دنیا کی 2 سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان کشمکش اب صرف ٹیرف اور تجارت تک محدود نہیں رہی۔
مزید پڑھیں
چین کئی برس سے امریکی ٹریژری بانڈز کم کر رہا ہے اور جون 2026 میں اس کی براہ راست ہولڈنگ 633.4 ارب تک ڈالر رہ گئی ہے۔
مئی میں یہ 659.3 ارب ڈالر تھی۔ یعنی نومبر 2013 کی 1.3167 ٹریلین ڈالر کی بلند سطح سے بیجنگ تقریباً نصف نیچے آ چکا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ چین ڈالر پر انحصار کم کر رہا ہے یا کسی بڑی معاشی کشمکش کے لیے اپنی پوزیشن محفوظ بنا رہا ہے؟
چین امریکی بانڈز کیوں چھوڑ رہا ہے؟ 5 بڑی وجوہات
633.4B ڈالر ہولڈنگ
پہلی اور سب سے بڑی وجہ: روسی اثاثوں کے انجماد سے سیکیورٹی کا سبق
یوکرین جنگ کے آغاز پر امریکا اور یورپی اتحادیوں کی جانب سے 300 ارب ڈالر سے زائد کے روسی سرکاری اثاثے منجمد کرنے کے واقعے نے بیجنگ کو خبردار کیا کہ واشنگٹن سے شدید سفارتی یا تائیوان تنازع کی صورت میں امریکی ٹریژریز کو بطور مالیاتی ہتھیار چین کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
2۔ امریکی ٹریژری ہولڈنگز میں 50 فیصد کمی
چین 2013 کے 1.31 ٹریلین ڈالر کے عروج سے کم ہو کر جون 2026 میں 633.4 ارب ڈالر پر آ چکا ہے، جس کا مقصد امریکی مالیاتی کنٹرول سے بتدریج خود کو محفوظ بنانا ہے۔
3۔ ٹھوس سونا ذخیرہ کرنے کی اسٹریٹجک مہم
کاغذی ڈالر کے اثاثوں سے نکل کر بیجنگ نے لگاتار 21 ماہ سونا خریدا ہے، جس میں جولائی 2026 میں 20 ٹن کا غیر معمولی اضافہ خود مختار مالی خودمختاری کا مظہر ہے۔
4۔ امریکی قرض کے بے قابو پھیلاؤ کا خطرہ
امریکا کے 40 ٹریلین ڈالر قومی قرض اور بھاری مارکیٹ قرض گیری کے باعث مستقبل میں ڈالر کی قدر میں متوقع گراوٹ سے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
5۔ یوآن اور لوکل کرنسی تجارت کا فروغ
تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ڈالر کو بائی پاس کر کے باہمی کرنسیوں اور برکس فریم ورک میں لین دین کو تیز کرنا تاکہ تجارتی ادائیگیوں میں ڈالر محتاجی ختم ہو۔
ایک دہائی کی خاموش تبدیلی
فیڈرل ریزرو کے مطابق 2009 میں چین کے پاس غیر ملکی ملکیت والے امریکی ٹریژری بانڈز کا تقریباً 30 فیصد تھا اور 2025 کے اختتام تک یہ حصہ تقریباً 8 فیصد رہ گیا۔
اس کے بعد جاپان اب سب سے بڑا غیر ملکی ہولڈر ہے، جبکہ برطانیہ بھی چین سے آگے ہے۔
ڈالر سے چینی انخلا: امریکی معیشت کے لیے نیا خطرہ 📉
بیجنگ کی جانب سے امریکی ٹریژری بانڈز میں تاریخی کمی اور سونے کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ
چین نے امریکی سرکاری بانڈز کی ہولڈنگ کو نصف سے زائد گھٹا دیا ہے جبکہ سونے کے ذخائر بڑھا کر ممکنہ پابندیوں سے بچاؤ کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔
📉 چینی بانڈ ہولڈنگز 💵
امریکی ٹریژری بانڈز میں چین کا حصہ کم ترین سطح پر آ گیا جو کبھی 1.31 ٹریلین ڈالر سے زائد تھا۔
🏛️ امریکی قومی قرض ⚠️
امریکی حکومت پر واجب الادا قرض پہلی بار تاریخی حد عبور کر کے عالمی معیشت کے لیے رسک بن گیا۔
🪙 سونے کے ذخائر میں اضافہ 🏆
چین نے مسلسل 21 ماہ سونا خریدا جبکہ جولائی میں ماہانہ بنیاد پر ریکارڈ خریداری کی گئی۔
📊 عالمی بانڈ شیئر میں کمی 📉
غیر ملکی ملکیت والے امریکی بانڈز میں چین کا حصہ 2009 کی بلند سطح سے گر کر کم ترین رہ گیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
لیکن یہ مکمل چینی انخلا نہیں کہلائے گا۔ امریکی اعدادوشمار اکثر اسی ملک کو ہولڈر دکھاتے ہیں جہاں بانڈز محفوظ ہوں۔ اس لیے بڑے مالیاتی مراکز میں موجود بعض اثاثوں کے اصل مالکان مختلف ہو سکتے ہیں۔
امریکا کا 40 ٹریلین ڈالر قرض: اصل خطرہ کیا ہے؟
$40.04T بوجھ
18 اگست تک امریکی مجموعی قومی قرض 40.047 ٹریلین ڈالر کی تاریخی حد پار کر گیا ہے، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ صرف رواں سہ ماہی میں مزید 739 ارب ڈالر کا مارکیٹ قرض اٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
1۔ خریداروں کی ساخت میں تبدیلی
غیر ملکی مرکزی بینکوں کے پیچھے ہٹنے کے بعد امریکا کو نجی ہیج فنڈز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو زیادہ منافع اور پریمیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
2۔ سود کی ادائیگیوں کا دھماکہ خیز حجم
بانڈ ییلڈز 4.7 فیصد سے اوپر رہنے کے باعث امریکی وفاقی بجٹ میں پرانے قرضوں کا سود سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر کے دفاعی بجٹ کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
3۔ مارکیٹ فنانسنگ کی لاگت میں اضافہ
مارکیٹ میں نئے بانڈز کی بے پناہ فراہمی سے دنیا بھر میں دستیاب سرمایہ کھینچا جا رہا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں شرحِ سود کم ہونا مشکل ہو رہا ہے۔
اصل چیلنج: خطرہ خریداروں کا یکدم ختم ہونا نہیں بلکہ قرض کی ری فنانسنگ کا اس قدر مہنگا ہو جانا ہے کہ واشنگٹن کی مالیاتی لچک اور ڈالر پر مبنی قرضوں کا نظام شدید دباؤ میں آ جائے۔
روس والا سبق، سونے کی طرف رُخ
یوکرین جنگ کے بعد روسی ذخائر منجمد ہونا بیجنگ کے لیے اہم سبق تھا۔ اس نے دکھایا کہ شدید سیاسی تصادم میں ڈالر میں رکھے سرکاری اثاثے بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔
لیکن اس دوران چین سونا بڑھا رہا ہے۔ جولائی 2026 میں چینی مرکزی بینک نے تقریباً 20 ٹن سونا خریدا، جو اکتوبر 2023 کے بعد سب سے بڑا ماہانہ اضافہ تھا۔
رپورٹس کے مطابق چین کی جانب سے سونے کی خریداری مسلسل 21ویں ماہ بھی جاری رہی۔
کیا بانڈز چین کا مالی ہتھیار ہیں؟
نظریاتی طور پر چین امریکی بانڈز فروخت کرکے قیمتیں گرا اور ییلڈز بڑھا سکتا ہے، جس سے واشنگٹن کے لیے قرض مہنگا ہوگا، مگر بڑی فروخت خود چین کو بھی نقصان دے گی، کیونکہ باقی بانڈز کی قدر کم ہوگی اور یوآن و ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے زیادہ ممکنہ حکمت عملی اچانک ’مالی حملے‘ کے بجائے بتدریج کمی اور سونے سمیت دوسرے اثاثوں کی طرف منتقلی ہے۔
🪙 ڈالر کے بجائے سونا؟ چین کی نئی مالی حکمت عملی 21 ماہ مسلسل خریداری
مرحلہ 1: کاغذی وعدوں کے بجائے فزیکل اثاثہ
ٹریژری بانڈ اصل میں امریکی حکومت کا کاغذی قرض ہے جسے پابندیوں سے روکا جا سکتا ہے، جبکہ خود مختار والٹس میں رکھا سونا کسی بیرونی ملک کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
مرحلہ 2: جولائی 2026 میں 20 ٹن کا تاریخی اضافہ
چینی مرکزی بینک نے اکتوبر 2023 کے بعد ایک ہی ماہ میں سب سے زیادہ سونا خریدا، جس نے عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح تک سہارا دیا۔
مرحلہ 3: یوآن کی ساکھ اور ڈی-ڈالرائزیشن کا استحکام
سونے کے ذخائر بڑھانے سے چینی کرنسی (یوآن) کے پیچھے ٹھوس پشت پناہی پیدا ہو رہی ہے، جس سے بین الاقوامی تجارت میں یوآن کے تصفیے پر غیر ملکی تاجروں کا اعتماد بڑھتا ہے۔
امریکہ کا بڑا مسئلہ: 40 ٹریلین ڈالر قرض
یہ بحث اس وقت زیادہ اہم ہو گئی جب اگست میں امریکی قومی قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
18 اگست تک کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ پر مجموعی قرض 40.047 ٹریلین ڈالر تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ جولائی تا ستمبر مزید 739 ارب ڈالر کی مارکیٹ قرض گیری کا اندازہ دے چکا ہے۔
اقتصادی ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ چین کے پیچھے ہٹ جانے سے امریکی بانڈز کے خریدار ختم نہیں ہوں گے۔
جون میں غیر ملکیوں کے پاس امریکی ٹریژریز کی مجموعی مالیت 9.299 ٹریلین ڈالر تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ نجی سرمایہ کار عموماً زیادہ ییلڈ مانگتے ہیں، جس سے قرض کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
💥 اگر چین نے امریکی بانڈز تیزی سے بیچے تو کیا ہوگا؟ +
امریکا پر اثرات: مالیاتی شاک ویو
مارکیٹ میں بانڈز کی یکدم بھرمار سے ان کی قیمتیں زمین بوس ہوں گی اور شرح منافع (ییلڈز) آسمان کو چھوئیں گی، جس سے امریکی حکومت اور نجی کمپنیوں کے لیے نیا قرض اٹھانا ناممکن حد تک مہنگا ہو جائے گا۔
چین کا اپنا نقصان: دو دھاری تلوار
بانڈز کی قیمتیں گرنے سے چین کے اپنے پاس موجود بقیہ سینکڑوں ارب ڈالر کے اثاثوں کی مالیت فوری کم ہو جائے گی اور حاصل ہونے والے ڈالر کی قدر گرنے سے خود بیجنگ کو بھاری کیپٹل لاس برداشت کرنا پڑے گا۔
اسٹریٹجک حقیقت: یہ ایک 'مالیاتی ایٹم بم' ہے جس سے دونوں ممالک تباہ ہوں گے؛ یہی وجہ ہے کہ چین اچانک سیل کے بجائے مرحلہ وار، پرسکون اور طویل مدتی انداز میں اپنے اثاثے سمیٹ رہا ہے۔
تجارتی جنگ نے خطرہ کیوں بڑھایا؟
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین کے تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر کے تجارتی سرپلس کو غیر پائیدار قرار دیا، جبکہ شی جن پنگ کا 24 ستمبر کا متوقع امریکی دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے اہم امتحان ہوگا۔
اگر تنازع ٹیرف سے بڑھ کر چینی اداروں، ایران سے تجارت یا مالی پابندیوں تک جاتا ہے تو بانڈز، سونا، یوآن اور مقامی کرنسیوں میں تجارت بیجنگ کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
چین کے فیصلے سے پاکستانی معیشت کیسے متاثر ہوسکتی ہے؟
◀
عالمی فنانسنگ اور قرضوں کا مہنگا ہونا
امریکی ٹریژری ییلڈز بلند رہنے سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یورو بانڈز جاری کرنا یا عالمی مالیاتی اداروں سے بیرونی قرض لینا شدید مہنگا ہو جائے گا۔
پاک چین مقامی کرنسی تجارت کا موقع
چین کی جانب سے ڈی ڈالرائزیشن کی رفتار بڑھنے سے پاکستان کو باہمی دوطرفہ تجارت (سی پیک اور درآمدات) یوآن اور روپیہ کرنسی سویپ میں منتقل کرنے کا محفوظ راستہ مل سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کا انتباہ: اگر ترقی یافتہ معیشتوں میں بانڈ ریٹس بلند سطح پر جمے رہے تو پاکستان کی سالانہ بیرونی قرض کی ادائیگیاں اور ری فنانسنگ کا بوجھ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ برقرار رکھے گا۔
پاکستان کے لیے کیوں اہم؟
پاکستان کے لیے یہ جنگ زیادہ دُور نہیں۔ اگر امریکی ٹریژری ییلڈز بلند رہیں تو عالمی قرض مہنگا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے بیرونی فنانسنگ مشکل ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی خبردار کیا ہے کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں بلند بانڈ ییلڈز ترقی پذیر ملکوں کی قرض ادائیگی پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ یہ نہیں کہ چین کل تمام بانڈز فروخت کر دے گا، بلکہ بڑی تبدیلی یہ ہے کہ امریکہ کو بڑھتے قرض کے لیے ایسے خریداروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو قیمت اور منافع کے بارے میں کہیں زیادہ حساس ہیں۔