آبنائے ہرمز کے بحران نے خلیجی ممالک کو تیل اور گیس کی برآمد کے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سعودی عرب اور امارات پائپ لائنوں اور بندرگاہوں کی صلاحیت بڑھا رہے ہیں، جبکہ قطر اور کویت اب بھی ہرمز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
مستقبل میں اصل طاقت صرف تیل کے ذخائر نہیں بلکہ دنیا تک دوسرا محفوظ راستہ رکھنے میں ہوگی۔
آبنائے ہرمز کا بحران اب صرف تیل بردار جہازوں کے لیے عارضی رکاوٹ نہیں رہا، بلکہ یہ خلیجی ممالک کی توانائی اور تجارت کے مستقبل کے بارے میں سوچ کو بدلنے والا ایک اہم موڑ بنتا جا رہا ہے۔
دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک پر مہینوں سے جاری بے یقینی کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک پائپ لائنوں، بندرگاہوں اور متبادل زمینی و بحری راستوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاکہ ایسا نظام تیار کیا جا سکے جو ہرمز میں رکاوٹ کے باوجود کام کرتا رہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTہرمز بحران — اہم نکات ⌄
- ✓خلیجی ممالک ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے پائپ لائنوں، بندرگاہوں اور متبادل برآمدی راستوں پر سرمایہ کاری تیز کر رہے ہیں۔
- ✓سعودی عرب کے پاس ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن ہے، جو خام تیل کو مشرقی علاقوں سے بحیرہ احمر کے ساحل ینبع تک پہنچاتی ہے۔
- ✓امارات الفجیرہ کو ہرمز سے باہر ایک بڑے توانائی اور تجارتی مرکز کے طور پر وسعت دے رہا ہے۔
- ✓قطر کی LNG برآمدات کا بڑا حصہ ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے اس کے لیے متبادل راستہ زیادہ پیچیدہ ہے۔
- ✓کویت سعودی اور اماراتی نیٹ ورکس سے جڑنے کے امکانات دیکھ رہا ہے، جبکہ عراق ترکی، شام اور اردن کی سمت متبادل تلاش کر رہا ہے۔
- ✓اگر یہ منصوبے آگے بڑھے تو خلیج کی توانائی اور تجارت کا جغرافیہ مستقل طور پر بدل سکتا ہے۔
اب جو تبدیلی شروع ہو چکی ہے، وہ موجودہ بحران سے نمٹنے کی عارضی کوشش نہیں لگتی۔
ان منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے اور انہیں مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیجی ممالک اب متبادل راستے کو محض بیک اپ نہیں بلکہ اپنی اقتصادی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھنے لگے ہیں۔
مزید پڑھیں
بحران نے کمزور پہلو نمایاں کر دیا
کئی دہائیوں سے آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی ایک بنیادی شریان رہی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں یومیہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس راستے سے گزریں، جو سمندر کے ذریعے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا تقریباً
ایک چوتھائی بنتا ہے۔
ان میں سے تقریباً 80 فیصد ایشیائی منڈیوں کی طرف جاتا تھا۔
لیکن ایران کی جنگ اور اس کے بعد ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی بے یقینی نے اسی اہمیت کو ایک کمزوری میں بدل دیا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXہرمز اور خلیج: فیکٹ باکس ⌄
آج 28 اگست کو شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے مختلف حصوں میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے خلیجی حکومتوں کو اپنی سرمایہ کاری کی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
اب توجہ صرف معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی پر نہیں، بلکہ مستقل اور مربوط متبادل نظام تیار کرنے پر ہے۔
موجودہ اعدادوشمار بھی بتاتے ہیں کہ مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
جمعرات کو صرف سات کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے ایک روز پہلے یہ تعداد 17 تھی اور گزشتہ دس دن کا اوسط تقریباً 15 جہاز روزانہ رہا۔
یعنی سیاسی سطح پر بہتری کی باتیں ضرور ہو رہی ہیں، مگر تجارت ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔
سعودی عرب کے پاس سب سے مضبوط متبادل
اس تبدیلی کے مرکز میں سعودی عرب کھڑا ہے۔
مملکت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے تیل کی برآمد کے لیے مکمل طور پر خلیج عرب پر منحصر نہیں۔
سعودی عرب کے پاس ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن، یا پیٹرولائن موجود ہے، جو مشرقی سعودی عرب میں بقیق سے خام تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک پہنچاتی ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISسعودی عرب کے پاس سب سے مضبوط متبادل کیوں؟ ⌄
سعودی عرب کی اصل طاقت صرف تیل کے ذخائر نہیں، بلکہ اسے ہرمز کے بغیر دنیا تک پہنچانے کی موجودہ صلاحیت بھی ہے:
اصل فائدہ: ہرمز اگر دباؤ کا نقطہ بنتا ہے تو سعودی عرب کے پاس پہلے سے موجود مغربی ساحلی راستہ اسے خلیج کے کئی دوسرے ممالک سے زیادہ لچک دیتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس نظام کی اصل ڈیزائن صلاحیت تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ تھی، جبکہ سعودی آرامکو نے مارچ 2025 میں اس کی گنجائش بڑھا کر تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ کرنے کا اعلان کیا تھا، اگرچہ اس انتہائی سطح پر مسلسل آپریشن ابھی مکمل طور پر آزمودہ نہیں۔
ایجنسی کا اندازہ ہے کہ 2026 کے آغاز میں اس پائپ لائن سے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ منتقل کئے جا رہے تھے، جس سے حالات اور برآمدی صلاحیت کے مطابق تقریباً 30 سے 50 لاکھ بیرل یومیہ اضافی گنجائش باقی رہ سکتی ہے۔
یہی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحل کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ کیوں بڑھ گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ریاض نے ہرمز سے دور تیل کی ترسیل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبوں کو تیز کر دیا ہے، جن میں مغربی ساحل تک خام تیل پہنچانے کی گنجائش میں اضافہ بھی شامل ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ مستقبل میں یہی سعودی نیٹ ورک صرف مملکت نہیں، بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک متبادل راستہ بن سکتا ہے، اگر اسے ہمسایہ ممالک کے تیل کی ترسیل کے لیے توسیع دی جائے۔
امارات الفجیرہ کو متبادل دروازہ بنا رہا ہے
متحدہ عرب امارات کے پاس بھی ایک اہم جغرافیائی فائدہ ہے: الفجیرہ آبنائے ہرمز سے باہر بحیرہ عمان پر واقع ہے۔
ابوظبی آئل پائپ لائن حبشان سے الفجیرہ تک تقریباً 400 کلومیٹر طویل ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس کی موجودہ گنجائش تقریباً 18 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جبکہ امارات اس میں سے لگ بھگ 11 لاکھ بیرل روزانہ استعمال کرتا ہے۔ اس طرح ہرمز میں رکاوٹ کی صورت میں کچھ اضافی گنجائش موجود رہتی ہے۔
لیکن ابوظبی صرف موجودہ نظام پر اکتفا نہیں کر رہا۔
↯ OVERSEAS POST | TIMELINEخلیج کا نیا توانائی نقشہ — اہم موڑ ⌄
امارات الفجیرہ کی توانائی اور بندرگاہی صلاحیت بڑھا رہا ہے، جبکہ DP World وہاں دو نئے کنٹینر ٹرمینلز کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق زیرِ تعمیر نئی تیل پائپ لائن اگلے سال فعال ہونے کے بعد الفجیرہ تک خام تیل پہنچانے کی موجودہ گنجائش کو تقریباً دوگنا کر سکتی ہے۔
یوں الفجیرہ بتدریج ایک ہنگامی بندرگاہ سے بڑھ کر خلیج کے باہر توانائی اور تجارت کے ایک بڑے اسٹریٹجک مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔
قطر اور کویت کے لیے مسئلہ زیادہ پیچیدہ
خلیج کے تمام ممالک ایک جیسی پوزیشن میں نہیں۔
قطر آبنائے ہرمز پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ اس کی مائع قدرتی گیس یعنی LNG کی زیادہ تر برآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔
! OVERSEAS POST | EVIDENCEقطر کے لیے ہرمز سب سے بڑا مسئلہ کیوں؟ ⌄
قطر کے لیے مسئلہ خام تیل سے زیادہ LNG کا ہے، کیونکہ اس کی گیس برآمدات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
- 12025 میں قطر کی LNG برآمدات کا تقریباً 93 فیصد ہرمز سے گزرا۔
- 2خام تیل کے برعکس LNG کے لیے صرف نئی پائپ لائن کافی نہیں؛ مائع سازی، مخصوص بندرگاہیں اور برآمدی سہولیات بھی درکار ہیں۔
- 3اسی لیے قطر کے لیے ہرمز کا حقیقی متبادل سعودی عرب یا امارات کے مقابلے میں زیادہ مہنگا اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں قطر کی LNG برآمدات کا تقریباً 93 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرا۔
فی الحال ایسا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں جو اس حجم کی گیس کو عالمی منڈیوں تک پہنچا سکے۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
خام تیل کو پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے، لیکن LNG کے لیے گیس کو مائع بنانے کے پلانٹس، مخصوص بندرگاہوں، جہازوں اور مکمل انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی لیے قطر کے لیے ہرمز کا حقیقی متبادل تیار کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
کویت کو بھی ایسی ہی مشکل درپیش ہے، خاص طور پر خام تیل کی برآمدات میں۔ رائٹرز کے مطابق کویت پیٹرولیم کارپوریشن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس امکان پر بات کر رہی ہے کہ ان کے پائپ لائن نیٹ ورک کو وسعت دے کر کویتی تیل کو بھی متبادل راستوں سے نکالا جا سکے۔
اگر یہ بات چیت عملی منصوبوں میں بدلتی ہے تو پہلی بار ایک مربوط خلیجی نیٹ ورک وجود میں آ سکتا ہے، جو خلیج عرب کے اندر موجود خام تیل کو بحیرہ احمر یا بحیرہ عمان تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
عراق ایک سے زیادہ دروازے چاہتا ہے
عراق بھی ایک ہی راستے کا یرغمال نہیں رہنا چاہتا۔
بغداد ترکی کے جیہان بندرگاہ کے ذریعے اپنی تیل برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ شام کے بانیاس اور اردن کی عقبہ بندرگاہ تک نئی پائپ لائنوں کے ذریعے تیل پہنچانے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران خطے میں ایک وسیع تر نقل و حمل کا منصوبہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ ترکی اور سعودی عرب نے آئندہ برسوں میں اردن اور شام کے راستے دونوں ممالک کو ریل کے ذریعے جوڑنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس میں بعد میں دوسرے خلیجی ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
⇄ OVERSEAS POST | PLEA DEALامارات کا الفجیرہ کارڈ ⌄
نتیجہ: الفجیرہ امارات کے لیے صرف ایک متبادل بندرگاہ نہیں، بلکہ ہرمز سے باہر مستقل توانائی گیٹ وے بنتا جا رہا ہے۔
یہاں کہانی صرف تیل تک محدود نہیں رہتی۔
بتدریج ایک ایسا علاقائی لاجسٹک تصور سامنے آ رہا ہے جو خلیج کو بحیرہ احمر، مشرقی بحیرہ روم اور ترکی سے جوڑ سکتا ہے، تاکہ خطے کی تجارت صرف ایک سمندری گزرگاہ کی محتاج نہ رہے۔
بل سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے
یہ نیا نیٹ ورک سستا نہیں ہوگا۔
رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق آنے والے برسوں میں درکار انفراسٹرکچر کی مجموعی لاگت سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
خلیجی خودمختار سرمایہ کاری فنڈز اس سرمایہ کاری میں مرکزی کردار ادا کریں گے، لیکن منصوبوں کا حجم اتنا بڑا ہے کہ عالمی انفراسٹرکچر فنڈز اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی بڑے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
خصوصاً بندرگاہیں اب خلیجی پالیسی میں نئی ترجیح بنتی جا رہی ہیں۔
◐ OVERSEAS POST | FAMILIESکویت اور عراق کون سے راستے دیکھ رہے ہیں؟ ⌄
بڑا منظر: اگر علاقائی نیٹ ورکس آپس میں جڑتے ہیں تو مستقبل میں خلیجی تیل کے لیے بحیرہ احمر، بحیرہ عمان اور مشرقی بحیرہ روم تک کئی راستے پیدا ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اگلے دو سال میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ سنائی دینے والا لفظ شاید یہی ہو: بندرگاہیں، بندرگاہیں، بندرگاہیں۔
مقصد صرف تیل نکالنا نہیں، بلکہ کنٹینرز، خام مال، صنعتی مصنوعات اور پوری سپلائی چین کو ایسے حالات میں بھی چلتا رکھنا ہے جب روایتی بحری راستے متاثر ہوں۔
کیا ایران اپنی سب سے اہم جغرافیائی طاقت کھو سکتا ہے؟
یہاں ایک بڑی اسٹریٹجک ستم ظریفی سامنے آتی ہے۔
ایران کے لیے آبنائے ہرمز کی طاقت اسی حقیقت میں ہے کہ دنیا اور خلیجی ممالک اس پر انحصار کرتے ہیں۔
جتنا زیادہ سعودی عرب، امارات، عراق اور کویت متبادل راستے تیار کریں گے، اتنا ہی اس گزرگاہ کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی ایرانی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔
یہ تبدیلی فوری نہیں ہوگی۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا طے ہے، کیا ابھی باقی ہے؟ ⌄
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس وقت صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس ایسے فعال خام تیل پائپ لائن نیٹ ورک ہیں جو بڑی مقدار میں تیل کو آبنائے ہرمز سے دور منتقل کر سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کی مشترکہ اضافی صلاحیت تقریباً 35 سے 55 لاکھ بیرل یومیہ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
یہ حجم 2025 میں آبنائے ہرمز سے روزانہ گزرنے والے تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
اس لیے ہرمز آنے والے کئی برس تک انتہائی اہم رہے گا۔
لیکن سمت بدلنا شروع ہو چکی ہے۔
نیا نقشہ بننا شروع ہو چکا ہے
موجودہ بحران کسی سیاسی معاہدے سے ختم ہو سکتا ہے اور تیل بردار جہاز دوبارہ معمول کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کر سکتے ہیں۔
مگر اس بحران نے جو سرمایہ کاری شروع کروا دی ہے، وہ شاید اس کے ساتھ ختم نہ ہو۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
مسئلہ: ہرمز پر بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹ نے خلیجی ممالک کو ایک ہی سمندری راستے پر انحصار کا خطرہ دکھا دیا۔
سعودی جواب: ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن اور بحیرہ احمر کی رسائی مملکت کو سب سے مضبوط متبادل دیتی ہے۔
اماراتی جواب: الفجیرہ کو ہرمز سے باہر بڑے تیل، اسٹوریج اور بندرگاہی مرکز کے طور پر مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
اصل نتیجہ: خلیج کی نئی دوڑ صرف زیادہ تیل پیدا کرنے کی نہیں، بلکہ اسے دنیا تک پہنچانے کے لیے دوسرا محفوظ راستہ رکھنے کی ہے۔
سعودی عرب بحیرہ احمر کے دروازے کو مضبوط کر رہا ہے، امارات الفجیرہ کو وسعت دے رہا ہے، کویت ہمسایہ ممالک کے نیٹ ورکس سے جڑنے کے امکانات تلاش کر رہا ہے اور عراق ترکی، شام اور اردن کی طرف نئے راستے کھولنے کی کوشش میں ہے۔
یوں اصل سوال اب صرف یہ نہیں رہا:
ہرمز کب کھلے گا؟
بلکہ اس سے کہیں بڑا سوال یہ ہے:
اگر ہرمز دوبارہ بند ہو جائے تو خلیجی معیشت کیسے چلتی رہے گی؟
اگر موجودہ منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو 2026 کے بحران کا سب سے بڑا نتیجہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا جہاز رانی میں رکاوٹ نہیں ہوگا، بلکہ ممکن ہے یہ خلیج کی توانائی اور تجارت کے پورے نقشے کی ازسرنو تشکیل کا آغاز ثابت ہو۔
اور اس نئے نقشے میں سب سے بڑا فاتح وہ ہوگا جس کے پاس صرف تیل نہیں، بلکہ دنیا تک پہنچنے کے لیے دوسرا راستہ بھی ہوگا۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
ادارتی اصول: منصوبہ، زیرِ غور تجویز اور موجودہ آپریشنل صلاحیت کو الگ الگ بیان کرنا ضروری ہے؛ ہر مجوزہ راستہ ابھی فعال متبادل نہیں ہے۔