براہ راست نشریات

کیا کارکن آجر کی منظوری کے بغیر دوسری کمپنی میں منتقل ہوسکتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آجر کی منظوری کے بغیر ملازمت کی منتقلی

سعودی قانونِ محنت غیر ملکی کارکن کو بعض حالات میں موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر دوسرے ادارے میں منتقل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم منتقلی ’قوى‘ کے ذریعے، اطلاع کی مدت اور معاہدے کی مالی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مکمل کرنا ضروری ہے۔

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکن بعض مخصوص حالات میں موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر اپنی خدمات دوسرے ادارے کو منتقل کرسکتا ہے۔ 

تاہم منظوری کی ضرورت نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کارکن فوری طور پر ملازمت چھوڑ دے یا سرکاری کارروائی مکمل ہونے سے پہلے نئے ادارے میں کام شروع کردے۔

 منتقلی کے لیے قانونِ محنت، ملازمت کے معاہدے اور پلیٹ فارم ’قوى‘ کی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔

معاہدہ ختم ہونے پر منتقلی

سعودی قانونِ محنت کے انتظامی ضوابط کے مطابق غیر سعودی کارکن اپنے دستاویزی ملازمت کے معاہدے کی مدت ختم ہونے پر موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر دوسرے آجر کے پاس منتقل ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

عمومی طور پر اس کے لیے ضروری ہے کہ کارکن کو سعودی عرب میں داخل ہوئے کم از کم 12 ماہ مکمل ہوچکے ہوں اور وہ موجودہ آجر کو منتقلی سے کم از کم 90 دن پہلے اطلاع دے۔ 

فریقین باہمی اتفاق سے اطلاع کی مدت کم یا زیادہ بھی مقرر کرسکتے ہیں۔

معاہداتی تعلقات بہتر بنانے کے وزارتی فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا

 ہے کہ غیر ملکی کارکن دستاویزی معاہدہ ختم ہونے پر موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر دوسرے آجر کے پاس منتقل ہوسکتا ہے۔ 

کیا جاری معاہدے کے دوران منتقلی ممکن ہے؟

کارکن بعض شرائط پوری کرکے جاری معاہدے کے دوران بھی دوسرے ادارے میں منتقل ہوسکتا ہے۔ 

مگر یہاں خدمات کی منتقلی اور معاہدہ قبل از وقت ختم کرنے کی ذمہ داریوں کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔

⏱️ایک منٹ میں کہانی

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکن بعض حالات میں موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر دوسرے ادارے میں منتقل ہوسکتا ہے۔ معاہدہ ختم ہونا، تین ماہ تنخواہ نہ ملنا یا اقامہ اور ورک پرمٹ کی تجدید نہ ہونا نمایاں صورتیں ہیں۔ منتقلی لازماً «قوى» کے ذریعے مکمل ہوگی اور معاہدے، اطلاع کی مدت اور ممکنہ معاوضے کی ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔

ممکن ہے کہ منتقلی کے لیے موجودہ آجر کی منظوری درکار نہ ہو، لیکن اگر کارکن مقررہ مدت کا معاہدہ وقت سے پہلے ختم کرتا ہے تو قانونِ محنت کی دفعہ 77 کے تحت اسے دوسرے فریق کو معاوضہ ادا کرنا پڑسکتا ہے۔ 

اس کا انحصار معاہدے کی شرائط، باقی مدت اور معاہدہ ختم کرنے کے سبب پر ہوگا۔

کن حالات میں منظوری کے بغیر منتقلی ہوسکتی ہے؟

قانونِ محنت کے انتظامی ضوابط کے تحت چند نمایاں صورتیں یہ ہیں:

اقامہ یا ورک پرمٹ ختم ہوجائے

اگر کارکن کا اقامہ یا ورک پرمٹ ختم ہوجائے اور موجودہ آجر اس کی تجدید نہ کرائے تو مقررہ ضوابط کے مطابق کارکن کی خدمات دوسرے ادارے کو منتقل کی جاسکتی ہیں۔

نئے کارکن کا ورک پرمٹ جاری نہ ہو

اگر کوئی نیا غیر سعودی کارکن مملکت پہنچ جائے لیکن اس کے لیے ورک پرمٹ جاری نہ کیا جائے تو وہ «نطاقات» کے ضوابط کے مطابق منظوری کے بغیر منتقلی کا اہل ہوسکتا ہے۔

منظوری کے بغیر منتقلی کب؟
  • دستاویزی ملازمت کا معاہدہ ختم ہوجائے۔
  • اقامہ یا ورک پرمٹ ختم ہو اور آجر تجدید نہ کرائے۔
  • مسلسل تین ماہ واجب الادا تنخواہ نہ ملے۔
  • آجر لیبر مقدمے کو بلاوجہ طول دے۔
  • آجر کی غیر موجودگی سے ادارہ مسلسل تین ماہ ذمہ داریاں پوری نہ کرسکے۔

تین ماہ تنخواہ نہ ملے

اگر ادارہ کارکن کو مسلسل تین ماہ تک واجب الادا تنخواہ ادا نہ کرے یا تیسرے مہینے کی تنخواہ مقررہ تاریخ تک نہ دے تو کارکن منتقلی کی درخواست دے سکتا ہے۔

شرط یہ ہے کہ تنخواہ کی عدم ادائیگی یا تاخیر میں کارکن کا کوئی کردار نہ ہو۔ 

درخواست تیسرے مہینے کی تنخواہ واجب ہونے کی تاریخ سے ایک ہجری سال کے اندر دینی ہوگی۔

آجر لیبر مقدمے کو طول دے

اگر کارکن اور آجر کے درمیان مقدمہ زیر سماعت ہو اور آجر عدالتی کارروائی کو بلاوجہ طول دے رہا ہو تو وزارت خدمات کی منتقلی کی اجازت دے سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آجر یا اس کا نمائندہ قابل قبول عذر کے بغیر دو سماعتوں میں حاضر نہ ہو۔

متعلقہ عدالتی ادارہ کارکن کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے اس کی منتقلی کی سفارش بھی کرسکتا ہے۔

📅12 ماہ اور 90 دن کا اصول
12 ماہمملکت میں داخلے کے بعد عمومی بنیادی مدت
90 دنموجودہ آجر کو پیشگی اطلاع کی عمومی مدت

فریقین مختلف مدت پر اتفاق کرسکتے ہیں۔ معاہدہ وقت سے پہلے ختم کرنے پر دفعہ 77 کے تحت معاوضہ بھی واجب ہوسکتا ہے۔

آجر غائب ہو اور ادارہ ذمہ داریاں پوری نہ کرسکے

اگر آجر سفر، قید، وفات یا کسی دوسرے سبب سے غائب ہو اور ادارہ مسلسل تین ماہ تک کارکنوں کے حقوق ادا کرنے کے قابل نہ رہے، جبکہ کاروبار سنبھالنے کے لیے کوئی دوسرا ذمہ دار شخص بھی مقرر نہ ہو، تو منتقلی کی اجازت مل سکتی ہے۔

کیا موجودہ آجر منتقلی روک سکتا ہے؟

اگر کارکن منظوری کے بغیر منتقلی کی قانونی شرائط پوری کرتا ہے تو موجودہ آجر محض اپنی عدم رضامندی کی بنیاد پر اسے نہیں روک سکتا۔

البتہ آجر سرکاری ذرائع سے اعتراض کرسکتا ہے اگر درخواست میں غلط معلومات ہوں، اطلاع کی مقررہ مدت پوری نہ کی گئی ہو یا معاہدہ ختم کرنے کے نتیجے میں واجب الادا معاوضے کا تنازع موجود ہو۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ آجر کی منظوری درکار نہ ہونے کے باوجود اسے منتقلی کی اطلاع دی جاتی ہے۔ کارکن کے نئی ملازمت کی پیشکش قبول کرنے کے بعد ’قوى‘ موجودہ ادارے کو مطلع کرتا ہے۔ 

📲قوى پر منتقلی کا طریقہ
  1. نیا ادارہ «قوى» پر منتقلی کی درخواست بھیجے۔
  2. نئی ملازمت کی پیشکش اور معاہدہ تیار کیا جائے۔
  3. کارکن «قوى افراد» میں پیشکش کا جائزہ لے۔
  4. کارکن پیشکش قبول کرے۔
  5. موجودہ ادارے کو اطلاع اور مطلوبہ مہلت دی جائے۔
  6. شرائط کی تصدیق کے بعد منتقلی مکمل ہو۔

منتقلی کا طریقہ کیا ہے؟

منتقلی کی کارروائی نیا ادارہ شروع کرتا ہے:

  1. نیا ادارہ ’قوى‘ پر خدمات کی منتقلی کی درخواست دیتا ہے۔
  2. کارکن کے لیے ملازمت کی پیشکش اور نیا معاہدہ تیار کیا جاتا ہے۔
  3. کارکن ’قوى افراد‘ میں پیشکش کا جائزہ لے کر اسے قبول کرتا ہے۔
  4. موجودہ ادارے کو درخواست سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
  5. ضرورت ہونے پر اطلاع کی مدت شروع ہوجاتی ہے۔
  6. تمام شرائط پوری ہونے کے بعد منتقلی مکمل کردی جاتی ہے۔

سرکاری خدمات کی منتقلی کی سروس کے مطابق نئے ادارے کا فعال ہونا، تجارتی رجسٹریشن کا مؤثر ہونا، اجرتوں کے تحفظ اور ’نطاقات‘ کی شرائط کی پابندی کرنا ضروری ہے۔

فیس کون ادا کرے گا؟

خدمات کی منتقلی کی سرکاری فیس کارکن کے بجائے نیا آجر ادا کرے گا۔ 

کارکن کو سرکاری منتقلی مکمل ہونے سے پہلے نئے ادارے میں کام شروع نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ یہ قانونی خلاف ورزی شمار ہوسکتی ہے۔

⚠️اہم قانونی احتیاط

آجر کی منظوری درکار نہ ہونا اس بات کی اجازت نہیں کہ کارکن فوراً ملازمت چھوڑ دے۔ اطلاع کی مدت، معاہدہ اور ممکنہ معاوضہ بدستور اہم ہیں۔

سرکاری منتقلی مکمل ہونے سے پہلے نئے ادارے میں کام شروع نہ کریں۔ منتقلی کی سرکاری فیس نیا آجر ادا کرتا ہے۔

خلاصہ

کارکن معاہدہ مکمل ہونے، اقامہ یا ورک پرمٹ ختم ہونے، مسلسل 3 ماہ تنخواہ نہ ملنے، آجر کی غیر موجودگی یا مقدمے میں غیر ضروری تاخیر جیسے حالات میں موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر منتقل ہوسکتا ہے۔

تاہم تمام کارروائی ’قوى‘ کے ذریعے مکمل ہونی چاہئے۔ 

اطلاع کی مدت، موجودہ معاہدے اور ممکنہ معاوضے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 

یہ ضوابط پیشہ ور کارکنوں کے لیے ہیں، گھریلو کارکنوں کے معاملات الگ ضوابط اور ’مساند‘ کے تحت آتے ہیں۔ 

🔗سرکاری اور بنیادی ذرائع

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے