براہ راست نشریات

صرف 3 کیسز: پاکستان پولیو کی جنگ اب تک کیوں نہیں جیت سکا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان میں پولیو 2026

پاکستان میں پولیو کیسز 2024 کے 74 سے کم ہوکر 2026 میں صرف 3 رہ گئے، مگر یہ اعداد مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں۔
چونکہ ہر 200 متاثرہ افراد میں سے تقریباً ایک کو فالج ہوتا ہے، اس لیے سیوریج کے مثبت نمونے وائرس کی خاموش گردش کا زیادہ اہم ثبوت ہیں۔
ویکسین سے بار بار محروم رہنے والے بچے، بدامنی، نقل مکانی، ناقص صفائی، بعض علاقوں میں عدم اعتماد اور افغانستان سے جڑی سرحدی آمدورفت اس تاریخی مہم کے آخری مرحلے کو مشکل بنا رہی ہے۔

مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے باوجود 

سیوریج میں وائرس کی موجودگی برقرار
ویکسین سے محروم بچے، بدامنی، عدم اعتماد 

اور مالی دباؤ پولیو کے خاتمے کی راہ میں آخری بڑی رکاوٹیں

OVERSEAS POST  |  PREMIUM HEALTH STORY

حیدر آباد کے ایک محلے میں خاتون ہیلتھ ورکر دروازے پر دستک دیتی ہے، بچوں کو پولیو ویکسین کے دو قطرے پلاتی اور ان کی انگلی پر نشان لگا دیتی ہے۔ 

یہی منظر کراچی کی گلیوں، سندھ کے دیہات، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں اور پاک افغان سرحد کے قریب واقع آبادیوں میں بار بار دکھائی دیتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان پولیو کے خلاف تاریخی فتح کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔

29 جولائی 2026 تک ملک میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے صرف 3 کیسز سامنے آئے، جبکہ 2025 میں 31 اور 2024 میں 74 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ 

رواں سال کے 3 کیسز سندھ کے ضلع سجاول، خیبر پختونخوا کے بنوں اور شمالی وزیرستان میں سامنے آئے۔ 

تازہ ترین متاثرہ بچے میں فالج کی علامات 7 اپریل کو ظاہر ہوئی تھیں۔

لیکن لیبارٹریوں سے آنے والی اطلاعات ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہیں۔ سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس بدستور پایا جا رہا ہے۔ 

مزید پڑھیں

جولائی میں سندھ سے حاصل کیے گئے مزید دو ماحولیاتی نمونے بھی مثبت نکلے۔ 

اس کا مطلب ہے کہ کئی ماہ سے فالج کا نیا کیس سامنے نہ آنے کے باوجود وائرس خاموشی سے گردش کر رہا ہے۔ 

پاکستان آج اسی تضاد کا سامنا کر رہا ہے: 

ملک پولیو کے خاتمے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، لیکن

 ابھی تک حتمی کامیابی کا اعلان نہیں کرسکتا۔

نظر آنے والے کیسز اصل تصویر کا ایک چھوٹا حصہ

پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر آلودہ پانی، خوراک یا متاثرہ شخص کے فضلے کے ذریعے پھیلتی ہے۔ 

وائرس سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد میں واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن وہ دوسرے لوگوں تک وائرس منتقل کرسکتے ہیں۔

۵ اہم ہائی لائٹس کھولیں بند کریں
  • صرف تین کیسز: ۲۰۲۶ میں پاکستان میں اب تک وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
  • نمایاں کمی: ۲۰۲۵ میں ۳۱ اور ۲۰۲۴ میں ۷۴ کیسز کے مقابلے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
  • وائرس اب بھی موجود: سیوریج کے مثبت نمونے خاموش گردش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
  • بڑی قومی مہم: اپریل ۲۰۲۶ میں ۴ کروڑ ۴۸ لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی۔
  • آخری مرحلہ مشکل: بدامنی، نقل مکانی، عدم اعتماد اور پاک افغان آمدورفت بڑی رکاوٹیں ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے تقریباً ہر 200 افراد میں سے صرف ایک کو ناقابلِ علاج فالج لاحق ہوتا ہے۔ 

فالج کا شکار ہونے والوں میں سے 5 سے 10 فیصد مریض سانس لینے والے پٹھوں کے مفلوج ہونے کے باعث جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

ایک مرتبہ مستقل فالج ہوجانے کے بعد اسے ختم کرنے والا کوئی علاج موجود نہیں، اسی لیے ویکسین ہی اس بیماری سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ 

اس سائنسی حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں رپورٹ ہونے والے 3 کیسز، وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی حقیقی تعداد کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔ ممکن ہے درجنوں یا سیکڑوں افراد وائرس لے کر گھوم رہے ہوں لیکن ان میں فالج کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔

اسی خطرے کو جانچنے کے لیے ماہرین سیوریج کے نمونوں کا معائنہ کرتے ہیں۔ سیوریج میں وائرس کی موجودگی اس وقت بھی اس کے پھیلاؤ کا سراغ دے سکتی ہے جب کسی اسپتال میں فالج کا کوئی مریض موجود نہ ہو۔

پولیو کے خاتمے کے لیے سرگرم عالمی پروگرام کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اپریل کے بعد فالج کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، لیکن سندھ کے سیوریج میں وائرس کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ اس کی منتقلی ابھی مکمل طور پر نہیں رکی۔ 

۳ فیکٹ باکس کھولیں بند کریں
۳پولیو کیسز
۲۰۲۶
۳۱پولیو کیسز
۲۰۲۵
۷۴پولیو کیسز
۲۰۲۴
۴.۴۸ کروڑاپریل مہم میں ویکسین پانے والے بچے
۴.۱۳ لاکھ+فرنٹ لائن پولیو کارکن
۱ از ۲۰۰انفیکشن سے مستقل فالج کا امکان

۲۰۲۶ کے تینوں پاکستانی کیسز وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون سے متعلق ہیں، ویکسین سے پیدا ہونے والے وائرس سے نہیں۔

چند ہفتوں یا مہینوں تک نیا کیس سامنے نہ آنا بھی ملک کو پولیو سے پاک قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ 

روایتی عالمی معیار کے تحت مسلسل3 برس تک کسی ذریعے سے وائلڈ پولیو وائرس کی منتقلی ثابت نہ ہو اور اس دوران نگرانی کا قابلِ اعتماد نظام بھی فعال رہے، تب کسی خطے کو پولیو سے پاک قرار دینے پر غور کیا جاتا ہے۔ 

20 ہزار سالانہ کیسز سے صرف تین تک

موجودہ خدشات کے باوجود پاکستان کی کامیابی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 

1990 کی دہائی کے آغاز میں ملک میں ہر سال اندازاً 20 ہزار بچے پولیو کا شکار ہوتے تھے۔

1994 میں قومی انسدادِ پولیو پروگرام شروع ہونے کے بعد کیسز میں 99 فیصد سے زیادہ کمی آچکی ہے۔

فروری 2026 میں پاکستان نے تقریباً 4 لاکھ تربیت یافتہ پولیو ورکرز کو متحرک کیا، جن کا ہدف 5 سال سے کم عمر تقریباً ساڑھے 4 کروڑ بچوں تک پہنچنا تھا۔

دو ماہ بعد افغانستان کے ساتھ بیک وقت چلائی گئی قومی مہم کے دوران پاکستان میں 4 کروڑ 48 لاکھ بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔ 

اس مہم میں 4 لاکھ 13 ہزار سے زیادہ فرنٹ لائن ورکرز نے حصہ لیا، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔

ہم سے جڑے رہیں

پاکستانی پروگرام کے مطابق اپریل کی مہم میں ویکسین سے انکار کی شرح 0.15 فیصد سے کم رہی۔ 

فروری 2025 کی مہم کے مقابلے میں انکار کرنے والے خاندانوں کی تعداد میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی۔

یہ اعداد و شمار ویکسین کی بڑھتی ہوئی قبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن قومی سطح پر بلند شرح بعض چھوٹے مگر خطرناک خلا کو چھپا سکتی ہے۔

وائرس کی موجودگی والے علاقے میں اگر صرف ایک بچہ بھی بار بار ویکسین سے محروم رہے تو وہ بیماری کا شکار ہو کر اسے آگے منتقل کرسکتا ہے۔ 

خاص طور پر ایسی آبادیوں میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے جہاں سیوریج کا نظام خراب ہو یا بچوں کو باقاعدہ حفاظتی ٹیکے نہ لگائے گئے ہوں۔

اصل مسئلہ کروڑوں بچوں تک پہنچنا نہیں، بلکہ ان مخصوص بچوں کو تلاش کرنا ہے جو ہر مہم میں کسی نہ کسی وجہ سے ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں۔

وائرس کہاں چھپا ہوا ہے؟

سب سے مشکل رکاوٹیں جنوبی خیبر پختونخوا، شمالی وزیرستان اور بنوں میں موجود ہیں۔ 

سندھ کے بعض حصے اور کراچی جیسے گنجان آباد شہری علاقے بھی خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں۔

ان علاقوں میں صحت کی کمزور سہولتیں، آلودہ پانی، ناقص سیوریج، غربت، نقل مکانی، بدامنی اور حفاظتی ٹیکوں کی کم شرح جیسے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

! یہ کیوں اہم ہے؟ کھولیں بند کریں

پولیو کا ایک نظر آنے والا کیس وائرس کے سیکڑوں خاموش انفیکشنز کی علامت ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر متاثرہ افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن وہ وائرس دوسروں تک منتقل کرسکتے ہیں۔

اسی لیے صرف مریضوں کی تعداد صفر ہونا کافی نہیں؛ سیوریج کے نمونوں میں بھی وائرس کا مسلسل غائب ہونا ضروری ہے۔

پاکستان کی صورتحال کو افغانستان سے الگ کرکے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ 

یہ دنیا کے صرف دو ممالک ہیں جہاں وائلڈ پولیو وائرس اب بھی مستقل طور پر موجود ہے۔ 

طبی ماہرین دونوں ممالک کو ایک ہی وبائی خطہ سمجھتے ہیں۔

کارکن، مہاجر خاندان، قبائلی اور خانہ بدوش آبادی مسلسل سرحد عبور کرتی رہتی ہے۔ 

ان لوگوں کے ساتھ ایسا وائرس بھی ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ سکتا ہے جسے کسی پاسپورٹ یا سفری اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اسی وجہ سے اپریل 2026 میں پاکستان اور افغانستان نے اپنی قومی پولیو مہمات ایک ساتھ چلائیں۔ 

پاکستان میں 4 کروڑ 48 لاکھ جبکہ افغانستان میں 5 سال سے کم عمر ایک کروڑ 28 لاکھ بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔

سرحد کے ایک طرف کامیابی کافی نہیں ہوگی، اگر دوسری جانب وائرس کے محفوظ ٹھکانے برقرار رہیں۔ 

عدم اعتماد کا مسئلہ صرف ویکسین تک محدود نہیں

ہر خاندان پولیو ویکسین سے متعلق دشمنی کی وجہ سے انکار نہیں کرتا۔ 

بعض غریب آبادیوں کے لوگ سوال کرتے ہیں کہ پولیو ٹیمیں بار بار ان کے دروازوں تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن صاف پانی، ڈاکٹر، ضروری ادویات اور دوسری بنیادی سہولتیں کیوں دستیاب نہیں ہوتیں؟

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

کچھ والدین محسوس کرتے ہیں کہ حکومت اور عالمی اداروں کو ان کے بچے صرف پولیو مہم کے وقت یاد آتے ہیں۔ 

ایسے ماحول میں افواہیں تیزی سے جگہ بناتی ہیں۔

ان میں ویکسین سے بانجھ پن پیدا ہونے، بچوں کو ضرورت سے زیادہ خوراکیں دینے یا اسے مغربی سازش قرار دینے جیسے بے بنیاد دعوے شامل ہیں۔

2011 میں اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے کے لیے امریکی خفیہ ادارے کی جانب سے ہیپاٹائٹس کی جعلی ویکسین مہم کے استعمال نے بھی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ 

موجودہ پولیو ویکسین محفوظ اور عالمی سطح پر منظور شدہ ہونے کے باوجود اس واقعے کے اثرات بعض علاقوں میں آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین اب پولیو ویکسین کو صحت کی دوسری سہولتوں سے جوڑنے پر زور دے رہے ہیں۔ 

ان میں بچوں کی غذائیت، ماں اور بچے کی صحت، معمول کے حفاظتی ٹیکے اور صاف پانی کی فراہمی شامل ہیں۔

جب مقامی آبادی کو محسوس ہو کہ ہیلتھ ورکر صرف پولیو کے دو قطرے پلانے نہیں بلکہ ان کے روزمرہ مسائل میں مدد کرنے آیا ہے تو ویکسین قبول کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ 

PK پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ کھولیں بند کریں

پاکستان پولیو کے خاتمے کا تقریباً ۹۹.۸ فیصد سفر مکمل کرچکا ہے۔ اب اصل مسئلہ قومی سطح پر ویکسین کی کمی نہیں بلکہ وہ مخصوص بچے اور علاقے ہیں جو ہر مہم میں رہ جاتے ہیں۔

  • ہدف بدل گیا: مجموعی کوریج سے بڑھ کر ہر محروم بچے کی درست شناخت ضروری ہے۔
  • مقامی حل: جنوبی خیبرپختونخوا اور سرحدی علاقوں کے حالات کے مطابق حکمت عملی درکار ہے۔
  • اعتماد فیصلہ کن: خاندانوں، علما اور مقامی صحت کارکنوں سے مستقل رابطہ رسائی بہتر بنا سکتا ہے۔

خطرے کے سامنے کھڑی خواتین ہیلتھ ورکرز

پاکستانی پولیو مہم بڑی حد تک خواتین کارکنوں پر انحصار کرتی ہے۔ 

خواتین ہیلتھ ورکرز ایسے گھروں کے اندر جاسکتی ہیں جہاں مرد کارکنوں کا داخلہ ممکن نہیں اور وہ ماؤں سے براہِ راست بات کرکے ان کے خدشات دور کرسکتی ہیں۔

مگر یہ ٹیمیں انتہائی خطرناک حالات میں کام کرتی ہیں۔ 

پاکستانی حکام کے مطابق 1990 کی دہائی سے اب تک پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں سمیت 200 سے زیادہ افراد حملوں میں جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

2026 کے دوران بھی خصوصاً شمال مغربی علاقوں میں پولیو ٹیموں اور ان کے محافظوں پر حملے جاری رہے۔

ان حملوں کا نقصان صرف ہلاک یا زخمی ہونے والوں تک محدود نہیں رہتا۔ 

ہر حملے کے بعد مہم روکنا، کارکنوں کی نقل و حرکت محدود کرنا یا بعض دیہات کو عارضی طور پر چھوڑنا پڑتا ہے۔ 

اس طرح پورے علاقے کے بچے ویکسین سے محروم ہوسکتے ہیں۔

سعودی زاویہ کھولیں بند کریں
  • ۵۰۰ ملین ڈالر: سعودی عرب نے عالمی انسدادِ پولیو اقدام کے لیے پانچ سالہ مالی تعاون کی توثیق کی ہے۔
  • پاکستان اور افغانستان: اس تعاون کا اہم مقصد دونوں ملکوں میں وائلڈ پولیو وائرس کا خاتمہ ہے۔
  • ۲۸ لاکھ خوراکیں: شاہ سلمان امدادی مرکز اور یونیسف کی شراکت سے پولیو ویکسین کی ۲۸ لاکھ خوراکیں خرید کر پاکستان میں تقسیم کی گئیں۔
  • صحت کا نظام: کارکنوں کی تربیت، ویکسین کی نگرانی اور منتخب طبی مراکز کی سہولتیں بھی بہتر بنائی گئیں۔

دوسری جانب ٹیموں کے ساتھ بھاری سکیورٹی کی موجودگی اگرچہ ضروری ہے، لیکن بعض لوگوں کے ذہن میں یہ مہم صحت کی سرگرمی کے بجائے سکیورٹی آپریشن کا تاثر پیدا کرسکتی ہے۔

کیا مہم کے اعداد و شمار ہمیشہ حقیقت بیان کرتے ہیں؟

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تفصیلی تحقیقات میں بعض سابقہ مہمات سے متعلق دستاویزات اور کارکنوں کے بیانات سامنے آئے تھے۔

ان میں بچوں کو ویکسین پلائے بغیر سرکاری ریکارڈ میں ویکسین شدہ ظاہر کرنے، غیر تربیت یافتہ افراد کو ذمہ داریاں دینے اور مطلوبہ درجہ حرارت پر ویکسین محفوظ نہ رکھنے جیسے الزامات شامل تھے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مہمات یا ان کے تمام اعداد و شمار غلط ہیں۔ 

تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کامیابی کا معیار صرف تقسیم کی گئی خوراکوں کی مجموعی تعداد ہونی چاہئے یا یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ سب سے زیادہ خطرے میں موجود بچوں کو حقیقی تحفظ ملا یا نہیں۔

کیا ثابت ہے—اور کیا نہیں؟ کھولیں بند کریں

ثابت شدہ حقائق

  • ۲۰۲۶ میں پاکستان کے تین کیسز رپورٹ ہوئے۔
  • تینوں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے کیسز ہیں۔
  • سیوریج نمونوں میں وائرس کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔
  • مسلسل ویکسینیشن اور نگرانی ضروری ہے۔

ابھی ثابت نہیں

  • کئی ماہ کیس نہ آنا وائرس کے خاتمے کا ثبوت نہیں۔
  • قومی کوریج ہر ہائی رسک بچے کے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں۔
  • مثبت سیوریج نمونہ متاثرہ افراد کی درست تعداد نہیں بتاتا۔
  • حتمی اعلان کے لیے مسلسل منفی نگرانی درکار ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو مہمات نے اربوں بچوں کو محفوظ کیا اور اندازاً دو کروڑ افراد کو فالج سے بچایا۔ 

ادارے نے نگرانی، جواب دہی اور مہمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا ہے۔ 

قطروں کی جگہ صرف انجیکشن کیوں نہیں؟

منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین میں کمزور کیا گیا وائرس شامل ہوتا ہے۔ اسے پلانا آسان اور کم خرچ ہے، جبکہ یہ آنتوں میں قوتِ مدافعت پیدا کرتی ہے۔ آنتوں کی یہی قوتِ مدافعت وائرس کو فضلے اور آلودہ پانی کے ذریعے پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی غیر فعال پولیو ویکسین فالج سے مضبوط تحفظ فراہم کرتی ہے، لیکن آنتوں میں اتنی مؤثر قوتِ مدافعت پیدا نہیں کرتی۔ 

اس لیے صرف انجیکشن لینے والا شخص خود فالج سے محفوظ ہونے کے باوجود وائرس کو اپنی آنتوں میں لے کر اسے دوسروں تک منتقل کرسکتا ہے۔

60″ ایک منٹ میں کہانی کھولیں بند کریں
پاکستان میں پولیو کیسز تیزی سے کم ہوئے اور ۲۰۲۶ میں اب تک صرف تین کیسز رپورٹ ہوئے۔
لیکن سیوریج میں وائرس کی موجودگی بتاتی ہے کہ بیماری خاموشی سے گردش کررہی ہے۔
تقریباً ہر ۲۰۰ انفیکشنز میں سے ایک مستقل فالج کا سبب بنتا ہے؛ اس لیے چند کیسز کے پیچھے متعدد خاموش انفیکشنز ہوسکتے ہیں۔
اصل چیلنج ان بچوں تک پہنچنا ہے جو بدامنی، نقل مکانی، غربت یا عدم اعتماد کے باعث ہر مہم میں رہ جاتے ہیں۔

انتہائی کم حفاظتی شرح والے علاقوں میں غیر معمولی حالات کے دوران منہ سے دی جانے والی ویکسین کا کمزور وائرس طویل عرصے تک گردش کرکے جینیاتی طور پر تبدیل ہوسکتا ہے۔ 

اسے ویکسین سے ماخوذ پولیو وائرس کہا جاتا ہے۔

تاہم پاکستان میں 2026 کے دوران سامنے آنے والے تینوں کیسز وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے ہیں، یہ ویکسین کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئے۔

عالمی طبی اداروں کا تجویز کردہ حل منہ سے دی جانے والی ویکسین کو اچانک ختم کرنا نہیں، بلکہ قطروں اور انجیکشن کا مناسب امتزاج استعمال کرنا اور حفاظتی شرح اتنی بلند رکھنا ہے کہ کسی بھی قسم کے وائرس کو ویکسین سے محروم بچے نہ مل سکیں۔

مشکل ترین مرحلہ، مگر وسائل کم

پولیو کے خلاف آخری مرحلہ ایسے وقت آیا ہے جب عالمی امداد کم ہورہی ہے۔ 

عالمی پولیو پروگرام نے 2026 کا مجوزہ بجٹ 30 فیصد کم کرکے ایک ارب 13 کروڑ ڈالر سے 78 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کردیا ہے۔

اس کے باوجود 2029 تک کی حکمت عملی کے لیے تقریباً ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی مالی کمی برقرار ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

اس اہم مرحلے پر سعودی عرب کا کردار نمایاں ہوا ہے۔ 

مملکت نے عالمی پولیو پروگرام کے لیے 500 ملین ڈالر دینے کے وعدے کی توثیق کی، جس میں سے 300 ملین ڈالر عالمی ادارۂ صحت اور 200 ملین ڈالر یونیسف کو فراہم کیے جانے ہیں۔

اس مالی تعاون کے ذریعے ہر سال تقریباً 37 کروڑ خوراکیں دینے میں مدد ملے گی، جبکہ خاص توجہ پاکستان اور افغانستان میں وائلڈ پولیو وائرس ختم کرنے پر ہوگی۔

شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات اور یونیسف کے تعاون سے پاکستان میں 28 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین پلائی گئی۔ 

اس منصوبے کے تحت دور دراز علاقوں میں صحت مراکز، ویکسین محفوظ رکھنے کے نظام اور نومولود بچوں کی ویکسینیشن کو بھی بہتر بنایا گیا۔

متبادل منصوبہ کیا ہوسکتا ہے؟

متبادل منصوبے کا مطلب ویکسین ترک کرنا نہیں، کیونکہ پولیو سے فالج ہوجانے کے بعد اسے ختم کرنے والی کوئی دوا موجود نہیں۔

صل ضرورت ایسی وسیع مہمات سے آگے بڑھنے کی ہے جو کامیابی کو صرف کروڑوں بچوں کی مجموعی تعداد سے ناپتی ہیں۔ 

نئی حکمت عملی کا مرکز وہ مخصوص بچہ ہونا چاہیے جو ہر مہم میں بار بار ویکسین سے محروم رہ جاتا ہے۔

مختصر تجزیہ کھولیں بند کریں
پاکستان پولیو کے خلاف جنگ نہیں ہار رہا؛ وہ اس کے سب سے مشکل آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

اب وسیع مہمات کے ساتھ درست مقامی اعداد، سیوریج کی نگرانی، پاک افغان تعاون، بنیادی طبی سہولتیں اور ویکسین سے محروم ہر بچے کی شناخت فیصلہ کن ہوگی۔

مقامی اعداد سیوریج نگرانی سرحدی تعاون بنیادی صحت ہر بچے تک رسائی

اس مقصد کے لیے آبادی کے نقشے مسلسل اپ ڈیٹ کرنا، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کا سراغ لگانا، وائرس کے جینیاتی تجزیے سے اس کے سفر کا پتا لگانا اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔

اس کے ساتھ ویکسین کو صاف پانی، غذائیت اور بنیادی طبی سہولتوں سے جوڑنا، مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ٹیموں میں شامل کرنا، اعداد و شمار کی آزادانہ جانچ اور افغانستان کے ساتھ مہمات کا مسلسل رابطہ ضروری ہوگا۔

7 ماہ میں صرف 3 کیسز سامنے آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ پاکستان جنگ ہار رہا ہے۔ 

اس کے برعکس، یہ کئی برسوں میں بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا بہترین موقع ہوسکتا ہے۔

لیکن حقیقی فتح اس دن حاصل نہیں ہوگی جب پولیو سے متاثرہ آخری بچے کی خبر آنا بند ہوجائے گی۔ 

کامیابی کا اصل دن وہ ہوگا جب پاکستان کے سیوریج کے نمونوں سے بھی وائرس غائب ہوجائے گا۔

پاکستان پولیو کے خاتمے کا 99.8 فیصد سفر مکمل کرچکا ہے۔ 

بیماریوں کے خاتمے کی تاریخ مگر ایک تلخ حقیقت بتاتی ہے: 

باقی رہ جانے والا آخری اور بظاہر مختصر فاصلہ ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

💧

اصل اور بنیادی ذرائع

پاکستان میں پولیو کیسز، قومی ویکسینیشن مہمات، سیوریج نگرانی اور سعودی تعاون سے متعلق بنیادی سرکاری ذرائع

9 بنیادی ذرائع
پاکستان میں پولیو کی تازہ صورتِ حال
عالمی ادارۂ صحت — پولیو کا ہفتہ وار بلیٹن
پاکستان میں 2026 کے تین پولیو کیسز، 2025 کے 31 کیسز، 2024 کے 74 کیسز اور سیوریج نگرانی کے تازہ اعداد کا بنیادی سرکاری ماخذ۔
عالمی سرکاری طبی ماخذ
PDF پڑھیں ↗
عالمی انسدادِ پولیو اقدام — وائلڈ پولیو وائرس کا لائیو ریکارڈ
پاکستان سمیت دنیا بھر میں وائلڈ پولیو وائرس کے تازہ تصدیق شدہ کیسز اور سالانہ تقابلی اعداد فراہم کرنے والا مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والا ریکارڈ۔
تازہ عالمی ڈیٹا
ریکارڈ دیکھیں ↗
قومی اور سرحد پار ویکسینیشن مہمات
پاکستان پولیو خاتمہ پروگرام — دوسری قومی مہم
دوسری ملک گیر پولیو مہم کے دوران پاکستان میں چار کروڑ 48 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے سے متعلق سرکاری تفصیلات۔
پاکستانی سرکاری ماخذ
اعلان پڑھیں ↗
پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ پولیو مہم
اپریل 2026 کی ہم وقت ویکسینیشن مہم، دونوں ممالک کے درمیان وائرس کی سرحد پار منتقلی اور مشترکہ انسدادِ پولیو حکمتِ عملی کی تفصیلات۔
بین الاقوامی مشترکہ مہم
تفصیلات پڑھیں ↗
سعودی تعاون اور پولیو کارکن
عالمی ادارۂ صحت — پاکستان میں سعودی تعاون
پاکستان کے چار لاکھ 13 ہزار سے زیادہ پولیو کارکنوں، ملک گیر حفاظتی مہم اور شاہ سلمان امدادی مرکز کے تعاون کی سرکاری تفصیلات۔
پاکستان–سعودی تعاون
رپورٹ پڑھیں ↗
سعودی عرب کی 500 ملین ڈالر کی عالمی وابستگی
سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے 500 ملین امریکی ڈالر فراہم کرنے کے عزم کا بنیادی ماخذ۔
سعودی عالمی معاونت
اصل اعلان ↗
یونیسف اور شاہ سلمان امدادی مرکز — پاکستان میں حفاظتی ٹیکے
شاہ سلمان امدادی مرکز کے تعاون سے پاکستان میں پولیو ویکسین کی 28 لاکھ خوراکیں خریدنے اور تقسیم کرنے کے منصوبے کی اصل تفصیلات۔
یونیسف کا اصل ریکارڈ
رپورٹ پڑھیں ↗
طبی حقائق اور تاریخی اعداد
عالمی ادارۂ صحت — پولیو سے متعلق طبی حقائق
پولیو وائرس، اس کے پھیلاؤ، علامات اور ہر 200 انفیکشنز میں تقریباً ایک انفیکشن کے مستقل فالج کا سبب بننے سے متعلق مستند طبی رہنمائی۔
سرکاری طبی رہنمائی
حقائق پڑھیں ↗
عالمی ادارۂ صحت — پاکستان پولیو رپورٹ 2024
پاکستان میں 2024 کے 74 پولیو کیسز، 628 مثبت سیوریج نمونوں اور وائرس کے جغرافیائی پھیلاؤ سے متعلق تفصیلی سرکاری رپورٹ۔
تفصیلی سالانہ رپورٹ
PDF پڑھیں ↗