براہ راست نشریات

ماسکو سے کیف تک.. ٹرمپ کے ایلچی کون سی ڈیل لے کر پہنچے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Trump Ukraine Peace Plan
OVERSEAS POST  |  PREMIUM ANALYSIS

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے طویل ملاقات کے بعد کیف پہنچے ہیں۔
واشنگٹن جنگ ختم کرنے کے لیے نئے فارمولے پر کام کر رہا ہے، لیکن اصل اختلاف دونباس، روس کے زیرِ قبضہ علاقوں اور یوکرین کی مستقبل کی سکیورٹی ضمانتوں پر برقرار ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ایسا سمجھوتا پیش کرسکتا ہے جس میں روس اپنے کچھ مطالبات محدود کرے اور یوکرین اسے شکست یا جبری دستبرداری نہ سمجھے؟

اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا ماسکو سے کیف تک سفر محض ایک سفارتی دورہ نہیں تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دونوں ایلچی اس وقت روس اور یوکرین بھیجے جب واشنگٹن ایک نئے امن فارمولے پر کام کر رہا ہے اور خود ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس جنگ ختم کرنے کے لیے ایک واضح تجویز موجود ہے۔

دونوں ایلچی پہلے ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ 3 گھنٹے سے زائد ملاقات کی، اور اس کے بعد کیف پہنچ کر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے مذاکرات کئے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTٹرمپ امن مشن — اہم نکات
  • اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے تین گھنٹے سے زیادہ مذاکرات کئے۔
  • دونوں امریکی ایلچی اس کے بعد کیف پہنچے اور ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔
  • ٹرمپ نے روانگی سے پہلے کہا تھا کہ امریکا کے پاس امن کے لیے ایک نئی واضح تجویز موجود ہے، مگر تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
  • روس اور یوکرین کے درمیان سب سے بڑا اختلاف دونباس، زمین اور سکیورٹی ضمانتوں پر برقرار ہے۔
  • ماسکو مذاکرات کو مفید قرار دے رہا ہے، مگر ابھی تک کسی بڑے بریک تھرو کا اعلان نہیں ہوا۔
overseaspost.net

اصل سوال یہی ہے: وٹکوف اور کشنر پوتن سے کیا سن کر آئے، اور زیلنسکی کے سامنے کیا رکھا؟

ساڑھے 4 سال سے زیادہ جاری جنگ میں اب مسئلہ صرف جنگ بندی نہیں رہا۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کے بعد نقشہ کیا ہوگا؟ سرحدیں کہاں ہوں گی؟ یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت کون دے گا؟ 

روس پر پابندیوں کا کیا ہوگا؟ 

اور کیا ایسا سمجھوتا ممکن ہے جسے ماسکو شکست اور کیف اپنی زمین کی قربانی نہ سمجھے؟

مزید پڑھیں

منصوبہ موجود، مگر بنیادی اختلاف برقرار

واشنگٹن کئی ماہ سے ایسے امن خاکے پر کام کر رہا ہے جس میں جنگ بندی، سکیورٹی ضمانتیں، تعمیرِ نو اور روس و یوکرین کے مستقبل کے تعلقات شامل ہیں۔

لیکن دو معاملات مسلسل سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں: زمین اور یوکرین کی سکیورٹی۔

اسی لیے اب اصل سوال یہ نہیں کہ امن منصوبہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ٹرمپ نے اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا ہے جس نے گزشتہ کوششوں کو ناکام بنایا؟

iOVERSEAS POST | FACT BOXامن مشن: فیکٹ باکس
امریکی ایلچیاسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر
پہلا پڑاؤماسکو — پوتن سے 3+ گھنٹے ملاقات
دوسرا پڑاؤکیف — زیلنسکی اور اعلیٰ حکام سے مذاکرات
مرکزی امریکی ہدفروس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی نئی کوشش
اہم تنازعدونباس اور دیگر متنازع علاقے
یوکرینی ترجیحمضبوط امریکی و یورپی سکیورٹی ضمانتیں
overseaspost.net

پوتن کے ساتھ 3 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات کو روسی حکام نے تعمیری قرار دیا، لیکن نہ ماسکو نے کسی بڑی رعایت کا اعلان کیا اور نہ واشنگٹن نے کسی واضح پیش رفت کی تصدیق کی۔

اس کا مطلب ہے کہ بنیادی فاصلہ اب بھی موجود ہے۔

پوتن کیا چاہتے ہیں؟

روس کا سب سے اہم مطالبہ زمین سے متعلق ہے۔

ماسکو مشرقی اور جنوبی یوکرین کے ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے جو اس کے قبضے میں ہیں۔ 

اس کے ساتھ وہ دونباس کے بعض ایسے علاقوں کا بھی مطالبہ کرتا ہے جو اب بھی یوکرینی افواج کے پاس ہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ سفارتی مشن کیوں اہم ہے؟

یہ دورہ محض ایک اور ملاقات نہیں، بلکہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ماسکو اور کیف کے درمیان موجود اصل فاصلہ براہِ راست ناپا جائے۔

براہِ راست رابطہامریکی ایلچی چند گھنٹوں کے فرق سے پوتن اور زیلنسکی دونوں کے مؤقف سن رہے ہیں۔
زمین کی گرہروس ایسے علاقوں کا بھی مطالبہ کرتا ہے جو اب بھی یوکرینی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
جنگ کے بعد کیا؟کیف کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آئندہ روسی حملے کو روکنے کی ضمانت کون دے گا۔
اصل اہمیت: اگر زمین اور ضمانتوں پر معمولی مشترکہ بنیاد بھی بن گئی تو یہ گزشتہ کئی ماہ کی سب سے سنجیدہ امن پیش رفت ہوسکتی ہے۔
overseaspost.net

یہیں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر پوتن سمجھتے ہیں کہ روسی فوج میدانِ جنگ میں مزید کامیابیاں حاصل کرسکتی ہے تو وہ مذاکرات میں ابھی رعایت کیوں دیں گے؟

یہی واشنگٹن کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

امریکا کو روس کو یہ باور کرانا ہوگا کہ امن کے بدلے حاصل ہونے والے سیاسی اور اقتصادی فوائد ایک طویل جنگ سے زیادہ قیمتی ہوسکتے ہیں۔

اس میں پابندیوں میں نرمی، اقتصادی روابط کی بحالی یا روس کے لیے دیگر مراعات شامل ہوسکتی ہیں۔

یعنی ٹرمپ انتظامیہ کو ایسا فارمولہ دینا ہوگا جس میں ماسکو کو محسوس ہو کہ امن اسے خالی ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔

✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی واضح نہیں؟
مصدقہپوتن سے تین گھنٹے سے زائد مذاکرات ہوئے؛ وٹکوف اور کشنر کیف پہنچے؛ زیلنسکی نے سکیورٹی ضمانتوں پر زور دیا؛ کسی بریک تھرو کا اعلان نہیں ہوا۔
ابھی واضح نہیںٹرمپ کی نئی تجویز کے مکمل نکات، ممکنہ علاقائی سمجھوتے، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، اور کسی حتمی جنگ بندی کا ٹائم فریم عوامی نہیں کیا گیا۔
overseaspost.net

زیلنسکی کہاں تک جاسکتے ہیں؟

یوکرین کے لیے مسئلہ مختلف ہے۔

کیف جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے خدشہ ہے کہ مضبوط ضمانتوں کے بغیر جنگ بندی صرف ایک وقفہ ثابت ہوگی، جس دوران روس اپنی فوج دوبارہ منظم کرکے مستقبل میں نئی جنگ شروع کرسکتا ہے۔

اسی لیے سکیورٹی ضمانتیں یوکرین کے موقف کا مرکزی حصہ بن چکی ہیں۔

کیف چاہتا ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک ایسی ضمانتیں دیں جن کے باعث مستقبل میں کسی نئے روسی حملے کی قیمت بہت زیادہ ہو۔

لیکن زیلنسکی کے لیے زمین کا مسئلہ کہیں زیادہ حساس ہے۔

یوکرین موجودہ جنگی خطوط کو عارضی طور پر منجمد کرنے پر بات کرسکتا ہے، مگر ایسے علاقوں سے پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہوگا جہاں اس کی فوج اب بھی موجود ہے۔

کیف کے لیے یہ بھی مشکل ہوگا کہ وہ روس کے قبضے والے علاقوں کو مستقل طور پر روسی سرزمین تسلیم کرے۔

ایسا فیصلہ یوکرین کی داخلی سیاست میں شدید ردعمل پیدا کرسکتا ہے۔

1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

ٹرمپ کے دو اہم ایلچی پہلے ماسکو گئے، جہاں انہوں نے پوتن سے تین گھنٹے سے زیادہ بات کی، پھر کیف پہنچ کر زیلنسکی سے ملے۔

امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئی تجویز آگے بڑھا رہا ہے، لیکن اصل رکاوٹ دونباس اور سکیورٹی ضمانتیں ہیں۔ روس زمین پر اپنے مطالبات برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ یوکرین ایسا امن چاہتا ہے جو آئندہ حملے سے حقیقی تحفظ دے۔

اسی لیے سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ کب رکے گی، بلکہ یہ ہے کہ کون کیا چھوڑنے اور بدلے میں کیا لینے پر تیار ہوگا؟

overseaspost.net

یورپ کا کردار کیوں اہم ہے؟

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے عہدیداروں کی مذاکرات میں شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کو یورپی حمایت کے بغیر نافذ کرنا مشکل ہوگا۔

یورپ کو ممکنہ طور پر یوکرین کی سکیورٹی، تعمیرِ نو اور جنگ بندی کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہاں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے:

اگر یوکرین سے زمین کے معاملے میں کوئی تکلیف دہ رعایت مانگی جاتی ہے تو بدلے میں اسے کیا ملے گا؟

اگر اسے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں نہ ملیں تو کیف کسی بھی معاہدے کو مستقل امن کے بجائے جنگ کو عارضی طور پر منجمد کرنے کی کوشش سمجھ سکتا ہے۔

ROVERSEAS POST | RUSSIA POSITIONپوتن کیا چاہتے ہیں؟
  • روس اپنے زیرِ قبضہ مشرقی اور جنوبی یوکرینی علاقوں پر گرفت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
  • ماسکو دونباس کے ان حصوں پر بھی مطالبہ رکھتا ہے جو اب بھی کیف کے کنٹرول میں ہیں۔
  • پوتن نے امریکی ایلچیوں کے سامنے میدانِ جنگ میں روسی پیش رفت پر اعتماد ظاہر کیا۔
  • اگر ماسکو سمجھتا ہے کہ فوج مزید حاصل کرسکتی ہے تو مذاکرات میں فوری رعایت دینے کا محرک کم رہتا ہے۔
واشنگٹن کا مسئلہ: روس کو ایسا فائدہ دکھانا جو مزید جنگ سے زیادہ قیمتی محسوس ہو۔
overseaspost.net

کشیدگی میں محدود کمی

امریکی ایلچیوں کے دورے کے دوران روس اور یوکرین نے ماسکو اور کیف کے خلاف حملوں میں محدود اور عارضی کمی کی، اگرچہ دوسرے محاذوں پر لڑائی جاری رہی۔

یہ کوئی مکمل جنگ بندی نہیں تھی، لیکن اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آئی۔

سیاسی ضرورت اور براہِ راست امریکی دباؤ کی صورت میں دونوں فریق محدود سطح پر کشیدگی کم کرسکتے ہیں۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ اس محدود خاموشی کو پورے جنگی محاذ تک کیسے پھیلایا جائے۔

UOVERSEAS POST | UKRAINE POSITIONزیلنسکی کہاں تک جاسکتے ہیں؟
  • کیف جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، مگر ایسا وقفہ نہیں جو روس کو دوبارہ تیاری کا وقت دے۔
  • یوکرین کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں کسی بھی سمجھوتے کی بنیادی شرط ہیں۔
  • موجودہ جنگی خطوط کو عارضی طور پر منجمد کرنے پر بات ممکن ہوسکتی ہے، مگر یہ حتمی قانونی دستبرداری نہیں ہوگی۔
  • ایسے علاقوں سے انخلا جو اب بھی یوکرینی فوج کے پاس ہیں، زیلنسکی کے لیے داخلی طور پر انتہائی مشکل ہوگا۔
overseaspost.net

کیا ٹرمپ مکمل امن چاہتے ہیں یا جنگ کو منجمد کرنا؟

سرحدوں، پابندیوں، سکیورٹی اور سیاسی تعلقات سمیت تمام مسائل ایک ہی مرحلے میں حل کرنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اسی لیے زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ مرحلہ وار معاہدہ ہوسکتا ہے۔

پہلے دور مار حملوں میں کمی، پھر وسیع جنگ بندی، اس کے بعد جنگی خطوط کی نگرانی اور آخر میں زمین اور مستقبل کے سیاسی انتظامات پر طویل مذاکرات۔

اس صورت میں امریکا کہہ سکے گا کہ اس نے جنگ روک دی، یوکرین کو فوری طور پر اپنی زمین سے قانونی دستبرداری نہیں کرنا پڑے گی، جبکہ روس ان علاقوں پر عارضی کنٹرول برقرار رکھ سکے گا جو اس کے قبضے میں ہیں۔

لیکن یہ صرف ایک ممکنہ راستہ ہے، کوئی باضابطہ طور پر اعلان شدہ امریکی منصوبہ نہیں۔

OVERSEAS POST | SECURITYسکیورٹی ضمانتیں — اصل سوال

یوکرین کے لیے امن کا مطلب صرف گولیاں رکنا نہیں، بلکہ یہ یقین بھی ہے کہ چند سال بعد جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔

امریکاکیف چاہتا ہے کہ واشنگٹن کسی مستقبل کے روسی حملے کی روک تھام میں واضح کردار رکھے۔
یورپبرطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مشیروں کی شرکت یورپی ضمانتوں کی اہمیت دکھاتی ہے۔
نگرانیکسی جنگ بندی کو زمینی مانیٹرنگ اور قابلِ عمل نفاذی طریقہ درکار ہوگا۔
overseaspost.net

دونباس.. اصل فیصلہ کن مقام

آخرکار تمام مذاکرات ایک ہی سوال پر آکر رک جاتے ہیں: زمین کس کے پاس رہے گی؟

اگر روس ان تمام علاقوں کے حصول پر قائم رہتا ہے جن پر وہ دعویٰ کرتا ہے اور یوکرین ان سے دستبردار ہونے سے انکار کرتا ہے تو صرف سکیورٹی ضمانتیں، پابندیوں میں نرمی یا تعمیرِ نو کا وعدہ معاہدہ کرانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

یہی وٹکوف اور کشنر کے سفر کی اصل اہمیت ہے۔

ان کا مقصد فریقین کے مطالبات جاننا نہیں، کیونکہ واشنگٹن انہیں پہلے ہی جانتا ہے۔ اصل مشن یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر ہر فریق کو واضح طور پر بتایا جائے کہ اسے بدلے میں کیا ملے گا تو کیا وہ اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار ہوگا؟

اگر ماسکو اور کیف زمین اور سکیورٹی کے معاملے میں کوئی مشترکہ بنیاد تلاش کرلیتے ہیں تو یہ جنگ ختم کرنے کی اب تک کی سب سے اہم کوشش بن سکتی ہے۔

OVERSEAS POST | KEY OBSTACLEدونباس — ڈیل کی فیصلہ کن گرہ

دونباس وہ مقام ہے جہاں امن منصوبہ کامیاب بھی ہوسکتا ہے اور ٹوٹ بھی سکتا ہے۔

  • روس چاہتا ہے کہ یوکرین بعض مضبوط دفاعی شہروں اور علاقوں سے پیچھے ہٹے۔
  • کیف کا مؤقف ہے کہ وہ ان علاقوں کو اب بھی دفاعی طور پر تھام سکتا ہے۔
  • میدان میں نہ جیتی گئی زمین مذاکرات میں دینا یوکرین کے لیے سیاسی طور پر سب سے مشکل رعایت ہوگی۔
  • اگر دونوں فریق اس مسئلے پر اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات برقرار رکھتے ہیں تو جامع معاہدہ مشکل رہے گا۔
overseaspost.net

لیکن اگر پوتن یہ سمجھتے رہے کہ میدانِ جنگ انہیں کل وہ دے سکتا ہے جو مذاکرات آج نہیں دے رہے، اور زیلنسکی یہ سمجھتے رہے کہ زمین سے دستبرداری امن نہیں بلکہ ملتوی شکست ہوگی، تو یہ امریکی کوشش بھی پچھلی سفارتی کوششوں کی طرح ادھوری رہ سکتی ہے۔

اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کے پاس منصوبہ ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

کیا اس منصوبے میں ایسی قیمت موجود ہے جسے پوتن اور زیلنسکی دونوں قبول کرسکیں؟

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net