مچھروں کو عام طور پر انتہائی معمولی دماغ رکھنے والے جاندار سمجھا جاتا ہے، تاہم فرانس اور امریکا کی مشترکہ سائنسی تحقیق نے اس فرسودہ تصور کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھر نہ صرف سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ انسانی تیار کردہ مچھر مار ادویات کے خلاف بھی خود کو ڈھال سکتے ہیں۔
یہ انکشاف انسانی صحت کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔
شائع ہوئی ہے، جس میں مچھروں پر کلاسیکل کنڈیشننگ کے تجربات کیے گئے، جو عموماً ممالیہ جانوروں کی ذہانت کو پرکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
فرانس کی یونیورسٹی آف ٹورز کے انسٹی ٹیوٹ آف انسیکٹ بائیولوجی ریسرچ اور امریکا کی ورجینیا ٹیک کالج آف ایگریکلچر اینڈ لائف سائنسز کے محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا مچھر کسی مخصوص بُو کو ’کھانے کی دعوت‘ سمجھ سکتے ہیں؟
تجربات کے لیے ایڈیس ایجپٹی نامی مچھروں کا انتخاب کیا گیا، جو ڈینگی، زیکا، یلو فیور اور چکن گونیا جیسی مہلک بیماریوں کو پھیلانے کا مرکزی ذریعہ ہیں۔
ڈی ای ای ٹی: ایک مؤثر مگر مشکوک ہتھیار
تحقیق کا سب سے اہم اور حیران کن حصہ ڈی ای ای ٹی نامی مرکب کا استعمال تھا۔
یہ کیمیکل 1946 میں امریکی فوج کے لیے تیار کیا گیا تھا اور 1957 سے عام شہری استعمال میں دنیا کا سب سے مقبول مچھر مار سمجھا جاتا ہے۔
اس کی افادیت کا راز یہ ہے کہ یہ مچھر کے کیمیائی سینسرز کو الجھا دیتا ہے، جس سے وہ انسانی جلد کی بو کو محسوس نہیں کر پاتا اور یوں مچھر کا ٹریکنگ سسٹم جام ہو جاتا ہے۔
محققین نے یہ جاننا چاہا کہ کیا مچھر اس ناپسندیدہ بو کو خوراک کے ساتھ جوڑ کر اپنی فطری نفرت کو ختم کر سکتے ہیں؟
جب مچھر تربیت یافتہ ہو جائیں
محققین نے تجربے کے دوران مچھروں کو گرم خون (خوراک) پیش کیا اور ساتھ ہی ڈی ای ای ٹی کی بو خارج کی۔ کئی بار دہرائے جانے والے اس عمل کے بعد جب دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا تو نتائج انتہائی غیر متوقع تھے:
- جن مچھروں کو تربیت نہیں دی گئی تھی، انہوں نے ڈی ای ای ٹی کی بو سے واضح اجتناب کیا، جو اس کے مسترد ہونے کی تصدیق تھی۔
- دوسری طرف تربیت یافتہ مچھروں میں سے 60 فیصد سے زائد نے بو کے باوجود کاٹنے یا نزدیک آنے کی کوشش کی۔
- انسانی ہاتھ پر کیے گئے تجربے میں بھی وہی نتائج سامنے آئے۔ غیر تربیت یافتہ مچھروں نے دوا لگی جلد سے دُوری اختیار کی، جبکہ تربیت یافتہ مچھروں نے اس کے باوجود حملہ کیا۔
سائنسی تجزیہ
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ڈی ای ای ٹی اب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ یہ اب بھی دنیا کا سب سے طاقتور کیمیکل ہے۔
یہ تجربہ ایک مخصوص کنٹرول شدہ لیبارٹری ماحول میں کیا گیا، جہاں قدرتی ماحول کے دیگر عوامل نہیں تھے۔
تاہم یہ تحقیق اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ مچھروں کا رویہ مکمل طور پر جامد یا طے شدہ نہیں، بلکہ وہ تجربے کے ساتھ اپنے رویے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اگر مچھر بار بار اس بو کے ساتھ زندہ بچ جانے یا خوراک حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو ان میں اس دوا کے خلاف مزاحمتی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ سائنسی انکشاف انسانیت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ہمیں مستقبل میں مچھروں سے بچاؤ کے لیے محض کیمیکلز پر انحصار کرنے کے بجائے نئے اور زیادہ پیچیدہ طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔
مچھروں کا یہ سیکھنے کا عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فطرت کا یہ چھوٹا سا جاندار اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے تیزی سے ارتقا پذیر ہے۔