ممالک مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنے خود مختار نیٹ ورکس کو تیز کر رہے ہیں۔
عالمی تجارت پر سوئفٹ کی 50 سالہ اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے لیے چین کا سی آئی پی ایس اور علاقائی ڈیجیٹل نظام ابھر رہے ہیں، جس سے کثیر القطبی مالیاتی دور کا آغاز ہو رہا ہے۔
🌐 سوئفٹ کی موجودہ طاقت
150یہ نیٹ ورک 200 سے زائد ممالک کے 11 ہزار اداروں کو جوڑتا ہے اور سالانہ 150 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا لین دین ممکن بناتا ہے۔
🇨🇳 چین کا متبادل اقدام
180چین کا سی آئی پی ایس نظام 191 ممالک تک پھیل چکا ہے، جس کے ذریعے 180 ٹریلین یوآن کی ادائیگیاں مکمل کی جا چکی ہیں۔
🛡️ روس کا دفاعی نظام
2014سوئفٹ سے الگ کیے جانے کے بعد روس کا ایس پی ایف ایس نظام مقامی بینکاری کو برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔
⚡ ڈیجیٹل اور برکس پیش رفت
2026ایم برج اور برکس پے جیسے منصوبے درمیانی بینکوں کی لاگت ختم کر کے براہِ راست ڈیجیٹل کرنسی کی منتقلی کو ممکن بنا رہے ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
چین کا سی آئی پی ایس کہاں کھڑا ہے؟
چین نے 2015 میں سی آئی پی ایس کے نام سے ایک ایسا نظام قائم کیا جس کا مقصد یوآن میں سرحد پار ادائیگیوں کو تیز اور کم خرچ بنانا تھا۔
یہ نظام چینی مرکزی بینک کی نگرانی میں چلتا ہے اور چین کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت یوآن کو عالمی تجارت میں زیادہ جگہ دلانا مقصود ہے۔
جون 2026 تک سی آئی پی ایس سے 1800 سے زائد براہ راست اور بالواسطہ ادارے وابستہ ہوچکے تھے، جبکہ اس کی رسائی 191 ممالک اور خطوں تک پہنچ گئی تھی۔
2025 میں اس نظام کے ذریعے تقریباً 180 ٹریلین یوآن مالیت کی ادائیگیاں مکمل ہوئیں۔
اس تیزی کے باوجود سی آئی پی ایس ابھی سوئفٹ کا مکمل متبادل نہیں بن سکا اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا مرکز یوآن ہے، جبکہ عالمی تجارت میں ڈالر، یورو اور دوسری کرنسیاں اب بھی غالب ہیں۔
کئی معاملات میں سی آئی پی ایس کے شرکا سوئفٹ کے پیغامات بھی استعمال کرتے ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان مقابلے کے ساتھ تعاون بھی موجود ہے۔
روس نے اپنا حفاظتی جال بنا لیا
روس نے 2014 میں ایس پی ایف ایس کے نام سے مقامی مالیاتی پیغام رسانی کا نظام بنایا تھا۔ ابتدا میں یہ محض ہنگامی متبادل تھا، مگر یوکرین جنگ کے بعد اس کی اہمیت بڑھ گئی۔
جب کئی روسی بینک سوئفٹ سے الگ کیے گئے تو SPFS نے روس کے اندر ادائیگیوں اور بینکاری رابطوں کو جاری رکھنے میں مدد دی۔ بعد میں روس نے اسے بیلاروس، ایران، قازقستان اور دیگر ممالک تک پھیلایا۔
🌐💳 فیکٹ باکس
تاہم روسی نظام کی عالمی رسائی محدود ہے۔ کسی غیر ملکی بینک کو اس میں شامل ہونے سے پہلے مغربی پابندیوں، ڈالر تک رسائی اور ثانوی پابندیوں کے خطرے کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ روس کے لیے مضبوط حفاظتی نظام تو ہے، مگر عالمی سطح پر سوئفٹ کا حقیقی بدل نہیں۔
’برکس پے‘ ابھی تصور سے آگے نہیں بڑھا
برکس ممالک کئی برس سے مقامی کرنسیوں میں تجارت اور ادائیگیوں کا دائرہ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں اور ’برکس پے‘ اسی سوچ کا حصہ ہے، لیکن ابھی یہ سوئفٹ یا سی آئی پی ایس جیسا مکمل فعال نیٹ ورک نہیں۔
منصوبہ ہے کہ انڈیا کے یو پی آئی، برازیل کے پکس اور دیگر قومی نظاموں کو ایک مشترکہ سطح پر جوڑا جائے۔
اس سے مقامی کرنسیوں میں ادائیگیاں آسان ہوسکتی ہیں، مگر شرح مبادلہ، لیکویڈیٹی، ضابطوں اور تکنیکی مطابقت جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔
برکس کی مشترکہ کرنسی سے متعلق بھی بہت بات ہوئی، لیکن فی الحال ایسی کوئی عملی پیش رفت نہیں بنی۔
ڈیجیٹل کرنسیاں: نیا راستہ
ایم برج منصوبہ روایتی بینکاری سے مختلف تجربہ ہے۔ اس میں چین، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ کے مالیاتی ادارے مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے براہ راست ادائیگیوں اور سیٹلمنٹ کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ نظام صرف ادائیگی کا پیغام نہیں بھیجتا بلکہ ڈیجیٹل شکل میں اصل مالی قدر بھی منتقل کرتا ہے۔ اس سے درمیانی بینکوں کی ضرورت، لاگت اور وقت کم ہوسکتا ہے۔
اسی طرح انڈیا کا یو پی آئی فوری ادائیگیوں کا غیر معمولی کامیاب ماڈل بن چکا ہے۔
یہ بنیادی طور پر عام صارفین اور تاجروں کے لیے ہے، مگر سنگاپور، متحدہ عرب امارات، فرانس اور قطر تک اس کی رسائی بتاتی ہے کہ چھوٹی بین الاقوامی ادائیگیوں کا طریقہ بدل سکتا ہے۔
🌐💳 سوئفٹ کی اہمیت اور متبادل ذرائع کے چیلنجز
پاکستان کے لیے اس تبدیلی کا مطلب
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ تبدیلی محض عالمی طاقتوں کا مقابلہ نہیں ہے۔
چین پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات معیشت کے لیے اہم ہیں اور ملک کو درآمدی ادائیگیوں میں ڈالر کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔
اگر یوآن، فوری ادائیگیوں اور علاقائی نیٹ ورکس کا استعمال بڑھتا ہے تو پاکستان کو تجارت اور ترسیلات کے نئے راستے مل سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے مضبوط بینکاری نظام، شفاف ضابطے، سائبر سیکیورٹی اور عالمی اعتماد ضروری ہوگا۔
سوئفٹ ختم نہیں ہوگا، مگر تنہا بھی نہیں رہے گا
موجودہ صورت حال میں سوئفٹ کا جلد خاتمہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی جگہ کوئی ایک نظام لینے کے بجائے کئی متوازی نیٹ ورکس ابھر رہے ہیں۔
چین یوآن کے لیے راستہ بنا رہا ہے، روس پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، برکس مقامی کرنسیوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ انڈیا فوری ادائیگیوں کے شعبے میں نیا معیار قائم کر چکا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کا مستقبل غالباً ایک بڑے مرکزی نیٹ ورک کے بجائے کئی جڑے ہوئے راستوں پر مشتمل ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوئفٹ اپنی جگہ برقرار رکھے گا، مگر آنے والے برسوں میں اسے پہلی بار ایسے سنجیدہ حریفوں کا سامنا ہوگا جو دنیا کے مالی نقشے کو آہستہ آہستہ بدل سکتے ہیں۔