براہ راست نشریات

لاکھوں کیسز نظروں سے اوجھل؟ پاکستان میں ڈینگی پھر خطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Pakistan Dengue

پاکستان میں ڈینگی کا حقیقی بوجھ سرکاری اعداد سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق 2022 میں انفیکشنز کی تخمینی تعداد 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ سکتی تھی، جبکہ دوسری تحقیق میں DENV-2 دوبارہ غالب قسم کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مون سون کے بعد ستمبر اور اکتوبر میں خطرہ سب سے زیادہ رہتا ہے۔

پاکستان میں ستمبر اور اکتوبر کے آغاز کے ساتھ ہی ڈینگی ایک بار پھر سنجیدہ صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ 

دو نئی سائنسی تحقیقات نے نہ صرف بیماری کے ممکنہ اصل حجم پر سوال اٹھائے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ڈینگی وائرس کی DENV-2 قسم ایک بار پھر زیادہ نمایاں ہوگئی ہے۔

پہلی تحقیق، جس کی قیادت آغا خان یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے کی اور جو جولائی 2026 میں سائنسی جریدے PLOS ONE میں شائع ہوئی، کے مطابق پاکستان میں ڈینگی انفیکشنز کی تخمینی تعداد 2012 میں تقریباً ایک لاکھ سے بڑھ کر 2022 میں 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ سکتی تھی۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • 2022 کے لیے ڈینگی انفیکشنز کی تخمینی تعداد تقریباً 32 لاکھ 80 ہزار تک بتائی گئی۔
  • سندھ میں اسی سال تقریباً 26 لاکھ 30 ہزار انفیکشنز کا تخمینہ سامنے آیا۔
  • یہ سرکاری کیسز نہیں بلکہ تحقیقی و شماریاتی اندازے ہیں۔
  • جینیاتی تحقیق میں DENV-2 غالب قسم کے طور پر سامنے آیا۔
  • ستمبر اور اکتوبر ڈینگی کے سب سے حساس مہینوں میں شامل ہیں۔
overseaspost.net

یہ سرکاری طور پر درج کئے گئے کیسز کی تعداد نہیں، بلکہ محققین نے لیبارٹری ڈیٹا، آبادی اور ان مریضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تخمینہ لگایا جو ہسپتال یا لیبارٹری تک نہیں پہنچتے۔

دوسری تحقیق میں 2021 سے 2025 تک ڈینگی وائرس کی مختلف اقسام کا جینیاتی اور مالیکیولر جائزہ لیا گیا۔ 

نتائج کے مطابق DENV-2 تقریباً 78.5 فیصد تصدیق شدہ نمونوں میں پایا گیا اور 2024 اور 2025 کے دوران ایک بار پھر غالب قسم بن گیا۔

مزید پڑھیں

32 لاکھ 80 ہزار کیسز کا مطلب کیا ہے؟

سب سے پہلے اس عدد کو درست تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

تحقیق میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ 2022 میں پاکستانی حکام نے 32 لاکھ سے زیادہ ڈینگی مریض سرکاری طور پر ریکارڈ کئے تھے۔ 

محققین نے تین بڑی لیبارٹری نیٹ ورکس کے 2012 سے 2022 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور پھر شماریاتی طریقوں سے ان کیسز کا بھی 

تخمینہ لگایا جو رپورٹنگ کے نظام سے باہر رہ جاتے ہیں۔

ڈینگی کے بہت سے مریضوں میں علامات معمولی ہوسکتی ہیں۔ 

کئی لوگ ہسپتال نہیں جاتے، بہت سے لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کرواتے اور کچھ علاقوں میں تشخیصی سہولت بھی محدود ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے سرکاری اعداد بیماری کے اصل بوجھ سے کم ہوسکتے ہیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXڈینگی فیکٹ باکس
بیماریڈینگی بخار
بنیادی ویکٹرAedes aegypti مچھر
غالب قسمDENV-2
اہم سیزناگست تا اکتوبر
حساس مہینےستمبر، اکتوبر
اہم خطرہکھڑا پانی اور مچھروں کی افزائش
overseaspost.net

تحقیق کے مطابق 2022 میں ملک بھر میں ڈینگی انفیکشنز کی مجموعی تخمینی تعداد 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ سکتی تھی۔

ان میں سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سامنے آیا، جہاں اسی سال تقریباً 26 لاکھ 30 ہزار انفیکشنز کا تخمینہ لگایا گیا۔

تحقیق میں 15 سے 49 سال عمر کے افراد میں ڈینگی کے بوجھ میں نمایاں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا۔ 

صرف سندھ میں اس عمر کے گروپ میں 2022 کے دوران تقریباً 16 لاکھ انفیکشنز کا تخمینہ سامنے آیا۔

ڈینگی صرف موسمی بیماری نہیں رہا

مطالعے سے ایک اور اہم بات سامنے آتی ہے کہ ڈینگی صرف بارشوں کے چند ہفتوں تک محدود نہیں رہتا۔

اگرچہ بیماری میں سب سے زیادہ اضافہ مون سون کے دوران اور اس کے بعد ہوتا ہے، لیکن محققین نے سال کے دوسرے مہینوں میں بھی انفیکشنز کی موجودگی ریکارڈ کی۔

? OVERSEAS POST | EXPLAINER32 لاکھ 80 ہزار کا مطلب کیا ہے؟

یہ عدد 2022 کے لیے ایک تحقیقی تخمینہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی حکام نے اتنے مریض سرکاری طور پر درج کئے تھے۔

محققین نے لیبارٹری ڈیٹا، آبادی اور ان مریضوں کو بھی مدنظر رکھا جو ہسپتال یا ٹیسٹنگ نظام تک نہیں پہنچتے۔

اہم: اسے 2026 کے موجودہ کیسز کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔
overseaspost.net

یہ صورتحال اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں ڈینگی ایک مستقل یا اینڈیمک بیماری کی شکل اختیار کررہا ہے، یعنی وائرس پورے سال کم یا زیادہ سطح پر گردش کرسکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2019، 2021 اور 2022 ایسے سال تھے جن میں ڈینگی کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ ستمبر 2022 ایک خاص طور پر شدید مہینہ رہا۔

DENV-2 دوبارہ غالب

ڈینگی وائرس کی چار بڑی اقسام ہیں، جنہیں DENV-1، DENV-2، DENV-3 اور DENV-4 کہا جاتا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد سے وابستہ محققین نے جنوری 2021 سے اکتوبر 2025 تک حاصل کئے گئے نمونوں کا تجزیہ کیا۔

ابتدائی طور پر 1,644 نمونے مثبت آئے، جن میں سے 1,162 کیسز PCR کے ذریعے تصدیق شدہ تھے۔

OVERSEAS POST | VIRUS WATCHDENV-2 دوبارہ کیوں اہم ہے؟

2021 سے 2025 کے درمیان تجزیہ کئے گئے تصدیق شدہ نمونوں میں DENV-2 تقریباً 78.5 فیصد رہا۔

2024 میں ٹائپ کئے گئے نمونوں میں اس کی شرح تقریباً 93 فیصد تک پہنچی اور 2025 میں بھی یہی قسم غالب رہی۔

اس سے وائرس کی گردش اور بدلتی اقسام کی مسلسل جینیاتی نگرانی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

overseaspost.net

ان تصدیق شدہ نمونوں میں 912، یعنی تقریباً 78.5 فیصد میں DENV-2 پایا گیا، جبکہ DENV-1 کی شرح تقریباً 21.4 فیصد رہی۔ DENV-3 صرف ایک کیس میں سامنے آیا جبکہ DENV-4 کسی نمونے میں نہیں ملا۔

2021 اور 2022 میں DENV-2 غالب تھا، تاہم 2023 میں اس کی جگہ DENV-1 نسبتاً زیادہ نمایاں ہوگیا۔

اس کے بعد صورتحال پھر بدل گئی۔

2024 میں DENV-2 نے دوبارہ تیزی سے جگہ بنائی اور اس سال جن نمونوں کی قسم متعین کی گئی، ان میں تقریباً 93 فیصد DENV-2 تھے۔ 2025 میں بھی یہی قسم غالب رہی۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان نمونوں کو پورے پاکستان کی مکمل تصویر نہیں سمجھنا چاہئے، کیونکہ زیادہ تر نمونے اسلام آباد، راولپنڈی اور ان علاقوں سے آئے جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو کیسز بھیجتے ہیں۔

کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں مقامی لیبارٹریاں موجود ہیں اور وہاں کے تمام کیس اسلام آباد نہیں بھیجے جاتے۔

! OVERSEAS POST | SEASON ALERTستمبر اور اکتوبر کیوں حساس ہیں؟

تحقیق میں شامل 85 فیصد سے زیادہ کیسز مون سون کے آخری مرحلے اور اس کے بعد سامنے آئے۔

  • بارش کے بعد کھڑا پانی مچھروں کی افزائش بڑھاتا ہے۔
  • نمی اور گرم درجہ حرارت افزائش کے لیے موزوں ماحول بناتے ہیں۔
  • بارش کم ہونے کے بعد بھی کئی ہفتے خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔
overseaspost.net

ستمبر اور اکتوبر زیادہ خطرناک کیوں؟

تحقیق کا سب سے اہم پہلو اس کا موسمی پیٹرن ہے۔

مطالعے میں شامل 85 فیصد سے زیادہ کیسز مون سون کے آخری مرحلے اور اس کے بعد ریکارڈ ہوئے، جبکہ اگست سے اکتوبر تک واضح اضافہ دیکھا گیا۔ بالخصوص ستمبر اور اکتوبر ڈینگی کے سب سے اہم مہینے سامنے آئے۔

مون سون کی بارشوں کے بعد کھڑا پانی، نمی اور مناسب درجہ حرارت Aedes aegypti مچھر کی افزائش کے لئے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔

گھروں کی چھتوں، پانی کے برتنوں، ٹائروں، تعمیراتی مقامات اور نکاسی آب کے ناقص نظام میں جمع پانی مچھروں کی افزائش کی جگہ بن سکتا ہے۔

اسی لئے بارشیں کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہوگیا۔ بہت سے علاقوں میں اصل خطرہ بارشوں کے بعد شروع ہوتا ہے۔

کیا DENV-2 زیادہ خطرناک ہے؟

ماضی کی بعض تحقیقات میں DENV-2 کو شدید ڈینگی کے زیادہ خطرے سے جوڑا گیا ہے، خاص طور پر ایسے افراد میں جو پہلے وائرس کی کسی دوسری قسم سے متاثر ہوچکے ہوں۔

تاہم پاکستان کی نئی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ DENV-2 سے متاثر ہونے والے ہر مریض میں بیماری زیادہ شدید ہوتی ہے۔

OVERSEAS POST | REGIONAL FOCUSسندھ سب سے زیادہ متاثر کیوں نظر آیا؟

تحقیقی اندازوں میں سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سامنے آیا، جہاں 2022 کے لیے تقریباً 26 لاکھ 30 ہزار انفیکشنز کا تخمینہ لگایا گیا۔

زیادہ آبادی، شہری گنجان پن، نکاسی آب کے مسائل اور مچھروں کی افزائش کے مقامات بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

overseaspost.net

محققین کو DENV-1 اور DENV-2 کے مریضوں کی علامات اور خون کے مختلف اشاریوں میں کوئی ایسا واضح فرق نہیں ملا جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ DENV-2 لازماً زیادہ خطرناک ہے۔

اصل تشویش یہ ہے کہ وائرس کی مختلف اقسام وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، جس سے آبادی میں موجود سابقہ مدافعت اور نئی وباؤں کی نوعیت متاثر ہوسکتی ہے۔

اصل چیلنج کیا ہے؟

دونوں تحقیقات مل کر ایک بڑی کمزوری کی طرف اشارہ کرتی ہیں: پاکستان کو یہ جاننے میں ابھی بھی مشکل ہے کہ ڈینگی کا حقیقی بوجھ کتنا بڑا ہے۔

صحت کے نظام کو ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور نگرانی کے نظام کے درمیان بہتر رابطے، زیادہ ٹیسٹنگ اور صوبائی سطح پر وائرس کی اقسام کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

اگر صرف ان مریضوں کو شمار کیا جائے جو ہسپتال پہنچتے یا ٹیسٹ کرواتے ہیں تو بیماری کا بڑا حصہ سرکاری ریکارڈ سے باہر رہ سکتا ہے۔

✓? OVERSEAS POST | WHAT WE KNOWکیا DENV-2 زیادہ خطرناک ہے؟

کیا معلوم ہے؟

کچھ سابقہ تحقیقات نے DENV-2 کو شدید ڈینگی کے زیادہ خطرے سے جوڑا ہے، خاص طور پر دوبارہ انفیکشن کی صورت میں۔

کیا ثابت نہیں؟

پاکستان کی نئی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ DENV-2 سے متاثر ہر مریض کی بیماری لازماً زیادہ شدید ہوگی۔

overseaspost.net

اسی طرح اگر وائرس کی بدلتی ہوئی اقسام کی بروقت نشاندہی نہ ہو تو نئی لہر کے پھیلاؤ کا اندازہ دیر سے ہوسکتا ہے۔

ان دونوں تحقیقات کا مرکزی پیغام یہ نہیں کہ پاکستان میں کوئی نیا وائرس آگیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایک پرانی بیماری مسلسل اپنا دائرہ بڑھا رہی ہے، اس کی مختلف اقسام وقت کے ساتھ بدل رہی ہیں اور مون سون کے بعد ہر سال ایک نئی لہر کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ستمبر اور اکتوبر کے آغاز کے ساتھ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا صحت عامہ کا نظام پچھلی وباؤں سے حاصل کئے گئے اسباق کو عملی اقدامات میں بدل سکے گا، یا ایک بار پھر ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کے بعد خطرے کی گھنٹی بجے گی۔

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع

دونوں روابط اصل peer-reviewed سائنسی تحقیقات کے ہیں، ثانوی خبروں کے نہیں۔

overseaspost.net