براہ راست نشریات

ہجرتِ معکوس سے اسرائیل پریشان، ہزاروں افراد رختِ سفر باندھنے لگے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Israel brain drain

اسرائیل سے بیرون ملک جانے والوں کی تعداد حالیہ برسوں میں غیر معمولی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران 2 لاکھ 68 ہزار 509 اسرائیلی کم از کم مسلسل 3 ماہ بیرون ملک رہے۔
2025 میں ملک چھوڑنے والوں میں سے 45 سے 50 ہزار کے ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ باہر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
سب سے زیادہ تشویش اعلیٰ تعلیم یافتہ اور زیادہ آمدنی والے افراد، ڈاکٹروں، انجینئروں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی نقل مکانی پر ہے۔

اسرائیل اب صرف اپنے ہاں آنے والوں کی تعداد پر نظر نہیں رکھ رہا بلکہ مخالف سمت میں جاری نقل مکانی بھی اس کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ 

دسیوں ہزار اسرائیلی ملک چھوڑ رہے ہیں، جن میں ڈاکٹر، انجینئر، ٹیکنالوجی ماہرین اور زیادہ آمدنی والے افراد بھی شامل ہیں۔ 

یوں ہجرت کا معاملہ محض آبادی کے اعداد و شمار سے نکل کر معاشی اور اسٹریٹجک چیلنج بنتا جارہا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاسرائیل سے ہجرت — اہم نکات
  • 2023 سے 2025 کے دوران 268,509 اسرائیلی کم از کم مسلسل تین ماہ بیرون ملک رہے۔
  • 2013–2015 کے مقابلے میں یہ تعداد تقریباً 47 فیصد زیادہ ہے۔
  • 2025 میں 45 سے 50 ہزار افراد کے ایک سال یا اس سے زیادہ بیرون ملک رہنے کا تخمینہ ہے۔
  • !ڈاکٹر، انجینئر، ہائی ٹیک ماہرین اور زیادہ آمدنی والے افراد کی نقل مکانی نے برین ڈرین کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
  • !اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ جارہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنے واپس آئیں گے؟
overseaspost.net

تل ابیب یونیورسٹی کی اگست 2026 میں شائع تحقیق، جو اسرائیلی مرکزی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران 2 لاکھ 68 ہزار 509 اسرائیلی کم از کم مسلسل 3 ماہ کے لیے ملک سے باہر گئے۔

تاہم اصل تشویش صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ جارہے ہیں، بلکہ زیادہ اہم سوال ہے: اسرائیل چھوڑنے والے کون ہیں؟

مزید پڑھیں

3 برس میں 2 لاکھ 68 ہزار سے زیادہ افراد

تحقیق کے مطابق 2025 میں 90 ہزار 922 اسرائیلی کم از کم مسلسل 3 ماہ بیرون ملک رہے۔ 

2024 میں یہ تعداد 91 ہزار 499 جبکہ 2023 میں 86 ہزار 509 تھی۔

یوں 3 برس میں مجموعی تعداد 2 لاکھ 68 ہزار 509 بنتی ہے۔

یہ اعداد اس وقت مزید اہم ہوجاتے ہیں جب ان کا ایک دہائی پہلے کی

 اسی مدت سے موازنہ کیا جائے۔ 

2013 سے 2015 کے دوران کم از کم 3 ماہ مسلسل بیرون ملک رہنے والے اسرائیلیوں کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار 219 تھی۔

یعنی دونوں ادوار کے درمیان اس تعداد میں تقریباً 47 فیصد اضافہ ہوا۔

کیا یہ سب مستقل ہجرت کرگئے؟

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ 

2 لاکھ 68 ہزار کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام افراد مستقل طور پر اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔

تل ابیب یونیورسٹی نے تازہ رجحان جانچنے کے لیے مسلسل 3 ماہ بیرون ملک رہنے کو پیمانہ بنایا ہے، کیونکہ 12 ماہ یا اس سے زیادہ بیرون ملک رہنے کی بنیاد پر تیار ہونے والے سرکاری ہجرت کے اعداد مکمل ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXاسرائیل سے ہجرت: فیکٹ باکس
2023
86,509
2024
91,499
2025
90,922
تین سال کا مجموعہ
268,509
2013–2015 کا مجموعہ
183,219
دونوں ادوار میں اضافہ
تقریباً 47 فیصد
2025 میں طویل مدتی ہجرت کا تخمینہ
45 سے 50 ہزار افراد — ایک سال یا اس سے زیادہ
overseaspost.net

محققین نے اندازہ لگایا کہ 2025 میں اسرائیل چھوڑنے والوں میں سے 45 سے 50 ہزار افراد ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ بیرون ملک رہ سکتے ہیں۔

اس لیے طویل مدتی ہجرت کے حوالے سے یہی تخمینہ زیادہ اہم ہے۔

مسئلہ جنگ سے پہلے شروع ہوا

اس رجحان کو صرف جنگ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

کنیسٹ کے سامنے پیش کیے گئے اعداد کے مطابق ہجرت کرنے والوں کی تعداد 2022 میں تقریباً 59 ہزار 400 تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 82 ہزار 800 ہوگئی، جبکہ 2024 میں سرکاری طریقۂ شمار کے مطابق یہ تعداد 69 ہزار 500 رہی۔

2023 کے آغاز میں عدالتی نظام میں مجوزہ تبدیلیوں نے اسرائیل میں شدید سیاسی اور سماجی بحران پیدا کیا اور لاکھوں افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے۔

بعد ازاں 7 اکتوبر کے واقعات اور جنگ نے سیاسی بحران کے ساتھ سکیورٹی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں بھی اضافہ کردیا۔

Financial Times کے مطابق صرف اکتوبر 2023 میں تقریباً 14 ہزار افراد اسرائیل سے باہر گئے۔ جنگ، سیاسی تقسیم، مستقبل سے متعلق بے یقینی، مہنگائی اور معاشی دباؤ اس رجحان کے اہم عوامل سمجھے جارہے ہیں۔

سب سے بڑی پریشانی: کون جارہا ہے؟

اسرائیل کے لیے شاید تعداد سے زیادہ اہم ملک چھوڑنے والوں کی نوعیت ہے۔

اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ خوشحال اسرائیلیوں، خصوصاً ہائی ٹیک اور صحت کے شعبوں سے وابستہ افراد میں ملک چھوڑنے کی شرح 2023 اور 2024 میں 2019 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہوگئی۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ ہجرت کیوں اہم ہے؟

تشویش صرف تعداد کی نہیں، بلکہ اسرائیل چھوڑنے والے انسانی سرمائے کی نوعیت کی ہے:

ہائی ٹیکانجینئر، پروگرامرز، محققین اور کاروباری افراد کی مستقل ہجرت اسرائیلی ٹیکنالوجی شعبے پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
ٹیکس آمدنیزیادہ آمدنی والے افراد کے جانے سے سرکاری محصولات متاثر ہوسکتے ہیں؛ ایک تحقیق نے پانچ برس میں سالانہ ممکنہ نقصان 3.5 ارب ڈالر تک بتایا۔
سلامتینوجوان اور تکنیکی ماہرین کا مستقل اخراج طویل مدت میں ریزرو فورسز اور فوجی و تکنیکی صلاحیتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
اصل مسئلہ: اگر موجودہ نقل مکانی عارضی قیام کے بجائے مستقل ہجرت بن گئی تو اسرائیل کو آبادی سے بڑھ کر انسانی سرمائے کے نقصان کا سامنا ہوگا۔
overseaspost.net

دوسری تحقیقات میں ڈاکٹروں، انجینئروں اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی سے متعلق اعلیٰ تعلیم رکھنے والوں کے خالص اخراج میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب اسرائیل میں ’برین ڈرین‘ کا خدشہ زیادہ سنجیدگی سے زیر بحث آرہا ہے۔

ہائی ٹیک اسرائیلی معیشت کے اہم ترین شعبوں میں شامل ہے اور اس کا انحصار انجینئروں، پروگرامرز، محققین اور کاروباری افراد پر ہے۔ 

اگر یہ ماہرین دوسرے ممالک میں مستقل طور پر آباد ہوگئے تو ان کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔

سالانہ 3.5 ارب ڈالر کا ممکنہ نقصان

معاملہ صرف افرادی قوت تک محدود نہیں۔

Financial Times میں زیر بحث تحقیق کے مطابق اگر زیادہ آمدنی والے اسرائیلیوں کی نقل مکانی موجودہ رفتار سے جاری رہی تو پانچ برس کے اندر ٹیکس آمدنی کا ممکنہ سالانہ نقصان تقریباً 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

زیادہ آمدنی والے افراد ریاستی ٹیکس آمدنی میں بڑا حصہ ڈالتے ہیں۔ 

اس لیے ان کی مستقل ہجرت سے حکومت کو نہ صرف ماہر افرادی قوت بلکہ قابل ذکر مالی وسائل سے بھی محروم ہونا پڑسکتا ہے۔

معیشت سے قومی سلامتی تک

اس مسئلے کا ایک اور پہلو اسرائیل کی فوجی ضروریات ہیں۔

اسرائیل لازمی فوجی خدمت اور ریزرو فورسز پر انحصار کرتا ہے، جبکہ اس کے جدید فوجی اور ٹیکنالوجی یونٹس میں سائنسی اور تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر نوجوان اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد مستقل طور پر ملک چھوڑتے رہے تو طویل مدت میں اس کے اثرات روزگار، سرکاری مالیات کے ساتھ فوجی اور ٹیکنالوجی صلاحیتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟

مصدقہ معلومات

  • 2023–2025 میں 268,509 اسرائیلی کم از کم مسلسل تین ماہ بیرون ملک رہے۔
  • 2025 کا تین ماہ والا عدد 90,922 ہے۔
  • 2013–2015 کے مقابلے میں تین ماہ بیرون ملک رہنے والوں کی تعداد تقریباً 47 فیصد بڑھی۔
  • 2025 میں 45 سے 50 ہزار افراد کے ایک سال یا اس سے زیادہ باہر رہنے کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

کیا کہنا درست نہیں؟

  • تمام 268,509 افراد کو مستقل تارکین وطن قرار نہیں دیا جاسکتا۔
  • تین ماہ بیرون ملک رہنا خود بخود مستقل ہجرت ثابت نہیں کرتا۔
  • ابھی یہ طے نہیں کہ حالیہ برسوں میں جانے والوں میں سے کتنے مستقل طور پر واپس نہیں آئیں گے۔
  • موجودہ اعداد فوری آبادیاتی انہدام کا ثبوت نہیں ہیں۔

اہم احتیاط: 268,509 کا عدد تین ماہ مسلسل بیرون ملک رہنے والوں کا ہے؛ مستقل یا طویل مدتی ہجرت کے لیے الگ پیمانہ استعمال کرنا ضروری ہے۔

overseaspost.net

تاہم محققین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ موجودہ اعداد کو اسرائیل کے فوری آبادیاتی یا معاشی انہدام کا ثبوت قرار دینا درست نہیں۔ 

اصل خطرہ اس صورت میں پیدا ہوگا اگر یہ رجحان طویل عرصے تک جاری اور مزید شدید ہوتا ہے۔

اسرائیل کے لیے ایک غیر معمولی تضاد

اسرائیل کی تاریخ میں بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد کو آبادیاتی اور اسٹریٹجک کامیابی سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں آبادی کی نقل و حرکت مخالف سمت میں جانے کے اشارے دے رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہجرتِ معکوس کا معاملہ اسرائیل کے لیے محض چند ہزار افراد کے ملک چھوڑنے کا سوال نہیں رہا۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

2023 سے 2025 کے دوران 268,509 اسرائیلی کم از کم مسلسل تین ماہ بیرون ملک رہے، جو ایک دہائی پہلے کی اسی مدت سے تقریباً 47 فیصد زیادہ ہے۔

اصل تشویش یہ ہے کہ جانے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر، ہائی ٹیک ماہرین اور زیادہ آمدنی والے افراد شامل ہیں۔ اگر یہ نقل مکانی مستقل ہوئی تو برین ڈرین اسرائیلی معیشت اور افرادی قوت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

تمام 268 ہزار افراد مستقل تارکین وطن نہیں۔ 2025 کے لیے طویل مدتی ہجرت کا تخمینہ 45 سے 50 ہزار ہے۔ فیصلہ کن سوال یہی ہے کہ آنے والے برسوں میں کتنے لوگ واپس لوٹتے ہیں۔

overseaspost.net

اگر موجودہ نقل مکانی عارضی ثابت ہوتی ہے اور حالات بہتر ہونے کے بعد بڑی تعداد واپس آجاتی ہے تو اسے ایک غیر معمولی بحران سے پیدا ہونے والی عارضی لہر سمجھا جاسکتا ہے۔

لیکن اگر ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، پروگرامرز اور کاروباری افراد بیرون ملک اپنی زندگیاں مستقل بنیادوں پر قائم کرلیتے ہیں تو مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہوگا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آج کتنے اسرائیلی اپنے بیگ باندھ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ چند برس بعد ان میں سے کتنے واپس آنے کا فیصلہ کریں گے۔

اور اگر بڑی تعداد نے واپس نہ آنے کا انتخاب کیا تو اسرائیل کے لیے یہ محض ہجرت نہیں بلکہ انسانی سرمائے کے مستقل نقصان کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

اعداد پیش کرتے وقت تین ماہ کی بیرون ملک موجودگی اور مستقل ہجرت کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

overseaspost.net