اگر سعودی عرب سے باہر قیام کے دوران خروج وعودہ ختم ہوجائے تو ختم شدہ ویزے پر واپسی ممکن نہیں۔
تاہم کفیل یا کمپنی مقررہ فیس ادا کرکے ابشر یا مقیم کے ذریعے ویزے کی مدت بڑھا سکتی ہے۔
اقامہ بھی ختم ہوچکا ہو تو پہلے اس کی تجدید ضروری ہوگی۔
سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے بہت سے غیرملکی چھٹی یا کسی ہنگامی ضرورت کے تحت اپنے ملک جاتے ہیں، مگر بعض اوقات بیماری، پرواز کی منسوخی، خاندانی مسئلے یا کسی دوسری وجہ سے مقررہ تاریخ تک واپس نہیں آسکتے۔
اس دوران اگر خروج وعودہ ویزا ختم ہوجائے تو سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اب سعودی عرب واپسی ممکن ہے؟
اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ خروج وعودہ ختم ہونے کے باوجود واپسی ممکن ہوسکتی ہے، لیکن مسافر ختم شدہ ویزے پر سفر نہیں کرسکتا۔
سعودی عرب واپسی سے پہلے ویزے کی مدت بڑھانا ضروری ہوگا۔
کارکن کو سب سے پہلے کیا کرنا چاہئے؟
اگر متعلقہ شخص کسی کمپنی یا ادارے کا ملازم ہے تو اسے فوراً اپنے شعبۂ انسانی وسائل یا کفیل سے رابطہ کرنا چاہئے۔
مزید پڑھیں
عام ملازم اپنے خروج وعودہ ویزے کی خود توسیع نہیں کرسکتا۔
کمپنی یا کفیل کو مقیم یا ابشر اعمال کے ذریعے کارروائی کرنا ہوگی۔
سعودی جوازات کے مطابق بیرونِ مملکت موجود مقیم کے مفرد یا متعدد خروج وعودہ ویزے کی توسیع الیکٹرانک طور پر کی جاسکتی ہے۔
پہلے بینک کے سداد نظام سے مقررہ سرکاری فیس ادا کی جاتی ہے، جس کے بعد مطلوبہ مدت درج کرکے توسیع مکمل کی جاتی ہے۔
اگر اہلِ خانہ کا ویزا ختم ہوا ہو
اگر بیوی، بچوں یا کسی زیرِ کفالت فرد کا خروج وعودہ ختم ہوگیا ہے تو خاندان کا سربراہ اپنے ابشر اکاؤنٹ سے توسیع کرسکتا ہے۔
اس کے لیے ابشر میں:
خدمات أفراد الأسرة ← خدمات التأشيرات ← تمديد تأشيرة الخروج والعودة لمن هم خارج المملكة
کا انتخاب کیا جائے گا۔
گھریلو ملازم کے معاملے میں بھی کارروائی اس کا کفیل اپنے ابشر اکاؤنٹ سے کرے گا۔
◆ OVERSEAS POST | SAUDI GUIDEخروج وعودہ ختم ہوگیا؟ اہم نکات ⌄
- !ختم شدہ خروج وعودہ ویزے پر سعودی عرب میں داخلہ ممکن نہیں؛ سفر سے پہلے توسیع ضروری ہے۔
- ✓کمپنی کا ملازم اپنا ویزا خود نہیں بڑھا سکتا؛ کمپنی یا کفیل مقیم یا ابشر اعمال سے کارروائی کرے گا۔
- ✓اہلِ خانہ کے خروج وعودہ کی توسیع سربراہِ خاندان اپنے ابشر اکاؤنٹ سے کرسکتا ہے۔
- iاگر اقامہ بھی ختم ہوچکا ہے تو پہلے اقامہ تجدید اور پھر خروج وعودہ کی توسیع ہوگی۔
- ✓ٹکٹ خریدنے سے پہلے مقیم پورٹل پر نئی تاریخ اور ویزے کا Valid اسٹیٹس ضرور دیکھیں۔
اقامہ بھی ختم ہوچکا ہو تو کیا ہوگا؟
خروج وعودہ کی توسیع کے لیے اقامے کا مؤثر ہونا بنیادی شرط ہے۔
اگر بیرونِ مملکت قیام کے دوران اقامہ بھی ختم ہوگیا ہو تو کفیل یا کمپنی کو پہلے اقامہ تجدید کرنا ہوگا اور اس کے بعد خروج وعودہ کی مدت بڑھانی ہوگی۔
سعودی جوازات نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ مملکت موجود بعض مقیم افراد، زیرِ کفالت اہلِ خانہ اور گھریلو ملازمین کے اقامے کی تجدید اور خروج وعودہ کی توسیع ابشر یا مقیم کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔
◎ OVERSEAS POST | PRACTICAL GUIDEاب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ ⌄
خروج وعودہ ختم ہونے کے بعد واپسی کے لیے یہ تین بنیادی مراحل مکمل کریں:
توسیع کے بعد فوراً سفر نہ کریں
فیس کی ادائیگی یا کمپنی کی زبانی یقین دہانی کافی نہیں۔ مسافر کو ٹکٹ لینے یا ایئرپورٹ جانے سے پہلے مقیم ویزا ویلیڈیٹی پورٹل پر ویزے کی نئی تاریخ چیک کرنی چاہئے۔
ویزے کا اسٹیٹس درست اور قابلِ استعمال دکھائی دینے کے بعد اس کی پرنٹ یا پی ڈی ایف محفوظ کرلیں۔
✓× OVERSEAS POST | VISA STATUSکیا ممکن ہے، کیا ممکن نہیں؟ ⌄
یہ ممکن ہے
- بیرونِ مملکت رہتے ہوئے خروج وعودہ کی آن لائن توسیع
- مفرد اور متعدد دونوں قسم کے ویزوں کی مدت بڑھانا
- بیرونِ مملکت موجود اہلِ خانہ کے اقامے کی تجدید
- ابشر یا مقیم سے نئی تاریخ کی تصدیق
یہ ممکن نہیں
- ختم شدہ خروج وعودہ پر سعودی عرب میں داخل ہونا
- عام ملازم کا اپنے ویزے کی خود توسیع کرنا
- اقامہ ختم ہونے کی صورت میں اسے نظرانداز کرکے ویزا بڑھانا
- نئی تاریخ ظاہر ہونے سے پہلے پرانے ویزے پر سفر کرنا
اگر کمپنی یا کفیل توسیع سے انکار کرے تو ملازم سابقہ خروج وعودہ پر واپس نہیں آسکتا۔ کمپنی سے تحریری جواب اور اپنی ملازمت و اقامے کی حیثیت کی تصدیق حاصل کریں۔
اگر آن لائن توسیع ممکن نہ ہو تو کفیل ابشر کی تواصل سروس سے جوازات کو درخواست بھیج سکتا ہے۔
غیرمعمولی یا پرانے معاملات میں وزارتِ خارجہ کی واپسی ویزا توسیع سروس یا متعلقہ سعودی سفارت خانے کی ہدایت درکار ہوسکتی ہے۔
اگر کمپنی توسیع سے انکار کردے تو ملازم سابقہ خروج وعودہ پر واپس نہیں آسکتا، کیونکہ ملازم خود اس ویزے کو بڑھانے کا اختیار نہیں رکھتا۔
ایسی صورت میں کمپنی سے تحریری جواب حاصل کرنا اور اپنے اقامے، ملازمت اور واپسی کی قانونی حیثیت کی فوری تصدیق کرنا ضروری ہے۔