مولانا محمد عابد ندوی
جدہ
نبی کریمﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔
قرآن و حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک مومن کے لیے رسول اللہﷺ کی محبت والدین، اولاد، مال و دولت حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہونی چاہئے۔
صحابہ کرامؓ نے زید بن دثنہؓ، خبیب بن عدیؓ اور غزوۂ احد کے جانثاروں کی صورت میں اس محبت کا عملی ثبوت پیش کیا۔
امتِ مسلمہ پر رسول اللہﷺ کے حقوق میں ایک اہم حق آپﷺ سے محبت کرنا ہے، اور ایسی محبت مطلوب ہے جو مال و دولت، آل اولاد بلکہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہو۔
یہ کمالِ ایمان کی بنیادی شرط ہے۔
آدمی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک رسولِ کریمﷺ کی ذاتِ گرامی اسے ماں باپ، بیوی بچوں اور اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان، تمہارے کمائے ہوئے مال، وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جو تمہیں پسند ہیں، اگر یہ تمہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔‘ (سورۃ التوبہ: 24)
مزید پڑھیں
والدین، اولاد، خاندان اور مال و دولت کی محبت فطری ہے۔ اسلام ان محبتوں کی نفی نہیں کرتا، البتہ یہ مطالبہ ضرور کرتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت ہر دوسری محبت پر غالب ہو۔
محبتِ رسول ﷺ اور ایمان
احادیثِ میں نبی کریمﷺ نے اپنی محبت کو ایمان سے جوڑا ہے۔
سیدنا ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘ (صحیح بخاری)
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL ARTICLEمحبتِ رسول ﷺ — اہم نکات ⌄
- ✓نبی کریم ﷺ سے محبت کمالِ ایمان کی بنیادی شرط ہے۔
- ✓اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت والدین، اولاد، مال اور دوسری دنیاوی محبتوں پر مقدم ہونی چاہئے۔
- ✓سیدنا عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب قرار دے کر کامل محبت کا معیار واضح کیا۔
- ✓زید بن دثنہؓ، خبیب بن عدیؓ اور غزوۂ احد کے جانثاروں نے محبتِ رسول ﷺ کو عمل اور قربانی سے ثابت کیا۔
- ✓حقیقی محبت کا تقاضا اطاعت، اتباعِ سنت اور اچھا کردار ہے، صرف زبانی دعویٰ نہیں۔
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک آپﷺ اسے اپنے اہل و عیال، مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں۔
سیدنا عبداللہ بن ہشامؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ سیدنا عمر بن خطابؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔
سیدنا عمرؓ نے عرض کیا: ’یا رسول اللہﷺ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، سوائے میرے اپنے نفس کے۔‘
آپﷺ نے فرمایا:
’نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہوجاؤں۔‘
سیدنا عمرؓ نے فوراً عرض کیا: ’اللہ کی قسم! اب آپﷺ مجھے میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔‘
رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’ہاں عمر! اب۔‘ (صحیح بخاری)
i OVERSEAS POST | FACT BOXمحبتِ رسول ﷺ — فیکٹ باکس ⌄
- قرآنی بنیاد
- سورۃ التوبہ، آیت 24
- مرکزی اصول
- اللہ اور رسول ﷺ کی محبت سب سے مقدم
- والد و اولاد سے بڑھ کر محبت
- صحیح بخاری — روایتِ ابوہریرہؓ
- اہل و عیال اور تمام لوگوں سے بڑھ کر
- صحیح مسلم — روایتِ انسؓ
- اپنی جان سے بھی زیادہ محبت
- صحیح بخاری — واقعۂ سیدنا عمرؓ
- عملی مثالیں
- زید بن دثنہؓ، خبیب بن عدیؓ، غزوۂ احد
- حقیقی معیار
- محبت + اطاعت + اتباعِ سنت + کردار
صحابہؓ کی بے مثال محبت
صحابہ کرامؓ نے رسول اللہﷺ سے محبت کی ایسی مثالیں قائم کیں جو تاریخِ انسانی میں کم ہی ملتی ہیں۔
سیدنا علیؓ سے پوچھا گیا کہ آپ لوگوں کی رسول اللہﷺ سے محبت کیسی تھی؟
انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! رسول اللہﷺ ہمیں اپنے مال، اولاد اور ماں باپ سے بھی زیادہ محبوب تھے، بلکہ شدید پیاس میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب تھے۔
سیدنا زید بن دثنہؓ کو کفار نے گرفتار کرلیا اور قتل کے لیے لے گئے۔
ابو سفیان، جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، نے ان سے پوچھا کہ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہاری جگہ محمدﷺ ہوں اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو؟
سیدنا زیدؓ نے جواب دیا:
’اللہ کی قسم! مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میں آزاد ہوجاؤں اور محمدﷺ کو اس جگہ جہاں آپ تشریف فرما ہیں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔‘
یہ سن کر ابو سفیان نے کہا:
’ہم نے کسی کو کسی سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی محبت اصحابِ محمدﷺ، محمدﷺ سے کرتے ہیں۔‘
◎ OVERSEAS POST | EXPLAINERمحبتِ رسول ﷺ کیوں اہم ہے؟ ⌄
محبتِ رسول ﷺ مومن کی زندگی کے تین بنیادی پہلوؤں کو ایک ساتھ جوڑتی ہے:
خبیبؓ کی قربانی
سیدنا خبیب بن عدیؓ بھی کفار کی سازش کا شکار ہوئے۔
انہیں سولی پر چڑھانے سے پہلے کہا گیا کہ اگر اسلام چھوڑ دو تو جان بچ سکتی ہے، مگر انہوں نے ایمان پر موت کو ترجیح دی۔
کفار نے پوچھا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمدﷺ ہوتے اور تم بچ جاتے؟
سیدنا خبیبؓ نے جواب دیا:
’اللہ کی قسم! مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ میری جان بچ جائے اور اس کے عوض محمدﷺ کے پائے مبارک میں ایک کانٹا چبھ جائے۔‘
یہ محض زبان کا دعویٰ نہیں تھا، بلکہ محبتِ رسولﷺ کی وہ عملی تصویر تھی جس کے لیے صحابہؓ اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔
✓ OVERSEAS POST | PRACTICAL GUIDEمحبتِ رسول ﷺ — دعویٰ اور عمل ⌄
حقیقی محبت کی نشانیاں
- رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو زندگی کا معیار بنانا۔
- سنت کی پیروی اور آپ ﷺ کے احکام کو مقدم رکھنا۔
- اخلاق و کردار میں نبوی تعلیمات کی جھلک پیدا کرنا۔
- محبت کو اطاعت، وفاداری اور عمل سے ثابت کرنا۔
صرف یہ کافی نہیں
- محبت کو صرف زبانی دعوے تک محدود رکھنا۔
- جذبات کا اظہار کرنا مگر سنت سے دور رہنا۔
- اپنی خواہشات کو نبوی تعلیمات پر ترجیح دینا۔
- محبت کے دعوے کے باوجود معاملات اور کردار میں بے عملی دکھانا۔
صحابہ کرامؓ کی زندگی بتاتی ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا سب سے مضبوط ثبوت اطاعت، وفاداری اور قربانی ہے۔
غزوۂ احد اور جانثاری
غزوۂ احد میں بھی محبتِ رسولﷺ کے بے شمار مناظر سامنے آئے۔
جب کفار نے مسلمانوں پر عقب سے حملہ کیا اور رسول اللہﷺ دشمنوں کے نرغے میں آگئے تو چند صحابہؓ نے اپنے جسموں کو آپﷺ کے لیے ڈھال بنادیا۔
سیدنا ابوطلحہؓ آپﷺ کے سامنے کھڑے ہوکر دشمن کے تیر روکتے رہے۔ انہوں نے عرض کیا:
’یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ سر نہ اٹھائیں، کہیں دشمن کا تیر آپ تک نہ پہنچ جائے، میرا سینہ آپ کے لیے حاضر ہے۔‘
سیدنا ابو دجانہؓ بھی آپﷺ پر جھک گئے۔
دشمن کے تیر ان کی پشت میں پیوست ہوتے رہے، مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹے تاکہ کوئی تیر رسول اللہﷺ تک نہ پہنچ سکے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری بات ⌄
اسلام میں نبی کریم ﷺ سے محبت محض عقیدت یا جذبات نہیں بلکہ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ قرآن اور احادیث میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو تمام دنیاوی محبتوں پر مقدم رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
صحابہ کرامؓ نے اس محبت کو عمل سے ثابت کیا۔ زید بن دثنہؓ اور خبیب بن عدیؓ نے اپنی جان قربان کرنا قبول کیا مگر رسول اللہ ﷺ کو معمولی تکلیف پہنچنا بھی گوارا نہ کیا، جبکہ غزوۂ احد میں صحابہؓ آپ ﷺ کے لیے ڈھال بن گئے۔
اس مضمون کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی معیار صرف دعویٰ نہیں؛ مسلمان اپنی اطاعت، اتباعِ سنت، اخلاق اور کردار سے اس محبت کا ثبوت دے۔
اسی غزوے میں ایک انصاری خاتون کے والد، بھائی، بیٹے اور شوہر شہید ہوگئے۔
مگر وہ مسلسل یہی پوچھتی رہیں کہ رسول اللہﷺ کیسے ہیں؟
جب انہوں نے آپﷺ کو سلامت دیکھا تو کہا:
’یا رسول اللہﷺ! آپ سلامت ہیں تو ہر مصیبت ہیچ ہے۔‘
محبت کا حقیقی تقاضا
صحابہ کرامؓ کے نزدیک محبتِ رسولﷺ صرف جذباتی دعویٰ نہیں تھی۔
انہوں نے اپنی اطاعت، قربانی، وفاداری اور جانثاری سے ثابت کیا کہ رسول اللہﷺ انہیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔
آج بھی محبتِ رسولﷺ کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان آپﷺ کی سنت کو اپنائے، آپﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا معیار بنائے، آپﷺ کے احکام کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے اور اپنے اخلاق و کردار سے اس محبت کا ثبوت دے۔
محبتِ رسولﷺ صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ اطاعت، اتباع اور عمل کا نام ہے، اور یہی محبت ایمان کے کمال کی بنیادی شرط ہے۔