دنیا کے بیشتر حصوں سے جنگلی پولیو وائرس ختم ہو چکا ہے، مگر پاکستان اور افغانستان اب بھی اس کے آخری دو بڑے مراکز ہیں۔
ویکسین سے محروم بچے، سکیورٹی مسائل، سرحدی نقل و حرکت اور سیوریج میں وائرس کی موجودگی مکمل خاتمے کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہمات میں سے ایک کے بعد جنگلی پولیو وائرس اب صرف دو ممالک، پاکستان اور افغانستان تک محدود رہ گیا ہے۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت نے 25 اگست 2026 کو پولیو کے عالمی پھیلاؤ کے خطرے سے متعلق صحت کی ہنگامی حالت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
عالمی ادارۂ صحت کی بین الاقوامی صحت ضوابط سے متعلق ایمرجنسی کمیٹی کے مطابق وائرس کے اہم مراکز افغانستان کے جنوبی علاقوں، پاکستان کے جنوبی خیبر پختونخوا اور کراچی میں موجود ہیں۔
بعض علاقوں میں پولیو کیسز اور سیوریج کے نمونوں میں وائرس کی موجودگی کم ہوئی ہے، لیکن عالمی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا خطرہ اب بھی ختم نہیں ہوا۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات⌄
- ✓دنیا میں جنگلی پولیو وائرس اب بنیادی طور پر پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے۔
- ✓2026 میں افغانستان میں 19 اور پاکستان میں اب تک 3 کیسز رپورٹ ہوئے۔
- ✓پاکستان میں جنوبی خیبر پختونخوا اور کراچی اب بھی اہم وبائی مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
- ✓سیوریج میں وائرس کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ بیماری خاموشی سے پھیل سکتی ہے۔
- ✓پولیو کے خاتمے کی اصل شرط یہ ہے کہ ایک بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان میں 2026 کے دوران جنگلی پولیو وائرس ٹائپ ون کے 19 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب پاکستان میں رواں سال اب تک 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بنوں، شمالی وزیرستان اور سندھ کے ضلع سجاول کے کیس شامل ہیں۔
لیکن صرف ظاہر ہونے والے کیسز پولیو کی اصل تصویر نہیں دکھاتے۔
پولیو وائرس بڑی تعداد میں بچوں کے درمیان خاموشی سے پھیل سکتا ہے اور کئی بچوں میں کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔
پاکستانی ماہرین کے مطابق ایک بچے میں فالج کا کیس سامنے آنے کے پیچھے تقریباً 200 ایسے بچے موجود ہو سکتے ہیں جو وائرس لے کر گھوم رہے ہوں مگر ان میں بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXپولیو: فیکٹ باکس⌄
- وائرس
- Wild Poliovirus Type 1
- زیادہ خطرے کی عمر
- 5 سال سے کم بچے
- 2026 — پاکستان
- 3 کیسز
- 2026 — افغانستان
- 19 کیسز
- 2024 مجموعی کیسز
- 99
- 2025 مجموعی کیسز
- 52
- اہم بات
- وائرس علامات کے بغیر بھی بچوں میں گردش کرسکتا ہے، اسی لیے سیوریج مانیٹرنگ نہایت اہم ہے۔
اسی وجہ سے پاکستانی حکام صرف ہسپتالوں میں سامنے آنے والے کیسز پر انحصار نہیں کرتے بلکہ مختلف شہروں کے سیوریج اور گندے پانی کے نمونے بھی مسلسل چیک کئے جاتے ہیں۔ اگر کسی شہر کے سیوریج میں پولیو وائرس مل جائے تو اسے اس علاقے میں وائرس کے خاموش پھیلاؤ کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں جنوبی خیبر پختونخوا اب بھی پولیو کے خلاف مہم کا سب سے مشکل محاذ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں تک باقاعدگی سے رسائی ممکن نہیں ہو پاتی، جس کی بڑی وجہ بعض علاقوں کی سکیورٹی صورت حال ہے۔
دوسری جانب دو کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا کراچی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔
شہر کی بہت زیادہ آبادی، اندرون ملک نقل مکانی اور مسلسل لوگوں کی آمدورفت وائرس کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
بعض اوقات شہر میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آتا، لیکن سیوریج کے نمونوں میں وائرس موجود رہتا ہے۔
◎OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کہانی کیوں اہم ہے؟⌄
پولیو کی موجودگی صرف ایک بیماری کا مسئلہ نہیں؛ یہ تین بڑے سوالات سے جڑی ہے:
افغانستان کا مسئلہ قدرے مختلف ہے، لیکن بنیادی سوال وہاں بھی یہی ہے کہ ہر بچے تک ویکسین کیسے پہنچائی جائے؟
اکتوبر 2024 کے بعد افغانستان کے کئی علاقوں میں گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلانے کی مہمات پہلے کی طرح نہیں ہو سکیں۔
بہت سی جگہوں پر خاندانوں کو مخصوص مراکز پر بچوں کو لے جا کر ویکسین لگوانا پڑتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس طریقۂ کار میں خصوصاً چھوٹے بچوں کے ویکسین سے محروم رہ جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہی پولیو کے خاتمے کی سب سے بڑی مشکل ہے۔
دنیا وائرس کو تقریباً ختم کر چکی ہے، لیکن آخری مرحلہ سب سے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کو ماہرین ایک ہی وبائی خطے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ آتے جاتے ہیں۔ مہاجرین، بے گھر خاندانوں اور سرحدی آبادیوں کی نقل و حرکت وائرس کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہونے کا موقع دیتی ہے۔
اس کے باوجود پیش رفت نمایاں ہے۔
✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا احتیاط چاہتا ہے؟⌄
مصدقہ معلومات
- جنگلی پولیو وائرس کی مقامی گردش پاکستان اور افغانستان میں برقرار ہے۔
- کم کیسز کے باوجود سیوریج میں وائرس کی موجودگی اہم نگرانی کا اشارہ ہے۔
- ویکسین بیماری سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ہے۔
- ویکسین سے محروم بچے وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
ادارتی احتیاط
- صرف کیسز کی کمی کو پولیو کے خاتمے کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔
- سیوریج میں مثبت نمونے کا مطلب لازماً فالج کا نیا کیس نہیں ہوتا۔
- اعداد و شمار کو تاریخ کے ساتھ پیش کیا جائے کیونکہ وہ تیزی سے بدل سکتے ہیں۔
- کسی علاقے یا کمیونٹی کو بیماری کے لیے موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔
2024 میں پاکستان اور افغانستان میں جنگلی پولیو وائرس کے مجموعی طور پر 99 کیسز سامنے آئے تھے۔
ان میں 74 پاکستان اور 25 افغانستان میں تھے۔
2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 52 رہ گئی، جن میں پاکستان کے 31 اور افغانستان کے 21 کیس شامل تھے۔
اعداد و شمار میں یہ کمی بڑی کامیابی ہے، لیکن پولیو کے خاتمے کا اعلان صرف کیسز کم ہونے پر نہیں کیا جا سکتا۔ وائرس کا انتقال مکمل طور پر بند ہونا ضروری ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ وائرس اعصابی نظام پر حملہ کر کے مستقل فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
ایک بار فالج ہو جانے کے بعد اسے واپس ختم کرنے کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، لیکن ویکسین کے ذریعے بیماری سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے۔
↺OVERSEAS POST | TIMELINEکیسز کی مختصر ٹائم لائن⌄
اسی لیے اصل مسئلہ اب ویکسین کی دستیابی نہیں بلکہ اسے ہر بچے تک پہنچانا، والدین کا اعتماد حاصل کرنا، ویکسینیشن ٹیموں کی سکیورٹی یقینی بنانا اور مہمات کو مسلسل جاری رکھنا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان اور افغانستان سمیت وائرس سے متاثرہ ممالک سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے بھی پولیو ویکسین سے متعلق خصوصی سفارشات برقرار رکھی ہیں تاکہ وائرس خاموشی سے ان ممالک میں دوبارہ داخل نہ ہو سکے جہاں برسوں پہلے پولیو ختم کیا جا چکا ہے۔
دنیا پولیو کے خاتمے کے شاید پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، مگر آخری فیصلہ پاکستان اور افغانستان میں ہوگا۔
اگر دونوں ممالک ہر بچے تک ویکسین پہنچانے میں کامیاب ہو گئے تو جنگلی پولیو وائرس کا خاتمہ انسانی تاریخ کی بڑی طبی کامیابیوں میں شامل ہوگا۔
لیکن اگر چند ہزار بچے بھی مسلسل ویکسین سے محروم رہے تو ایک تقریباً ختم ہو جانے والی بیماری دوبارہ سر اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔