براہ راست نشریات

یو اے ای ہرمز کے اگلے بحران کی تیاری کیسے کر رہا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
UAE Hormuz Strategy

امارات ہرمز سے نکل نہیں سکتا، لیکن وہ اپنی معیشت کو ایک آبی گزرگاہ کے رحم و کرم پر چھوڑ بھی نہیں سکتا

ایرانی حملوں نے دبئی کی محفوظ عالمی کاروباری مرکز والی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا۔
اب متحدہ عرب امارات تہران کے ساتھ سفارتی و تجارتی رابطے بحال کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط بنا رہا ہے۔
ساتھ ہی فجیرہ میں دو نئی بندرگاہیں اور تیل کی اضافی پائپ لائن تعمیر کی جارہی ہے، تاکہ آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں بھی معیشت، تجارت اور توانائی کی برآمدات جاری رکھی جاسکیں۔

تہران کے ساتھ کھلے سفارتی رابطے

امریکا اور اسرائیل کی دفاعی چھتری

فجیرہ میں دو نئی بندرگاہیں

تیل کی ایک اضافی پائپ لائن

جنگ نے متحدہ عرب امارات کو اپنے اقتصادی ماڈل کی بنیادیں بدلنے پر مجبور کردیا ہے۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

5 ماہ قبل دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر پر چھائی خاموشی صرف کاروباری سرگرمیوں میں عارضی تعطل کی علامت نہیں تھی۔ 

ایرانی ڈرون حملوں کے بعد دفاتر خالی ہوگئے تھے، فضائی سفر، تجارت اور سیاحت متاثر ہوئی اور سرمایہ کاروں نے پہلی مرتبہ شدت سے محسوس کیا کہ خطے کی بے یقینی سے محفوظ سمجھی جانے والا دبئی خود بھی میدانِ جنگ کا حصہ بن سکتا ہے۔

آج بینک، اثاثہ جاتی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے اپنے دفاتر میں واپس آچکے ہیں۔ 

روایتی لکڑی کی کشتیاں دوبارہ ایرانی بندرگاہوں کے ساتھ تجارت کر رہی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان ابتدائی فضائی پروازیں بھی بحال ہوچکی ہیں۔ 

جنگ کے دوران بیرون ملک پھنس جانے والے تقریباً 20 ہزار ایرانی باشندوں کو بھی متحدہ عرب امارات واپس آنے کی اجازت دی جارہی ہے، جیسا کہ فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے۔

لیکن معمولات کی واپسی کا مطلب یہ نہیں کہ امارات کی پرانی حکمتِ عملی بھی جوں کی توں لوٹ آئی ہے۔

ایک جانب ابوظبی، تہران کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی رابطے دوبارہ فعال کر رہا ہے، دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھایا جارہا ہے۔ 

دبئی اپنی کاروباری رونق بحال کر رہا ہے تو فجیرہ میں نئی بندرگاہوں اور ایک اضافی تیل پائپ لائن کی تعمیر تیز کردی گئی ہے، تاکہ مزید خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاسکے۔

یہ نہ ایران کے ساتھ مکمل مصالحت ہے اور نہ اس کے خلاف نئی جنگ کی تیاری۔ 

یہ ایک ایسی ریاست کی تعمیر کی کوشش ہے جو دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ بند ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھ سکے۔

مزید پڑھیں

نقصان عمارتوں سے زیادہ تصور کو پہنچا

حالیہ جنگ میں متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا نقصان تباہ ہونے والی عمارتیں یا منسوخ ہونے والی پروازیں نہیں تھیں۔ 

اصل دھچکا اس بنیادی وعدے کو پہنچا جسے دبئی کئی دہائیوں سے دنیا کے سامنے فروخت کرتا آیا ہے: 

خطہ چاہے کتنا ہی غیر مستحکم کیوں نہ ہو، آپ یہاں محفوظ رہ کر اپنا 

کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔

دبئی کی معیشت کا انحصار تجارت، سیاحت، ہوا بازی، رئیل اسٹیٹ اور مالیاتی خدمات پر ہے، جبکہ تیل اس کی مجموعی مقامی پیداوار کا 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ 

اسی لیے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنانے والے حملوں نے مادی نقصان سے زیادہ دبئی کی محفوظ کاروباری مرکز والی ساکھ کو متاثر کیا۔

6 اہم نکات +
  1. یو اے ای ایران کے ساتھ مکمل مصالحت کے بجائے کشیدگی کو قابلِ انتظام سطح پر رکھنا چاہتا ہے۔
  2. امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعاون نئی دفاعی چھتری کا حصہ ہے۔
  3. فجیرہ میں آبنائے ہرمز سے باہر دو نئی بندرگاہیں تعمیر کی جائیں گی۔
  4. ادنوک کی نئی پائپ لائن تیل برآمد کرنے کی صلاحیت دوگنی کردے گی۔
  5. فجیرہ، جبل علی کا متبادل نہیں بلکہ دوسرا محفوظ تجارتی دروازہ ہوگا۔
  6. یہ حکمتِ عملی امارات میں مقیم 22 لاکھ پاکستانیوں کے لیے بھی اہم ہے۔

عالمی سرمایہ بہت تیزی سے جگہ بدلتا ہے۔ 

سیاح اپنی منزل تبدیل کرسکتا ہے، بینک اپنے ملازمین کو کسی دوسرے ملک منتقل کرسکتا ہے اور شپنگ کمپنی اپنے جہازوں کا راستہ بدل سکتی ہے۔ 

اگر سرمایہ کار ٹیکس، کرایوں اور کاروباری اخراجات کے ساتھ میزائل حملوں کے خطرے کو بھی اپنے حساب میں شامل کرنے لگے تو دبئی کی برتری پہلے جیسی واضح نہیں رہتی۔

اسی لیے جنگ کے بعد دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد نے سینکڑوں کاروباری شخصیات، بینکاروں، ہوٹل مالکان اور ایئر لائنز کے نمائندوں کا اجلاس بلایا۔ 

ان سے پوچھا گیا کہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو واپس لانے اور کاروباری اعتماد بحال کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔

دبئی نے خصوصاً سیاحت اور ریٹیل کے شعبوں کے لیے 2.5 ارب درہم کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا، لیکن ضرورت صرف مالی نقصان کی تلافی کی نہیں تھی۔ 

اصل چیلنج یہ یقین بحال کرنا تھا کہ آئندہ بحران کے دوران بھی شہر کا نظام مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوگا۔

ایران پر اعتماد نہیں، مگر کشیدگی کم کرنا ضروری

متحدہ عرب امارات کی نئی حکمتِ عملی ایک سادہ جغرافیائی حقیقت سے شروع ہوتی ہے: ایران کو روکا تو جاسکتا ہے، مگر اسے خطے سے کہیں اور منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

دونوں ملکوں کے ساحلوں کے درمیان مختصر فاصلہ ہے اور انہیں تجارت، خاندانوں، ایرانی برادری، جائیدادوں اور مالی مفادات کے ایک پرانے نیٹ ورک نے آپس میں جوڑ رکھا ہے۔ 

شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود دبئی ایرانی تاجروں کے لیے ایک اہم تجارتی دروازہ رہا اور ایرانی کاروباری برادری دبئی کی تجارت اور رئیل اسٹیٹ کا حصہ بنی رہی۔

فیکٹ باکس +
  1. ایرانی باشندوں کی واپسی: تقریباً 20 ہزار
  2. دبئی کا امدادی پیکیج: 2.5 ارب درہم
  3. فجیرہ کے نئے ٹرمینلز: 2
  4. الرغیلات کی کنٹینر صلاحیت: سالانہ 25 لاکھ
  5. دبا کی کارگو صلاحیت: سالانہ 36 لاکھ ٹن
  6. نئی پائپ لائن کا ہدف: 2027
  7. امارات میں پاکستانی: تقریباً 22 لاکھ
  8. پاکستان، یو اے ای تجارت: تقریباً 8 ارب ڈالر

اسی لیے جنگ کے بعد سفارتی، تجارتی اور فضائی رابطے نسبتاً تیزی سے بحال کیے گئے۔ ابوظبی کا مقصد تہران کے ساتھ اتحاد قائم کرنا نہیں، بلکہ یہ خطرہ کم کرنا ہے کہ آئندہ تصادم میں متحدہ عرب امارات دوبارہ ایرانی حملوں کا ہدف بنے۔ 

رابطوں کا دوسرا مقصد پروازوں، بحری تجارت، مقیم ایرانیوں اور ہنگامی حالات سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ کھلا رکھنا ہے۔

تاہم اس مفاہمت کی حدود واضح ہیں۔ 

اماراتی وزارتِ خارجہ نے اپنی سرزمین اور دوسرے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی بار بار مذمت کی ہے اور شہریوں، اہم تنصیبات اور آزاد جہاز رانی کے تحفظ کو ریاست کا بنیادی حق قرار دیا ہے۔

14 جولائی کو ابوظبی نے دو اماراتی آئل ٹینکروں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی تجارت اور بحری سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا تھا، جیسا کہ اماراتی وزارتِ خارجہ کے سرکاری بیان میں کہا گیا۔

یوں اماراتی پالیسی اعتماد کے بجائے خطرے کے انتظام پر قائم ہے: 

سفارت کاری غلط اندازوں اور اچانک تصادم کو روکتی ہے، جبکہ دفاعی طاقت حملہ کرنے کی قیمت بڑھاتی ہے۔

میزائل شیلڈ کے سائے میں امن

حکمتِ عملی کے دوسرے حصے کے تحت متحدہ عرب امارات واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دے رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق جنگ کے دوران اسرائیل نے امارات کو جدید دفاعی وسائل فراہم کرنے میں تیزی دکھائی۔ 

ان میں ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے والی دفاعی ٹیکنالوجی اور مبینہ طور پر لیزر سسٹم بھی شامل تھا۔ 

اسرائیل اب دفاعی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ +

متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز سے نکل نہیں سکتا، لیکن وہ اپنی پوری معیشت کو اس ایک آبی راستے کے رحم و کرم پر بھی نہیں چھوڑنا چاہتا۔

نئی اماراتی حکمتِ عملی تین بنیادی ستونوں پر قائم ہے:

  1. ایران کے ساتھ سفارتی کشیدگی میں کمی
  2. امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مضبوط دفاعی تعاون
  3. فجیرہ میں متبادل بندرگاہوں اور پائپ لائنوں کی تعمیر

متحدہ عرب امارات نے ان انتظامات کی تمام تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کیں، لیکن حکمتِ عملی کی سمت واضح ہے۔ 

امارات کو ایک ایسی کثیر سطحی دفاعی چھتری درکار ہے جو ڈرونز، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں کو مختلف فاصلوں پر روک سکے۔ 

اس کے ساتھ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، فوجی اڈوں، تیل تنصیبات اور ریڈار نظاموں کے درمیان بہتر رابطہ بھی ضروری ہے۔

ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون بظاہر متضاد پالیسیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن ابوظبی کے نقطۂ نظر سے دونوں ایک ہی مقصد کی تکمیل کرتی ہیں۔ 

سفارتی رابطے حملے کا امکان کم کرتے ہیں، جبکہ دفاعی چھتری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مذاکرات کمزوری یا خوف کے زیرِ اثر نہ ہوں۔

اسے مسلح بقائے باہمی کہا جاسکتا ہے: 

حریف کے ساتھ بات چیت، ممکن ہونے پر تجارت اور سفارت کاری، لیکن مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں حملہ روکنے کی پوری تیاری۔

فجیرہ: متبادل بندرگاہ سے دوسرے اقتصادی مرکز تک

اماراتی حکمتِ عملی کا سب سے اہم حصہ مذاکراتی میز یا دفاعی کنٹرول روم کے بجائے مشرقی ساحل پر تعمیر ہورہا ہے۔

فجیرہ خلیجِ عمان کے کنارے آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے۔ 

یہاں نئی بندرگاہیں اور تیل برآمد کرنے کی اضافی صلاحیت پیدا کرکے متحدہ عرب امارات خلیج کے اندر موجود بندرگاہوں اور تنصیبات کے لیے ایک متبادل راستہ بنا سکتا ہے۔ 

مقصد یہ ہے کہ ہرمز کی بندش سے پوری اماراتی معیشت ایک ساتھ مفلوج نہ ہو۔

کیا ثابت، کیا ابھی غیر واضح؟ +

تصدیق شدہ معلومات:

  1. فجیرہ میں دو نئے ٹرمینلز تعمیر کرنے کا اعلان ہوچکا ہے۔
  2. ادنوک کی نئی پائپ لائن 2027 میں فعال کرنے کا ہدف مقرر ہے۔
  3. دبئی کی مالیاتی اور فضائی سرگرمیاں بڑی حد تک بحال ہوچکی ہیں۔

ابھی مکمل طور پر غیر واضح:

  1. اسرائیلی دفاعی نظاموں کی مکمل نوعیت اور تعداد
  2. ایران اور یو اے ای کے پسِ پردہ سیاسی تفاهمات
  3. کسی بڑے بحران میں فجیرہ کی عملی متبادل صلاحیت

22 جولائی کو ڈی پی ورلڈ نے فجیرہ پورٹس اتھارٹی کے ساتھ 50 سالہ رعایتی معاہدے کا اصولی اعلان کیا۔ 

منصوبے کے تحت الرغیلات میں کنٹینرز اور مختلف نوعیت کے سامان کے لیے ایک بندرگاہ، جبکہ دبا میں عام کارگو کے لیے دوسری بندرگاہ تعمیر کی جائے گی۔

الرغیلات ٹرمینل سالانہ 25 لاکھ معیاری کنٹینرز، 17 لاکھ ٹن عام سامان اور تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار گاڑیوں کے مساوی کارگو سنبھال سکے گا۔ 

دبا ٹرمینل کی سالانہ صلاحیت 36 لاکھ ٹن عام سامان ہوگی۔

ان منصوبوں سے متحدہ عرب امارات میں ڈی پی ورلڈ کی مجموعی کنٹینر صلاحیت 1 کروڑ 94 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ معیاری کنٹینرز تک پہنچ جائے گی، جیسا کہ کمپنی کے سرکاری اعلان میں بتایا گیا ہے۔

یہ دونوں بندرگاہیں جبل علی کا مکمل متبادل نہیں ہوں گی۔ 

انہیں زمینی لاجسٹک نیٹ ورک کے ذریعے جبل علی بندرگاہ اور جبل علی فری زون سے منسلک کیا جائے گا۔ 

یوں فجیرہ ایک الگ نظام بنانے کے بجائے موجودہ تجارتی نظام کا دوسرا سمندری دروازہ بن جائے گا۔

یہ کیوں اہم ہے؟ +

آبنائے ہرمز سے صرف خام تیل نہیں گزرتا بلکہ ایل این جی، طیاروں کا ایندھن، کھاد، دھاتیں، کیمیائی مصنوعات اور عام صارفین کی بڑی مقدار میں اشیا بھی منتقل ہوتی ہیں۔

  1. ہرمز کی بندش سے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
  2. فضائی سفر، خوراک، صنعت اور عالمی شپنگ متاثر ہوسکتی ہے۔
  3. متبادل راستوں کی تعمیر پورے خلیج کی اقتصادی حکمتِ عملی بدل سکتی ہے۔
  4. فجیرہ دوسرے خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔

تعمیراتی کام شروع ہونے کے بعد منصوبوں کی تکمیل میں 24 سے 30 ماہ لگ سکتے ہیں۔ 

تاہم اس کا اسٹریٹجک پیغام ابھی سے واضح ہے: 

امارات اپنی بیشتر لاجسٹک صلاحیت کو ایک ہی آبی دروازے کے پیچھے نہیں رکھنا چاہتا۔

وہ پائپ لائن جو حساب بدل سکتی ہے

ابوظبی نیشنل آئل کمپنی بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ 

ادنوک نے تیل کے کنوؤں کو فجیرہ کی برآمدی بندرگاہ سے ملانے والی دوسری پائپ لائن پر کام تیز کردیا ہے۔ 

یہ پائپ لائن متحدہ عرب امارات کی اس صلاحیت کو دوگنا کردے گی جس کے ذریعے خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈی میں بھیجا جاسکتا ہے۔

منصوبہ 2025 میں شروع ہوا تھا اور مئی 2026 تک تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہوچکا تھا۔ حکومت نے اسے تیز کرکے 2027 میں فعال کرنے کی ہدایت دی ہے، جیسا کہ ادنوک نے بتایا ہے۔

مسئلہ صرف تیل تک محدود نہیں۔ 

حالیہ بحران نے ظاہر کیا کہ آبنائے ہرمز خام تیل کے ٹینکروں کے ساتھ ایل این جی، طیاروں کے ایندھن، کھاد، ایلومینیم، کیمیائی مصنوعات اور عام صارفین کی اشیا کے لیے بھی ایک اہم گزرگاہ ہے۔ 

اس راستے میں خلل ایک ہی وقت میں ہوا بازی، صنعت، زراعت اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کرسکتا ہے۔

پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
  1. امارات میں پاکستانی ملازمتوں اور تنخواہوں کو تحفظ مل سکتا ہے۔
  2. پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر میں استحکام برقرار رہ سکتا ہے۔
  3. فضائی پروازوں کے طویل تعطل کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔
  4. جبل علی سے پاکستانی سامان کی ترسیل جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
  5. شپنگ اور انشورنس کے بڑھتے اخراجات سے جزوی تحفظ مل سکتا ہے۔
  6. مستحکم اماراتی معیشت میں پاکستانی کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

تاہم فجیرہ کے منصوبوں کا فائدہ فوری نہیں ہوگا، کیونکہ بندرگاہوں اور پائپ لائن کو مکمل ہونے میں وقت درکار ہے۔

اس کے باوجود فجیرہ آبنائے ہرمز کی اہمیت ختم نہیں کرسکتا۔ 

جبل علی بدستور کنٹینرز، تقسیم اور دوبارہ برآمدات کا مرکزی مقام رہے گا اور خلیجی منڈیاں ہرمز سے جڑی رہیں گی۔

متحدہ عرب امارات جو کچھ بنا رہا ہے، وہ جغرافیہ سے نکلنے کا جادوئی راستہ نہیں بلکہ بحران کے دوران معیشت کے اہم حصوں کو فعال رکھنے کی اضافی صلاحیت ہے۔

زیادہ سے زیادہ کارکردگی سے مضبوط لچک تک

خلیجی ممالک کی اقتصادی ترقی کئی دہائیوں سے زیادہ سے زیادہ کارکردگی کے اصول پر قائم رہی ہے: 

چند بڑے ہوائی اڈے، دیو ہیکل بندرگاہیں، قومی سطح کی بڑی کمپنیاں اور محدود مقامات پر جمع عالمی خدمات۔

حالیہ جنگ نے ترجیحات تبدیل کردی ہیں۔ 

عام حالات میں جو نظام سب سے زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہوتا ہے، جنگ کے وقت وہی نظام سب سے زیادہ کمزور ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً جب اس کی تمام سرگرمیاں ایک مرکزی مقام سے منسلک ہوں۔

سعودی عرب بھی اسی خطرے کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اس کا جغرافیہ مختلف متبادل فراہم کرتا ہے۔ 

وہ مشرقی علاقوں سے خام تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہوں تک پہنچانے والے راستوں پر زیادہ انحصار کرسکتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات فجیرہ اور خلیجِ عمان کو اپنی متبادل شہ رگ بنا رہا ہے۔

تین ممکنہ منظرنامے +
  1. منظم مفاہمت: ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے جاری رہیں، آزاد جہاز رانی بحال ہو اور دبئی اپنا سابقہ مقام حاصل کرلے۔
  2. مسلح بقائے باہمی: سفارتی رابطے برقرار رہیں مگر اعتماد قائم نہ ہو۔ یو اے ای دفاع مضبوط بنائے اور ایران ہرمز کو متاثر کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے۔
  3. نئی جنگ: مذاکرات ناکام ہوجائیں اور فجیرہ کے منصوبے مکمل ہونے سے پہلے اماراتی تجارت اور سیاحت کو ایک اور شدید دھچکا پہنچے۔

دونوں ملکوں کی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی مشترک ہے: 

عام دنوں میں لاگت کم رکھنے کے بجائے غیر معمولی دنوں میں کام جاری رکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔

اضافی بندرگاہیں، پائپ لائنیں اور متبادل راستے امن کے زمانے میں مہنگے دکھائی دیتے ہیں، لیکن جنگ کے دوران یہی اضافی صلاحیت قومی انشورنس بن جاتی ہے۔

معیشت کی واپسی، مگر زخم ابھی باقی

ابتدائی اعداد بتاتے ہیں کہ دبئی اپنی کشش مکمل طور پر نہیں کھو بیٹھا۔ 

جون میں ختم ہونے والے 12 ماہ کے دوران دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن 30 فیصد بڑھی اور فعال کمپنیوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔

ایمریٹس این بی ڈی نے رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 12.9 ارب درہم منافع کمایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔ 

فضائی پروازیں اور زیادہ تر کاروباری سرگرمیاں بحال ہوچکی ہیں، لیکن ہوٹل اور سیاحت کا شعبہ نسبتاً سست رفتاری سے سنبھل رہا ہے۔

ایک منٹ میں کہانی +

ایرانی حملوں نے دبئی کی عمارتوں سے زیادہ اس کی محفوظ شہر والی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد یو اے ای نے تین سطحوں پر کام شروع کردیا ہے۔

ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بحال کیے جارہے ہیں، امریکا اور اسرائیل سے دفاعی تعاون بڑھایا جارہا ہے اور فجیرہ میں آبنائے ہرمز سے باہر نئی بندرگاہیں اور پائپ لائن تعمیر ہورہی ہے۔

یو اے ای ہرمز کو چھوڑ نہیں رہا؛ وہ ایسی معیشت بنا رہا ہے جو ہرمز بند ہونے پر بھی سانس لے سکے۔

ایس اینڈ پی کا اندازہ ہے کہ دبئی کے ہوٹلوں میں کمروں کے استعمال کی شرح 2027 کے اختتام سے پہلے جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آسکے گی۔

یہی دبئی کی موجودہ حقیقت ہے۔ 

شہر نے تیزی سے واپس آنے کی صلاحیت ثابت کردی ہے، لیکن جنگ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس کی ساکھ ناقابلِ تسخیر نہیں۔ 

اب صرف ہر بحران کے بعد معمولات بحال کرنا کافی نہیں، اگلے بحران کے دوران نقصان اور تعطل کی شدت کم کرنا بھی ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے یہ حکمتِ عملی کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے لیے یہ صرف خلیجی سیاست یا عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کا معاملہ نہیں۔ متحدہ عرب امارات میں تقریباً 22 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ 

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کی تجارت تقریباً 8 ارب ڈالر ہے، جبکہ امارات سے آنے والی ترسیلاتِ زر کا حجم بھی تقریباً اسی سطح کے قریب ہے۔

دبئی اور ابوظبی میں طویل اقتصادی تعطل پاکستانی ملازمین کی ملازمتوں، تنخواہوں اور ترسیلاتِ زر پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ 

اس کے ساتھ شپنگ اور انشورنس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، فضائی پروازیں متاثر ہوسکتی ہیں اور پاکستانی تاجروں کی سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

مختصر تجزیہ +

یہ ایران اور امریکا میں سے کسی ایک کے انتخاب کی کہانی نہیں، بلکہ جغرافیہ، دفاع اور معیشت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔

امارات کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اگلے بحران میں دبئی کے دفاتر، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں بند ہونے کے بجائے متبادل نظام کے ذریعے کام جاری رکھ سکیں۔

فجیرہ امارات کے لیے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں، بلکہ اگلے بحران کے خلاف قومی انشورنس ہے۔

جبل علی پاکستان جانے یا وہاں سے آنے والے سامان کے لیے بھی ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے۔ فجیرہ کی نئی بندرگاہیں اور پائپ لائن مستقبل میں بحران کے اثرات کم کرسکتی ہیں، لیکن فائدہ فوری طور پر حاصل نہیں ہوگا۔ 

بندرگاہوں کی تعمیر میں کئی سال درکار ہیں اور پاکستانی تجارت بدستور جبل علی اور اماراتی فضائی نیٹ ورک سے جڑی رہے گی۔

اسی لیے متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی پاکستانی معیشت، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے بھی براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔

جنگ کے بعد 3 ممکنہ راستے

پہلا منظرنامہ منظم مفاہمت کا ہے۔ 

پروازیں، تجارت اور سفارتی رابطے جاری رہتے ہیں، جبکہ ایران سیاسی یا اقتصادی ضمانتوں کے بدلے آزاد جہاز رانی کو قبول کرلیتا ہے۔ 

اس صورت میں دبئی تیزی سے اپنا سابقہ مقام حاصل کرسکتا ہے اور فجیرہ طویل مدت کی حفاظتی انشورنس بن جائے گا۔

دوسرا اور زیادہ ممکن منظرنامہ مسلح بقائے باہمی ہے۔ 

رابطے کھلے رہیں گے، مگر حقیقی اعتماد قائم نہیں ہوگا۔ 

متحدہ عرب امارات اپنی فضائی دفاعی صلاحیت، بندرگاہیں اور پائپ لائنیں بناتا رہے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو متاثر کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ 

نتیجہ ایک ایسا استحکام ہوگا جو کسی بھی وقت ہل سکتا ہے اور جس کی وجہ سے دفاع، شپنگ اور انشورنس کے اخراجات مستقل طور پر بلند رہیں گے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

تیسرا منظرنامہ مسلح تصادم کی واپسی ہے۔ 

آبنائے ہرمز کے انتظام، جہازوں سے فیس وصول کرنے اور بحری حدود پر کنٹرول کے معاملات ابھی حل سے دور ہیں۔ 

ایران عمان کی جانب سے پیش کی گئی اور خلیجی ممالک کی حمایت رکھنے والی مشترکہ انتظام کی تجویز مسترد کرچکا ہے، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔

اگر فجیرہ کے منصوبے مکمل ہونے سے پہلے جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو متحدہ عرب امارات کے اقتصادی ماڈل کو ایک اور کڑے امتحان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انتخاب ایران یا امریکا کے درمیان نہیں

متحدہ عرب امارات ایران اور امریکا میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر رہا، کیونکہ ابوظبی کے نزدیک ایسا انتخاب خود ایک اسٹریٹجک غلطی ہوسکتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور فوجی روک تھام فراہم کرتے ہیں۔ 

ایران کے پاس جغرافیہ اور خطے کی تجارت میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت ہے، جبکہ فجیرہ امارات کو اس وقت متبادل راستہ دیتا ہے جب سفارت کاری اور فوجی طاقت دونوں تصادم روکنے میں ناکام ہوجائیں۔

اس لیے اصل کہانی نہ ایران کے ساتھ مکمل مفاہمت کی ہے اور نہ اس کے خلاف کسی نئے اتحاد کی۔ 

یہ ایک ایسی ریاست کی کہانی ہے جس نے محسوس کیا ہے کہ اس کی خوشحالی طویل عرصے تک مسلسل امن اور آزاد جہاز رانی کے مفروضے پر قائم رہی، اور اب صرف یہ مفروضہ کافی نہیں۔

متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ 

وہ ایک ایسی معیشت تعمیر کر رہا ہے جو ہرمز کے تنگ ہونے پر بھی سانس لے سکے، ایسا امن جس کے پیچھے میزائل شیلڈ موجود ہو، ایسی تجارت جسے متبادل راستے میسر ہوں اور ایک ایسی مرکزی ریاست جو اگلے بحران سے پہلے اپنے لیے دوسرا اقتصادی دل تعمیر کرنا چاہتی ہو۔

اصل اور بنیادی ذرائع

فجیرہ بندرگاہوں، ہرمز کے متبادل راستوں، اماراتی حکمتِ عملی اور پاکستانی مفادات کے مستند ذرائع

14 بنیادی ذرائع
فجیرہ کی نئی بندرگاہیں
ڈی پی ورلڈ — فجیرہ میں دو نئی بندرگاہیں فجیرہ پورٹس اتھارٹی کے ساتھ 50 سالہ معاہدے، الرغیلات میں 25 لاکھ کنٹینرز سالانہ صلاحیت کے ٹرمینل اور دبا میں عام کارگو ٹرمینل کا بنیادی سرکاری ماخذ۔ اصل سرکاری اعلان
اعلان پڑھیں ↗
ہرمز سے باہر تیل کا متبادل راستہ
ادنوک — فجیرہ تک دوسری تیل پائپ لائن ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت دوگنی کرنے، مئی 2026 تک تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہونے اور 2027 میں پائپ لائن فعال کرنے کی تفصیلات۔ ادنوک کا سرکاری بیان
اصل بیان ↗
ادنوک — نئی پائپ لائن جلد مکمل کرنے کی ہدایت فجیرہ جانے والی دوسری پائپ لائن کا کام تیز کرنے اور اسے 2027 میں فعال بنانے کی باضابطہ ہدایت کا سرکاری ماخذ۔ منصوبے کی سرکاری تصدیق
تفصیلات پڑھیں ↗
بحری سلامتی پر اماراتی مؤقف
اماراتی وزارتِ خارجہ — آئل ٹینکروں پر حملے کی مذمت دو اماراتی آئل ٹینکروں پر ایرانی حملے کو بحری سلامتی، عالمی تجارت اور آزاد جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دینے کا سرکاری بیان۔ اماراتی سرکاری مؤقف
اصل بیان ↗
اماراتی وزارتِ خارجہ — ایران کے علاقائی حملوں پر مؤقف بحرین، کویت، قطر، اردن اور عمان پر ایرانی حملوں کی مذمت اور خلیجی ممالک کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ پر زور۔ علاقائی سلامتی کا ماخذ
سرکاری مؤقف ↗
امارات کی نئی علاقائی حکمتِ عملی
فنانشل ٹائمز — ایران سے متعلق امارات کی نئی حکمتِ عملی ایران کے ساتھ تجارت و پروازوں کی بحالی، تقریباً 20 ہزار ایرانی باشندوں کی واپسی، دفاعی تعاون اور ہرمز پر انحصار کم کرنے کی پالیسی کا بنیادی صحافتی ماخذ۔ بنیادی صحافتی تحقیق
اصل رپورٹ ↗
فنانشل ٹائمز — اسرائیلی دفاعی نظاموں کی فراہمی ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف متحدہ عرب امارات کو فراہم کیے گئے مبینہ لیزر اور دوسرے فضائی دفاعی نظاموں سے متعلق صحافتی تحقیق۔ آزاد صحافتی ماخذ
رپورٹ پڑھیں ↗
فجیرہ منصوبوں کی آزادانہ تصدیق
رائٹرز — فجیرہ کے دو نئے ٹرمینلز امارات کے مشرقی ساحل پر دونوں ٹرمینلز، ہرمز پر انحصار میں کمی اور انہیں جبل علی کے لاجسٹک نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی آزادانہ تصدیق۔ آزاد صحافتی تصدیق
اصل رپورٹ ↗
جنگ کے بعد دبئی کی معاشی بحالی
رائٹرز — دبئی کا کاروباری اعتماد بحال کرنے کا منصوبہ دبئی کے ولی عہد کی کاروباری شخصیات سے ملاقات اور سیاحت و ریٹیل سمیت متاثرہ شعبوں کے لیے 2.5 ارب درہم کے امدادی پیکیج کی تفصیلات۔ کاروباری بحالی کا ماخذ
رپورٹ پڑھیں ↗
رائٹرز — دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کی بحالی نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 30 فیصد اضافہ، 10 ہزار سے زیادہ فعال کمپنیاں اور اثاثہ و دولت کے انتظام کی کمپنیوں میں 35 فیصد اضافے کے اعداد۔ مالیاتی شعبے کے اعداد
تفصیلات پڑھیں ↗
رائٹرز — اماراتی بینک، پروازیں اور ہوٹلوں کی بحالی ایمریٹس این بی ڈی کے منافع، فضائی سفر اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی، جبکہ ہوٹلوں کے مکمل سنبھلنے میں مزید وقت لگنے کی تفصیلات۔ اقتصادی بحالی کا ماخذ
اصل رپورٹ ↗
آبنائے ہرمز کا غیر حل شدہ تنازع
رائٹرز — ہرمز کے مشترکہ انتظام پر اختلاف ایران کی جانب سے عمان کی پیش کردہ علاقائی انتظام کی تجویز مسترد کرنے اور آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی کا خطرہ برقرار رہنے کا بنیادی ماخذ۔ علاقائی سلامتی کا ماخذ
رپورٹ پڑھیں ↗
امارات میں پاکستانی مفادات
پاکستانی وزارتِ خارجہ — امارات میں پاکستانی برادری متحدہ عرب امارات میں تقریباً 22 لاکھ پاکستانیوں، 8 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت اور ترسیلاتِ زر میں امارات کی اہمیت کا سرکاری ماخذ۔ پاکستانی سرکاری ماخذ
پریس بریفنگ ↗
اسٹیٹ بینک آف پاکستان — امارات سے ترسیلاتِ زر جون 2026 میں متحدہ عرب امارات سے پاکستان کو تقریباً 79 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی ماہانہ ترسیلات موصول ہونے کا سرکاری ڈیٹا۔ سرکاری مالیاتی اعداد
PDF رپورٹ ↗
SOURCES • overseaspost.net