آبنائے ہرمز کا نام سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے تیل و گیس آتے ہیں، مگر اس بار بحران کی ایک نئی شکل دنیا کو پریشان کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
سلفر، یعنی وہ زرد مادہ جو عام طور پر خبروں میں جگہ نہیں بنا پاتا، اب کھاد، خوراک، دھاتوں اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت تک عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
ہرمز بند، عالمی قیمتیں بلند
جنگ سے پہلے خلیجی ممالک دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی سلفر کی پیداوار کرتے تھے، جبکہ سمندر کے راستے ہونے والی عالمی سلفر تجارت
کا تقریباً نصف حصہ اسی خطے سے نکلتا تھا۔
⚡
زرد دانوں کی طاقت: سلفر اتنا اہم کیوں؟
+
زرد دانوں کی طاقت: سلفر اتنا اہم کیوں؟
سلفر تیل اور گیس کی صفائی کے دوران حاصل ہونے والا ایسا زرد مادہ ہے جسے عالمی صنعتی معیشت کی پوشیدہ ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر سلفیورک ایسڈ بنانے کے کام آتا ہے، جو دنیا کی جدید مینوفیکچرنگ اور زراعت میں بنیادی عمل انگیز ہے۔
عالمی کھاد کا دارومدار (60% طلب)
دنیا بھر میں سلفر کا ساٹھ فیصد حصہ فاسفیٹ کھاد تیار کرنے میں صرف ہوتا ہے، جس کے بغیر فصلوں کے بیج، جڑیں اور پیداواری قوت ممکن نہیں۔
الیکٹرک گاڑیاں اور نئی بیٹریاں
جدید بیٹریوں کے لیے ضروری نکل اور دھاتوں کی صفائی سلفر کے تیزاب سے ہوتی ہے؛ خام مال مہنگا ہونے سے بیٹری لاگت میں ہزاروں ڈالر اضافہ ہو رہا ہے۔
دھات کاری اور تانبے کی صفائی
دنیا کے بیس فیصد تانبے کی ریفائننگ سلفیورک ایسڈ پر انحصار کرتی ہے، جس کا تعطل بجلی کے آلات سے لے کر برقی نیٹ ورک تک بحران لاتا ہے۔
وسیع کیمیائی مینوفیکچرنگ
ادویات، صابن، پلاسٹک اور کاغذی صنعتوں میں کیمیائی ری ایکشن مکمل کرنے کے لیے سلفر کا تیزاب بنیادی ترین جزو شمار ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے ہر ماہ اوسطاً 12 لاکھ 70 ہزار ٹن سلفر گزرتا تھا، مگر اپریل میں یہ مقدار صرف 30 ہزار ٹن رہ گئی۔ یعنی ترسیل میں تقریباً 98 فیصد کمی آگئی۔
اس بحران کا اثر قیمتوں پر فوری پڑا اور قطر میں سلفر 520 ڈالر سے بڑھ کر 890 ڈالر فی ٹن ہوگیا، جبکہ متحدہ عرب امارات میں قیمت ایک ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔
آبنائے ہرمز سے سلفر کی ترسیل 98 فیصد گرنے کے بعد عالمی قیمتیں 1200 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئیں، جس نے زراعت اور جدید صنعتی پیداوار کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ہرمز سے ماہانہ 12 لاکھ 70 ہزار ٹن سلفر کی ترسیل گر کر اپریل میں محض 30 ہزار ٹن رہ گئی ہے۔
بحران کے عروج پر سلفر کی قیمت برازیل میں 1200 ڈالر اور امارات میں ایک ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی۔
فاسفیٹ بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی او سی پی نے سلفر کی قلت کے باعث پیداوار 30 فیصد کم کر دی۔
انڈونیشیا میں سلفیورک ایسڈ کے مہنگا ہونے سے نکل کی پیداواری لاگت بڑھ گئی جس سے الیکٹرک گاڑیاں متاثر ہوئیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اسی طرح برازیل میں اس بحران کے عروج پر فی ٹن قیمت 1200 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
کھاد مہنگی، خوراک پر شدید دباؤ
دنیا میں سلفر کی تقریباً 60 فیصد طلب کھاد کی صنعت سے آتی ہے۔ یہ فاسفیٹ کھاد بنانے میں استعمال ہوتا ہے، جو فصلوں کی جڑوں، بیجوں اور مجموعی نشوونما کے لیے اہم ہے۔
صرف تیل نہیں: ہرمز میں اور کیا داؤ پر ہے؟
▼
صرف تیل نہیں: ہرمز میں اور کیا داؤ پر ہے؟
🚢 عالمی سمندری سلفر کا 50%
سمندر کے راستے سفر کرنے والا آدھا سلفر اسی گزرگاہ سے جاتا تھا۔ ماہانہ 12 لاکھ 70 ہزار ٹن کا بہاؤ گھٹ کر محض 30 ہزار ٹن پر گر چکا ہے یعنی ترسیل 98 فیصد معطل ہے۔
🌾 کھاد کی بین الاقوامی تجارت کا 33%
تیل کے علاوہ دنیا کی ایک تہائی تیار فاسفیٹ و دیگر کھادیں خلیج کی اسی ناکہ بندی میں پھنسی ہیں، جس نے بین الاقوامی سپلائی چین کے توازن کو درہم برہم کر دیا ہے۔
توانائی کا تعطل فیکٹریاں روکتا ہے، مگر کیمیائی اور خام مواد کا یہ بحران براہِ راست دنیا کے اناج، کان کنی اور جدید بیٹری سازی کو بیک وقت مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ مسئلہ اس لیے بھی بڑا ہے کہ دنیا کی تقریباً نصف غذائی پیداوار کسی نہ کسی شکل میں کھاد پر انحصار کرتی ہے۔ جنگ سے پہلے کھاد کی عالمی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ بھی ہرمز سے گزرتا تھا۔
مراکش کا او سی پی گروپ دنیا کا سب سے بڑا فاسفیٹ برآمد کنندہ جنگ سے پہلے اپنی سلفر کی 52 فیصد ضرورت صرف خلیج سے پوری کرتا تھا۔
🌾
کیا سلفر بحران خوراک بھی مہنگی کرسکتا ہے؟
تفصیلات
کیا سلفر بحران خوراک بھی مہنگی کرسکتا ہے؟
پیداواری تعطل
مراکش کے او سی پی جیسے بڑے اداروں نے فاسفیٹ کھاد کی پیداوار 30 فیصد تک گھٹا دی، جبکہ برازیل میں کارخانے بند ہونے لگے۔
لاگت میں شدید اضافہ
برازیل میں سلفر 1200 ڈالر فی ٹن پہنچنے سے کسانوں کے لیے کھاد کا حصول ناممکن حد تک مہنگا ہو چکا ہے۔
فصلوں کی کمی و مہنگائی
کھاد کے کم استعمال سے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار گرے گی، جس کا منطقی نتیجہ اناج اور اشیائے خوردونوش کی عالمی مہنگائی ہے۔
بنیادی حقیقت: دنیا کی لگ بھگ نصف غذائی پیداوار براہِ راست کیمیائی کھادوں کی محتاج ہے۔ سلفر کی بندش کسان کے کھیت سے گزر کر عام آدمی کی روٹی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ہرمز بندش کے بعد کمپنی نے دوسری سہ ماہی میں پیداوار تقریباً 30 فیصد کم کی اور روس سے سلفر خریدنا شروع کیا۔
برازیل میں موزائیک نے سلفر کی قلت اور مہنگی قیمت کے باعث عارضی طور پر کام روکا، جبکہ ملک کی سلفر درآمدات سال کی پہلی ششماہی میں 42 فیصد کم ہوگئیں۔
پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی؟
اہم تجزیہ
پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی؟
🚜 مقامی زرعی لاگت میں دباؤ
پاکستان درآمدی ڈی اے پی اور فاسفیٹ کھادوں پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں سلفر نایاب ہونے سے مقامی کاشتکاروں کے لیے کھاد کے نرخ بڑھنے کا شدید اندیشہ ہے۔
💵 درآمدی بل اور زرمبادلہ
کھاد اور متعلقہ کیمیکلز مہنگے ہونے سے پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور پہلے سے محدود زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
🌾 گندم اور اہم فصلوں کے اہداف
فاسفیٹ کھاد کی عدم دستیابی یا تاخیر کی صورت میں آئندہ بوائی کے سیزن میں فصلوں کی فی ایکڑ اوسط پیداوار متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
🛡️ متبادل ذرائع اور پیشگی منصوبہ بندی
خلیجی رسد میں رکاوٹ کے پیش نظر حکومتی و نجی شعبے کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ دوست ممالک یا متبادل تجارتی راستوں سے کھاد کی پیشگی بکنگ یقینی بنائیں۔
اثرات کھیتوں سے کانوں تک
سلفر کا بحران اب صرف زراعت تک محدود نہیں رہا۔ دنیا میں صاف شدہ تانبے کی تقریباً ایک پانچویں پیداوار ایسے طریقوں سے ہوتی ہے جن میں سلفیورک ایسڈ استعمال ہوتا ہے۔
میکواری کے مطابق سلفر مہنگا ہونے سے انڈونیشیا میں ایک ٹن نکل کی پیداواری لاگت میں تقریباً 4 ہزار ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہی دھاتیں ہیں جو الیکٹرک گاڑیوں اور نئی بیٹری ٹیکنالوجی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
🔭
ہرمز نہ کھلا تو آگے کیا ہوسکتا ہے؟
◀
ہرمز نہ کھلا تو آگے کیا ہوسکتا ہے؟
🔄 عالمی تجارتی رستوں کی تبدیلی
درآمد کنندگان روس، وسطی ایشیا اور متبادل منڈیوں کا رخ کریں گے، تاہم اضافی لاگت اور طویل مسافت اشیاء کو مستقل مہنگا رکھے گی۔
⚡ نئی ٹیکنالوجی اور EVs کی رفتار میں سستی
بیٹری گریڈ نکل اور تانبے کی پیداواری لاگت بڑھنے سے الیکٹرک گاڑیوں کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے کلین انرجی کا سفر سست پڑ سکتا ہے۔
مستقبل کا جائزہ: طویل المدتی بندش کی صورت میں کھاد، دھات سازی اور توانائی کی صنعتیں متبادل سپلائی چینز اور سلفیورک ایسڈ کی ری سائیکلنگ کی طرف تیز رفتار منتقلی پر مجبور ہوں گی۔
خلیج کی اہمیت کیوں؟
2025 میں دنیا نے تقریباً 8 کروڑ 40 لاکھ ٹن سلفر پیدا کیا، جس میں چین سب سے بڑا پروڈیوسر تھا، مگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی دنیا کے بڑے سلفر پیدا کرنے والوں میں شامل ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہرمز کی بندش اب صرف توانائی کے لیے مسئلہ نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات کسان کی کھاد، صارف کی خوراک، تانبے کی کان اور الیکٹرک گاڑی کی بیٹری تک پہنچ رہے ہیں۔